Omer Akbar
28.3K posts








Glorification of Abdali that Massacred Punjabi Muslims - is Narrow Pathan Cauvinism that has no place in Pakistan or Islam Abdali Pillaged Lahore 3 times and ordered a general loot and massacres Mughal Muslim Governer had to pay Ransom to save the Population of Lahore from Slaughter If Abdali can be used for naming missiles and Glorified then so we will we Punjabis glorify Ranjit Singh who expelled Afghans @Mushahid @fawadchaudhry






Your army killed millions of muslims in Bangadlesh and have been bombing civilians in Afghanistan


A lot of people don’t know that Hindu Baloch and Christian Baloch communities exist in Balochistan. Little fact about #Balochistan. Hindu Bugtis are especially fascinating thing for me lol Balochistan is actually quite underexplored hence,many know very little #Baloch


اب تو @fawadchaudhry جیسے پنجابی سیاستدان بھی کہہ رہے ہیں پشتون اور پنجابی الگ قومیں ہے ، دونوں ایک دوسرے کی تاریخ پر نہ بولے۔ لہٰذا اب پشتونوں خاص طور پر پشتون حکمرانوں کو بھی غیرت کرنی چاہیے کہ ہریپور اور مانسہرہ کے نام جو سکھ لوٹ ماروں اور حملہ آوروں کے نام پر ہے بدل کر مقامی پشتون ہیروز کے نام پر کی جائے۔ پی ٹی آئی کو اب پشتون ہیروز اور تاریخ کو پرموٹ کرنے کی ضروت ہے۔ پاکستانیت کا چورن تو آجکل پنجاب میں بھی نہیں بھک رہا۔ @PTIofficial @SohailAfridiISF @MuzzammilAslam3 @YarMKNiazi @ShandanaGulzar

مہاجرین کی بارہ نشستیں۔ کشمیر کاز یا سیاسی انجنئیرنگ؟ تحریر: آفتاب احمد گورائیہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرینِ جموں و کشمیر کی بارہ نشستوں کو کشمیر کاز اور مہاجرین کی نمائندگی کے لیے ناگزیر قرار دیا جاتا ہے۔ اس مؤقف میں یقیناً وزن موجود ہے، کیونکہ یہ نشستیں اُن لاکھوں خاندانوں کی سیاسی آواز سمجھی جاتی ہیں جن کی جڑیں ریاست جموں و کشمیر سے وابستہ ہیں۔ لیکن اگر یہ نشستیں واقعی اتنی اہم ہیں تو پھر ان کے انتخابی عمل پر اٹھنے والے مستقل سوالات کو بھی سنجیدگی سے لینا ہوگا، کیونکہ نمائندگی کی افادیت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب اس کی بنیاد عوام کے اعتماد پر ہو۔ بدقسمتی سے آزاد کشمیر کے ہر الیکشن میں مہاجرین کی بارہ نشستیں تنازعہ کا باعث بن جاتی ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ان نشستوں پر پنجاب میں موجود حکومتی اثر و رسوخ نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں رانا ثناء اللہ کی ایک ویڈیو بھی خاصی زیرِ بحث رہی جس میں وہ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ “دوسری جماعتوں کی گنتی زیرو سے شروع ہوگی جبکہ ہماری گنتی دس سے شروع ہوگی”۔ ایسے بیانات انتخابی شفافیت کے حوالے سے پہلے سے موجود خدشات کو مزید تقویت دیتے ہیں اور یہ تاثر پیدا کرتے ہیں کہ مہاجرین کی نشستوں کے نتائج پہلے سے طے شدہ ہو سکتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو حلقے ان نشستوں کو کشمیر کاز کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں، وہ اکثر ان خدشات اور اعتراضات پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ اس تنازعہ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مہاجرین کی بارہ نشستیں صرف نمائندگی کا مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی پر بھی براہِ راست اثرانداز ہوتی ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر پنجاب کی حکمران جماعت اپنے سیاسی یا انتظامی اثر و رسوخ کے ذریعے ان نشستوں کے نتائج پر اثر انداز ہوتی ہے تو اس سے وادی اور آزاد کشمیر کے دیگر حلقوں سے منتخب ہونے والی جماعتوں کے عوامی مینڈیٹ کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ جمہوری اصولوں کے مطابق آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا بنیادی فیصلہ وہاں کے مستقل باشندوں کے ووٹ سے ہونا چاہیے۔ پاکستان میں مقیم مہاجرین یقیناً نمائندگی کے حق دار ہیں، لیکن چونکہ وہ پاکستانی شہری بھی ہیں، اس لیے ایسا انتخابی نظام وضع کرنا ضروری ہے جو ان کی نمائندگی کو برقرار رکھتے ہوئے آزاد کشمیر کے مقامی ووٹر کے مینڈیٹ پر غیر متناسب اثرات مرتب نہ کرے۔ اسی لیے مسئلے کا حل صرف الزامات اور جوابی الزامات میں نہیں بلکہ انتخابی نظام میں اصلاحات میں ہے۔ ایک قابلِ غور تجویز یہ ہو سکتی ہے کہ مہاجرین کی بارہ نشستوں کو براہِ راست انتخابی نشستوں کے بجائے متناسب نمائندگی کی نشستوں میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس صورت میں آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں ہر جماعت کو حاصل ہونے والی مجموعی نشستوں کے تناسب سے یہ بارہ نشستیں تقسیم کر دی جائیں۔ یوں نہ صرف دھاندلی کے الزامات کا راستہ بڑی حد تک بند ہو سکتا ہے بلکہ مہاجرین کی نمائندگی بھی مجموعی عوامی مینڈیٹ کی عکاس بن جائے گی۔ اگر کشمیر کاز اور مہاجرین کی نمائندگی واقعی اہم ہے تو اس کی ساکھ کو مضبوط بنانے کے لیے انتخابی نظام میں ایسی اصلاحات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، تاکہ یہ نشستیں تنازعہ کا باعث نہیں بلکہ اعتماد اور جمہوری انصاف کی علامت بن سکیں۔

A lot of people don’t know that Hindu Baloch and Christian Baloch communities exist in Balochistan. Little fact about #Balochistan. Hindu Bugtis are especially fascinating thing for me lol Balochistan is actually quite underexplored hence,many know very little #Baloch









