MAK

28.6K posts

MAK

MAK

@M_arslan_khalid

Islamabad, Pakistan

Katılım Şubat 2012
274 Takip Edilen166 Takipçiler
MAK retweetledi
Muhammad Ali
Muhammad Ali@CharSoAth·
بشیر چوہدری نیشنل پریس کلب کے نائب صدر ہیں انکی بات کتنی احمقانہ ہے، اسکااندازہ یوں لگالیں کسی اہم خاتون شخصیت کےہاں بچےکی پیدائش متوقع ہو ۔۔۔ توبطور رپورٹر یہ ہسپتال کےباہر یا انتظارگاہ میں نہیں ۔۔۔ بلکہ لیبر روم میں موجودگی کواپنا استحقاق سمجھتےہوئے ہسپتال انتظامیہ سےلڑ پڑیں گے
Bashir Chaudhary@Bashirchaudhry

مذاکرات کے دوران بنایا گیا سٹیٹ آف دی آرٹ میڈیا سینٹر انتظامات اور سہولیات کے حوالے سے تو بے مثال تھا لیکن اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا تھا کہ وہاں پر کسی قسم کی خبر یا انفارمیشن نہ پہنچ پائے۰ سکرینُ کا پیٹ بھرنے کے لیے درجن بھر تجزیہ کار بھی وہاں تعینات کیے گئے تھے جو پورا دن انٹرویوز دیتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ معلومات ان کے پاس بھی میرے جتنی ہی تھی۔

اردو
2
7
16
431
MAK retweetledi
Ghazanfar Abbas
Ghazanfar Abbas@ghazanfarabbass·
اسلام آباد امن مذاکرات کے تناظر میں پاکستانی صحافت اور صحافیوں سے متعلقہ تبصروں پر سینئیر صحافی کامران یوسف کے وچار حکومت کی جانب سے پاک ایران مذاکرات پر مقامی صحافیوں کو خاطر خواہ معلومات فراہم نہ کیے جانے پر کافی شور مچایا جا رہا ہے۔ دیکھیے، صحافیوں کی مدد کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔ حکومت وہی کر رہی تھی جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ مقامی صحافی اگر ویسا رپورٹ نہیں کر پائے جیسا بہت سے لوگ چاہتے تھے، تو اس کی وجہ ان کی اپنی اہلیت یا اس کی کمی ہے۔ پاکستان میں 'سپیشلائزڈ رپورٹنگ' (کسی خاص شعبے میں مہارت) کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ آج آپ موسم کا حال بتا رہے ہیں، کل آپ کو دفترِ خارجہ کی بریفنگ پر لگا دیا جاتا ہے اور اگلی صبح آپ پارلیمنٹ کے سیشن کی کوریج کر رہے ہوتے ہیں۔ ایران امریکہ مذاکرات پر رپورٹنگ کے لیے جیو پولیٹکس، اس کی باریکیوں اور دیگر کئی عوامل کی وسیع سمجھ بوجھ درکار ہوتی ہے۔ اور یہ سب کچھ گہرے مطالعے، ہوم ورک اور تجربے سے حاصل ہوتا ہے۔ ہمارے مقامی صحافی اسلام آباد مذاکرات کی کوریج میں اس وقت کیوں لڑکھڑا جاتے ہیں جب معلومات کم یا نہ ہونے کے برابر ہوں؟ اس لیے کہ وہ اس پورے معاملے کو صرف پاکستان کے زاویے سے دیکھ رہے تھے۔ مذاکرات کے دوران میری کئی غیر ملکی صحافیوں سے ملاقات ہوئی، اور آپ جانتے ہیں کیا؟ ان میں سے زیادہ تر ایران یا مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر تھے اور رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ وہ میڈیا ہاؤسز ہر ایونٹ کی کوریج کے لیے محض اپنے 'پرائم ٹائم اینکرز' یا غیر متعلقہ لوگوں کو نہیں بھیج دیتے۔ آخر میں یہ کہ کسی بھی شعبے میں اصل چیز اپنے اہداف خود طے کرنا، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا اور اپنی اہلیت بڑھانا ہوتا ہے۔ اگر صحافی اپنی اسائنمنٹس کے لیے بھی حکومت کے سہارے کے منتظر ہیں، تو شاید انہیں یہ کام چھوڑ دینے پر غور کرنا چاہیے۔
Kamran Yousaf@Kamran_Yousaf

