Sabitlenmiş Tweet

دور حاضر کے چھوٹے چھوٹے یزید !!
کربلا میں یزید نے جو ظلم ڈھایا، وہ آج بھی انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے اور اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں بھی "چھوٹے چھوٹے یزید" اپنے غیر دانشمندانہ فیصلوں سے کروڑوں انسانوں کی زندگی اجیرن کر رہے ہیں۔ یہ عقل کے اندھے حکمران بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ایسے مضحکہ خیز فیصلے صادر کر چکے ہیں کہ 200 یونٹ بجلی کا بل، جو عام طور پر 2800 روپے کے لگ بھگ ہوتا ہے، صرف ایک یونٹ بڑھنے پر 8 ہزار روپے سے تجاوز کر جاتا ہے۔ اور یہ ظلم یہیں ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس کی سزا عوام کو مسلسل چھ ماہ تک بھگتنی پڑتی ہے۔
معاشرتی ڈھانچے پر تباہ کن اثرات
ان ظالمانہ فیصلوں نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گھروں میں اب ایک پنکھا بھی چلانا ہو تو جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ کسی مہمان کا آنا اب رحمت کے بجائے زحمت محسوس ہوتا ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے والے لوگ تو روز جیتے اور روز مرتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اپنے بوڑھے والدین کا پنکھا یا کولر بند کر دے؟ ان حالات نے میاں بیوی کے تعلقات میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے اور بچے بھی پریشان ہیں۔
روزمرہ کی زندگی میں مشکلات
صبح و شام ایک شخص کی ڈیوٹی میٹر ریڈنگ پر لگی رہتی ہے کہ کہیں ایک یونٹ بھی زیادہ نہ ہو جائے۔ گرمی میں نہانے کا دل چاہے تو پانی کی موٹر چلانے کے ڈر سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ یہ کیسی زندگی ہے جہاں بنیادی ضرورتیں بھی عذاب بن جائیں؟
حکمرانوں کے لیے پیغام
حکمران یاد رکھیں کہ وقت تو گزر ہی جائے گا، لیکن آپ کے یہ ظالمانہ فیصلے عوام کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ طاقتور کی سرپرستی ہمیشہ نہیں رہتی۔ ماضی قریب میں سابقہ حکمران اس کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ان ظالمانہ فیصلوں کو یکسر ختم کیا جائے۔ ورنہ یاد رکھیں:
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے!
یہ عوام کی پکار ہے، اسے سنیں اور حالات کو سدھاریں، عوامی مشکلات کے حل کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھائیں ۔
متفق ہوں تو شئیر کیجئیے ۔۔۔ شکریہ
تحریر : وسیم اقبال
#waseem_iqbal #Bahawalpur
@WapdaPK
@MEPCOOFFICAL
@M3bwp
@MepcoA
اردو






















