Mian Dawood Law Associates

27 posts

Mian Dawood Law Associates banner
Mian Dawood Law Associates

Mian Dawood Law Associates

@MDLA2019

Mian Dawood Law Associates Has Successfully Provided Legal Services To Aid The Administration Of Justice In Civil,Criminal,Family & Constitutional Matters.

Lahore, Pakistan Katılım Mart 2026
0 Takip Edilen724 Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
Mian Dawood Law Associates
سوال:- کیا اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کے مقدمات خصوصی عدالتوں سے عام سول عدالتوں میں منتقل کئے جا سکتے ہیں؟ پنجاب اسٹیبلشمنٹ آف اسپیشل کورٹس (اوورسیز پاکستانیز پراپرٹی) ایکٹ 2025 کے بعد کون سی عدالت سماعت کا اختیار رکھتی ہے؟ جواب / قانونی رائے۔۔۔۔۔۔ پنجاب اسٹیبلشمنٹ آف اسپیشل کورٹس (اوورسیز پاکستانیز پراپرٹی) ایکٹ 2025 کے نفاذ کے بعد عام سول عدالتوں کو اوورسیز پاکستانیوں کی غیر منقولہ جائیداد سے متعلق مقدمات کی سماعت کا اختیار نہیں رہا۔ اس ایکٹ کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق تمام تنازعات اب صرف خصوصی عدالتوں (Special Courts) کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں جس کا جج ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج ہوگا۔ اس قانون کے سیکشن 13 اور 14 کے تحت عام سول عدالتوں کے دائرہ اختیار کو ختم کر دیا گیا ہے اور پہلے سے زیر التوا مقدمات کو بھی ان خصوصی عدالتوں میں منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ ایک خصوصی قانون (Special Law) ہے، اس لیے یہ عام سول قوانین پر فوقیت رکھتا ہے۔ اس کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کے کیسز کو عام عدالتی تاخیر سے بچا کر 90 دن کے اندر حل کرنا ہے۔ آج کل پنجاب کے بعض اضلاع میں اوورسیز خصوصی عدالتوں کے بعض ججز قانون کی غلط تشریح کرتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات سول عدالتوں میں منتقل کر رہے ہیں جو غیرقانونی اقدام ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات کی خصوصی عدالت سے دوبارہ عام سول عدالتوں میں منتقلی کو اعلی عدلیہ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ #Punjab #Law #Overseas #Pakistan #CivilLaws #Property #LegalAwareness #MianDawoodLawAssociates
اردو
3
5
20
2.5K
Mian Dawood Law Associates
Public Service Message حج 2026 کے لیے نئی عمر کی پابندی عائد سعودی حکومت کا بڑا فیصلہ، 15 سال سے کم عمر افراد پر حج پابندی 3 مئی 2026 سے قانون نافذ، کم عمر افراد سفر نہیں کر سکیں گے 27 مئی 2026 کو 15 سال سے کم عمر افراد حج کے اہل نہیں ہوں گے ایئرپورٹس کو ہدایت، کم عمر حاجیوں کو جہاز میں سوار نہ ہونے دیا جائے 15 سال سے کم عمر حاجیوں کے ویزے منسوخ تصور ہوں گے متاثرہ خاندانوں کو مکمل رقم واپسی کی یقین دہانی حج آرگنائزرز اور امیگریشن حکام کو فوری عملدرآمد کا حکم فیصلہ فوری اور ہنگامی بنیادوں پر نافذ العمل قرار پاکستانی حکام کو تمام متعلقہ افراد تک اطلاع پہنچانے کی ہدایت
Mian Dawood Law Associates tweet media
اردو
0
4
10
932
Mian Dawood Law Associates
سوال نمبر 12:- کیا سٹیمپ پیپر پر بچے سے دستبرداری کا معاہدہ قانونی ہے؟ جواب ​آزاد کشمیر ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں حکم دیا ہے کہ 5 سے 6 سال کے معصوم بچے کی تحویل فوری طور پر ماں کے حوالے کی جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب باپ بیرون ملک ہو تو دادا کو ماں پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے ماں کے ذریعے کیے گئے کسی بھی "آؤٹ آف کورٹ" معاہدے کو مسترد کر دیا جس میں اس نے بچے کی تحویل سے دستبرداری اختیار کی تھی۔ عدالت کے مطابق بچے کی فلاح (Welfare) سب سے مقدم ہے اور اسے ماں جیسی فطری سرپرست سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔ ​اس کیس میں پٹیشنر (حرا مشتاق) نے عدالت سے رجوع کیا کہ اس کے سسر (دادا) نے اس کے کمسن بچے کو زبردستی اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ دادا کا موقف یہ تھا کہ ماں نے دوسری شادی کر لی ہے اور ایک تحریری معاہدے کے ذریعے بچے کے حقوق سے دستبردار ہو چکی ہے، لہذا وہ اب بچے کو رکھنے کا حق نہیں رکھتی۔ دوسری جانب باپ روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم تھا۔ یہ معاملہ ہائیکورٹ میں دفعہ 491 Cr.P.C کے تحت حبسِ بے جا (Illegal Detention) کی صورت میں پہنچا تاکہ بچے کی عبوری تحویل کا فیصلہ ہو سکے۔ ​اہم قانونی نکات (Legal Findings) ​نیچرل گارڈین: ماں اور باپ دونوں بچے کے فطری سرپرست ہیں؛ ان کی موجودگی میں کسی تیسرے شخص (بشمول دادا) کو ترجیح نہیں مل سکتی۔ ​معاہدے کی قانونی حیثیت: بچے کی تحویل سے دستبرداری کا کوئی بھی نجی معاہدہ یا سٹیمپ پیپر قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ​بچے کی نفسیات: عدالت نے مشاہدہ کیا کہ بچہ اپنے دادا کے سامنے خوفزدہ اور دباؤ میں تھا، جو اس کی فلاح کے خلاف ہے۔ ​دوسری شادی کا اثر: ماں کا دوسری شادی کرنا یا نہ کرنا اور اس سے تحویل پر پڑنے والے اثرات کا حتمی فیصلہ گارڈین کورٹ شہادتوں کی بنیاد پر کرے گی، لیکن عبوری طور پر بچہ ماں کے پاس رہے گا۔ ​ہائیکورٹ کا اختیار: ہائیکورٹ سیکشن 491 کے تحت بچے کی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے "سٹاپ گیپ ارینجمنٹ" (عارضی تحویل) کا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔ ​عوامی اثرات اور اہمیت (Public Impact) ​یہ فیصلہ ان تمام ماؤں کے لیے ایک ڈھال ہے جنہیں طلاق یا علیحدگی کے وقت "کاعذات" پر دستخط کروا کر بچوں سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ماں کا حقِ حضانت (Custody) کوئی ایسی چیز نہیں جسے کسی معاہدے کے ذریعے خریدا یا بیچا جا سکے۔ معاشرے میں یہ شعور اجاگر کرنا ضروری ہے کہ بچے کی بہترین پرورش ماں کے سائے میں ہی ممکن ہے، خاص کر جب باپ موجود نہ ہو۔ 2025 MLD 760 #Guardian #Family #Law #Children #Parents #Custody #MianDawoodLawAssociates #Husband #Wife