There has been a lot of hue and cry as to why the government did not provide enough information to local journalists on the Iran-US talks. Well, it’s not the government’s job to help journalists. The govt was doing what it was supposed to do. For local journalists not being able to report as desired by many, it has to do with their own capacity or lack of it. In Pakistan, there is no concept of specialised reporting. Today, you are giving weather updates, tomorrow, you are assigned to cover the FO briefing and the next morning the Parliament session. To report on Iran-US talks, one needs a far broader understanding of geopolitics, the intricacies within, and several other factors. And this requires a lot of study, homework and expirence. Why do our local journalists struggle to report Islamabad talks when little or no information is available Because they were looking at the event only through Pakistan’s lens. Met several foreign journalists during the talks, and you know what? Most of them were Iran or Middle East experts with extensive experience in reporting. So those media outlets don’t just deploy their primetime anchors or irrelevant people to cover every event. Lastly, in any profession, the key is to set your own goals, work on your skills and enhance your capacity. If journalists are relying on the government to help with their assignments, then perhaps they should consider leaving this job.

اردو
0
2
11
620
MAK retweetledi
M.Asim Khan
M.Asim Khan@asimnyazee·
پبلک انفارمیشن وہی تھی جو ہم سب نے امریکی نائب صدر کے بیان سے حاصل کی۔ ہمارے کردار، بطور سہولت کار، میں اس معاملے پر کوئی پریس ریلیز جاری کرنا شامل نہیں تھا۔ سفارتکاری کے اصول بھی کسی میزبان یا سہولت کار ملک کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ خالصتاً دوطرفہ مذاکرات کے بارے میں خود سے سرکاری اعلامیہ جاری کرے۔ جہاں تک صحافیوں کا تعلق ہے، کسی کو بھی نہیں روکا گیا کہ وہ براہِ راست مذاکرات کے شرکاء سے رابطہ کر کے معلومات حاصل کریں۔
Bashir Chaudhary@Bashirchaudhry

آپ کی بات بالکل درست ہے۔ انتظامات اور فیسلییٹیشن کی تعریف تو کر رہے۔ ان سائیڈ انفارمیشن بھی لیک نہیں ہو سکتی تھی۔ لیکن پبلک انفارمیشن کہ کون کب پہنچا کس سے ملا وغیرہ سے بھی آگاہی نہیں دی جا رہی تھی۔ عام طور پر ایسے معاملات پر بیک گراونڈ بریفنگز دے کر صحافیوں کو حدود قیود بتا دی جاتی ہیں۔ ایسا بھی کچھ نہیں ہوا۔

اردو
1
9
31
1.6K
MAK retweetledi
Sardar Nouman
Sardar Nouman@NoumanFK·
دنیا سے آئے ہوئے صحافیوں نے خبروں کو رپورٹ کیا، ہمارے مقامی صحافی کی رپورٹنگ کچھ اس طرز کی تھی، “وزیراعظم نے ایرانی وفد سے ملاقات کئ تصاویر جاری نہیں کی بلکہ وہ کیمرے سے نکل کر خود باہر آگئی اور ایکس پہ پوسٹ ہوگئی، کرسی بھی ایرانی سربراہ کے بالکل برابر نہیں بلکہ دو ملی میٹر پیچھے تھی، امریکی صدر کو مسکرا کر دیکھا مگر ایرانی سربراہ کو غرا کر دیکھا، جے ڈی وینس کی جانب مصافحہ کرنےتین m/s کی رفتار سے بڑے، یہ رفتار ایرانی وفد کی جانب صفر اعشاریہ صفر ایک میٹر فی سیکنڈ کم تھی” رپورٹنگ ابھی جاری ہے :پ
اردو
0
9
49
2.7K
MAK retweetledi
Mohsin Bilal
Mohsin Bilal@mohsinsami85·
اب بندہ ان سے پوچھے کہ آپ کے نزدیک پاکستانی میڈیا اس قابل نہیں تو آپ ہر پرائم ٹائم شو میں۔۔۔۔۔ لینے جاتے ہیں بطور مہمان آپ جیسے مہمانوں کی وجہ سے تو میڈیا کی یہ حالت ہوئی
Mohammad Zubair@Real_MZubair

The talks did not succeed but have exposed how poor our media reporting was. Like most Pakistanis I was following CNN, BBC or Al Jazeera to get in depth information & analysis how the talks were going on. Pakistani channels were simply following a line prescribed for them and wanted their guests to speak the same language. They just couldn’t come out of the initial euphoria. Some of it was justified but going on & on ?

