Pinned Tweet
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒
6.9K posts


@mwazam چاچا جی کبھی یورپ اور امریکہ رہے ہیں آپ ؟ اگر رہے ہوتے تو ایسا کمنٹ نہ کرتے
اردو
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted

کمپنی کا ایک ملازم اپنے دفتر پہنچا تو اسکی نگاہ دفتر کے گیٹ پر لگے ہوئے ایک نوٹس پر پڑی جس پر لکھا تھا:
"جو شخص کمپنی میں آپ کی ترقی اور بہتری میں رکاوٹ تھا کل رات اسکا انتقال ہوگیا۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس کی آخری رسومات اور جنازے کے لئے کانفرنس ہال میں تشریف لے آئیں جہاں پر اسکی میت رکھی ہوئی ہے"
یہ پڑھتے ہی وہ اداس ہو گیا کہ اسکا کوئی ساتھی ہمیشہ کے لئے اس سے جدا ہو گیا لیکن چند لمحوں بعد اس پر تجسس غالب آ گیا کہ آخر وہ شخص کون تھا جو اسکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ اس تجسس کو سانئے وہ جلدی سے کانفرنس ہال میں پہنچا تو وہاں اس کے دفتر کے باقی سارے ساتھی بھی اسی نوٹس کو پڑھ کر آئے ہوئے تھے اور سب حیران تھے کہ آخر یہ شخص کون تھا۔
کانفرنس ہال کے باہر میت کو دیکھنے کے لئے لوگوں کا اس قدر ہجوم ہو گیا کہ سکیورٹی گارڈ کو یہ حکم جاری کرنا پڑا کہ سب لوگ ایک ایک کر کے اندر جائیں اور میت کا چہرہ دیکھیں۔
سب ملازمین ایک ایک کر کے اندر جانے لگے جو بھی اندر جاتا اور میت کے چہرے سے کفن ہٹا کر اس کا چہرہ دیکھتا تو ایک لمحے کے لئے حیرت زدہ اور گنگ ہو کر رہ جاتا اور اسکی زبان تالوسے چپک جاتی یوں لگتا کہ گویا کسی نے اسکے دل پر بڑی ضرب لگائی ہو۔ باری آئی تو وہ شخص بھی اندر گیا اور میت کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو اس کا حال بھی دوسروں جیسا ہی ہوا، کفن کے اندر ایک بڑا سا آئینہ رکھا ہوا تھا اور اسکے ایک کونے پر لکھا تھا:
"دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو آپ کی صلاحیتوں کو محدود کر کے آپ کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ آپ خود ہیں"
یاد رکھئے! آپ کی زندگی میں تبدیلی آپ کی کمپنی تبدیل ہونے سے، آپ کا لباس تبدیل ہونے سے، آپ کے دوست احباب تبدیل ہونے سے نہیں آتی، آپ کی زندگی میں تبدیلی تب آتی ہے جب آپ اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کرنا شروع کر دیتے ہیں، ناممکن کو ممکن اور مشکلات کو چیلنج سمجھتے ہیں، اپنا تجزیہ کریں، اپنے آپ کو آزمائیں، مشکلات، نقصانات اور ناکامیوں سے گھبرانا چھوڑ دیں اور ایک فاتح کی طرح جئیں۔
یعنی ہم اپنے آپ کو خود سنوارنے کی کوشش کریں گے تو جلدی سنور جائیں گے۔
ک پ

اردو
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted

مرد کو ہینڈل کرنا۔۔۔۔۔ اصل میں یہ سیٹ ہی عورت کی ہے۔
عورت ہی اس کو پیدا کرتی ہے، زنانہ وارڈ میں اس کا
نزول ہوتا ہے، عورتیں ہی اس کو خوش آمدید کہتی ہیں۔
عورت ہی اسے پالتی اور اس کی تربیت کرتی ہے اچھی ہو یا
بری، پھر ہار سنگھار کر کے اسے دوسری عورت کو سونپ
دیتی ہے، لہذا ہر ماں یہ دیکھ لیا کرے کہ وہ اپنا لعل کس
کو سونپ رہی ہے !
اس کی میت بھی عورتوں میں ہی پڑی ہوتی ہے، مرد
صرف اٹھانے آتے ہیں ! عورت کے بگاڑے کو عورت ہی
سدھار سکتی ہے، ماں کے بگاڑے ہوئے کو بیوی ہی سدھار
سکتی ہے، اور ماں کے سدھارے کو بیوی ہی بگاڑ سکتی
ہے،
اس کا پاس ورڈ password ازل سے عورت کے پاس ہے،
اور یہ ہمیشہ ماں یا بہنوں یا بیوی کے درمیان فٹ بال بنا
رہتا ہے جو اپنی اپنی مرضی کی گیم اس پر کھیلتی اور اس
کی سیٹنگز تبدیل کرتی رہتی ہے، ماں کی سیٹنگز بیوی
رات کو تبدیل کر دیتی ہے صبح اماں ایک پھونک سے وہ ہٹا
کر دوبارہ فیکٹری سیٹنگز ریسٹور کر لیتی ہے، بس اتنی
ساری کہانی ہے اس بیچارے مرد کی۔۔۔۔۔