Mian Dawood Law Associates@MDLA2019

سوال نمبر 11 : -- ایک خاتون اپنے والدین سے وراثت میں ملی جائیداد چھوڑ کر فوت ہو جائے، وہ بے اولاد ہو اور اس کا شوہر زندہ ہو، تو وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟؟ جواب / پاکستان میں مسلمانوں کی وراثت کے معاملات مسلم پرسنل لاء (شریعت) کے تحت طے کیے جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال جہاں ایک خاتون اپنے والدین سے وراثت میں ملی جائیداد چھوڑ کر فوت ہو جائے، وہ بے اولاد ہو اور اس کا شوہر زندہ ہو، تو وراثت کی تقسیم درج ذیل قانونی اصولوں کے مطابق ہوگی۔ میت (خاتون) کی جائیداد میں شوہر کا حصہ قرآن پاک کی سورۃ النساء کی روشنی میں طے شدہ ہے۔ اگر خاتون کی اپنی کوئی اولاد (بیٹا یا بیٹی) نہ ہو، تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملتا ہے۔ بقیہ نصف (1/2) جائیداد خاتون کے دیگر شرعی ورثاء (مثلاً بھائی، بہنیں یا والدین اگر زندہ ہوں) میں تقسیم ہوگی۔ پاکستان میں وراثت کے تمام معاملات پر ’’ویسٹ پاکستان مسلم پرسنل لاء (شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ، 1962‘‘ لاگو ہوتا ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ مسلمانوں کے تمام موروثی معاملات شریعت کے مطابق طے ہوں گے۔ عدالتی نظائر یہ واضح کرتے ہیں کہ شوہر کا حق میت بیوی کی ہر قسم کی جائیداد (منقولہ و غیر منقولہ) میں ہوتا ہے، چاہے وہ جائیداد خاتون کو اپنے والدین سے ہی کیوں نہ ملی ہو۔ یہ بات اہم ہے کہ جائیداد چاہے خاتون کو وراثت میں ملی ہو یا انہوں نے خود خریدی ہو، ان کی وفات کے بعد وہ ان کا "ترکہ" کہلائے گی اور اس پر وراثت کے عام قوانین ہی لاگو ہوں گے۔ اگر خاتون کا تعلق فقہ جعفریہ (شعیہ) سے ہے، تو شوہر کا حصہ وہاں بھی نصف (1/2) ہی ہے، لیکن بقیہ جائیداد کی تقسیم کے لیے شعیہ قوانینِ وراثت (Fiqah-e-Jafria) کے طبقاتی اصول لاگو ہوں گے۔ Section 2 of West Pakistan Muslim Personal Law (Shariat) Application Act, 1962. 2016 SCMR 1195 - Mst. NOOR BIBI VS GHULAM QAMAR CASE General Succession Rules. #LegalAwarness #MianDawoodLawAssociates #Inheritance #Woman #Rights #Family #Husband #Tarka #Law #Pakistan #MuslimPersonalLaw #Islam

اردو
3
4
16
1.9K
Mian Dawood Law Associates
سوال نمبر 11 : -- ایک خاتون اپنے والدین سے وراثت میں ملی جائیداد چھوڑ کر فوت ہو جائے، وہ بے اولاد ہو اور اس کا شوہر زندہ ہو، تو وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟؟ جواب / پاکستان میں مسلمانوں کی وراثت کے معاملات مسلم پرسنل لاء (شریعت) کے تحت طے کیے جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال جہاں ایک خاتون اپنے والدین سے وراثت میں ملی جائیداد چھوڑ کر فوت ہو جائے، وہ بے اولاد ہو اور اس کا شوہر زندہ ہو، تو وراثت کی تقسیم درج ذیل قانونی اصولوں کے مطابق ہوگی۔ میت (خاتون) کی جائیداد میں شوہر کا حصہ قرآن پاک کی سورۃ النساء کی روشنی میں طے شدہ ہے۔ اگر خاتون کی اپنی کوئی اولاد (بیٹا یا بیٹی) نہ ہو، تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملتا ہے۔ بقیہ نصف (1/2) جائیداد خاتون کے دیگر شرعی ورثاء (مثلاً بھائی، بہنیں یا والدین اگر زندہ ہوں) میں تقسیم ہوگی۔ پاکستان میں وراثت کے تمام معاملات پر ’’ویسٹ پاکستان مسلم پرسنل لاء (شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ، 1962‘‘ لاگو ہوتا ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ مسلمانوں کے تمام موروثی معاملات شریعت کے مطابق طے ہوں گے۔ عدالتی نظائر یہ واضح کرتے ہیں کہ شوہر کا حق میت بیوی کی ہر قسم کی جائیداد (منقولہ و غیر منقولہ) میں ہوتا ہے، چاہے وہ جائیداد خاتون کو اپنے والدین سے ہی کیوں نہ ملی ہو۔ یہ بات اہم ہے کہ جائیداد چاہے خاتون کو وراثت میں ملی ہو یا انہوں نے خود خریدی ہو، ان کی وفات کے بعد وہ ان کا "ترکہ" کہلائے گی اور اس پر وراثت کے عام قوانین ہی لاگو ہوں گے۔ اگر خاتون کا تعلق فقہ جعفریہ (شعیہ) سے ہے، تو شوہر کا حصہ وہاں بھی نصف (1/2) ہی ہے، لیکن بقیہ جائیداد کی تقسیم کے لیے شعیہ قوانینِ وراثت (Fiqah-e-Jafria) کے طبقاتی اصول لاگو ہوں گے۔ Section 2 of West Pakistan Muslim Personal Law (Shariat) Application Act, 1962. 2016 SCMR 1195 - Mst. NOOR BIBI VS GHULAM QAMAR CASE General Succession Rules. #LegalAwarness #MianDawoodLawAssociates #Inheritance #Woman #Rights #Family #Husband #Tarka #Law #Pakistan #MuslimPersonalLaw #Islam
اردو
4
30
82
14.8K
Mian Dawood Law Associates