اردو
3
5
25
424
MAK
MAK@M_arslan_khalid·
@Bashirchaudhry اس میں سے کون سی بات آپ کو نہیں بتائی گی؟ یہ آپ کو پتہ نہیں تھا؟
اردو
0
0
0
2
Bashir Chaudhary
Bashir Chaudhary@Bashirchaudhry·
آپ کی بات بالکل درست ہے۔ انتظامات اور فیسلییٹیشن کی تعریف تو کر رہے۔ ان سائیڈ انفارمیشن بھی لیک نہیں ہو سکتی تھی۔ لیکن پبلک انفارمیشن کہ کون کب پہنچا کس سے ملا وغیرہ سے بھی آگاہی نہیں دی جا رہی تھی۔ عام طور پر ایسے معاملات پر بیک گراونڈ بریفنگز دے کر صحافیوں کو حدود قیود بتا دی جاتی ہیں۔ ایسا بھی کچھ نہیں ہوا۔
M.Asim Khan@asimnyazee

آپ یہ چاہتے تھے کہ اندر بیٹھے مذاکرات کار غیر مصدقہ “ٹوٹکے” لیک کرتے رہیں اور انہیں اپنے اپنے ممالک یا من پسند صحافیوں تک پہنچایا جاتا رہے؟ آپ کے نزدیک میڈیا سیل بنانے کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے تھا؟ کیا حکومتِ پاکستان سب کو بارش یا دھوپ میں Serena Hotel کے لان میں کھڑا رکھتی اور یہ اجازت دے دیتی کہ کسی منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی صحافی حضرات بغیر کسی مستند معلومات کے اپنی مرضی کی خبریں چلاتے رہیں اور اسکرینز کو گرم رکھتے؟ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کے اختتام سے قبل ایسی چہ مگوئیاں پاکستان اور پاکستانی میڈیا کا مثبت اور ذمہ دارانہ تاثر دنیا کے سامنے پیش کرتیں؟ کیا فول پروف سیکیورٹی کے ماحول میں ڈیوٹی پر مامور ملکی اور بین الاقوامی صحافیوں کو کھانا پینا دینے کے بجائے انہیں وقت اور حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا مناسب ہوتا؟ میرے جیسے عام شہری آپ کے جواب سے بہت کچھ سیکھنے کی توقع رکھتے ہیں۔

اردو
5
0
12
3.5K
MAK retweetledi
Loki - 🇵🇰
Loki - 🇵🇰@nosferatu1x·
سب سے پہلے تو اس چینی انجینیئر کی غلطی کو پانجا لگا کے ایرانی صحافی کا نام پوچھیں پھر اسکو جوتے پھیریں کہ جھوٹ کیوں بولا کیونکہ ان سب غداروں کا سورس یہودیوں کا کتا جبران ناصر ہی ہے
صحرانورد@Aadiiroy2

اس شخص نے جھوٹ پھیلایا اس کے خلاف کوئی قانون کاروائی ،،،؟

اردو
0
32
55
632
MAK retweetledi
MAK retweetledi
Nausheen Yusuf
Nausheen Yusuf@nausheenyusuf·
بشیر کس طرح بنایا گیا تھا کہ وہاں معلومات نہ پہنچے ؟؟ معلومات تو حاصل کی جاتی ہے جو روک نہیں سکتی۔ معلومات وہاں بیٹھ کر ہی نہیں باہر بھی حاصل نہیں کی جا سکی ۔ آپ اور میں کھمبا ڈیوٹیاں کر چکے ہیں اور اس بار آپ کو بیٹھنے کئ سہولت دی گیی۔ خبر نکالنا تو اپ کا کام تھا
Bashir Chaudhary@Bashirchaudhry

مذاکرات کے دوران بنایا گیا سٹیٹ آف دی آرٹ میڈیا سینٹر انتظامات اور سہولیات کے حوالے سے تو بے مثال تھا لیکن اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا تھا کہ وہاں پر کسی قسم کی خبر یا انفارمیشن نہ پہنچ پائے۰ سکرینُ کا پیٹ بھرنے کے لیے درجن بھر تجزیہ کار بھی وہاں تعینات کیے گئے تھے جو پورا دن انٹرویوز دیتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ معلومات ان کے پاس بھی میرے جتنی ہی تھی۔

