Sabitlenmiş Tweet
SHABBIR CHAUDHARY
45.6K posts

SHABBIR CHAUDHARY
@CH92301
Journalist. love only for Pakistan . Defense. Pak Army zinda bad. politics. Nature. Wildlife. Farmers. History
Islamabad, Pakistan Katılım Ekim 2020
874 Takip Edilen1.8K Takipçiler
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi

آج ایک اور بیٹی اس ملک کے نظام عدل کی طرح ہار گئی
امِ رباب چانڈیو کی اپنے باپ' چچا اور دادا کے قتل پر طاقتوروں کے مقابل 8 سالہ جدوجہد ناکام رہی اور ماڈل عدالت نے آٹھوں افراد کو کمزور تحقیقات اور دباؤ میں آ کر گواہوں کے مکر جانے کی وجہ سے آٹھوں افراد کو بری کر دیا
وقوعہ کے وقت کم عمر امِ رباب نے ہمت نہیں ہاری اور عدالت' میڈیا اور سوشل میڈیا پر جگہ یہ کیس لڑا
اردو
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi
ابتسام الہٰی ظہیر کے ہینڈلرز کو شاید معلوم نہیں ہے کہ ابتسام الہٰی ظہیر کی زہریلی تقریریں آنے والے دور میں ان کیلئے بہت بڑا مسئلہ بنیں گی
اور ہینڈلرز ہاتھوں سے لگائی گرہیں دانتوں سے بھی کھول نہیں پائیں گے
اور ابتسام الہٰی ظہیر کو بھی خبر ہو کہ جن کی شہہ پر فرقہ پرستی اور انتشار پھیلا رہے ہو
یہ خود تمہیں گرفتار کریں گے اور تمہارے کاروباری مرکز کو اپنے ہاتھوں سے تالے لگائیں گے
#پاکستان
#ایران
اردو
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi

خبیث انسان کہہ رہا ہے کہ شیعوں کے دل میں بُغضِ اسلام ہے۔ یعنی وہ کافر ہیں۔ مُشرک ہیں۔
آپ کے وجود پر میں لعنت بھیجا ہوں اور اللہ دعا گو ہوں کہ آپ کو آپ کی تہمت لگانے کا عذاب ملے۔ آمین۔
Hafiz Hisham Elahi Zaheer@hishamelahi
اندازہ کریں جو لوگ کل تک سعودیہ کو ٹرمپ دوستی پر برا کہتے تھے آج اسی ٹرمپ کی بکواس پر بھی سعودیہ کو ہی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ انکو تکلیف ٹرمپ یا امریکہ سے نہیں بلکہ اصل تکلیف سعودیہ سے ہے۔ بغض سعودیہ واسلام رافضیوںاقر یہودیوں کی گھٹی میں ہے سب سے زیادہ بکواس یہی دو پارٹیاں کر رہی ہیں
اردو
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi

To All The Sectarian Mullahs Trying To Stir Shia-Sunni Rift In Love Of Saudi Arabia During The War……..
Talking against Mother Aisha (r) is not part of Shia faith. Neither is talking about the Khulfa e Rashedeen (r).
If any Shia mullah says anything else I condemn it in advance now all my Sunni brothers should condemn the Sunni mullah who tries to divide us by lying.
We are one. We are the followers of Aqa ﷺ and it is about time we become united. Ameen.

English
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi

مفتی عبدالرحیم فرماتے ہیں کہ یہ ایران اور امریکہ کی جنگ ایک ملی بھگت ہے اور یہ جنگ فقط اس لیئے کی جا رہی ہے کہ عرب مُمالک پر دباؤ ڈال کر اُن کو امریکہ کے ماتحت کیا جاۓ اور اس چال میں ایران امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے۔۔۔۔۔۔
سُنا ہے یہ دس لاکھ بچوں کے اُستاد ہیں۔
کہاں جا کر سر مارے انسان۔ بس یہ سوچیں اُن دس لاکھ طُلبا کا کیا ہوگا جب وہ جوان ہونگے۔
ہمارا مُلک اسی طرح systematically تباہ ہوا ہے ان مُلّاؤں کے ہاتھ۔