سوال نمبر 10:-- کیا بوڑھے والدین ماہانہ خرچ یعنی نان و نفقہ کیلئے اپنے بیٹوں کیخلاف فیملی عدالت میں خرچے کا دعوی کر سکتے ہیں؟ جواب / لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ لاہور کی بزرگ خاتون رفعت النساء نے گزشتہ سال اپنے چار بیٹوں؛ اظہر اعجاز خواجہ، احمر اعجاز خواجہ، صبیح اعجاز خواجہ اور فصیح اعجاز خواجہ کے خلاف فیملی کورٹ میں ماہانہ خرچ و نفقہ کا کیس دائر کیا۔ اسکا کہنا تھا کہ وہ ایک عمر رسیدہ عورت ہے، اسکی کوئی ذاتی آمدنی یا ذرائع معاش نہیں، جبکہ اسکے بیٹے خوشحال و مالدار ہیں۔ بیٹوں کو حکم دیا جائے کہ وہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق اسکی کفالت کریں۔ جواب میں بیٹوں نے کہا کہ والدہ مالی طور پر خود مختار ہے، دعویٰ خارج کیا جائے۔ فیملی کورٹ نے 20 مئی 2025ء کو بیس ہزار روپے کیس کا فیصلہ ہونے تک ماں کا عارضی خرچہ مقرر کیا اور حکم دیا کہ یہ خرچہ ہر ماہ کی 14 تاریخ تک ادا کیا جائے ورنہ 'فیملی کورٹ ایکٹ' کی دفعہ 17-اے کے تحت دعویٰ بلا شہادت ڈگری کر دیا جائے گا۔ اگلی تاریخ 3 جون کی پڑی، اس تاریخ کو بیٹوں نے عارضی خرچہ جمع نہ کرایا تو عدالت نے حسبِ وارننگ کیس ماں کے حق میں ڈگری کر دیا۔ بیٹوں نے فیملی کورٹ کے اس حکم کے خلاف ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کی جو 3 ستمبر کو خارج ہو گئی۔ بیٹوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، جہاں جسٹس راحیل کامران نے 27 اکتوبر 2025ء کو حتمی سماعت کی۔ ہائیکورٹ میں بیٹے کی طرف سے دلائل دیے گئے کہ فیملی کورٹ کو صرف بیوی بچوں کے خرچ و نفقہ کے کیس سننے کا اختیار ہے نہ کہ والدین کے خرچہ و نفقہ کا۔ دفعہ 17-اے کے تحت صرف بیوی یا بچے کا عارضی خرچہ مقرر کیا جاتا ہے۔ عدالت نے خود حکم دیا کہ 14 تاریخ تک خرچہ ادا کرنا ہے لیکن 14 سے قبل 3 تاریخ کو ہی خرچہ جمع نہ کروانے پر کیس ڈگری کر دیا۔ بیٹوں کو عبوری خرچہ جمع کروانے اور اپنی شہادت ریکارڈ کروانے کا موقع نہ دیا گیا (کہ بیٹے شہادتوں سے ثابت کرتے کہ ماں تو خود مختار ہے، خرچے کی مستحق نہیں ہے)۔ ماں کے وکیل نے کہا کہ بیٹے مذہبی، اخلاقی اور قانونی طور پر اپنے والدین کی کفالت کے پابند ہیں، بالخصوص جب والدین کے پاس ذرائع آمدن نہ ہوں۔ بیٹوں نے کثیر وسائل ہونے کے باوجود ماں کو نظر انداز کیا جس پر وہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے عدالت آئی۔ نچلی عدالتوں کے فیصلے ایک ضعیف ماں کو بے آسرا ہونے سے بچانے کے لیے بالکل درست ہیں۔ عدالت نے فیصلہ لکھا کہ 'فیملی کورٹ ایکٹ' کے شیڈول میں 'خرچ و نفقہ' کو بیوی بچوں کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا بلکہ مطلق رکھا ہے۔ یہ ایکٹ چونکہ خاندانی معاملات کے تصفیے کے لیے بنایا گیا ہے، لہٰذا فیملی کورٹ والدین کے خرچ و نفقہ کا کیس سن سکتی ہے۔ ڈی ایف مُلا کی کتاب "محمدن لاء" کے پیراگراف 371 کے مطابق اگرچہ والدین خود کما سکنے کے قابل ہوں تب بھی خوشحال بچے اپنے نادار والدین کی کفالت کرنے کے پابند ہیں۔ یوں اسلامی قانون کے مطابق بھی والدین اپنے بچوں سے خرچ و نفقہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ البتہ دفعہ 17-اے میں عارضی خرچہ ادا نہ کرنے پر بلا شہادت کیس ڈگری کرنے کا جو حکم ہے، وہاں قانون میں 'بیوی یا بچے' کا ذکر موجود ہے، اس لیے موجودہ کیس میں یہ دفعہ لاگو نہ ہوگی۔ فیملی کورٹ کو فریقین کی شہادتیں ریکارڈ کرکے فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ ہائیکورٹ نے ماں کو بیٹوں سے خرچ و نفقہ لینے کی حقدار قرار دیتے ہوئے کیس فیملی کورٹ کو بھیج دیا کہ فریقین کی شہادتیں ریکارڈ کر کے دوبارہ فیصلہ کیا جائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ☆ فیملی کورٹ میں اگر شہادتوں کے ذریعے ثابت ہوگیا کہ بیٹے زیادہ ہی خوشحال ہیں، تو یہ ماہانہ خرچہ 20 ہزار سے بڑھ کر بھی مقرر کرایا جا سکتا ہے۔ #LegalAwareness #MianDawoodLawAssociates #Parents #HumanRights #Family #Disputes #FamilySystem #Laws #Maintenance
Mian Dawood Law Associates tweet media
اردو
28
86
323
31.2K
MC
MC@chand19822·
@MDLA2019 I lost my mobile phone 4 months ago but I didn't reported it. Can I report it now.
English
1
0
0
192
Mian Dawood Law Associates
اگر آپ کا موبائل فون گم یا چوری ہو جائے تو فوری قریبی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کریں اور اس رپورٹ کرنے کا ثبوت ہمیشہ اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ فوری سم بھی بلاک کروائیں۔ احتیاط نہ کرنے کی صورت آپ کو درج ذیل نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ 1۔ آپ کا چوری شدہ یا گمشدہ موبائل فون کسی شخص کو ملتا ہے۔ وہ اس کو کسی طرح آن کرتا ہے۔ عموما آپ کے سوشل میڈیا اکاونٹس موبائل میں لاگ ان ہوتے ہیں۔ وہ شخص ان اکاونٹس سے مذہبی توہین آمیز مواد شیئر کرتا ہے اور پھر موبائل پھینک دیتا ہے۔ آپ کی زندگی فوری خطرے میں ہے، آپ کو توہین مذہب کے خطرناک مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس سے نکلتے اور یہ ثابت کرتے آپ کو سالوں لگ جائیں گے کہ یہ توہین آمیز مواد آپ نے شیئر نہیں کیا تھا۔ اگر آپ نے موبائل کی گمشدگی وغیرہ فوری رپورٹ کی ہو گی تو یہ ثبوت آپ کی جان بچانے میں آپ کی مدد کرے گا۔ 2۔ آپ کا موبائل چھینے جانے یا گم ہونے کے بعد کسی مجرمانہ سرگرمی میں استعمال ہوتا ہے۔ آپ مقدمے میں پھنس جائیں گے۔ گمشدگی وغیرہ کی رپورٹ آپ کی مدد کرے گی۔ 3۔ ہر کچھ عرصے بعد احتیاطا چیک کرتے رہیں کہ آپ کے نام پر کتنی موبائل سمز رجسٹرڈ ہیں۔ اگر کوئی ایسی سم بھی آپ کے نام سے نکلی ہوئی ہے جس کا آپ کو پتہ ہی نہیں تو اسے فوری بلاک کروائیں اور کمپلین کریں۔ #LegalAwareness #MianDawoodLawAssociates
اردو
10
126
394
27.5K
Mian Dawood Law Associates