اردو
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted

الگ گھر میں رہنا اور گھر والوں سے اس حد تک بد دل ہوجانا کہ ان کی شکل تک دیکھنے کو دل نہ چاہے، میں بہت فرق ہے۔
خاندان میں اگر ایک غلط عورت داخل ہو جائے تو حالات ایسی نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ وہ بہن بھائی جو ایک دوسرے کے ساتھ کھیل کر بڑے ہوئے تھے ، ایک دوسرے کے لیے جان تک قربان کردینے کے لیے تیار رہتے تھے اور ایک دوسرے کی تکلیف پر تڑپ اٹھتے تھے ، وہی بہن بھائی ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں ، ایک دوسرے کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتے اور ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔
یہ تین بھائیوں کے گھر کی گلی میں اٹھی دیواریں نہیں ہیں یہ نفرت کی وہ حد ہے جس میں ایک آدمی کو حسد اور جہالت کی آگ میں ڈوبی عورت کے سوا کوئی مبتلا نہیں کرسکتا۔
اللہ تعالیٰ ایسی عورتوں اور ایسی نفرتوں سے ہر ایک کو بچائے۔ آمین

اردو
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted

ہار کر بھی مسکرانے والی لڑکی
نام تھا آمنہ
آمنہ لاہور کے ایک چھوٹے سے محلے میں رہتی تھی۔ باپ درزی تھا، ماں بیمار۔ گھر میں غربت، لیکن آمنہ کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ۔
میٹرک میں فیل ہو گئی۔ محلے کی عورتوں نے کہا، "اب گھر بیٹھ، شادی کر لے۔"
آمنہ نے ہنس کر جواب دیا، "فیل تو پیپر میں ہوئی ہوں، زندگی میں نہیں۔ اگلے سال پھر دوں گی۔"
2. ہار کی عادت
اگلے سال پاس ہو گئی، مگر کالج کی فیس نہیں تھی۔ اس نے صبح اسکول میں بچوں کو پڑھایا، شام کو سلائی کی۔ 3 سال لگ گئے ایف اے کرنے میں۔
نوکر ی کے لیے اپلائی کیا۔ 12 جگہ سے ریجیکٹ ہوئی۔ وجہ؟ "انگلش نہیں آتی"، "قد چھوٹا ہے"، "تجربہ نہیں ہے"۔
ہر ریجیکشن لیٹر کے بعد وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی، خود کو دیکھ کر کہتی، "آمنہ، ایک ہار اور سہی۔ مسکراہٹ ادھار نہیں ملتی۔" اور پھر ہنس دیتی۔
3. سب سے بڑی ہار
27 سال کی عمر میں رشتہ آیا۔ لڑکا بینک منیجر تھا۔ سب خوش تھے۔ منگنی ہو گئی۔ شادی سے 10 دن پہلے لڑکے والوں نے جہیز کی لسٹ بھیج دی: گاڑی، 5 تولہ سونا، فرنیچر۔
آمنہ کے باپ نے کہا، "بیچ دوں گا دکان، پر بیٹی کی عزت رکھ لوں گا۔"
آمنہ نے منگنی کی انگوٹھی اتار کر واپس کر دی۔ "ابا، جو رشتہ جہیز سے شروع ہو، وہ عزت پر ختم نہیں ہوتا۔"
بارات والے دن محلے والے افسوس کرنے آئے۔ آمنہ چائے بنا رہی تھی، مسکراتی ہوئی۔ "خالہ، رونا کیوں؟ میں تو بچ گئی۔"
4. جیت کا دن
30 سال کی عمر میں آمنہ نے اپنے محلے میں "مسکان اسکول" کھولا۔ 2 کمروں کا اسکول۔ فیس؟ "جو دے سکے۔ جو نہ دے سکے، وہ بھی پڑھے۔"
آج اس اسکول میں 400 بچیاں پڑھتی ہیں۔ آمنہ خود پرنسپل ہے۔ وہی لوگ جو کہتے تھے "فیل ہو گئی"، اب اپنی بیٹیاں اس کے پاس لاتے ہیں۔
پچھلے مہینے اسے "صوبے کی بہترین ٹیچر" کا ایوارڈ ملا۔ اسٹیج پر گئی، ایوارڈ پکڑا، اور کہا:
"میں 17 بار ہاری ہوں۔ 12 نوکریاں، 1 منگنی، 4 پیپر۔ اگر ہر ہار پر رونا شروع کر دیتی، تو آج آنسو ختم ہو جاتے۔ میں نے مسکرانا چنا، کیونکہ ہار وہی ہے جو آپ کو ہنسنا بھلا دے۔"
*5. آخری بات*
آج بھی آمنہ کی زندگی میں مسائل ہیں۔ ماں اب نہیں رہی، باپ بوڑھا ہے، اسکول کا کرایہ کبھی لیٹ ہو جاتا ہے۔
مگر اس کے چہرے کی مسکراہٹ لیٹ نہیں ہوتی۔ وہ کہتی ہے:
"زندگی نے مجھے ہرانے کی بہت کوشش کی۔ میں نے زندگی کو ہنس کر ہرا دیا

