Sheikh Aziz
6.9K posts

Sheikh Aziz
@GPLORG
صدر میڈیا کلب احمدپورشرقیہ COعوامی بیٹھک چینل ضلعی نائب صدر بہاولپور یونین آف جرنلسٹ 💥روزنامہ نوائے وقت ملتان چیف ایڈیٹر و پبلشر ہفت روزہ ایوان احمد پور شرقیہ
Ahmadpur East, Pakistan Katılım Ocak 2013
3K Takip Edilen3K Takipçiler

MediaPuls.com: جبری مذہب تبدیلی ایک المیہ mediaclubbwp.blogspot.com/2026/04/blog-p…
اردو
Sheikh Aziz retweetledi

@Badass1ZQ1 بالکل محنتی ادمی تھے اور نواب اف بہاولپور کے شاہی موٹر خانے میں بھی بطور مکینک بڑا عرصہ کام کیا
اردو

مہدی حسن صاحب کی دو شادیاں ہوئی تھیں
ان کی دونوں بیویاں آپس میں بہنیں سگی بہنیں تھیں
پہلی شادی مہدی حسن صاحب کی پہلی شادی ان کی جوانی کے دور میں ہوئی تھی جب وہ ابھی موسیقی کی دنیا میں نام بنا رہے تھے
ان کی پہلی اہلیہ کا نام امتیاز بیگم تھا
ان سے ان کے نو بچے پیدا ہوئے جن میں سے چھ بیٹے موسیقی سے وابستہ ہیں
پہلی اہلیہ کی وفات کے بعد یا ان کی زندگی ہی میں مختلف ذرائع کے مطابق انہوں نے دوسری شادی اپنی پہلی بیوی کی چھوٹی بہن سے کی
یہ اس وقت کے معاشرے اور خاندانی روایات کے مطابق بچوں کی بہتر پرورش کے لیے کیا گیا اک فیصلہ تھا
مہدی حسن صاحب کی ازدواجی زندگی بہت پرسکون تھی
وہ اپنے خاندان سے بہت لگاؤ رکھتے تھے
اک مشہور قصہ یہ ہے کہ جب وہ بھارت کے دورے پر گئے اور وہاں کی حکومت نے ان کی بہت آؤ بھگت کی،
تب بھی وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے لیے تحائف خریدنا اور ان کی خیریت معلوم کرنا نہیں بھولتے تھے
ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ محنت اور جدوجہد میں گزرا،
جس میں ان کے خاندان کا بڑا ہاتھ تھا
اک بار ان کی شادی شدہ زندگی کے حوالے سے پوچھا گیا کہ آپ اتنے بڑے اسٹار ہیں، کیا گھر میں بھی اسٹار بن کر رہتے ہیں؟
تو انہوں نے مسکرا کر جواب دیا
" گھر میں میں صرف اک شوہر اور باپ ہوں، وہاں میری غزل نہیں بلکہ میری اہلیہ کا حکم چلتا ہے "
وہ اکثر ریکارڈنگ سے تھک کر آتے تو اپنے ہاتھ سے بچوں کے لیے لکڑیاں کاٹتے یا گھر کا چھوٹا موٹا مکینک والا کام خود کرتے