سوال نمبر 9 :- اگر عدت کی مدت 90 دن پوری ہونے سے پہلے شوہر فوت ہو جائے تو کیا بیوی اپنے شوہر کی جائیداد میں وارث تصور ہوگی؟ جواب / سپریم کورٹ کا فیصلہ سوات کے شاہ بخت راوان نے مورخہ 27 اگست کو اپنی بیوی مُسرت کو طلاقِ بدعت (اکٹھی تین طلاقیں) لکھ کر بھیج دی۔ ابھی تین ماہ کی عدت مکمل نہیں ہوئی تھی کہ 3 اکتوبر کو راوان صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے۔ انتقال کے بعد راون کی والدہ نے اسکے بچوں سمیت سول عدالت میں مقدمہ دائر کردیا کہ مرحوم کا ساری وراثت مسرت کو چھوڑ کر ہمارے نام کی جائے کیونکہ راوان نے اپنی زندگی میں ہی تین طلاقیں دیکر اسے اپنی زوجیت سے نکال دیا تھا لہذا اسکا کوئی حصہ وراثت میں نہ ہے۔ مسرت کو جب اس کیس کا پتہ چلا تو وہ بھی اس کیس میں اس موقف کے ساتھ فریق بن گئی کہ اگرچہ مجھے طلاق دیدی گئی تھی لیکن ابھی عدت مکمل نہیں ہوئی تھی تو میں بھی اسکی بیوہ ہوں لہذا مجھے بھی میرا شرعی حصہ دیا جائے۔ سول عدالت نے مسرت کے موقف کو رَد کردیا۔ مسرت نے اس حکم کیخلاف ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کی وہ خارج ہوگئی، اس فیصلے کیخلاف وہ پشاور ہائیکورٹ چلی گئی۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ وراثت، مرنے والے کی وفات کے ساتھ کھلتی ہے۔ طلاق کو ابھی 90 دن مکمل نہیں ہوئے تھے جبکہ مسلم فیملی لا آرڈیننس 1961ء کی دفعہ 7 کے تحت طلاق کو موثر ہونے کیلئے 90 دن گزرنا ضروری ہیں۔ ہائیکورٹ نے مسرت کا مؤقف درست مانا اور حکم دیا کہ راوان کے ترکہ میں سے مسرت کو بطور بیوہ، شرعی حصہ دیا جائے۔ راوان کے دیگر ورثاء نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ سپریم کورٹ میں گذشتہ سال چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس اپیل کو سنا اور جسٹس شکیل احمد نے فیصلہ تحریر کیا۔ سپریم کورٹ میں ان لوگوں نے موقف اپنایا کہ چونکہ طلاقیں تین تھیں، لہذا طلاق نامہ 27 اگست کو ہی مؤثر ہوگیا تھا اور عدت مکمل ہونے سے قبل راون کی موت سے صلح و رجوع کے امکانات بھی ختم ہوگئے، لہذا مسرت بی بی راوان کی بیوی نہ رہی اور یوں وراثت میں بھی حصہ دار نہ ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے تصفیہ طلب امر یہ تھا: "کیا طلاق بدعت (تین طلاقوں) کی عدت کے دوران اگر خاوند کی وفات ہوجائے تو بیوی/ بیوہ متوفی کے ترکہ میں حقدار ہے؟" سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اسلام میں نکاح ایک سول معاہدہ ہے، عیسائیت کی طرح فقط ایک روحانی رسم نہیں ہے۔ نکاح سے متعلق قرآنی آیات اشارہ کرتی ہیں کہ نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جو آپس میں محبت، ہمدردی اور ساتھ دینے کیلئے ہے۔ طلاق کی تین اقسام ہیں، حسن، احسن اور بدعت (تین طلاقیں ایک ساتھ دینا)۔ طلاقِ بدعت کا تصور قرآن و حدیث میں نہیں ملتا اسے تو حضرت عمر رض نے اپنی خلافت میں طلاق کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے اسے تین طلاق تسلیم کیا تھا۔ عدالت نے طلاق کے حوالے سے قرآنی آیات نقل کرکے کہا کہ یہ آیات تقاضا کرتی ہیں کہ طلاق دینے کے بعد فریقین میں صلح و صفائی کروانے کا وقت اور موقع دیا جائے جبکہ طلاق بدعت (بیک وقت تین طلاق) واپسی کا راستہ ہی ختم کر دیتی ہے لہذا طلاق بدعت قرآنی منشاء کے خلاف ہے، اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ فیصلے کے مطابق فقہ جعفریہ، شافعیہ اور مالکیہ طلاق بدعت کو بالکل تسلیم نہیں کرتیں، فقہ حنبلی بعض صورتوں میں اسے ایک طلاق شمار کرتی ہے۔ فقہاء کے اس اختلاف نے قانون سازوں کو وجہ دی کہ وہ اس پر ایک متفقہ قانون بنا دیں، چنانچہ فیملی لا آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت طلاق (ایک ہو یا زائد) 90 دن سے قبل مؤثر ہی نہیں ہوسکتی، اس تین ماہ کے عرصہ میں نکاح بالکل باقی رہے گا اور صلح صفائی کی کوشش کی جائے گی۔ یہی قرآن کا منشاء ہے لہذا یہ دفعہ قرآنی احکامات کے عین مطابق ہے۔ طلاق کے بعد عدت کا ایک اہم مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر فریقین صلح کرنا چاہیں تو کرسکیں جو طلاق بدعت کی صورت میں ممکن نہیں۔ سپریم کورٹ 'رحمت بی بی کیس 1988ء' میں بھی یہ قرار دے چکی ہے کہ دوران عدت شوہر کی وفات سے بیوی وراثت سے محروم نہیں ہوگی۔ لہذا اس کیس میں بھی شوہر (راوان) کی دی ہوئی تین طلاقیں، قرآنی احکامات اور مسلم فیملی لا آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت 90 دن کی مدت پوری نہ ہونے کی وجہ سے مؤثر نہیں ہوئیں، اس لیے خاتون مُسرت اب بھی قانونا بیوہ اور وراثت کی حقدار ہے۔ سپریم کورٹ نے راون کے دیگر ورثاء کی اپیل خارج کردی۔ #LegalAwareness #MianDawoodLawAssociates #Inheritance #Dispute #Wife #Husband #Divorce #Marriage #Iddat
اردو
15
92
334
39.1K
Mian Dawood Law Associates
سوال: والد کو وراثتی جائیداد سے ان کا حصہ نہیں ملا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے بھائیوں سے سے مانگا بھی نہیں تھا اور نہ کبھی عدالت سے کلیم کیا تھا۔ تاہم انہوں نے کبھی اپنے اس حق کو بھائیوں کے حق میں سرنڈر بھی نہیں کیا تھا۔ کیا اب والد کی وفات کے بعد ان کا حصہ اپنے تایا لوگوں سے کلیم کر سکتے ہیں؟ جواب/ قانونی رائے۔۔۔ آپ کے والد صاحب نے کلیم نہیں بھی کیا تو آپ اب بھی ان کا یہ حصہ اپنے تایا، چچا لوگوں سے کلیم کر سکتے ہیں۔ قانونی سوال نمبر 9 #LegalAwareness #MianDawoodLawAssociates #Inheritance #Family
اردو
16
32
270
38.5K
Mian Dawood Law Associates