اردو
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted

میں نے اپنی زندگی میں سینکڑوں شادیاں بنتے اور بگڑتے دیکھی ہیں… اور ایک تلخ سچ یہ ہے کہ لوگ آج بھی ایک بنیادی غلط فہمی میں جیتے ہیں—وہ سمجھتے ہیں شادی محبت پر کھڑی ہوتی ہے۔
نہیں…
شادی محبت پر شروع ضرور ہوتی ہے، مگر چلتی احساس پر ہے۔
محبت کیا ہے؟
ایک کیفیت… ایک جذبہ… ایک کیمیکل ری ایکشن… جو وقت کے ساتھ مدھم پڑ جاتا ہے۔
آپ چاہے جتنی کوشش کر لیں، وہ شدت، وہ دیوانگی، وہ پہلی سی بے قراری ہمیشہ نہیں رہتی۔
مگر پھر سوال پیدا ہوتا ہے—
جب محبت کم ہو جاتی ہے تو کچھ شادیاں پھر بھی کیوں چلتی رہتی ہیں؟
جواب صرف ایک لفظ ہے: احساس۔
میں ایک ایسے میاں بیوی کو جانتا ہوں جن کی شادی کو پندرہ سال ہو چکے ہیں۔
نہ اب وہ لمبی لمبی فون کالز ہیں، نہ گھنٹوں کی باتیں، نہ وہ پہلی سی کشش…
مگر آج بھی شوہر گھر آتا ہے تو بیوی اس کے چہرے سے اس کا دن پڑھ لیتی ہے۔
اور بیوی خاموش ہو جائے تو شوہر بغیر پوچھے اس کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔
یہ محبت نہیں ہے…
یہ احساس ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں آپ دلیل نہیں دیتے،
آپ سنبھالتے ہیں۔
آپ جیتنے کی کوشش نہیں کرتے،
آپ بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اب دوسری طرف دیکھ لیجیے—
ایسے جوڑے بھی ہیں جہاں محبت کی شروعات بہت مضبوط تھی،
مگر چند سال بعد وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہو گئے۔
کیوں؟
کیونکہ وہاں احساس ختم ہو گیا۔
وہ ایک دوسرے کی بات سننا چھوڑ گئے،
لہجے سخت ہو گئے،
چھوٹی چھوٹی باتیں انا بن گئیں،
اور ایک دن وہ رشتہ ٹوٹ گیا۔
یاد رکھیں—
رشتے بڑی غلطیوں سے نہیں ٹوٹتے،
رشتے احساس کی چھوٹی چھوٹی کمیوں سے ختم ہوتے ہیں۔
ایک نظر انداز کرنا،
ایک سخت جملہ،
ایک بے توجہی…
یہ سب مل کر محبت کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتے ہیں۔
اس لیے اگر آپ اپنی شادی بچانا چاہتے ہیں تو محبت ڈھونڈنے کی بجائے احساس پیدا کریں۔
محبت خود آ جائے گی…
لیکن اگر احساس چلا گیا تو
محبت بھی زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکے گی۔

اردو
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted

ایک بار ایک بزرگ ایک بڑی محفل میں بیٹھے تھے…
سب لوگ علم و گفتگو میں مصروف تھے کہ اچانک بزرگ نے اپنی بند مٹھی سب کے سامنے کر دی۔
اور مسکرا کر پوچھا:
"بتاؤ، میرے ہاتھ میں کیا ہے؟"
محفل میں خاموشی چھا گئی… پھر ایک شخص بولا:
"لگتا ہے ہیرے جواہرات ہیں!"
دوسرا بولا:
"نہیں، یقیناً سونا ہوگا!"
تیسرے نے کہا:
"اگر یہ نہیں تو چاندی یا کوئی قیمتی خزانہ ضرور ہے!"
سب اپنے اپنے اندازے لگا رہے تھے…
بزرگ نے آہستہ سے اپنی مٹھی کھولی…
اور سب حیران رہ گئے
کیونکہ ہاتھ میں صرف چند معمولی کنکریاں تھیں…
محفل میں سناٹا چھا گیا…
تب بزرگ نے گہری آواز میں فرمایا:
"یہی عورت کی مثال ہے…"
"جب وہ پردے میں رہتی ہے، اپنی حیا کو سنبھال کر رکھتی ہے… تو وہ ہیرے، سونا اور خزانے سے بھی زیادہ قیمتی ہوتی ہے…"
"لیکن جب وہ خود کو سب کے سامنے ظاہر کر دیتی ہے… تو پھر اس کی قدر بھی انہی کنکریوں جیسی رہ جاتی ہے…"
اصل خوبصورتی چھپانے میں ہے، دکھانے میں نہیں…

