Advzir Baloch

1.6K posts

Advzir Baloch banner
Advzir Baloch

Advzir Baloch

@Advzir

Kalat State Balochistan Katılım Ekim 2018
296 Takip Edilen1K Takipçiler
Advzir Baloch
Advzir Baloch@Advzir·
@mustafa_nawazk بیغرتی چھوڑیں بلوچستان اور کے پی کے کا حال افغانستان سے کم ہے کیا جو دوسروں کے دکھ بہت جلدی نظر اتے ہیں آپکو
اردو
0
0
1
287
Mustafa Nawaz Khokhar
Mustafa Nawaz Khokhar@mustafa_nawazk·
دِل دِہلا دینے والی خبر۔ بی بی سی کے مطابق افغانستان قحط کے دہانے پر ہے اور ہر چار میں سے تین لوگ انتہاء کی غربت اور بھوک کا شکار ہو چُکے ہیں۔ لوگ محض روٹی اور علاج کے لئیے اپنے بچے فروخت کر رہے ہیں۔ اور اِس تباہ حالی کے ذمہ دار کون؟ وہ جاہل طالبان جنہوں نے اپنا ملک ایک زندہ جہنم بنا دیا ہے۔ حیرت ہے یہ جاہل دہشت گرد لوگوں کے رول ماڈل بھی ہو سکتے ہیں۔ bbc.com/news/articles/…
اردو
61
111
491
19.1K
Advzir Baloch
Advzir Baloch@Advzir·
@mehrubawan کچھ شرم اتی ہے جھوٹ بول کر بی ایل اے کا وہ بیان دکھائے جس میں انہوں نے گوادر جامعہ کے اساتزہ کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہو باقی پروفیسر حیات کو سرعام فوج کے بنائے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ نے شہید کیا جسکا پورا بازار گواہ ہے آپ اے این پی کے کارکن ہو اور باتیں پی پی پی والے کرتے ہو جو فوج
اردو
2
0
7
537
Advzir Baloch
Advzir Baloch@Advzir·
@BaluchistanFact افغان کسی صورت نمک حرام نہیں ہوسکتے آپکو شائد غلط فہمی ہوئی ہے
اردو
0
0
0
1.1K
Balochistan Facts
Balochistan Facts@BaluchistanFact·
بریکنگ نیوز | انتہائی اہم🚨 پاکستانی فورسز بلوچستان میں بلوچ مسلح تنظیموں کے خلاف سابق افغان فوجیوں کو استعمال کر رہی ہیں، جنہیں کچلاک، مسلم باغ اور دیگر پشتون علاقوں میں باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے۔ مزید تفصیلات جلد۔ #Balochistan
اردو
7
17
75
27.4K
Advzir Baloch retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
بلوچستان کا پاکستان سے الحاق کیسے ہوا؟ تاریخ کیا کہتی ہے؟ مزاحمت کرنے والے بلوچ دہشت گرد اور ملک دشمن ہیں یا فریڈم فائٹر؟  ٹک ٹاک پر 404 ویں فکری نشست سے خطاب #LiftBanOnAltafHussain بلوچستان کے حقوق کی جائزجدوجہد کرنے والے بلوچوں کودہشت گرد، ملک دشمن اور فتنہ الہند وستان قرار دینے اور اسے قوم کے سامنے غلط رنگ سے پیش کرنے سے پہلے ہمیں اس کی تاریخی پس منظر کوسمجھنا ہوگااورحقائق کونفرت، تعصب اورعصبیت کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اصل حقائق جاننے ہوں گے۔  بلوچستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب سلطنت برطانیہ نے برصغیرپرقبضہ کیا تو قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ میں قبائلی سرداروں کی بادشاہت تھی، 1875ء میں سلطنت برطانیہ اوربلوچ قبائل کے درمیان ایک معاہدہ ہواجس کے تحت قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ کو برطانوی تحفظ میں آزادریاستوں کادرجہ دیا گیا اوریہ طے پایا کہ یہ علاقے آزاد اورخودمختارہوں گے اور اپنے معاملات خود چلائیں گے۔باقی بلوچستان کے جو علاقے برٹش بلوچستان کہلاتے تھے ان میں کوئٹہ، پشین، ہرنائی اورسبی شامل تھے اور یہاں انگریزسرکارکا قانون چلتا تھا۔ یہ علاقے انگریزوں نے ایک جرگہ کے تحت خان آف قلات میر احمد یار خان سے لیز پر حاصل کئے تھے اور یہ کہا گیا تھا کہ یہاں ترقیاتی کام کرائے جائیں گے لیکن ترقیاتی کاموں کی آڑ میں انگریزوں نے ان علاقوں میں اپنے فوجی اڈے قائم کئے۔ جب قیام پاکستان کامرحلہ آیاتو جون 1947ء میں انگریزوں نےبرٹش بلوچستان کے علاقوں کے سرداروں کا جرگہ بلایا جس میں ان چند علاقوں نے پاکستان میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی لیکن قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ نے پاکستان میں شامل ہونے سے انکارکرتے ہوئے اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ 15اگست 1947ء کوخان آف قلات میراحمد یارخان نے ریاست قلات کی آزادی کااعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد قائداعظم محمدعلی جناح کی جانب سے خان آف قلات سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا جس کے کئی دور ہوئے لیکن مذاکرات میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی اور خان آف قلات میراحمدیار خان ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق کے لئے تیارنہ تھے۔ جب خان آف قلات میر احمدیارخان نے پاکستان سے الحاق کرنے سے انکارکردیا تو پہلے ان پر شدید دباؤ ڈالاجانےلگا اورپھر قلات کو پاکستان میں زبردستی شامل کرنے کے لئے 26 مارچ 1948ء کو بلوچستان کے علاقوں پسنی، جیوانی اورتربت میں پاکستان کی فوج بھیج دی گئی اورقلات پرحملہ کردیا گیا۔  