اردو
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi

1975ء میں اندرا گاندھی کو بیٹے سنجے گاندھی نے مشورہ دیا کہ اماں حضور! اب ملک میں نئے انتخابات کروانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے ہم ماں بیٹا ملکر ہندوستان پر بیس سے پچیس سال حکومت کر سکتے ہیں.. آئین اس کی اجازت دیتا ہے..اگر مغل سنڑل ایشیا سے اُٹھ کر چار سو سال ہندوستان پر حکومت کر سکتے ہیں تو ماں بیٹا کیوں نہیں؟
تاہم ایمرجنسی کے دو سال بعد اندرا گاندھی انتخابات کروانے پر راضی ہو گئیں...
خیر مارچ 1977ء میں الیکشن ہوئے اور تمام شمالی علاقوں اور ریاستوں میں کانگریس کو شکست ہوئی.. تمام غریبوں نے پیغام دیا کہ انھیں کانگریس سے زیادہ اپنی آزادی عزیز ھے.. وہ اپنے بنیادی حقوق غصب کرنے والی لیڈر سے اس سے بہتر بدلہ نہیں لے سکتے تھے.. جس کانگریس نے 1971ء میں 350 سیٹیں حاصل کی تھیں اسے صرف 150 نشستیں مل سکیں..جنتا پارٹی نے 298 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی.. الیکشن سے پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ غریبوں کو اپنی آزادی پیاری ہوتی ہے اور وہ جمہوریت کے ذریعے اندرا سے بدلہ لے سکتے ہیں..
جب ساری دنیا انتخابی نتائج پر حیران ہو رہی تھی تو اندرا گاندھی کے اپنے حلقے رائے بریلی کا ڈپٹی کمشنر ونود ملہوترہ زندگی کے سب سے بڑے امتحان سے گزر رہا تھا.. وہ اس حلقے کا ریٹرنگ افسر تھا جب نتائج کی گنتی شروع ہوئی تو ملہوترہ کو احساس ہوا کہ نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی برے طریقے سے ہاری ہیں..
اب مسلئہ یہ تھا کہ ایک ڈپٹی کمشنر اتنی جرات کیسے کرے کہ ملک کی وزیراعظم کے ہارنے کا اعلان کرے؟ ووٹوں کی گنتی کے وقت ریڈیو اور ٹی کی نشریات بند تھیں.. نتائج کا اعلان رات گئے ہوتا تھا..ڈپٹی کمشنر کو علم نہ تھا کہ ہندوستان کے دیگر حصوں سے انتخابی نتائج کیا آ رہے ہیں.. کانگریس جیت رہی ہے یا ہار رہی ہے..
اندرا گاندھی کا پولنگ ایجنٹ منانے کو تیار نہ تھا کہ وزیراعظم بھی ہار سکتی ہیں اس نے تین دفعہ ووٹوں کی گنتی کرائی مگر نتیجہ شکست ہی تھا.. ڈپٹی کمشنر کو بہت اوپر سے فون آنا شروع ہوئے کہ وہ اندرا گاندھی کی شکست کا اعلان ابھی نہ کرے..
جب ڈپٹی کمشنر کو علم ہو گیا کہ اندرا گاندھی ہار چکی ہیں تو اس کے سامنے دو راستے تھے وہ نتیجہ روک لے یا پھر فوراّ اعلان کر دے.. کافی سوچ بچار کے بعد جب بیوی کے پاس گیا جو گھر کے لان میں چارپائی پر اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ کھیل رہی تھی.
اس نے بیوی کو بتایا کہ اگر اس نے اندرا گاندھی کے ہارنے کا اعلان کر دیا تو انھیں اندرا کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا... بہت ساری مشکلات کھڑی ہو جائیں گی.. وہ ضمنی انتخابات میں دوبارہ جیت جائے گی اور حکومت اسی کی ہی بنے گی.. ڈپٹی کمشنر کی بیوی اطمینان سے اپنے بیٹے کے ساتھ کھیلتی رہی.. اس نے سر اُٹھا کر خاوند کو دیکھا تک نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے.. کتنے بڑے امتحان سے گزر رہا ہے.. اس نے اندرا گاندھی جیسی لیڈر کے ہارنے کا اعلان کرنا ہے..
ڈپٹی کمشنر نے بیوی سے دوبارہ پوچھا کہ وہ کیا کرے تو اس کی بیوی نے شانِ بے نیازی سے کہا کہ
" جاؤ وہی کرو جو جائز ہے، ہم برتن مانجھ لیں گے مگر بے ایمانی نہیں کریں گے.."
ڈپٹی کمشنر نے اعلان کر دیا کہ اندرا گاندھی ہار چکی ہیں.. ہندوستان کیا پوری دنیا ششدر رہ گئی.. یہ جرآت بیوی نے ڈپٹی کمشنر کو دی تھی..
کتاب:: Beyond the lines
مصنف:: کلدیپ نائر
مترجم:: رؤف کلاسرا
(اس پوسٹ کا پاکستان سے کچھ لینا دینا نہیں اس لیے اپنا خون ساڑنے کی کوشش مت کریں)
بشکریہ ولی سالا ر مغل