اردو
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted

جج صاحب فرماتے ہیں کہ شادی کے بعد عورت گھر سنبھال کر مرد کو کمانے کے قابل بناتی ہے، لہٰذا طلاق کی صورت میں عورت کو جائیداد میں حصہ دیا جائے۔
مگر یہاں چند بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں:
کیا عورت صرف اثاثوں میں شریک ہو گی، یا اگر شادی کے بعد مرد مقروض ہو جائے تو طلاق کے وقت آدھا قرض بھی عورت کے کھاتے میں ڈالا جائے گا؟
اگر مرد کی کمائی کو شادی کے بعد مشترکہ تصور کیا جائے تو یہ اصول صرف طلاق کی صورت میں ہی کیوں لاگو ہو گا؟ وفات کی صورت میں یہی کمائی مکمل طور پر مشترکہ کیوں شمار نہیں کی جاتی؟
شادی سے پہلے ماں اور بہنیں بھی گھر کے کام کاج سنبھال کر مرد کو یکسو ہو کر کمانے کے قابل بناتی ہیں۔ تو کیا اس منطق کے تحت انہیں بھی اس کی کمائی میں حصہ دار قرار دیا جائے گا؟
اگر کسی گھر میں گھریلو ملازمین کے ذریعے تمام کام کروائے جاتے ہوں تو کیا وہاں بھی یہی اصول لاگو ہو گا، یا اس کا اطلاق صرف مخصوص حالات تک محدود رہے گا؟
اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ کیسے طے کیا جائے گا کہ بیوی نے واقعی شوہر کو یکسو کر کے کمانے کے قابل بنایا، یا الٹا ذہنی دباؤ اور مسلسل تناؤ کا سبب بن کر اس کی معاشی کارکردگی کو متاثر کیا؟ اگر دوسری صورت ہو، تو کیا کوئی الٹا احتساب بھی ہوگا، یا اصول صرف ایک سمت میں ہی لاگو ہوگا؟
Sabookh Syed | Journalist@SaboohSyed
یہ کہانی 2015 میں شروع ہوئی، جب امیرہ وقاص اور وقاص رشید ایک ازدواجی بندھن میں بندھے۔ ہماری معاشرتی روایات کے مطابق شادی دو افراد کا نہیں بلکہ دو خاندانوں کا ملاپ ہوتا ہے۔ دونوں کی شادی ہوگئی ، کن حالات میں ہوئی اور کیسے ہوئی ، یہ معلومات کے دائرے میں نہیں ہےتاہم یہ طے ہے کہ زندگی کے فیصلے ہمیشہ انسانی خواہشات کے تابع نہیں ہوتے۔ محض چھ سال بعد، 2021 میں، گھریلو تلخیاں اس نہج پر پہنچیں کہ امیرہ اور وقاص کا یہ رشتہ طلاق کی صورت میں بکھر گیا۔ htnurdu.com/ameera-waqas-c… @htnurdu
اردو

@bpk69 @drtariqismail یہ طریقہ ٹھیک ہے، میخ اعتراض کرنے والے کے پاؤں کے پاس گاڑ دیں۔ آور اسے کہیں کہ یہ زمین کا وسط ہے،اگر تم نہیں مانتے تو خود پیمائش کرلو۔۔۔
اردو

@drtariqismail آپ کنفرم کر لیں۔ اگر غلط خبر ہوئی تو ٹویٹ ڈیلیٹ کر دوں گا۔
اردو
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted

اللہ نے صحیح سلامت بیوی دی تھی، میں کون ہوتا ہوں اسے بیکار کہنے والا…
ننکانہ کے رہائشی ثقلین کی شادی شہزادی سے ہوئی۔ شادی کو صرف چھ ماہ ہی گزرے تھے کہ شہزادی کے پیروں میں خون کی بندش (Blood Blockage) کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ لاہور اور اسلام آباد کے کئی ہسپتالوں میں علاج کروایا گیا، مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آخرکار ڈاکٹروں نے بتا دیا کہ جان بچانے کے لیے دونوں ٹانگیں کاٹنا پڑیں گی۔
والدین کی پسند سے ہونے والی یہ ارینج میرج وقت کے ساتھ ایک ایسی محبت بھری کہانی بن گئی جس کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ جب شہزادی کا آپریشن ہوا اور اس کی دونوں ٹانگیں کاٹ دی گئیں تو ثقلین نے محکمہ سے چھٹی لے کر پورا ایک سال ہسپتال میں بیوی کے ساتھ گزار دیا۔
مگر آزمائشیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔ انہی دنوں شہزادی کو ٹی بی بھی ہوگئی۔ ہسپتال سے گھر آنے کے بعد شہزادی اکثر ثقلین سے کہتی ہے کہ وہ دوسری شادی کر لے تاکہ اس کی زندگی آسان ہو جائے، لیکن ثقلین ہمیشہ یہی جواب دیتا ہے:
“اللہ نے مجھے اتنی پیاری بیوی دی ہے، اگر میری زندگی میں آنے کے بعد اس پر یہ مشکل آئی ہے تو یہ ہمارا امتحان ہے۔ میں اسے کبھی بوجھ یا بیکار نہیں سمجھوں گا۔”
آج بھی ثقلین اپنی سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ بیوی کی پوری دل سے خدمت کرتا ہے۔ اسے خود باتھ روم لے کر جاتا ہے، گود میں اٹھا کر باہر لے جاتا ہے، اس کے کپڑے استری کرتا ہے اور کبھی کبھی اس کے لیے کھانا بھی بناتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ کریم شہزادی کی مشکلات آسان فرمائے اور ثقلین کو ہمیشہ اسی محبت اور استقامت کے ساتھ قائم رکھے۔
بلاشبہ آزمائشیں ہر کسی پر آتی ہیں، مگر ان پر پورا وہی اترتے ہیں جن کے دل سچے اور نیتیں صاف ہوتی ہیں۔
#LoveStory
#TrueLove
#RespectWomen
#Inspiration
#Humanity
#PakistanStories
#fblifestyle
#irfanmailsiwala #fblifestyle
Disclaimer: This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources.