اس صورتحال میں خان آف قلات میر احمد یارخان کے پاس کوئی اورچارہ نہیں تھاکہ وہ فوج سے جنگ سے بچنے کا راستہ اختیارکریں لہٰذاخان آف قلات میر احمدیارخان نے جنگ وجدل سے بچنے اوراپنے لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لئے مجبوری میں پاکستان سے الحاق کرنے پر تیارہوگئے۔ بالکل اسی طرح جیسے فوج نے 19 جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع کیا توایم کیوایم کے کارکنان بہت جذبات میں تھے اورمزاحمت کرناچاہتے تھے لیکن الطاف حسین نےاپنے ساتھیوں کو سمجھایا کہ ہم فوج سے مقابلہ نہیں کرسکتے، الطاف حسین کے پاس بھی کوئی اورچارہ نہیں تھا لہٰذامیں نے اپنے ساتھیوں اورقوم کوبچانے کی خاطر اپنے ساتھیوں کوروپوشی اختیارکرنے کی ہدایت کی۔  جب 1948ء میں بلوچستان کوطاقت کے زورپرپاکستان میں شامل کرایا گیا تو خان آف قلات کے چھوٹے بھائی پرنس کریم خان نے بلوچستان پر قبضے کے خلاف مزاحمت شروع کردی۔ بلوچستان پر اس جبری الحاق کے لئے کی جانے والی فوج کشی میں پاکستان کی فوج کے ساتھ ساتھ برٹش بلوچستان میں پہلے سے موجود انگریزفوج نے بھی پاکستان کی فوج کاساتھ دیاتھا کیونکہ اس وقت پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل سرفرینک والٹر میسروی تھے جو برطانوی فوج سے تعلق رکھتے تھے جن کے بعد جنرل ڈگلس گریسی پاکستانی فوج کے سربراہ مقرر ہوئے، وہ بھی انگریز جنرل تھے۔ جس سے واضح تھا کہ پاکستان 14 اگست 1947ء کوبظاہر آزاد ہوگیا تھا لیکن وہ مکمل طورپرآزاد نہیں ہوا تھا۔جس کاسب سے بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ جب بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے پاکستان کے پہلےگورنر جنرل کی حیثیت سے اپنے عہدے کاحلف اٹھایا تھا تو اس حلف کے بھی الفاظ یہی تھے کہ،   ”میں گورنرجنرل کی حیثیت سے بادشاہ جارج ششم اور ان کے جانشینوں کا وفادار رہوں گا“ ۔ سوال یہ ہے کہ جب پاکستان آزاد ہوگیا تھا توقائداعظم نے گورنرجنرل کی حیثیت سے سلطنت برطانیہ کے بادشاہ البرٹ فریڈرک آرتھر جارج اور ان کے جانشینوں سے وفاداری کاحلف کیوں اٹھایا تھا؟ یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان آزادی کے بعد بھی انگریزوں کاماتحت اوروفادار رہا۔ آج بھی پاکستان بظاہرآزاداورخودمختار ملک ہے لیکن درحقیقت وہ وہ اپنی پالیسی بنانے میں آزادنہیں ہے اورسپرطاقتوں کے زیراثر ہے۔  1/2
Altaf Hussain tweet media
اردو
17
124
179
4.4K
Advzir Baloch
Advzir Baloch@Advzir·
@KiyyaBaloch رسوا وہ ہوتے ہیں جن میں کچھ عزت باقی ہو پہلے سے رسوا شخص کو رسوا ہونے کا خوف دلانا خام خیالی ہے
اردو
0
0
0
202
Kiyya Baloch
Kiyya Baloch@KiyyaBaloch·
مالک بلوچ صاحب، اسلام آباد سے جب بھی کوئی آۓ سرفراز آپ کو ساتھ بٹھا دیتا ہے۔ایک ایسا شخص جو اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کر بلوچ پروفیسروں، شاعروں، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو دھمکیاں دیتا ہے اور پھر وہ لوگ قتل کر دیے جاتے ایسے شخص کا وزٹنگ کارڈ بن کر، خدارا خود کو مزید رسوا نہ کریں۔
Kiyya Baloch tweet media
اردو
21
30
164
8.6K
Advzir Baloch retweetledi
Muhammad Amir Rana
Muhammad Amir Rana@AmirRana·
Who is exploiting the space provided by the BYC ?
English
3
8
30
20.3K
Mustafa Nawaz Khokhar
Mustafa Nawaz Khokhar@mustafa_nawazk·
Insurgencies can't survive without public support. BLA's recent kidnappings of university of Gwadar professors, along with extortion and civilian killings, will surely alienate ordinary people. A shift in state behavior at this point, could help win back public trust.
English
33
57
379
21.3K
Advzir Baloch retweetledi
Mahrang Baloch
Mahrang Baloch@MahrangBaloch_·
A state that claims to believe in democracy should never be frightened by peaceful political participation. But in Pakistan, the reality is the opposite. Today, even attending a peaceful public gathering as a supporter of Baloch rights is being treated as a crime. The recent conditions attached to Aurat March Karachi clearly expose the mindset of the authorities. The issue is no longer about maintaining law and order; it is about controlling narratives and isolating every voice that speaks about Balochistan. The state wants platforms, protests, and public spaces to exist only under silence and obedience. The