اردو
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi

تاریخ کا ایسا واقعہ جو دل چیرتا ہے۔
حضرت ابوذر غفاری نے حضرت بلال سے کہا "اے کالی ماں کے بیٹے تو بھی مجھے ٹوکتا ہے"
یہ بات بلال کا سینہ چیر گئی اور یہ بات سن کر حضرت بلال رونے لگے ..
اور کہا "میں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤں گا"
اور پھر رحمۃ للعالمین نے جب یہ سنا تو آپکے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا اور فرمایا
"اے ابوذر تو نے بلال کو ماں کے رنگ کا طعنہ دے کر اسکی تحقیر کی ہے تیرے اندر ابھی تک جاہلیت موجود ہے"
آپ (ص) کی زبان مبارک سے یہ سن کر ابوذر کی ہچکی بندھ گئی اور عرض کیا "یارسول اللہ میرے لیے بخشش کی دعا کیجیے" اور پھر روتے ہوئے بلال کے گھر کی جانب دوڑ لگادی
بلال کے پاس پہنچ کر اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیا اور روتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے
"اللہ کی قسم میں اپنا چہرہ اس وقت تک زمین سے نہیں اٹھاؤں گا جب تک بلال کا پاؤں اس چہرے پر نہیں پڑتا
اے بلال آپ عزت والے ہیں اور ابوذر ذلیل ہے"
اور پھر بلال نے پاس آکر ابوذر کا چہرہ چوم لیا اور کہا میں ایسے چہرے پر پاؤں نہیں رکھ سکتا جو رب کریم کے سامنے جھکتا ہو اور پھر دونوں بغل گیر ہو کر دیر تک روتے رہے ۔
کبھی غور کیا آج ہماری کیا کیفیت ہے؟
ھم کتنی دفعہ دوسروں کی تذلیل کرتے ہیں ؟
کبھی فرقہ و سیاسی گروہ کی بنیاد پر ، کبھی رنگ ونسل کی بنیاد پر ، کبھی برادری اور قومیت کی بنیاد پر کبھی علاقائی بنیاد پر کبھی مالی حالت کی بنیاد پر کبھی علم کی بنیاد پر اور کبھی عمل کی بنیاد پر کہ جیسے ہم نے ہی تقویٰ کا سرٹیفکیٹ لے رکھا ہے
اور پھر زندگی میں کم ہی وقت ملتا ہے کہ ہم اس پر معذرت کریں اور اعتراف کریں کہ ہم نے زیادتی کی تھی
اللہ پاک ہم سب کو اپنے اندر کی "میں" ختم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین،
اردو
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi
SHABBIR CHAUDHARY retweetledi