اردو
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted

زندگی کے بارے میں 15 شرمندہ کُن سچائیاں جن کا لوگوں کو دیر سے علم ہوتا ہے۔
1. زیادہ شیئر نہ کریں—پرائیویسی سکون اور طاقت کا باعث بنتی ہے۔
2. چاہے آپ اپنے دوستوں، رشتہ داروں یا خاندان پر کتنا بھی اعتماد کریں، انہیں سب کچھ نہ بتائیں۔
3. بہترین انتقام بالکل بھی انتقام نہ لینا ہے—آگے بڑھیں، خوش رہیں، اندرونی سکون حاصل کریں اور کامیاب ہوں۔
4. جب آپ درست ہوتے ہیں تو کوئی یاد نہیں رکھتا، لیکن جب آپ غلط ہوتے ہیں تو کوئی بھولتا نہیں۔
5. اگر آپ "صحیح لمحے" کا انتظار کرتے رہیں گے، تو آپ پوری زندگی ضائع کر دیں گے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
6. آپ کو کسی کو بھی وضاحت دینے یا جواز پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
7. جو لوگ آپ کے جذبات کو قابو میں رکھتے ہیں، ان کے پاس آپ پر طاقت ہوتی ہے—سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کہ آپ یہ طاقت کس کو دیتے ہیں۔
8. ہر چیز پر ردعمل دینا بند کریں۔
9. کوئی آپ کو بچانے نہیں آئے گا کیونکہ آپ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں۔
10. جب آپ دوسروں کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو آپ خود کبھی اچھے نہیں لگتے۔
11. ایک جھوٹا دوست دشمن سے بھی بدتر ہوتا ہے۔
12. آپ کی آرام دہ زندگی (Comfort Zone) آپ کے خوابوں کو تباہ کر سکتی ہے۔
13. وہ چیزیں قبول کرنا بند کریں جن سے آپ متفق نہیں ہیں۔
14. ہمیشہ ضرورت سے کم بات کریں۔
15. ان لوگوں کی پروا نہ کریں جو آپ کا احترام نہیں کرتے۔
اردو

@enkidureborn دیکھیں ہمارے پاس چار بڑی قومیں ہیں۔ اور ان سب کے عادات و خصائل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
ہم پختون بلکل دیہاڑی پہ بھی کام کرتے ہیں۔
لیکن ان سب سے اہم زمین اور موسم کا اثر معانی رکھتے ہیں۔
جیسے جوں جوں آپ اونچائی کیطرف جائیں گے تو آپ کو لوگ سرخ و سفید اور صحت مند ملیں گے۔
👇
اردو

تعمیرات سے منسلک پٹھان لوگوں کی عادات و خصائل کا علم ہے۔ اس سلسلے میں چند آبزرویشنز یہ ہیں
پٹھان بالعموم دیہاڑی پر کام نہیں کرتے ٹھیکہ مارتے ہیں۔
اگر کبھی کریں تو عام مزدور سے کم از کم دوگنا پیسے لیتے ہیں۔
کام پھر بھی تین پنجابی مزدوروں کے برابر کرتے ہیں۔
رفتار اور محنت میں ان کا کوئی جوڑ نہیں۔
اگر پنجابی اور پٹھان دونوں دستیاب ہوں تو پنجابی کے لیے ہمیشہ ریڈ فلیگ۔
پنجاب کے مزدور ساری زندگی مزدور رہتے ہیں۔
پٹھان آغاز ہی ٹھیکے سے کرتے ہیں پانچ سات دس سال میں اپنی مشینری کھڑی کرلیتے ہیں۔
اردو

@Muhamma12762724 اگر رقوم بغور پڑھیں تو یہ چند لاکھ ہیں۔آپ نے اعشاریہ پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ آور گولہ باری شروع کر دی۔😂
اور کمنٹس پڑھیں تو صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ
جیسی روح، ویسے فرشتے
اردو

مفتی نعیم کی دولت
سندھ ہائیکورٹ نے سرکاری طور پر یہ تخمینہ جاری کردیا ، جامعہ بنوریہ کے مفتی نعیم مرحوم کے پیسوں اور جائیداد میں بارے میں اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ پاکستان کے ایک نامور عالم اور جامعہ بنوریہ ٹاؤن کراچی کے مہتمم مرحوم مفتی نعیم کے فرزند اپنے والد کی کمائی کے بٹوارے کے لیے کورٹ گئے۔ عدالت نے حکم دیا کہ مولانا کی کل آمدنی کا تخمینہ لگایا جائے۔ عدالت میں تمام جج صاحبان یہ دیکھ کر ورطہ حیرت میں ڈوب گئے کہ مولانا کی کل آمدنی پانچ ارب چونتیس کروڑ ستائیس لاکھ ایک سو سنتالیس روپے(5،34،27،00147)مختلف بنکوں میں موجود تھے۔ حالانکہ مولانا اپنے پاس مال جمع کرنے،سود کھانے اور دنیا کو مومن کے لیے قید خانہ,اور شیطان کے لیے جنّت سمجھتے تھے۔ موصوف کی یہ بات علاقے میں کافی مشہور ہوئی تھی جب پچھلے سال انہوں نے قربانی کا جانور اسی لیے نہیں خریدا تھا کہ “میرے پاس پیسے ہی نہیں ہیں.