اردو
6
12
82
1.9K
MAK
MAK@M_arslan_khalid·
@asmashirazi @imshee67 @AJENews Stop embarrassing yourself . Pakistan was not party in these negotiations and hence no proposal was floated from the Pakistani side.
English
0
0
0
3
MAK
MAK@M_arslan_khalid·
@SadiasOfficial Add in your list ameer abbas, asma shirazi and azaz too
English
0
0
0
1
Sadia Khalid
Sadia Khalid@SadiasOfficial·
بالآخر اعزاز سید سمیت پاکستانی یوتھیوبروں کو اپنی جھوٹی خبروں اور سنسنی کی دکان چمکانے کا موقع مل ہی گیا! اس صحافی نے مجھے اسلئے بلاک کیا کیونکہ میں نے انکی جھوٹی خبروں کی مکمل لسٹ بتا کر پوچھا کہ آپ نے ان جھوٹی خبروں پر آج تک معافی کیوں نہیں مانگی
اردو
12
43
192
4.2K
MAK retweetledi
Waseem Abbasi
Waseem Abbasi@Wabbasi007·
کافی کیوں پلائی: گو میں خود تو کنونشن سنٹر جانے والوں میں سے نہیں تھا مگر مجھے حیرت جو لوگ اس بات پر تنقید کررہے ہیں کہ غیر ملکی مہانوں کی کافی یا کھانے سے تواضع اور اچھے انٹرنیٹ اور باعزت مہمان نوازی کیوں کی گئی۔ اللہ والیو پاکستان کی پہچان مہمان نوازی ہے۔ ان میں سے کچھُ صحافی زندگی میں پہلی بار پاکستان آئے ہیں ان کے زہنوں میں ملک کا مثبت تصور اجاگر کرنے کے لیے اگر ہم سے چندہ کرکے بھی ان کی مہمان نوازی کی جاتی تو میں چندہ دے دیتا۔۔ جس جس نے اچھی مہمان نوازی کی اس ملک کی عزت کے لیے اس کو شاباش۔ رہی بات خبر کی تو دونوں ممالک کے وفود اپنے صحافیوں کو اپ ڈیٹ کر رہے تھے پاکستان ثالثی کر رہا تھا اگر وہ خبر لیک کرتے تو دونوں ممالک کی ناراضگی کا خدشہ تھا۔ ویسے بھی خبر خود ڈھونڈنی ہوتی ہے منہ میں نوالے کی طرح نہیں ڈالی جا سکتی۔
اردو
10
61
230
8.3K
MAK
MAK@M_arslan_khalid·
@Kamran_Yousaf Most of them were paddling fake news ameer abbas reported that iranians are not coming, asma shirazi reported SS is going to saudia, Azaz reported that pakistan didn't release footage of iranian meeting . These all proved fake news. You reported very well.
English
0
0
0
27
MAK retweetledi
Kamran Yousaf
Kamran Yousaf@Kamran_Yousaf·
There has been a lot of hue and cry as to why the government did not provide enough information to local journalists on the Iran-US talks. Well, it’s not the government’s job to help journalists. The govt was doing what it was supposed to do. For local journalists not being able to report as desired by many, it has to do with their own capacity or lack of it. In Pakistan, there is no concept of specialised reporting. Today, you are giving weather updates, tomorrow, you are assigned to cover the FO briefing and the next morning the Parliament session. To report on Iran-US talks, one needs a far broader understanding of geopolitics, the intricacies within, and several other factors. And this requires a lot of study, homework and expirence. Why do our local journalists struggle to report Islamabad talks when little or no information is available Because they were looking at the event only through Pakistan’s lens. Met several foreign journalists during the talks, and you know what? Most of them were Iran or Middle East experts with extensive experience in reporting. So those media outlets don’t just deploy their primetime anchors or irrelevant people to cover every event. Lastly, in any profession, the key is to set your own goals, work on your skills and enhance your capacity. If journalists are relying on the government to help with their assignments, then perhaps they should consider leaving this job.
Shiffa Z. Yousafzai@Shiffa_ZY

That’s because local media was completely sidelined, literally multiplied by zero. No insights, just selfies and ‘out and about in Islamabad’ kind of photos, followed by brief appearances at an empty convention centre focusing on food and logistics for delegates. This is a massive event and effective engagement with local media is missing. While these peace talks in Islamabad are covered internationally, govt. could also use the opportunity to promote our local journalists to appear on international media and inform the world about what’s happening on ground. Government’s strategy made our journalists’ reporting appear shallow, limiting their ability to provide real insights compared to international journalists.

