

Aman Baloch
268 posts








ہمارے مطالبات - آن لائن اور جیل میں ہونے والے ٹرائلز کا خاتمہ کیا جائے اور کھلی عدالت میں سماعت بحال کی جائے تاکہ عدالتی کارروائی شفاف ہو اور عوام کے لیے قابلِ رسائی رہے۔ - موجودہ جج مبین کو تبدیل کیا جائے کیونکہ یہ روز اول سے مقدمے کے حوالے سے ریاست کی طرف جانبدار رہے ہیں تنظیم کے رہنماؤں نے جج کے بدلنے کے لیے کورٹ پیں ایپلیکشن دائر کی ہے جسے جلد سنا جائے اور اس کیس کی پیروی کے کیے نیے غیر جانب دار جج کو زمہ داری سونپی جائے۔ - جج کے تبادلے اور کورٹ ٹرائیل شروع کرنے تک مقدمہ روک دیا جائے۔ #EndUnfairTrialOfBYCLeaders

تنظیم کے رہنماؤں نے جھوٹے کیسسز میں جاری مقدموں کو کورٹ ٹرائل سے جیل ٹرائیل، اور اب فیس لیس ٹرائیل میں تبدیل کرنے کے خلاف جیل میں احتجاج شروع کی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی پیشی کے موقع پر ریاست پاکستان کی جانب سے مقدمات کو ویڈیو لنک کے ذریعے فیس لیس ٹرائل کی جانب منتقل کرنے کی کوشش ایک بار پھر منصفانہ ٹرائل، عدالتی شفافیت کے بنیادی اصولوں پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے بلکہ زیرِ حراست رہنماؤں کے قانونی اور آئینی حقوق کو مزید محدود کرنے کی کوشش بھی ہے۔ تنظیم کے رہنماؤں کے مقدمات میں طویل عرصے سے عدالتی طریقۂ کار کو مسلسل تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انتظامی حراست، مختلف مقدمات کا اندراج، مسلسل جسمانی ریمانڈ، جیل ٹرائل اور اب فیس لیس کورٹس کا اجراء جیسے اقدامات پاکستانی عدالتی نظام کی خفیہ اداروں اور فوج کے ہاتھوں یرغمال ہونے کی واضح ثبوت ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کھلی عدالت میں سماعت، عوامی رسائی اور عدالتی نگرانی منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصول ہیں۔ جب مقدمات کو جیلوں کی دیواروں کے پیچھے یا فیس لیس اور آن لائن طریقۂ کار کے ذریعے چلایا جاتا ہے تو ہم اس کو براہراست بی وائی سی رہنماؤں کو مزید ریاستی جبر کا نشانہ بنانے کا حکمت عملی کا حصہ سمجھتے ہیں اور عدالت کو اس میں شریک جرم سمجھتے ہیں۔ زیرِ حراست رہنماؤں نے متعدد مرتبہ جیل ٹرائل کے دوران عدالتی جانبداری اور عدالتی رویّے سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا، جس کے بعد متعلقہ جج کی تبدیلی کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کی گئی۔ تاہم یہ درخواست کئی ماہ گزرنے کے باوجود تاحال زیرِ التوا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرحراست رہنما اس وقت جیل کے اندر فیس لیس کورٹ ٹرائیل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف واضح ہے کہ ان کے مقدمات کی سماعت آئین اور قانون کے مطابق کھلی عدالت میں ہونی چاہیے، اور انہیں اپنے وکلاء، اہلِ خانہ اور عوامی نگرانی کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فیس لیس ٹرائیل ور جیل ٹرائل کا فوری خاتمہ کیا جائے، مقدمات کو فوری طور پر کھلی عدالت میں منتقل کیا جائے، جج کی تبدیلی سے متعلق درخواست پر فوری سماعت کی جائے، اور زیرِ حراست رہنماؤں کے تمام قانونی اور آئینی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔ ہم ریاست پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ریاست کی خام خیالی ہے کہ وہ تنظیم کے رہنماؤں کو جھوٹے مقدمات میں قید کرکے عوامی آواز کو مستقل خاموش کر دینگے۔ جبکہ ہم عدالت اور مذکورہ جج کی قانونی جبر کو بھی بلوچ قوم اور دنیا کے سامنے عیاں کرتے رہے گے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی جیل میں جاری تنظیم کے رہنماوں کے احتجاج کو پوری دنیا تک پہنچائے گی، اور فیس لیس کورٹ و عدالتی جبر کے خلاف آن لائن احتجاج کا اعلان کیا جائے گا۔