اردو
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted

بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے قسم اٹھائی تھی کہ شادی کرنے سے پہلے سو آدمیوں سے مشورہ کروں گا۔ چنانچہ اس نے ننانوے آدمیوں سے مشورہ کیا، ایک باقی رہ گیا۔
اس نے عزم کیا کہ کل صبح جو سب سے پہلے آدمی ملے گا، اس سے مشورہ کروں گا۔
صبح ہوتے ہی گھر سے نکلا تو سب سے پہلے جو شخص ملا وہ مجنون اور پاگل تھا، بچوں والے لکڑی کے گھوڑے پر سوار تھا اور اسے گلیوں میں ادھر اُدھر دوڑا رہا تھا۔
وہ آدمی بڑا پریشان اور غمگین ہوا کہ پاگل سے کیا مشورہ کروں؟ مگر اس نے پختہ عہد کیا ہوا تھا کہ سب سے پہلے ملنے والے ہی سے مشورہ کروں گا۔
چنانچہ وہ اس مجنون کے قریب ہونے کی کوشش کرنے لگا تو اس مجنون نے کہا: میرے گھوڑے کے آگے سے ہٹ جائیں، کہیں گھوڑا تمہیں لات نہ مار دے۔
اس آدمی نے کہا کہ میں نے تم سے ایک مشورہ کرنا ہے، ذرا اپنا گھوڑا روک دیں۔ تو اس نے روک دیا۔ پھر اس نے اپنی قسم کا سارا قصہ سنایا اور اپنا عزم بھی بیان کیا اور پوچھا کہ آپ کا اس بارے میں کیا مشورہ ہے؟
مجنون نے کہا: عورتیں تین قسم کی ہیں۔ ایک وہ جو ساری تیرے لیے ہے، دوسری وہ جو ساری کی ساری تیرے لیے مضر ہے، تیسری وہ جو مضر و نافع دونوں ہو سکتی ہے۔ پھر مجنون نے کہا: گھوڑے سے بچئے، کہیں تمہیں لات نہ مار دے، اور چلا گیا۔
اس شخص کو حیرت ہوئی کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے اس کی تفصیل یہاں نہیں کی۔ چنانچہ پھر اس کے پیچھے بھاگا اور کہا: ٹھہریں، مجھے اپنی بات کا مطلب تو سمجھا کر جائیں۔
اس نے کہا: جو عورت ساری تیرے لیے ہے وہ کنواری عورت ہے، اس کا دل اور محبت تیرے لیے ہے کیونکہ تیرے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتی۔ جو عورت تیرے لیے مضر ہے وہ شادی شدہ، صاحبِ اولاد ہے۔ وہ مال تیرا کھائے گی اور روئے گی اپنے پہلے خاوند پر۔
اور جو عورت تیرے لیے نافع اور ضرر دونوں کا احتمال رکھتی ہے وہ بے اولاد شادی شدہ عورت ہے۔ پس تو اگر اس کے پہلے خاوند سے بہتر ثابت ہوا تو وہ تیرے لیے نافع ہے، ورنہ وہ تیرے لیے مضر ہے۔
پھر وہ چلا گیا تو اس آدمی نے کہا: آپ کا کلام تو داناؤں جیسا ہے اور عمل مجنون جیسا ہے۔
تو مجنون نے جواب دیا کہ بنی اسرائیل نے مجھے قاضی بنانا چاہا، میں نے انکار کیا مگر انہوں نے اصرار کیا، تو میں نے اس معاملے سے جان چھڑانے کے لیے اپنے آپ کو مجنون بنایا۔

اردو
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted

یہ ایک غریب کا بچہ ہے جو کہ 700 روپے روزانہ ایک پیٹرول پمپ پہ ملازم تھا چند اوباش لڑکوں کے تشدد سے جان کی بازی ہار بیٹھا .
فیصل آباد کے علاقے چک جھمرہ کا مزمل جو کہ ایک پیٹرول پمپ پہ کام کرتا تھا اس کے پاس دو موٹر سائیکل سوار پیٹرول ڈلوانے آئے جب وہ پیٹرول ڈال رہا تھا تو اس نے ان کو کہا کہ بھائی موبائل پلیز یہاں سے دور کرلیں کیونکہ اس کی وجہ سے آگ لگ جاتی ہے.
بس اس کا اتنا کہنا اس کے لیئے جرم بن گیا وہ دو ملزمان انہوں نے اپنی جیب سے پسٹل نکالا اور بچے کی کمر سر اور مختلف اعضاء پہ مارتے رہے وہ تو فائر مارنا چاہ رہے تھے لیکن لوگوں کے درمیان میں آنے پہ دھمکیاں دیتے ہوئے چلے گئے.
بچے کو وہیں سے الائیڈ اسپتال منتقل کیا لیکن افسوس حالت اتنی بگڑ چکی تھی یہ بہنوں اور اپنی ماں کا سہارا اپنی جان کی بازی ہار گیا.
ابھی تک ملزمان گرفتار نہیں ہوسکے کیونکہ بااثر جو ہیں اور نہ ہی ان کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آرہی ہیں.
پلیز اس بچے کے لیئے آواز اٹھائیں کیونکہ جو آواز اٹھتی ہے اس کو انصاف ملتا ہے

