M Maqsood Khan
4.5K posts

M Maqsood Khan
@MASS_Bannu
Social Media Influencer. ⚡🚨Capricorn🚨⚡ The Leader Is Who Knows The Way Goes The Way And Shows The Way Like @ImranKhanPTI suppoter since 1996.
Earth 가입일 Haziran 2022
680 팔로잉399 팔로워
고정된 트윗
M Maqsood Khan 리트윗함

کسی عوامی تحریک کا آغاز کرنا ، احتجاج کرنا ، عوام کو موبلائز کرنا دو چیزوں کا متقاضی ہے۔ ایک سنجیدگی دوسرا قربانی۔ اگر پختونخواہ اسمبلی نتائج کی پرواہ کیے بغیر قانون سازی کی مدد سے اس تحریک میں جان ڈالتی ہے تو اس کا مطلب ہے کوشش سنجیدہ ہے۔
اگر محض رجسٹریشن کرنی ہے اور ہمخیال ولاگرز اور سوشل میڈیا اکاونٹس کی مدد سے ہوا بنانے کی کوشش کرنی ہے تو اس کا مطلب ہے بس تنقید سے بچنے کے لیے خانہ پری کی جارہی ہے۔ قومی و دیگر صوبائی اسمبلیوں و سینیٹ میں تحریک انصاف کے دو سو کے قریب اراکین کی سنجیدگی بھی دکھائی دے جائے گی۔
اردو
M Maqsood Khan 리트윗함

#ImranKhanMedicallyHostage
Two big questions:
1) What are they Hiding?
2) If there is nothing to hide, why are they not allowing personal doctors and family to meet?
If their excuse is that family shares political messages (which allegedly gives sleepless nights to Asim Munir), what about the doctors? They have never shared any political message!
This is total violation of prisoner rights under Mandela Rules and violation of Pakistan’s court orders, which shall result in maximum punishment for Asim Munir and all his team for gross violations of human rights.
cc @UNinPak
@HRCP87
@IFJGlobal
@UNHumanRights
@EU_Commission
@amnestysasia
@ClaudeRakisits
@YusufCatStevens
@amandaruthprice
@cjwerleman
@BenjaminNorton
@marycjordan
@DennisCricket_
@DerekJGrossman
@Reuters
@EconomicTimes
@AlJazeeraWorld
@DrAliceJEdwards
@CordeliaSkyNews
@antonioguterres
@mperelman
@MarioNawfal
@mehdirhasan
@DanielJHannan
@piersmorgan
@jeffskoll
@volker_turk