قانونی سوال نمبر 8 سوال:- کیا تھانہ ڈیفنس اے، لاہور پولیس اسٹیشن میں پولیس کا کم عمر بہن بھائی پر تشدد کسی جرم کے زمرے میں آتا ہے؟ کیا ملوث پولیس اہلکاروں کی صرف معطلی جرم کی نوعیت کے لحاظ سے کافی ہے؟ پولیس اسٹیشن میں زیر حراست کسی شہری یا ملزم پر تشدد کیخلاف کون سے قانون اور دفعات کا اطلاق ہوتا ہے؟ ۔ جواب / قانونی رائے تھانہ ڈیفنس اے، لاہور پولیس اسٹیشن میں کم عمر بہن بھائیوں کو حراست میں رکھنا الگ جرم ہے جبکہ تشدد الگ جرم ہے، اگر پولیس اہلکاروں پر تشدد کا الزام ہوگا تو مقدمہ پولیس کے پاس نہیں بلکہ ایف آئی اے کے پاس درج ہوگا۔ پاکستان میں پولیس تشدد ایک فوجداری جرم ہے جس کی سزا قید اور جرمانہ دونوں صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ "Torture and Custodial Death (Prevention and Punishment) Act, 2022" کے تحت پولیس تشدد کی صورت میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FIA) انکوائری کرنے کا مجاز ہے، اور تشدد کے ذریعے حاصل کردہ کوئی بھی بیان عدالت میں ناقابلِ قبول ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کے مطابق، حراستی تشدد نہ صرف جرم ہے بلکہ یہ پولیس اہلکار کی جانب سے 'سنگین بدعنوانی' (Grave Misconduct) کے زمرے میں آتا ہے جس پر اسے نوکری سے برخاست کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی قانون (Act of 2022) کے تحت تشدد کی شکایت براہ راست ایف آئی اے (FIA) کو کی جا سکتی ہے، جو پولیس افسران کے خلاف تحقیقات کرنے کا خصوصی اختیار رکھتی ہے۔ اس ایکٹ کے تحت مقدمے کی سماعت سیشن کورٹ میں ہوتی ہے۔ پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 156 کے تحت کسی بھی ایسے پولیس افسر کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جا سکتی ہے جس نے اپنی تحویل میں موجود شخص پر تشدد کیا ہو۔ اس جرم کی سزا 5 سال تک قید ہو سکتی ہے۔ ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کے تحت اگر تشدد کے نشانات موجود ہوں تو علاقہ مجسٹریٹ سے جسمانی ریمانڈ کے دوران طبی معائنے (Medical Examination) کی درخواست کی جانی چاہیے۔ اگر تشدد ثابت ہو جائے تو مجسٹریٹ انکوائری کا حکم دے سکتا ہے۔ تھانہ ڈیفنس اے، لاہور پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کیخلاف درج مقدمہ جرم اور الزامات کی نوعیت کے لحاظ سے ناکافی ہے۔ متاثرین اگر چاہیں تو ایف آئی اے سے رجوع کر سکتے ہیں، ایف آئی اے ازخود نوٹس کے تحت کے بھی کارروائی کر سکتا ہے۔ #Lahore #Police #Torture #Punjab #HumanRights #LegalAwareness #MianDawoodLawAssociates
Mian Dawood Law Associates tweet mediaMian Dawood Law Associates tweet media
اردو
19
81
160
9.4K
Mian Dawood Law Associates
سوال: کیا انسداد دہشتگردی ایکٹ، انسداد رشوت ستانی ایکٹ اور احتساب آرڈیننس کے تحت سزا یافتہ قیدیوں کو جیل مینوئل یا کسی دوسرے قانون کے تحت قید کی مدت میں رعایت مل سکتی ہے؟ جواب/قانونی رائے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 21-F ایک "Non-obstante" کلاز ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ جیل مینوئل، پاکستان پریزن رولز (Prison Rules) یا کسی بھی دوسرے قانون پر فوقیت رکھتی ہے۔ اس لیے عام قیدیوں کو ملنے والی سالانہ رعایت، تعلیمی رعایت یا خون عطیہ کرنے پر ملنے والی رعایت اے ٹی اے (ATA) کے قیدیوں پر لاگو نہیں ہوتی۔ قیدیوں پر لاگو نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ نے نذر حسین کیس اور حبیب اللہ کیس میں واضح کیا ہے کہ حکومت کی وہ پالیسی جس کے تحت سنگین جرائم (بشمول دہشت گردی) کے قیدیوں کو آرٹیکل 45 کے تحت صدارتی رعایتوں سے باہر رکھا گیا ہے، وہ قانونی طور پر درست ہے۔ اگر کسی شخص کو اے ٹی اے (ATA) کے ساتھ ساتھ کسی دوسرے قانون (جیسے حدود آرڈیننس یا پی پی سی) کے تحت بھی سزا ہوئی ہو، تو سپریم کورٹ کے مطابق اے ٹی اے کی سزا مکمل کرنے کے بعد، دوسری سزا کی مدت میں جیل قوانین کے تحت رعایتیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ انسداد رشوت ستانی اور احتساب آرڈیننس کے تحت سزائیں قومی احتساب آرڈیننس (NAO) کے تحت سزا یافتہ افراد کے لیے سزا میں رعایت پر پابندی کی قانونی کوششوں کو اعلیٰ عدالتوں نے کالعدم قرار دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نذر حسین کیس کے مطابق نیب قیدی بھی دیگر عام قیدیوں کی طرح جیل رولز (Pakistan Prison Rules, 1978) کے تحت ملنے والی تمام رعایتوں کے حقدار ہیں۔ اسی طرح انسدادِ رشوت ستانی ایکٹ کے تحت سزا یافتہ افراد پر بھی ایسی کوئی قانونی پابندی موجود نہیں ہے جو انہیں رعایت سے محروم کر سکے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب کے قیدیوں اور انسداد رشوت ستانی ایکٹ (Anti-Corruption) کے قیدیوں کے درمیان رعایت کے حوالے سے کوئی فرق نہیں رہا۔ دونوں اقسام کے قیدی جیل مینوئل کے تحت رعایت کے حقدار ہیں۔ 'عام رعایت' (جو جیل میں بہتر چال چلن اور کام کرنے پر ملتی ہے) اور 'خصوصی رعایت' (جو حکومت یا آئی جی جیل خانہ جات کی طرف سے مخصوص مواقع پر دی جاتی ہے) دونوں حاصل کر سکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر مملکت کو سزا معاف کرنے یا کم کرنے کا جو اختیار حاصل ہے، وہ انسداد دہشت گردی، نیب اور اینٹی کرپشن کے قیدیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے، بشرطیکہ صدارتی حکم نامے میں انہیں واضح طور پر مستثنیٰ نہ کیا گیا ہو۔ جیل رولز کے مطابق مجموعی رعایت سزا کے ایک تہائی (1/3) سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ @Rayahmadbhatti #LegalAwareness #Law #NAB #AntiCorruption #Terrorists #Convict #Prison #Remission
