Sayed Abis Hussaini
705 posts

Sayed Abis Hussaini
@AbisSayed
Doctor 🩺💊Vet__ Lover of Imam Hussain a.s __ Heart in Karbala 🚩__ آرزو شھادت در راہ امام حسین علیہ السلام__ اللھم عجل الولیک الفرج
Parachinar Katılım Aralık 2019
47 Takip Edilen47 Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
Sayed Abis Hussaini retweetledi
Sayed Abis Hussaini retweetledi
Sayed Abis Hussaini retweetledi
Sayed Abis Hussaini retweetledi

@KomailMuavia313 معاویہ نام ہو تو آپ سے اچھی بات کی امید نہیں کی جا سکتی۔۔۔
اردو

@KomailMuavia313 آپ صرف یزید لع کے دور خلافت کا مطالعہ کرو پھر بات کرو کہ کربلا سے پہلے اسلام کی کیا حالت تھی
اردو

اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کی بھی بعض اوقات عقل سلب ہو جاتی ہے، دین اسلام اپنی بقاء کے لئے کسی سانحے یا قربانی کا محتاج نہیں ، اسلام کربلاء سے پہلے بھی اپنی پوری شان سے زندہ و جاوید تھا اور کربلا کے بعد بھی تاقیامت رہے گا ان شاءاللہ
Hamid Mir حامد میر@HamidMirPAK
کچھ دانشوروں کے خیال میں طاقت کے سامنے ڈٹ جانا بے وقوفی ہے لیکن انہیں کون سمجھائے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔ جس لیڈر کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو اُسکی موت قوم کو ایک نئی زندگی عطا کرتی ہے اور پھر یہ زندگی وقت کے ہریزید کے زوال کا باعث بنتی ہے jang.com.pk/news/1566107
اردو

@Aftab_Nazir اگر کربلا سے پہلا اسلام زندہ ہوتا تو اہلبیت علیھم السلام کو ان کا حق دیا جاتا (جو کہ رسول اللہ ص نے بھی امت سے یہی مطالبہ کیا تھا)اور اہلبیت ع پر مظالم نہ ہوتے، اگر اسلام زندہ ہوتا تو یزید جیسے بندے کو خلیفہ نہ بنایا جاتا اور امام حسین ع یزید لعین کے خلاف قیام نہ کرتا
اردو

حامد میر صاحب!
کربلا سے پہلے بھی اسلام زندہ تھااور پورے جاہ و جلال کے ساتھ زندہ تھا۔
یہ دین نہ کربلا سے شروع ہوا تھا، نہ کربلا پر ختم ہوتا ہے۔
نبی اکرم ﷺ کے دورِ مبارک سے لے کر خلافتِ راشدہ کے سنہرے زمانے تک، اسلام اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم و غالب رہا۔ پھر بالخصوص سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنا
جسے تاریخ میں “عامُ الجماعة” کہا جاتا ہے امت کے اتحاد کی ایک روشن مثال ہے۔ خود سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی ریاستِ اسلامیہ مضبوط، مستحکم اور وسیع تھی۔
یہ بھی ذہن میں رہے کہ کربلا سے پہلے بھی بڑے بڑے سانحات پیش آئے۔
غزوات ہوئے، میدان سجے، اور عظیم ہستیاں شہید ہوئیں۔ اگر سازشوں اور فتنوں کی بات کریں تو سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر خلفاء بھی شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ تو کیا ہم ان تمام واقعات کو نظرانداز کرکے صرف کربلا کو ہی پورے دین کا مرکز و محور بنا دیں؟
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہےاور اس میں ملوث کردار ہرگز بری الذمہ نہیں۔ ظلم، ظلم ہی ہوتا ہے، اور ہم اسے کسی صورت درست نہیں ٹھہراتے۔
لیکن اس حقیقت کو ماننے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر اختلاف رکھنے والے پر “ناصبی” کا فتویٰ چسپاں کر دیا جائے۔
آج کل مسئلہ یہ ہے کہ ہر شخص نے اپنے اپنے “یزید” تراش رکھے ہیں۔
کل تک جب اقتدار ساتھ تھا تو کوئی جنرل “قوم کا باپ” تھا، اور آج اختلاف ہوا تو وہی “یزید” قرار دے دیا جاتا ہے یہ طرزِ فکر نہ تاریخ کے ساتھ انصاف ہے، نہ دین کے ساتھ۔
خدارا! سیاسی اکھاڑوں کو دینی تشبیہات دینے سے گریز کریں۔
ہر سیاسی لڑائی کو کربلا بنا دینا، اور ہر مخالف کو یزید کہنا، یہ رویہ خود دین کی سنجیدگی کو مجروح کرتا ہے۔
جہاں تک موجودہ حالات کا تعلق ہے تو ایران کوئی “اسلام کی جنگ” نہیں لڑ رہا۔
یہ دراصل گریٹر ایران اور گریٹر اسرائیل کے بیانیوں کی رسہ کشی ہے اور بدقسمتی سے ہدف دونوں کا ایک ہی ہے: امتِ مسلمہ۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ایک مخصوص فالوونگ حاصل کرنے کا جنون، اچھے بھلے لوگوں کو بھی تدلیس، مبالغہ اور جذباتی بیانیے پر لے آتا ہے۔
حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ کو تاریخ کے تناظر میں سمجھا جائے، نہ کہ اسے موجودہ سیاست کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جائے
آفتاب نذیر
Hamid Mir حامد میر@HamidMirPAK
کچھ دانشوروں کے خیال میں طاقت کے سامنے ڈٹ جانا بے وقوفی ہے لیکن انہیں کون سمجھائے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔ جس لیڈر کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو اُسکی موت قوم کو ایک نئی زندگی عطا کرتی ہے اور پھر یہ زندگی وقت کے ہریزید کے زوال کا باعث بنتی ہے jang.com.pk/news/1566107
اردو

