
Golden Sparrow 👸🐦⬛ (سنہری چڑیا)
21.2K posts

Golden Sparrow 👸🐦⬛ (سنہری چڑیا)
@7GoldenSparrow
#Pakistan #PakistanZindabad 🇵🇰




کیا آج وفاقی آئینی عدالت اور اسلام آباد ہائی کورٹ کھلیں گی؟ کیا ڈی سی اسلام اباد کی طرف سے نوٹیفیکیشن کے بعد دونوں عدالتیں فیصلہ کریں گی؟


Netanyahu: Extreme Islam, both Sunni and Shia, is a threat to the entire world. We can't say that this will solve itself.


Had an excellent meeting with the Amir of Qatar and my dear brother His Highness Sheikh Tamim bin Hamad Al Thani in Doha this evening. I was also joined by DPM/FM Senator Ishaq Dar and CDF Field Marshal Syed Asim Munir. Our most warm and productive discussions focused on how our two sides can advance our brotherly fraternal bonds and transform them into mutually beneficial economic relationships. We also took stock of the regional situation. Pakistan and Qatar will continue to work together for peace and stability in the region and beyond.












میں یہ بات پورے شرح صدر اور مکمل یقین سے کہہ رہا ہوں کہ تیرہ کے حوالے ہونے والا پروپیگنڈہ ایک باقاعدہ ترتیب دی گئی مہم ہے جسکے پیچھے سرمایہ کار وہی ہیں جو لوگ اکتوبر میں ہونے والے انخلاء کو تین ماہ تاخیر سے کروانے کے لئے جرگے پر اثر انداز ہوئے. تیراہ بابت اتنا جان لیں کہ یہاں کی آبادی 94 ہزار اور یہاں تقریباً 20 ہزار خاندان ہیں اور ہر سال 50 سے 60 فیصد لوگ برف باری کے دوران تیرسہ (پہاڑوں سے اتر کر) سے نکل کر خیبر، باڑہ، پشاور اور کچھ لوگ اورکزئی ایجنسی کے علاقوں میں آتے ہیں. سال 2025 کے درمیانی مہینوں میں تیراہ، اورکزئی، خیبر اور ملحقہ علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آتی ہے، فورسز اور سول انتظامیہ پر شدید حملے ہوتے ہیں، دہشت گرد، ہر طرح کا جدید اسلحہ حتیٰ کہ ڈرون بھی ان حملوں میں استعمال کرتے ہیں. پاک فوج کے جوان بشمول ایک ونگ کمانڈر بھی شہید ہوتے ہیں. ہر حملہ افغانستان سے، افغان طالبان کی مدد سے، اور ہر حملے میں 60 سے 70 فیصد حملہ آور افغان جبکہ مکمل سہولت کار فتنہ الخوارج، ہر تشکیل تیرہ میں حجروں ،مساجد اور مقامی آبادی میں ٹھہرتی تھی. فیصلہ ہوا کہ دہشت گردی ، فتنہ انگیزی اور جہل کا سلسلہ یہاں ہی روکا جائے گا لیکن جب بھی کاروائی ہوتی یہ شکایت ہوتی کے مقامی آبادی متاثر ہوتی ہے پھر کئی جرگوں اور بات چیت کے بعد تین نکات پر سوچ و بچار ہوا پہلا یہ کہ حملہ آور مقامی آبادیوں میں چُھپتے رہیں ، سیکورٹی فورسز انکا تعقب کرتے رہیں اور پھر collateral demage کا منترہ چلتا رہے. دوسرا یہ کہ مقامی آبادی ان دہشت گردوں کو اپنے علاقوں میں نا آنے دے، اور جو آچکے ہیں انہیں آبادی سے نکالیں، حجروں میں جگہ نا دیں، مساجد خالی کروائیں. لیکن مقامی آبادی اسطرح کے عمل سے اسلئے نہیں گزرنا چاہتی تھی کہ پھر اسے بھی لامحالہ دہشتگردوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا پڑتا، لہذا مجبوری کے باعث آبادی نے مشران کے زریعے معذرت کی. تیسرا نکتہ یہ تھا کہ ہر سال 50 سے 60 فیصد لوگ ویسے بھی نسبتاً میدانی علاقوں میں جاتے ہیں، تو اس مرتبہ علاقہ مکمل خالی کرلیا جائے اور سیکورٹی فورسز آزادانہ اور جارحانہ طریقے سے IBOs کرسکیں جہاں collateral demage کا رسک نا ہو. جی ہاں IBO، کوئی بڑا آپریشن نہیں. یہ ساری بات چیت مشورے اور فیصلے جاوید آفریدی کے حجرے پر ہوئے، مشران اور مقامی لوگوں کے بڑوں نے کئے ہر قوم کے قوم کمانڈر نے کئے صوبائی حکومت کے نمائندوں کی موجودگی میں ہوئے وزیر اعلیٰ نے تصدیق کی. لیکن ساتھ یہ بھی طے ہوا تھا کہ ہماری فصل تیار ہے اور ہر سال کیطرح ہم فصل اتار کر اور فروخت کرکے نکلیں گے اور 100 فیصد علاقہ خالی کرینگے، حکومتِ خیبرپختونخواہ 4 ارب انخلاء کے لئے دیگی، جس میں فی خاندان ماہانہ کرایہ 50 ہزار بھی شامل ہے. یہ بھی طے ہوا کہ ان تمام IBOs کے بعد پولیس اپنی 41 چوکیاں قائم کرے گی، سول انتظامیہ تیراہ میں بلدیاتی انتظامات کرکے دے گی، سڑکیں، سوریج، واٹر اسٹوریج اور بجلی وغیرہ کا انتظام کرے گی. لیکن جب سے تیراہ کی برفباری کی وڈیوز، مصنوعی ذہانت سے بنی ہوئی تصاویر اور مقامی سیاستدانوں کی وڈیوز آنا شروع ہوئیں تو صوبائی حکومت مکمل طور پر پیچھے ہٹ گئی، کیونکہ وزیراعلیٰ صاحب عین اُس وقت جب تیرہ انخلاء پر سوشل میڈیا مہم چل رہی تھی تب ہزارہ، مردان ،نوشہرہ اور سوات میں جلسے کررہے تھے. اگر فوج مکمل ( full fledged) آپریشن کے لئے تیراہ جاتی تو فوجی یونٹس کی بڑی تعداد میں نقل و حرکت ہوتی، جو نہیں ہورہی. لہذا کوئی نیا آپریشن نہیں، صرف خفیہ معلومات کی بنیاد پر ہونے والا ٹارگٹڈ آپریشن یعنی IBOs ہونگے لیکن فوج وہاں سڑکوں پر کیوں ہے؟ کیونکہ فوج تو ہر سال انخلاء کے وقت ریسکیو کا کام کرتی یے وہ یہ کام روالا کوٹ سے مری اور بشام سے خنجراب تک بھی اس سیزن میں کرتی یے. پھر تیراہ آپریشن پر اتنا پروپیگنڈہ اور شور کیوں ہورہا یے کیونکہ اسمگلرز کا مفاد اس میں ہے افغانستان کا مفاد اس میں ہے تاکہ مقامی آبادی کی ہمدردی افغانستان سمیٹے، تاکہ پاکستان میں موجود agents of chaos کے پاس سوشل میڈیا مہم کے لئے کوئی مواد رہے تاکہ صوبائی حکومت victim card کھیلے تاکہ منشیات، اسمگلنگ، جرائم اور سیاست کے گٹھ جوڑ نا توڑا جاسکے.