English
49
159
416
33.2K
MAK retweetledi
Taimoor Malik
Taimoor Malik@TaimoorMalik·
Yes of course. Pakistan should learn from Iran how to get its nuclear scientists, generals and leaders killed, its airforce and navy decimated and its citizens bombed with impunity just to score brownie points with fundamentalists, nutcases and delulus.
علی مصطفی | Ali Mustafa@Ali_Mustafa

Pakistanis should really introspect and learn what true grit means from Iranians, instead of salivating over shortcuts and kowtowing to empire

English
12
87
365
7.6K
MAK retweetledi
shaparhauer 🦉
shaparhauer 🦉@podeenachatni·
@Ali_Mustafa you are the pimp here piece of shit ghaddar e watan. You will sell ur mom for imran khan
English
1
1
10
133
MAK retweetledi
M.Asim Khan
M.Asim Khan@asimnyazee·
آپ یہ چاہتے تھے کہ اندر بیٹھے مذاکرات کار غیر مصدقہ “ٹوٹکے” لیک کرتے رہیں اور انہیں اپنے اپنے ممالک یا من پسند صحافیوں تک پہنچایا جاتا رہے؟ آپ کے نزدیک میڈیا سیل بنانے کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے تھا؟ کیا حکومتِ پاکستان سب کو بارش یا دھوپ میں Serena Hotel کے لان میں کھڑا رکھتی اور یہ اجازت دے دیتی کہ کسی منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی صحافی حضرات بغیر کسی مستند معلومات کے اپنی مرضی کی خبریں چلاتے رہیں اور اسکرینز کو گرم رکھتے؟ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کے اختتام سے قبل ایسی چہ مگوئیاں پاکستان اور پاکستانی میڈیا کا مثبت اور ذمہ دارانہ تاثر دنیا کے سامنے پیش کرتیں؟ کیا فول پروف سیکیورٹی کے ماحول میں ڈیوٹی پر مامور ملکی اور بین الاقوامی صحافیوں کو کھانا پینا دینے کے بجائے انہیں وقت اور حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا مناسب ہوتا؟ میرے جیسے عام شہری آپ کے جواب سے بہت کچھ سیکھنے کی توقع رکھتے ہیں۔
Bashir Chaudhary@Bashirchaudhry

مذاکرات کے دوران بنایا گیا سٹیٹ آف دی آرٹ میڈیا سینٹر انتظامات اور سہولیات کے حوالے سے تو بے مثال تھا لیکن اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا تھا کہ وہاں پر کسی قسم کی خبر یا انفارمیشن نہ پہنچ پائے۰ سکرینُ کا پیٹ بھرنے کے لیے درجن بھر تجزیہ کار بھی وہاں تعینات کیے گئے تھے جو پورا دن انٹرویوز دیتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ معلومات ان کے پاس بھی میرے جتنی ہی تھی۔

اردو
2
14
38
4K
MAK retweetledi
Mian Dawood
Mian Dawood@miandawoodadv·
ہاں جی نظامی بھائی endorse کرتے ہیں اس طرز صحافت کو؟ صرف فوٹیجز کے آگے پیچھے ہونے پر پاکستانی حکومت پر دال میں کچھ کالا کا الزام لگ رہا ہے اعزاز سید صاحب کی طرف سے۔۔۔۔ @majidsnizami مان جائیں، پاکستان کے صحافیوں نے خود کو متعصب کرکے زیرو کر لیا ہے، کوئی شیعہ ہے تو کوئی سنی، کوئی وہابی ہے تو کوئی دیوبندی، کوئی جیالا ہے تو کوئی یوتھیا، کوئی پٹواری ہے تو کو عسکری۔۔۔۔ لیکن اب صحافی کوئی نہیں ہے۔ x.com/AthSal01/statu…
Punjab, Pakistan 🇵🇰 اردو
21
150
455
8.2K