@mariakayan42924 @66mnq @HamidMirPAK @NajibShoro لعنت ہو تمہاری سوچ ہر اور ان مسلمان ممالک پر جن کی آپ بات کر رہے ہے جو کفار اور یہود کے غلام ہیں ان کو اپنی زمین دی ہیں اور ان کے سامنے اپنی بہن بیٹیاں پیش کرتے ہیں۔ ان کو تو ایران کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ان کو اس غلامی سے آزادی دلوا رہے ہیں
اردو

@66mnq @HamidMirPAK @NajibShoro اسرائیلی ایران کو کتے کی طرح بھگا کر مار رہے ہیں اور ایران اسرائیل کو مارنے کی بجائے مسلمان ملکوں پر حملے کر رہا ہے شیعہ کافر ہمیشہ فساد پیدا کرتے ہیں
اردو

کچھ دانشوروں کے خیال میں طاقت کے سامنے ڈٹ جانا بے وقوفی ہے لیکن انہیں کون سمجھائے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔ جس لیڈر کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو اُسکی موت قوم کو ایک نئی زندگی عطا کرتی ہے اور پھر یہ زندگی وقت کے ہریزید کے زوال کا باعث بنتی ہے jang.com.pk/news/1566107
اردو
Sayed Abis Hussaini retweetledi
Sayed Abis Hussaini retweetledi
Sayed Abis Hussaini retweetledi

@AR_9680 @mirzaaaamir تم جو خود کو صحابہ کا وفادار کہہ رہے ہو آپ کہاں کھڑے ہو اس وقت۔۔شاید آپ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہو۔۔۔صحابہ کے وفادار تو وہ ہیں جو دشمن کے خلاف لڑ کر شھادت پر فائز ہو رہے ہیں۔۔آپ جیسے صحابہ کے وفاداروں سے ہم براءت کرتے ہیں
اردو
Sayed Abis Hussaini retweetledi
Sayed Abis Hussaini retweetledi
Sayed Abis Hussaini retweetledi
Sayed Abis Hussaini retweetledi
Sayed Abis Hussaini retweetledi
Sayed Abis Hussaini retweetledi

@Dani_Rana78789 @Amirkha44849137 @AhmadJawadBTH @grok لیکن پھر وہی بات کہ تم مولوی کے بدفعلی کا شکار ہو اس لئے تم پر حق بات اثر نہیں کرتی
اردو

@AbisSayed @Amirkha44849137 @AhmadJawadBTH @grok گروک کو ابو بنانے کی بجائے اپنے اصلی ابو ابنِ سبہا کو پکارو۔
بارہواں امام بھی ڈھونڈ لو وہ بھی مر نہ گیا ہو خامنہ ای کے ساتھ۔
کتے کی مرا خامنہ ای۔
دل خوش ہوا الحمدللہ
اردو

کمال ہے؟
ایران کا سپریم لیڈر اپنی بیوی، بیٹی، نواسے، نواسیوں کو لندن، دوبئی، نیو یارک، سوئزرلینڈ میں آباد نا کر سکا، کمال ہے
ایران کے پاس دُنیا کے سب سے زیادہ تیل اور گیس دونوں کے یکساں ذخائر ہیں(تیل میں تیسرے نمبر پر اور گیس میں دوسرے نمبر پر )، کوئ اور ملک انرجی کے تیل اور گیس کے یکساں ذخائر میں ایران کا مقابلہ نہیں کر سکتا، کمال ہے
سوچیں ایران کا سپریم لیڈر ایون فیلڈ میں ایک فلیٹ نا خرید سکا؟ اپنے خاندان کو برطانیوی شہریت نا دلوا سکا، ایک فارن اکاؤنٹ نا کھلوا سکا، ٹرمپ کی طرح کوئ بزنس ایمپائر بھی نا بنا سکا، اسکے پلیکیٹس 86 برس کی عمر میں بھی ٹھیک تھے، اور اور کبھی علاج کیلئے لندن بھی نہیں گیا؟ کیسا لیڈر تھا؟ کمال ہے
ایران کی کسی لیڈرشپ کے پانامہ لیکس، کسی پنڈورا لیکس، کسی دوبئی لیکس، کسی سوئس لیکس میں بھی نام نا آۓ، حتی کہ ایپسٹین فائل میں بھی کوئ ایرانی لیڈر نہیں، کمال ہے
ایران کا سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائ اپنے خاندان کے ساتھ شہید ہو گیا، نیتن یاہو کی طرح کسی دوسرے ملک میں بھی نہیں چُھپا، اور شہادت کی خواہش کرتا رہا، اللہ نے دُعا قبول کی اور شہادت کے ایسے درجے پر فائز ہوا کہ تاریخ کے سنہرے باب کا حصہ بن گیا، کمال ہے،
ایران کا ایک سابق صدر یونیورسٹی میں پڑھا کر اپنا خرچہ پورا کرتا ہے اور 1980 ماڈل کی پرانی گاڑی چلاتا ہے،زمین پر سوتا ہے، کمال ہے
جو کچھ ایران میں نظر آ رہا ہے، کیا یہ حقیقی اسلام نہیں؟
اردو
