اردو
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted

ایک دیہاتی نوجوان نے اپنی برادری کی ایک شریف پردہ دار بااخلاق اور دین دار لڑکی سے شادی کی
شادی کو ایک سال ہی گزرا تھا کہ اُس کا اپنے قریبی رشتہ دار سے سخت جھگڑا
ہو گیا
بات اتنی بڑھی کہ اُس نے غصے میں آ کر اسے قتل کر دیا
اور برادری کے رواج کے مطابق وہ اپنی بیوی کو لے کر علاقے سے دور کسی اور ضلع کی طرف نکل گیا
جہاں وہ ایک دوسری برادری کے گاؤں میں جا کر بس گیا
وہ اکثر گاؤں کے چودھری کے ڈیرے پر بیٹھتا تھا
جیسے دوسرے مرد بیٹھتے ہیں، بات چیت مشورے گپ شپ سب چلتا
ایک دن چودھری کا گزر اس کے گھر کے سامنے سے ہوا
اور اُس نے اُس کی بیوی کو دیکھا
نہایت باحیا، خوبصورت اور باوقار عورت
چودھری کے دل میں فتنہ جاگ اٹھا
دل و دماغ پر ایسا چھا گئی کہ ایک شیطانی خیال آ گیا
کہ کسی طرح خاوند کو گھر سے دور بھجوا دوں
اور موقع پا کر عورت کو تنہا کر کے اپنا مطلب نکالوں
چودھری ڈیرے پر آیا
سب بیٹھے تھے ان میں وہ نوجوان بھی تھا
چودھری نے کہا مجھے پتا چلا ہے کہ فلاں علاقے میں بہت اچھی چراگاہ ہے
میں چاہتا ہوں کہ چار آدمی بھیجوں جو جا کر دیکھ آئیں
اس نے چار افراد منتخب کیے
اور ان میں وہ نوجوان بھی شامل تھا
چاروں روانہ ہو گئے
جگہ دور تھی تین دن کا راستہ تھا
رات کو چودھری نے موقع دیکھا
اور چپکے سے اُس کے گھر کی طرف چل پڑا
گھر میں بیوی اکیلی تھی اور سو رہی تھی
چودھری اندھیرے میں دیوار سے ٹکرا گیا
زور کی آواز ہوئی
عورت جاگ گئی اور ڈرتے ہوئے بولی
کون ہے؟
چودھری بولا میں ہوں وہی چودھری جس کے گاؤں میں تم لوگ آئے ہو
عورت بولی خیریت ہے چودھری صاحب اس وقت کیا کام پڑ گیا؟
چودھری بولا جب سے تمہیں دیکھا ہے دل بے چین ہے
تم سے دل لگا بیٹھا ہوں
چاہتا ہوں تم میری ہو جاؤ
عورت نے پورے وقار سے جواب دیا ٹھیک ہے اگر واقعی تم چاہتے ہو
تو پہلے میرے ایک سوال کا جواب دو
اگر صحیح دیا تو پھر جیسا کہو گے ویسا ہوگا
چودھری نے خوش ہو کر کہا پوچھو شرط منظور ہے
عورت نے کہا جیسے گوشت خراب ہونے سے بچانے کے لیے اس پر نمک چھڑکا جاتا ہے
تو بتاؤ اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو اُسے کون ٹھیک کرے گا؟
سوچ کر آنا جلدی نہیں ہے
چودھری رات بھر سوچتا رہا مگر سمجھ نہ سکا
اگلے دن ڈیرے پر سب لوگ بیٹھے تھے
اچانک سب سے وہی سوال پوچھا
ہر ایک نے اپنی سمجھ سے جواب دیا مگر چودھری مطمئن نہ ہوا
ڈیرے میں ایک بزرگ بیٹھے تھے بڑے سمجھدار دین دار اور عقل والے
وہ خاموش رہے
جب سب چلے گئے تو وہ بیٹھے رہے
چودھری نے ان سے کہا تم نے کیوں جواب نہیں دیا؟
بزرگ بولے میں اکیلے میں بات کرنا چاہتا تھا
یہ سوال دراصل ایک پرانی حکمت کا شعر ہے
اے قوم کے عقل مند لوگو اے معاشرے کے نمک
اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو اُسے کون ٹھیک کرے گا؟
اور اگر میں غلط نہیں سمجھا
تو تم نے ایک باعزت باپردہ اور دین دار عورت پر غلط نظر ڈالی
لیکن اُس نے تمہیں عزت دی
تمہیں شرمندہ نہیں کیا
نہ ہی تمہیں بدنام کیا
بس ایک سوال کر کے تمہیں تمہارے ضمیر سے ٹکرا دیا
وہ کہنا چاہ رہی تھی
جب گوشت خراب ہوتا ہے تو نمک اسے بچا لیتا ہے
لیکن اگر خود نمک ہی خراب ہو جائے
تو پھر کیا ہوگا؟
یعنی
جب عام لوگ بگڑیں تو چودھری یا بزرگ سنبھالتے ہیں
لیکن اگر خود چودھری بگڑ جائے
تو اُسے کون سنوارے گا؟
یہ سن کر چودھری کا دل کانپ گیا
شرمندگی سے سر جھک گیا
آنسو نکل آئے
اور اس نے کہا
اللہ تمہیں سلامت رکھے
تم نے آنکھیں کھول دی
میری خطا کو ڈھانپ لو
جیسے اللہ ڈھانپتا ہے
اور شاعر کہتا ہے
گوشت تو نمک سے بچ جاتا ہے
پر اگر نمک ہی خراب ہو جائے
تو پھر کیا بچائے گا؟
اور میں کہتا ہوں
اگر باپ بگڑ جائے
تو اولاد کون سنوارے؟
اگر استاد بگڑ جائے
تو نسلوں کو علم کون دے؟
اگر رہنما بگڑ جائے
تو قوم کا مستقبل کون بچائے؟
داناؤں کی مجلس میں بیٹھو
نادانوں کی صحبت میں صرف دل ہی نہیں نسلیں بھی برباد ہو جاتی ہیں۔
Via Facebook