اردو
Sheikh Aziz retweetledi

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے حضرت حسینؓ کا پانی 10 دن بند رہا تب بھی ٹھیک اگر تاریخ کہے حضرت حسینؓ کا پانی 7 دن بند رہا تب بھی ٹھیک لیکن تاریخ کو چھیڑنے کی بجائے تاریخ کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے نظر آتا ہے کہ اسلام کی تاریخ میں صرف حضرت حسینؓ کی ہی شھادت مظلومانہ یا دردناک نہیں بلکہ اگر ہم 10 محرم کی طرف جاتے ہوئے رستہ میں 18 ذی الحج کی تاریخ پڑھیں تو ایک ایسی شھادت دکھائی دیتی ہے جسمیں شھید ہونیوالے کا نام حضرت عثمانؓ ہے۔
جی ہاں__ وہی عثمانؓ جنہیں ہم ذالنورین کہتے ہیں
وہی عثمانؓ جسے ہم داماد مصطفیؐ کہتے ہیں
وہہ عثمان جسے ہم ناشر قرآن کہتے ہیں
وہی عثمانؓ جسے ہم خلیفہ سوئم کہتے ہیں
وہی عثمانؓ جو حضرت علیؓ کی شادی کا سارا خرچہ اٹھاتے ہیں
وہی عثمانؓ جسکی حفاظت کیلئے حضرت علیؓ اپنے بیٹے حضرت حسینؓ کو بھیجتے ہیں
وہی عثمانؓ جسے جناب محمد الرسول اللہؐ کا دوہرا داماد کہتے ہیں
خیر یہ باتیں تو آپکو طلبا خطبا حضرات بتاتے رہتے ہیں
کیونکہ حضرت عثمانؓ کی شان تو بیان کی جاتی
حضرت عثمانؓ کی سیرت تو بیان کیجاتی ہے
حضرت عثمانؓ کی شرم حیا کے تذکرے کئے جاتے ہیں انکے قبل از اسلام اور بعد از اسلام کے واقعات سنائے جاتے ہیں لیکن بد قسمتی ہے یہ کہ انکی مظلومیت کو بیان نہیں کیا جاتا انکی دردناک شھادت کے قصہ کو عوام کے سامنے نہیں لایاجاتا۔
تاریخ کی چیخیں نکل جائیں اگر عثمانؓ کی مظلومیت کا ذکر کیا جائے کوئی عالم یا خطیب نہیں لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ عثمان وہ مظلوم تھا
جسکا 40 دن پانی بند رکھا گیا آج وہ عثمان پانی کو ترس رہاہے جو کبھی امت کیلئے پانی کے کنویں خریدا کرتاتھا
حضرت عثمانؓ قید میں تھے تو پیاس کی شدت سے جب نڈھال ہوئے تو آواز لگائی ہے کو جو مجھے پانی پلائے ؟
حضرت علیؓ کو پتہ چلا تو مشکیزہ لیکر علیؓ عثمان ؓ کا ساقی بن کر پانی پلانے آرہے ہیں
ہائے ۔۔۔ آج کربلا میں علی اصغر پر برسنے والے تیروں کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن حضرت علیؓ کے مشکیزہ پر برسنے والے تیروں کا ذکر نہیں ہوتا باغیوں نے حضرت علیؓ کے مشکیزہ پر تیر برسانے شروع کئے تو علیؓ نے اپنا عمامہ ہوا میں اچھالا تاکہ عثمانؓ کی نظر پڑے اور کل قیامت کے روز عثمانؓ اللہ کو شکایت نا لگاسکے کہ اللہ میرے ہونٹ جب پیاسے تھے تو تیری مخلوق سے مجھے کوئی پانی پلانے نا آیا
کربلا میں حسینؓ کا ساقی اگر عباس تھا
تو مدینہ میں عثمانؓ کا ساقی علیؓ تھے
اس عثمانؓ کو 40 دن ہوگئے ایک گھر میں بند کیئے ہوئے جو عثمانؓ مسجد نبوی کیلئے جگہ خریدا کرتاتھا۔
آج وہ عثمانؓ کسی سے ملاقات نہیں کرسکتا جسکی محفل میں بیٹھنے کیلئے صحابہ جوق درجوق آیاکرتے تھے۔
40 دن گزر گئے اس عثمانؓ کو کھانہ نہیں ملا جو اناج سے بھرے اونٹ نبیؐ کی خدمت میں پیش کردیا کرتاتھا۔
آج اس عثمان کی داڑھی کھینچی جارہی ہے جس عثمان سے آسمان کے فرشتے بھی حیاکرتے تھے
آج اس عثمانؓ پر ظلم کیا جارہا ہے جو کبھی غزوہ احد میں حضور نبی کریمؐ کا محافظ تھا
آج اس عثمانؓ۔کا ہاتھ کاٹ دیا گیا جس ہاتھ سے آپؐ کی بیعت کہ تھی
ہائے عثمان میں نقطہ دان نہیں میں عالم نہیں جو تیری شھادت کو بیان کروں اور دل پھٹ جائیں آنکھیں نم ہوجائیں
آج اس عثمانؓ کے جسم پر برچھی مار کر لہو لہان کردیا گیا جس عثمان نے بیماری کی حالت میں بھی بغیر کپڑوں کے کبھی غسل نہ کیا تھا
آج آپؐ کی 2 بیٹیوں کے شوہر کو ٹھوکریں ماری جارہی ہیں۔
18 ذی الحج 35 ھجری ہے جمعہ کا دن ہے حضرت عثمانؓ روزہ کی حالت میں ہیں باغی دیوار پھلانگ کر آتے ہیں اور حضرت عثمانؓ کی داڑھی کھنچتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں ایک باغی پیٹھ پر برچھی مارتاہے ایک باغی لوہے کا آہنی ہتھیار سر پر مارتاہے ایک تلوار نکالتا ہے حضرت عثمانؓ کا ہاتھ کاٹ دیتاہے وہی ہاتھ جس ہاتھ سے آپ کی بیعت کی تھی قرآن سامنے پڑا تھا خون قرآن پر گرتا ہے تو قران بھی عثمانؓ کی شھادت کا گواہ بن گیا عثمانؓ زمین پر گر پڑے تو عثمانؓ کو ٹھوکریں مارنے لگے جس سے آپؐ۔کی پسلیاں تک ٹوٹ گئیں حضرت عثمانؓ باغیوں کے ظلم سے شھید ہوگئے۔
اسلام وہ شجر نہیں جس نے پانی سے غذا پائی
دیا خون صحابہؓ نے پھر اس میں بہار آئی::
مدینہ منورہ جنت البقیع میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی کی قبر مبارک۔💖👇

اردو

@ProfessorPTI تاریخ میں شاید چند سپہ سالاروں کو حرمین شریفین کی حفاظت کی سعادت حاصل ہوئی جہاں یہودی، نصرانی یا تاتاریوں نے خانہ کعبہ یا مسجد نبوی پر حملہ آور ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، ان سپہ سالاروں میں نورالدین زنگی، صلاح الدین ایوبی، رکن الدین بیبرس اور اب سید عاصم منیر قابل ذکر ہیں.
اردو


