constitutional rights to freedom of speech and peaceful protest in Pakistan are increasingly being reduced to mere words on paper. Instead of protecting these rights, the state has imposed restrictive conditions that make organizing protests difficult and, in many cases, impossible. This not only undermines fundamental freedoms but also reflects a broader pattern of controlling and silencing human rights voices. When individuals or groups fail to comply with these restrictive conditions, they are often subjected to arrests, harassment, surveillance, and intimidation. For years, the Baloch people have been subjected to enforced disappearances, extrajudicial killings, arbitrary detentions, media censorship, and collective punishment. Families searching for their loved ones are harassed instead of being heard. Women demanding justice are threatened instead of protected. Students, activists, writers, and political workers are constantly profiled as enemies simply for speaking about human rights. What is happening today against BYC is part of the same larger policy. Peaceful activism is deliberately being criminalized because the movement has exposed realities that the state wants hidden. From fabricated cases and forced press conferences to surveillance and intimidation, every tactic is being used to break the morale of activists and disconnect them from public spaces. The decision to label organizations such as the Baloch Yakjehti Committee (BYC) and Jeay Sindh Qaumi Mahaz (JSQM) as proscribed is therefore deeply questionable. BYC is a peaceful political and human rights movement that has consistently raised its voice against enforced disappearances, human rights violations, and state repression in Balochistan through political and constitutional means. Yet, despite the absence of any transparent legal process proving BYC to be an anti-state organization, its leadership has faced imprisonment under fabricated FIRs, while activists and members have been subjected to enforced disappearances, harassment, and extrajudicial violence. No court of law has publicly established BYC as a violent or anti-state organization. Despite this, peaceful political activism and demands for justice are increasingly being treated as threats rather than democratic rights. The attempts to ban, isolate, and criminalize Organization like BYC reflect a broader fear of organized political consciousness, public mobilization, and collective resistance among oppressed nations. The state continues to fail in understanding one thing: movements built on the pain, memory, and resistance of people cannot be erased through notifications, restrictions, bans, or threats. Every attempt to suppress peaceful voices only strengthens public awareness about the injustices taking place in Balochistan and other marginalized regions. The fear shown towards BYC today is itself an acknowledgment that the movement has become impossible to ignore. A peaceful movement demanding dignity, justice, constitutional rights, and an end to enforced disappearances should not threaten any democratic state. The fact that it does reveals the depth of the crisis itself. These actions are ultimately attempts to silence political awareness, suppress dissent, and weaken the collective voice of oppressed nations. However
Mahrang Baloch tweet media
English
7
195
393
13.1K
Advzir Baloch
Advzir Baloch@Advzir·
@ahmed_khar17254 اگر کرسکتے ہو تو یہ بھی کرلو کیونکہ ابھی تک صرف بلوچستان کے بلوچ ردعمل دے رہے جب کراچی سندھ اور پنجاب کے بلوچوں نے حملے شروع کردیئے گ میں سے انسو نکے گا تم پنجابیوں کے
اردو
1
0
0
14
Kiyya Baloch
Kiyya Baloch@KiyyaBaloch·
جب ایک اعلیٰ سرکاری افسر ایک المیے کو ’چند سو لاپتہ افراد‘ کا مسئلہ کہہ کر رد کرے اور یہ کہے کہ ’بے جا شور‘ کیوں مچایا جا رہا تو یہ صرف بے حسی نہیں بلکہ ایک خطرناک سوچ کی عکاسی ہے۔ ہر لاپتہ شخص ایک انسان ہے، ایک خاندان ہے، ایک کہانی ہے۔ مسئلہ تعداد کا نہیں انصاف اور قانون کا ہے۔
Arifa Noor@arifanoor72