English
M Maqsood Khan 리트윗함

عمران خان اپنی جماعت کے لوگوں کیساتھ بیٹھے ہیں۔ بالکل ساتھ شاہ محمود قریشی بیٹھے ہیں۔ پریس کانفرنس شروع ہونے والی ہے۔ میڈیا چینلز کے مائکس سامنے پڑے ہیں۔ عمران خان لانگ مارچ کا اعلان کرنے جارہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کے فون پر کسی کی کال آتی ہے۔ وہ عمران خان کے کان میں سرگوشی کرتے ہیں “ وہ کہہ رہے ہیں ہم ٹریپ کرلیں گے “ عمران خان جواب دیتے ہیں “ کرلو کرلو “۔ یہ مختصر سی گفتگو مائکس میں ریکارڈ ہوجاتی ہے ملک بھر میں پھیل جاتی ہے۔ لانگ مارچ یعنی احتجاج کے اعلنا سے عین قبل آخری آپشن کے طور پر بھی پریس کانفرنس میں بیٹھے ہوئے رہنماؤں کو دھمکی لگا کر ٹالنے کی کوشش کی۔ اس سے پہلے معلوم نہیں کتنی کوششیں کی گئی ہوں گی۔ بنیادی نکتہ؟ احتجاج کو ٹالنا کسی بھی قیمت پر ٹالنا۔
تھوڑا پیچھے چلیں ، رجیم چینج سے اگلی رات عوام سڑکوں پر تھے کچھ لوگوں نے فورا ٹھنڈی ہوائیں چلا دیں۔ کہا فوج کو سمجھ آگئی ہے۔ فوج سب ٹھیک کرنے والی ہے۔
اب ساتھ ساتھ آگے چلیں۔ کچھ سیاسی چالوں ، عمران خان پر بے تحاشا مقدمات اور قاتلانہ حملے کے بعد پچھلا آرمی چیف چلا جاتا ہے موجودہ آجاتا ہے ، اسکے آنے سے قبل کئی صحافی جن میں سر فہرست چچا صابر شاکر ہیں ٹھنڈی ہواؤں کی خبریں چلانا شروع کردیتے ہیں۔
تحریک انصاف کی جانب سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے فورا بعد ایک تاریک دور کا آغاز ہوجاتا ہے۔ طاقت ، وحشت اور خوف ہتھیار بن جاتا ہے۔ نومئی اس کا نقطہ عروج ہوتا ہے۔ خونی ریڈ لائن پورا ملک لہولہان کردیتی ہے اور اس سب کا ردعمل آٹھ فروری کو ریڈ لائن اڑا کر رکھ دیتا ہے۔ اسی رات ، شکست کی پہلی رات ہی حامد میر اور اسد طور بتانا شروع کردیتے ہیں کہ فوجی جرنیل عمران خان سے جیل میں ملاقاتیں کررہے ہیں۔ عادی مجرم ٹھنڈی ہوائیں چلانا شروع کردیتے ہیں۔
پھر ان ٹھنڈی ہواؤں کی ضرورت اچانک ختم ہوجاتی ہے اور عمران خان کے اگست میں احتجاج کے اعلان کے بعد پھر شروع ہوجاتی ہیں۔ ستمبر اکتوبر اور انہی “ طے ہوتے معاملات “ اور “ بہتری “ کی نوید کے درمیان گزر جاتے ہیں۔ درمیان میں کبھی نجم سیٹھی تو کبھی صدیق جان ، کبھی مظہر برلاس تو کبھی کوئی اور ہرکارہ عمران خان کی رہائی اور معاملات طے ہونے کی نوید سناتا رہتا ہے۔ کمی کو لطیف کھوسہ اور بیرسٹر گوہر جیسے لوگ پورا کرتے ہیں۔
امریکہ میں حکومت بدلنے کا وقت آتا ہے تو فورا سے پہلے امریکی ڈاکٹرز کو بلوا کر بتایا جاتا ہے کہ تین ہفتے میں سب ٹھیک کردیں گے بس ہمارے اوپر کسی طرح تنقید بن کردیں۔ اسی دوران ٹرمپ کی تشریف چوم چوم کر معاملات طے کرلیتے ہیں۔ پھر اگلی ضرورت پیش تب آتی ہے جب انڈیا حملے شروع کردیتا ہے۔ علی امین سے پیرول کی درخواست ڈلوائی جاتی ہے اور میاں علی اشفاق جیسے اکاونٹس سیاسی سیز فائر کی خوشخبریاں سنانا شروع کردیتے ہیں۔
عمران خان علی امین کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزیراعلی بناتے ہیں تو رکی ہوئی ٹھنڈی ہوائیں ایک بار پھر چل پڑتی ہیں۔ عمران خان کی بیماری کے ایام میں کارکنان میں غم و غصہ پھیلتا ہے تو بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی محسن نقوی کی ٹھنڈی چھاؤں میں جا بیٹھتے ہیں۔
یاداشت کی کمزوری اور وقت کی قلت کے سب کئی بدلتے موسموں اور کن من کن من برستے صحافیوں کی خبروں کا تذکرہ رہ گیا۔ جب کب فوج کہیں پھنستی ہے یا تحریک انصاف کی طرف سے احتجاج کی کسی چنگاری کا امکان پیدا ہوتا ہے تو فورا کچھ نئے کچھ پرانے ، کچھ باخبر کچھ بے خبر میدان میں کود پڑتے ہیں۔
اب پھر وہی موسم ہے۔ وہی خبریں ہیں اور وہی دعوے ہیں۔ عمران خان واپس آسکتا ہے۔ ہزار بار آسکتا ہے۔ عاصم منیر ایک بار چلا گیا تو جنرل کونسلر بن کر بھی واپس نہیں آسکتا۔ یہ بات اسے سب سے زیادہ بہتر پتہ ہے۔ فوج کو راتوں کو گیزر ٹھیک کروا کر دینے والے تابعدار وزیر اعظم چاہییں۔ فوج کو دفتر کے باہر انتظار کروانے والا وزیراعظم نہیں چاہیے۔
وہ آئے گا ، وہ فوج کے شکست تسلیم کرنے اور بیرکوں کی واپسی کے بعد آئے گا۔ وہ کسی ڈیل یا کسی ٹھنڈی ہوا پر سوار نہیں آئے گا۔ کیونکہ وہ کہتا ہے مر جاؤں گا یزید کی بیعت نہیں کروں گا۔
اردو
M Maqsood Khan 리트윗함
M Maqsood Khan 리트윗함
M Maqsood Khan 리트윗함

March 15 is recognized as the International Day to Combat Islamophobia, a historic milestone by Imran Khan via his demand at United Nations General Assembly.
He is an international hero who brings so much pride to Pakistan.
#ThankYouImranKhan
#خان_کو_شفا_ہسپتال_منتقل_کرو
English
M Maqsood Khan 리트윗함
M Maqsood Khan 리트윗함
M Maqsood Khan 리트윗함
M Maqsood Khan 리트윗함
M Maqsood Khan 리트윗함
M Maqsood Khan 리트윗함
M Maqsood Khan 리트윗함

شفا پاسپٹل منتقلی کی درخواست پر سماعت
آپ کی جانب سے مختلف درخواستیں ایک ہی طرح کی دائر ہوئیں ہیں ، جسٹس انعام امین منہاس
اس پٹشنر نے اور کوئی درخواست اس طرح کی دائر نہیں کی ، وکیل عزیر بھنڈاری
آفس سے پوچھ لیتے ہیں اس طرح کی کتنی درخواستیں زیر التوا ہیں ، جسٹس انعام امین منہاس
اس کا مطلب ہے آپ کو پتہ ہے کہ ہر روز عدالتوں میں خان صاحب کی صحت کے لے کر آرہے ہیں ،پھر عدالتیں کیوں ستو پی کے بیٹھی ہیں ؟
اردو

M Maqsood Khan 리트윗함

M Maqsood Khan 리트윗함
M Maqsood Khan 리트윗함