اردو
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted

ایک مشہور بزرگ تھے ان کے پاس ایک دفعہ ایک
طالب علم آیا جو ان سے دینی علوم سیکھتا رہا۔ کچھ عرصہ پڑھنے کے بعد جب وہ اپنے وطن واپس جانے لگا تو وہ بزرگ اس سے کہنے لگے: میاں ایک بات بتاتے جاؤ۔ وہ کہنے لگا دریافت کیجئے۔
وہ کہنے لگے اچھا یہ تو بتاؤ کیا تمہارے ہاں شیطان بھی ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگا حضور شیطان کہاں نہیں ہوتا۔ شیطان تو ہر جگہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا:
اچھا جب تم نے خدا تعالیٰ سے دوستی لگانی چاہی اور شیطان نے تمہیں ورغلا دیا تو تم کیا کرو گے؟
اس نے کہا میں شیطان کا مقابلہ کروں گا۔ کہنے لگے :فرض کرو تم نے شیطان کا مقابلہ کیا اور وہ بھاگ گیا، لیکن پھر تم نے اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے جدوجہد کی اور پھر تمہیں شیطان نے روک لیا تو کیا کرو گے؟ اس نے کہا: میں پھر مقابلہ کروں گا وہ کہنے لگے اچھا مان لیا تم نےدوسری دفعہ بھی اسے بھگا دیا۔
لیکن اگر تیسری دفعہ وہ پھر تم پر حملہ آور ہو گیا اور اس نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف بڑھنے نہ دیا توکیا کرو گے؟ وہ کچھ حیران سا ہو گیا مگر کہنے لگا: میرے پاس سوائے اس کے کیا علاج ہے کہ میں پھر اس کا مقابلہ کروں۔ وہ کہنے لگے: اگر ساری عمر تم شیطان سے مقابلہ ہی کرتے رہو گے تو خدا تک کب پہنچو گے۔ وہ لاجواب ہو کر خاموش ہو گیا۔
اس پر اس بزرگ نے کہا کہ اچھا یہ تو بتاؤ اگر تم اپنے کسی دوست سے ملنے جاؤ اور اسنے ایک کتا بطور پہرہ دار رکھا ہوا ہو اور جب تم اس کے دروازہ پر پہنچنے لگو تو وہ تمہاری ایڑی پکڑ لے تو تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا کتے کو مارونگا اور کیا کرونگا۔ وہ کہنے لگے: فرض کرو تم نے اسے مارا اور وہ ہٹ گیا لیکن اگر دوبارہ تم نے اس دوست سے ملنے کے لئے اپنا قدم آگے بڑھایا اور پھر اس نے تمہیں آ پکڑا تو کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا:
میں پھر ڈنڈا اٹھاؤں گا اور اسے ماروں گا۔ انہوں نے کہا اچھا تیسری بار پھر وہ تم پر حملہ آور ہو گیا تو تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا:اگر وہ کسی طرح باز نہ آیا تو میں اپنے دوست کو آواز دوں گا کہ ذرا باہر نکلنا۔ یہ تمہارا کتا مجھے آگے بڑھنے نہیں دیتا۔ اسے سنبھال لو۔ وہ کہنے لگے: بس یہی گُر شیطان کے مقابلہ میں بھی اختیار کرنا اور جب تم اس کی تدابیر سے بچ نہ سکو تو خدا سے یہی کہنا کہ وہ تمہیں اپنے قرب میں بڑھنے دے۔۔۔ تم اس کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑ لیتے جس کے قبضہ قدرت میں یہ تمام چیزیں ہیں۔ اگر تم اس سے دوستی لگا لو تو تمہیں ان چیزوں کا کوئی خطرہ نہ رہے گا اور ہر تباہی اور مصیبت سے بچے رہو گے۔

اردو