Mashallah!!! From a NYT story on Balochistan

اردو
6
30
76
5.5K
Advzir Baloch
Advzir Baloch@Advzir·
اگر چند سو ہی سہی تو لعنتی انسان کیا ان چند سو افراد کو اہلخانہ نہیں کیا وہ چند سو لاوارث ہیں جب پنجاب سے ایک شخص لاپتہ ہوجائے تو آپکا پورا میڈیا اسکے گن گاتا ہے مگر بلوچ آپکے نظر میں انسان ہی نہیں قصور آپکا نہیں کیونکہ آپ خود ایک پنجابی ہو
The Balochistan Post@BalochistanPost

بلوچستان میں چند سو افراد کی گمشدگی پر واویلا مچایا جارہا ہے۔ حمزہ شفقت buff.ly/0b8dSGZ

اردو
0
0
0
40
Advzir Baloch
Advzir Baloch@Advzir·
@PakSarfrazbugti آپکے پاس سنہری موقع ہے اپنے مسلح جھتوں کو آزادی کا سپائی بنائے کل یہ موقع بھی شائد آپکے پاس نہ ہو پنجابی ریاست کا وطیرہ ہے وہ بلوچ کو بلوچ کے خلاف استعمال کرکے ٹشو پیپر کے طرح پھینکتا ہے
Advzir Baloch@Advzir

سرفراز بگٹی عہدہ اور مرعات وقتی اسائش ہیں لہزا وقتی سہولیات کیلئے اپنا نام تاریخ میں سیاہ ہونے مت دے شفیق مینگل آپ سے بھی ظالم انسان تھا مگر اس نے مزید ریاست کا مسلح الہ کار بننے سے انکار کرکے اب صرف ریاست کا زبانی دفاع کررہا ہے تو آپکو بھی سوچنا چائیے @PakSarfrazbugti

اردو
0
0
0
8
Advzir Baloch
Advzir Baloch@Advzir·
سرفراز بگٹی عہدہ اور مرعات وقتی اسائش ہیں لہزا وقتی سہولیات کیلئے اپنا نام تاریخ میں سیاہ ہونے مت دے شفیق مینگل آپ سے بھی ظالم انسان تھا مگر اس نے مزید ریاست کا مسلح الہ کار بننے سے انکار کرکے اب صرف ریاست کا زبانی دفاع کررہا ہے تو آپکو بھی سوچنا چائیے @PakSarfrazbugti
Advzir Baloch tweet media
اردو
0
1
1
165
Advzir Baloch retweetledi
Kenneth Roth
Kenneth Roth@KenRoth·
Pakistan's Baluchistan province has become the site of competing atrocities. The Baloch Liberation Army attacks civilians, while Pakistani security services forcibly disappear suspects. This deadly spiral must stop. trib.al/i6ACzhM
English
26
69
165
30.1K
Jalila Haider
Jalila Haider@Advjalila·
میم بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کا صرف یہی ذریعہ معاش ہے۔ اب بھی ان پر سخت پابندیاں ہے۔ جس صوبے میں نہ کارخانے ہو نہ روزگار کے دوسرے مواقع اس سے یہ سرحدی روزگار بھی چھینا چاہتے ہے سب۔ یہ لوگ کن مشکل میں جان جوکم میں ڈال کر یہ تیل لاتے ہے اور یہی پورے ملک میں چل بھی رہا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی سرحدی انفارمل ٹریڈ کو لوگ کیسے سمگلنگ کہتے ہے اور موٹر سائکلوں والوں کے پیچھے لگے ہے۔
Farzana Ali@farzanaalispark

اگر یہ وڈیو اصلی ہے تو یہ جو اتنی بڑی تعداد میں موٹر سائیکل سوار وڈیو میں نظر آ رہے ہیں کیا انھوں نے سلمانی ٹوپی پہنی ہوتی ہے کہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نظر نہیں آتے ؟؟؟ چکر کیا ہے ؟

اردو
21
26
156
11.4K