اردو
1
7
27
2K
Mian Dawood Law Associates
پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی خبر۔۔ شہباز شریف حکومت کا عوام کے حق میں فیصلہ درست قرار واپڈا اور پاور سیکٹر کمپنیوں کے گریڈ 17 تا 22 تک کے افسران کو مفت بجلی یونٹس کی فراہم ختم کر دی گئی۔ وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس جاوید اقبال وینس صاحب کے تاریخی فیصلے کی روشنی میں کیا ہے جس کے تحت گریڈ 17 تا 22 تک کے پاور سیکٹر کمپنیوں کے افسران کو مفت بجلی یونٹس ختم کرنے بارے وزیر اعظم شہباز شریف حکومت کا ستمبر 2023 کا فیصلہ بحال کر دیا گیا ہے۔ مسٹر جسٹس جاوید اقبال وینس نے حکومتی پالیسی کیخلاف گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ملازمین کی آئینی درخواست مسترد کی ہے جس کے بعد 2013 کا کابینہ کا حکم ازخود بحال ہو گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا مئوقف تھا کہ چونکہ مفت بجلی یونٹس کی فراہمی درخواست گزار کے بھرتی کے معاہدوں میں شامل ہے، اس لئے کابینہ بھرتی کے معاہدوں میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ حکومت کا موقف تھا کہ مفت بجلی یونٹس ختم نہیں کئے گئے بلکہ اسکے متبادل الائونس جاری رہے گا۔ مفت بجلی یونٹس کا خاتمہ ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو روکنے اور ترسیل کو بہتر بنانے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔ #Pakistan #Law #Electricity #LoadShedding
Mian Dawood Law Associates tweet mediaMian Dawood Law Associates tweet media
اردو
63
471
1.5K
43.9K
Mian Dawood Law Associates
سوال: بیوی پر تشدد کرنے اور اسے حبس بے جا میں رکھنے پر پاکستان میں کون سے دفعات عائد ہوتی ہیں اور کیا یہ قابل دست اندازی جرم ہے یعنی گرفتاری ہو سکتی ہے؟ جواب/قانونی رائے پاکستان میں نافذ العمل قانون کے مطابق بیوی پر تشدد اور اسے حبس بے جا میں رکھنا دو الگ نوعیت کے جرائم ہیں جن پر درج ذیل دفعات عائد ہوتی ہیں: حبس بے جا (Wrongful Confinement)👇👇 تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 342 کے تحت اگر شوہر اپنی بیوی کو کمرے میں بند کر دیتا ہے یا اس کی نقل و حرکت پر غیر قانونی پابندی لگاتا ہے تو یہ حبسِ بے جا کا جرم ہے۔ ضابطہ فوجداری (CrPC) کے دوسرے شیڈول کے مطابق یہ ایک قابل دست اندازی (Cognizable) جرم ہے، جس کا مطلب ہے کہ پولیس وارنٹ کے بغیر ملزم کو گرفتار کر سکتی ہے۔ اس کی سزا ایک سال قید یا جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہے۔ اگر یہ حبسِ بے جا تین دن سے زائد ہو تو دفعہ 343 (سزا 2 سال) اور اگر دس دن سے زائد ہو تو دفعہ 344 (سزا 3 سال) لاگو ہوگی۔ جسمانی تشدد (Physical Assault/Hurt)👇👇 بیوی پر تشدد کی صورت میں پینل کوڈ کی (Hurt) سے متعلقہ دفعات (332 سے 337 تک) عائد ہوتی ہیں۔ اگر تشدد سے ہڈی نہ ٹوٹے اور صرف نشان پڑے یا خراش آئے تو دفعہ 337-L(2) یا 337-F(i) کے تحت 1 سے 2 سال تک سزا ہو سکتی ہے۔ معمولی نوعیت کا تشدد (جیسے شجہ خفیفہ یا دمیہ) عام طور پر ناقابل دست اندازی ہوتا ہے (پولیس وارنٹ کے بغیر گرفتار نہیں کر سکتی)۔ تاہم، اگر تشدد سے ہڈی ٹوٹ جائے یا کوئی عضو ضائع ہو جائے، تو وہ دفعات (جیسے 337-A(ii) یا 334) قابل دست اندازی بن جاتی ہیں۔ تحفظ کے احکامات (Protection Orders)👇 گھریلو تشدد کے خصوصی ایکٹ کے تحت متاثرہ خاتون عدالت سے 'پروٹیکشن آرڈر' (Protection Order) حاصل کر سکتی ہے۔ اگر شوہر اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرے، تو یہ ایک علیحدہ جرم بن جاتا ہے جو کہ گھریلو تشدد ایکٹ 2026 کی دفعہ 12(2) کے تحت قابل دست اندازی (Cognizable) قرار دیا گیا ہے۔ حبس بے جا (بند کرنا) قابل دست اندازی جرم ہے جس پر فوری پولیس کارروائی ہو سکتی ہے۔ تشدد کی صورت میں اگر چوٹ سنگین ہے تو وہ بھی قابل دست اندازی ہوگی، بصورت دیگر متاثرہ خاتون کو مجسٹریٹ کی عدالت میں استغاثہ دائر کرنا ہوتا ہے یا گھریلو تشدد ایکٹ کے تحت ریلیف حاصل کرنا ہوتا ہے۔ #Wife #Woman #DomesticViolence #Pakistan #PPC #WomenRights #LegalAwareness #MianDawoodLawAssociates
اردو
13
75
226
20.4K
Mian Dawood Law Associates
@M___Saqib @naveedch66 مورث قانونی لفظ ہے، یہی درست لفظ ہے لیکن یہ عام فہم نہیں ہے یعنی خواندہ انسان کیلئے مورث لفظ کے معنی سمجھنا مشکل ہو سکتے ہیں۔
اردو
0
0
0
22
Mian Dawood Law Associates
سوال: شجرہ نسب کب بنتا ہے؟ شجرہ نصب کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ کیا باپ ایک اشٹام پیپر لکھ کر اپنی بیٹیوں کو جائیداد سے محروم کر سکتا ہے اور کیا اسی اشٹام پیپر کے ذریعے وہ جائیداد بیٹوں کے نام کر سکتا ہے؟ جواب : قانون کے مطابق ریونیو افسر کا فرض ہے کہ وہ مالک کی وفات کے بعد انکوائری کرے اور شجرہ نسب مرتب کرے جس میں تمام وارثان (بشمول بیٹیوں) کے نام شامل ہوں۔ اگر باپ نے زندگی میں بیٹیوں کو محروم کرنے کے لیے زمین بیٹوں کے نام کر دی ہے، تو اسے وراثت سے محروم کرنے کی غیر قانونی کوشش اور دھوکہ دہی تصور کیا جا سکتا ہے۔ وراثت کا حق مالک کی وفات کے بعد پیدا ہوتا ہے اور اسے کسی "اشٹام پیپر" یا تحریر کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ باپ اپنی زندگی میں جائیداد بیچ سکتا ہے یا قانونی طریقہ کار (رجسٹرڈ ہبہ نامہ) کے ذریعے تحفہ دے سکتا ہے، لیکن محض ایک اشٹام پیپر پر بیٹیوں کو محروم کر کے بیٹوں کے نام جائیداد کرنا قانونی طور پر "دھوکہ دہی" (Fraud) تصور ہوتا ہے، جسے عدالت میں کسی بھی وقت چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اگر وراثت کے ریکارڈ میں بیٹیوں کے نام جان بوجھ کر نکالے گئے ہیں، تو یہ ایک باطل (Void) عمل ہے۔ قانونی اصول ہے کہ "دھوکہ ہر مقدس ترین کارروائی کو بھی ختم کر دیتا ہے"۔ اگر بیٹی اپنے باپ کی زندگی میں وفات پا چکی ہو، تو مسلم فیملی لا آرڈیننس 1961 کے سیکشن 4 کے تحت اس کی اولاد (نواسے/نواسیاں) اپنی ماں کا وہ حصہ حاصل کرنے کی حقدار ہے جو اسے زندہ ہونے کی صورت میں ملتا۔ سول کورٹ: بیٹیاں یا ان کی اولاد سول کورٹ میں دعویٰ استقرارِ حق (Suit for Declaration) دائر کر کے ایسے جعلی انتقال یا شجرہ کو چیلنج کر سکتی ہیں۔ #Inheritance #Daughter #Law #MianDawood
Anwar@anwartermizi39

@MDLA2019 تین سو پچاس کنال زمین جو نانا نے لے تھی 1961 کے آس پاس اس کے سارے اسٹام موجود ھے لیکن ماموں نے 1975میں نانا کے نام پر ایک اسٹام بنایا اس میں یہ لکھ دیا کہ میں اپنی ساری زمین اپنے بیٹوں کے نام کرتا ھوں اور بیٹیوں کو نکال یا ھے وراثت سے

اردو
9
20
92
12.7K
Mian Dawood Law Associates
سوال: اگر ایف آئی آر سے ایک ملزم ڈسچارج (بے گناہ) ہوجائے اور اس ایف آئی آر یا ملزم کا ریکارڈ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں تاحال زیر تفتیش لکھا آ رہا ہو تو اس کو کیسے ختم کروایا جا سکتا ہے؟ جواب / قانونی رائے قانونی طور پر ڈسچارج ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہو سکے یا وہ بے گناہ پایا گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ اور دیگر اعلیٰ عدالتوں نے یہ اصول طے کیا ہے کہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ یا پولیس ریکارڈ سرٹیفکیٹ جاری کرتے وقت ایسی ایف آئی آر کا حوالہ نہیں دے سکتی جس میں ملزم بری یا ڈسچارج ہو چکا ہو۔ اگرچہ پولیس اپنے داخلی ریکارڈمیں اسے تاریخی ریکارڈ کے طور پر رکھ سکتی ہے، لیکن عوامی استعمال کے سرٹیفکیٹ میں اس کا ذکر کرنا آئین کے آرٹیکل 14اور 4 یعنی شہری کی عزت نفس مساوی سلوک کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ اگر کوئی ملزم ایف آئی آر سے ڈسچارج ہو چکا ہے اور کریکٹر سرٹیفکیٹ میں اس کا نام آ رہا ہے، تو درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے متعلقہ عدالت (مجسٹریٹ) سے ڈسچارج آرڈر کی تصدیق شدہ کاپی حاصل کریں۔ اس کے بعد متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر یا متعلقہ ایس ایس پی کو ایک تحریری درخواست دیں جس میں عدالتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کریں کہ پولیس کے ڈیجیٹل سسٹم میں آپ کا اسٹیٹس ڈسچارج کے طور پر اپڈیٹ کیا جائے اور نیا کریکٹر سرٹیفکیٹ بغیر کسی منفی اندراج کے جاری کیا جائے۔ اگر پولیس حکام آپ کی درخواست پر عمل نہیں کرتے، تو آپ متعلقہ ہائی کورٹ میں آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن دائر کر سکتے ہیں۔ عدالتیں عام طور پر ایسے معاملات میں پولیس کو ہدایت جاری کرتی ہیں کہ وہ ایف آئی آر کا حوالہ دیے بغیر صاف کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کریں۔ اعلی عدلیہ متعدد فیصلوں میں یہ قرار دے چکی ہے کہ پولیس داخلی ریکارڈ 60 سال تک محفوظ رکھ سکتی ہے لیکن کریکٹر سرٹیفکیٹ میں اس کا ذکر نہیں کر سکتی۔ #Police #Law #FIR #Discharge #Court #LegalAwareness #MianDawoodLawAssociates
Mian Muhammad Usman@MianUsman4043

@MDLA2019 سر FIR سے اگر کوئی شخص ڈسچارج ہو گیا ہو ۔ مگر پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں اس پر FIR under investigation show ہو رہی ہو تو اس کو کیسے ختم کروایا جا سکتا ہے۔۔۔۔

اردو
3
31
109
15.6K
Mian Dawood Law Associates
خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ کا بہترین فیصلہ 👇👇👇👇 کبل، سوات کے عبدالمتین 1975ء میں فوت ہوئے تو انہوں نے ورثاء میں تین بیٹے اور تین ہی بیٹیاں چھوڑیں۔ باپ کی چھوڑی ہوئی جائیداد پر بیٹے قابض تھے۔ 1986ء میں ایک بہن "بی بی فتح الباری" کے شوہر نے تحصیلدار کو درخواست دی کہ اسکی بیوی کا حصہ اسکے بھائیوں سے لیکر دیا جائے، تحصیلدار نے درخواست خارج کردی۔ پھر طویل عرصہ تک کسی بہن کو اپنا حصہ لینے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس دوران کچھ زمین بھائیوں نے آگے بھی فروخت کردی۔ سن 2014ء میں 'بی بی فتح الباری' نے پھر ایک دفعہ ہمت کی اور سول کورٹ میں دعویٰ دائر کر دیا کہ ہم بہنوں کو ہمارے والد کی چھوڑی ہوئی جائیداد سے شرعی حصہ دلوایا جائے۔ بھائیوں نے جواب دیا کہ ساری جائیداد والد نے 1969ء میں اپنی زندگی ہی میں ایک تحریری "ہبہ نامہ" کے ذریعے ہم بیٹوں کے نام کردی تھی۔ اس زمانے میں سوات میں رسم تھی کہ بیٹیوں کو وراثت نہیں ملتی تھی۔ 1986ء میں تحصیلدار کا فیصلہ حتمی ہے، لہذا مزید نیا کیس نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن سول کورٹ نے دسمبر 2018ء میں دعویٰ بہنوں کے حق میں ڈگری کر دیا کہ بھائی 'ہبہ نامہ' کو قانونی تقاضوں کے مطابق ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بھائیوں نے اس کیخلاف ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کردی۔ بہنوں کا موقف تھا کہ یہ "ہبہ نامہ" جعلی ہے۔ لیکن ڈسٹرکٹ کورٹ نے کہا کہ اس ہبہ نامہ کو جعلی ثابت کرنے کا بارِ ثبوت بہن پر تھا جس میں وہ ناکام رہی ہے لہذا یہ ہبہ نامہ درست ہے۔ سوات میں اس وقت شرعی قانون نافذ نہیں ہوا تھا لہذا بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنا درست تھا۔ 1986ء کا تحصیلدار کا فیصلہ حتمی ہے، Res judicata کے اصول کے تحت ایک بنیاد پر جب مقدمہ خارج ہوجائے تو اسی بنیاد پر نیا مقدمہ نہیں کیا جاسکتا۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے مارچ 2021ء میں بھائیوں کی اپیل منظور کرتے ہوئے بہنوں کا دعوٰی خارج کردیا۔ بہن نے اس کیخلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔ ہائیکورٹ میں جسٹس ثابت اللہ خان نے سماعت کی اور گذشتہ سال جون میں فیصلہ سنایا۔ ہائیکورٹ نے لکھا کہ بھائیوں نے عدالت میں اوریجنل 'ہبہ نامہ' نہیں پیش کیا، جو فوٹو کاپی پیش کی گئی اس پر تین انگوٹھے ہیں لیکن انکی شناخت نہیں ہے۔ قانونِ شہادت کے مطابق اس ہبہ نامہ کو عدالت میں ثابت کرنے کیلئے دو گواہ درکار تھے لیکن صرف ایک شخص آیا وہ بھی وہ، جو پیدا بھی اس ہبہ نامہ کی تاریخ (1969ء) کے بعد ہوا گویا اسکی گواہی 'سنی سنائی' ہے جو عدالت میں قابل قبول نہیں ہوتی۔ یوں ہبہ (گفٹ) کے تین اجزاء آفر، قبول اور قبضہ ثابت نہیں ہوئے۔ ڈسٹرکٹ کورٹ سے غلطی ہوئی ہے، بہنوں کو وراثت سے محروم کرنے والی دستاویز کو جعلی ثابت کرنے کا بارِ ثبوت (ذمہ داری) بہنوں پر نہیں بلکہ بھائیوں پر ہے کہ وہ ثابت کریں کہ یہ درست اور قانونی ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق بہنوں کو وراثت سے محروم کرتی ایسی دستاویز نہ صرف اللہ کے بلکہ ملکی قانون کے بھی خلاف ہے۔ تحصیلدار کا فیصلہ میرٹ پر نہیں بلکہ تکنیکی وجوہات پر تھا لہذا Res judicata کا اصول لاگو نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ متعدد فیصلوں میں کہہ چکی ہے کہ شریعت ایکٹ 1962ء (جو یہ کہتا ہے کہ وراثت میں شرعی قانون چلے گا) کا اطلاق 1962ء سے پہلے اور بعد کے تمام وراثتی معاملات پر ہوگا۔ شریعت کے مطابق بیٹیوں کا حق محفوظ ہے کوئی رسم اسے ختم نہیں کرسکتی۔ تمام بہنوں کو انکا شرعی حصہ دیا جائے۔ ہائیکورٹ نے 'بی بی فتح الباری' کی پٹیشن منظور کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم اور سول کورٹ کا فیصلہ بحال کردیا۔ بحوالہ:- #کورٹ_کہانی از محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
Mian Dawood Law Associates tweet mediaMian Dawood Law Associates tweet media
اردو
4
15
51
4.4K
عبدالقیوم
عبدالقیوم@qayyumsial7034·
@MDLA2019 ایک بندہ فوت ہوا جائیداد کیسے تقسیم ہوگی یا کون کون وارث ہوگا جائیداد کا اور کتنا حصہ ہوگا۔۔ ورثاء میں 1۔۔بیٹی شادی شدہ 1۔۔بھائی شادی شدہ 2۔۔بہنیں شادی شدہ
اردو
2
0
0
359
Mian Dawood Law Associates
@HUMAFAT77203619 محترمہ پہلا فورم نادرا ہوگا، نادرا کے انکار پر refusal letter جاری ہوگا، اس کے بعد دوسرا فورم عدالت ہوگا۔
اردو
0
0
1
392
HUMA FATIMA
HUMA FATIMA@HUMAFAT77203619·
@MDLA2019 @miandawoodadv کیا یہ فیصلہ Nadra کے jurisdiction میں اتا ہے یا عدالت میں جا کے یہ فیصلہ ہوگا؟
اردو
1
0
0
520
Mian Dawood Law Associates
سوال : ایک غیر شادی شدہ عورت کی جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟ اس غیر شادی شدہ خاتون کی صرف ایک بہن ہے جو زندہ ہے اور والدین فوت ہو چکے ہیں؟ جواب /قانونی رائے: پاکستان میں نافذ العمل قوانین اور اسلامی فقہ (حنفی) کی روشنی میں، ایک غیر شادی شدہ مسلم خاتون (جس کے والدین فوت ہو چکے ہوں اور صرف ایک بہن زندہ ہو) کی جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار درج ذیل ہے: مذکورہ صورتحال میں، زندہ بہن واحد قریبی شرعی وارث (Quranic Sharer) ہے۔ حنفی قانونِ وراثت کے تحت، ایک سگی بہن کا مقررہ حصہ کل جائیداد کا نصف (1/2) ہے ۔ چونکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا وارث یعنی عصبہ (مثلاً شوہر، اولاد، والدین یا دادا) موجود نہیں ہے، اس لیے بقیہ نصف حصہ بھی’’رد‘‘ (Return/Radd) کے اصول کے تحت اسی بہن کو منتقل ہو جائے گا۔ نتیجہ کے طور پر، تمام جائیداد (سو فیصد) کی مالک وہ اکیلی بہن ہوگی۔ وراثت کی تقسیم اور اس کے قانونی طریقہ کار کے لیے درج ذیل قوانین لاگو ہوتے ہیں: Section 2 of West Pakistan Muslim Personal Law (Shariat) Application Act, 1962 Section 6 of Letters of Administration and Succession Certificates Act, 2020 Helping Case Law: Explanation of the doctrine of Return (Radd) and the list of sharers entitled to it. MUHAMMAD TUFAIL ETC VS BEGUM MUNAWAR SADIQUE ETC (2022 LHC 6784 Lahore High Court) Classification of heirs and the order of inheritance under Hanafi law. ZAINAB IN RE: VS ZAINAB (1986 PLD 269 Sindh High Court) (نوٹ: یہ قانونی رائے سوال کے تناظر میں حتمی ہے تاہم ہر کیس کے حالات و واقعات مختلف ہوتے ہیں، اس لئے ہر قانونی رائے ہر کیس پر لاگو نہیں کی جا سکتی، کوئی بھی عملی قدم اٹھانے سے پہلے کسی پروفیشنل اور محقق وکلا سے لازمی رہنمائی لیں۔)
HUMA FATIMA@HUMAFAT77203619

@MDLA2019 @miandawoodadv ایک سنگل عورت کے مرنے کے بعد اس کی جائیداد کس طرح تقسیم ہوگی جبکہ اس کی صرف ایک بہن ہے اور کوئی بھائی بھی نہیں ہے اور نہ ہی والدین زندہ ہیں

اردو
15
25
158
24.2K
Anwar
Anwar@anwartermizi39·
@MDLA2019 شجرہ نسب مرنے کے بعد بنتا ھے یا مرنے سے پہلے اور اگر باپ نے شجرہ نسب بنا کر بیٹیوں کو نکال کر ساری زمین بیٹوں کے نام کردی تو اس بارے میں قرآن اور قانون کیا کہتا ھے میرا یہی کیس عدالت میں دعوی اسقرار حق کے طور پر دائر ھے
اردو
1
0
1
865