
جناب@zaighamkhan صاحب یہ مارشل لاء دور کا آرڈینس ہے جس کے تحت سابقہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) سے واپس آنیوالے افسران کی صوبوں و وفاق میں مستقل ہونے کا قانون بنایا گیا Ex-Employees of the Former Government of East Pakistan Ordinance, 1983 اور اسکا اطلاق 16 دسمبر 1971 سے ہوا - بلوچستان میں بھی یہ قانون نافذ ہوا- یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مشرقی پاکستان کے ملازمین کی تقسیم ایک منظم ریاستی پالیسی تھی، جو 1971 کے فوراً بعد نافذ ہوئی اور بعد میں قانونی شکل دی گئی۔ جن ملازمین کی پنجاب جانے/نکالنے کی بات کرتے ہیں وہ دراصل مصطفی کھر اور بھٹو صاحب کی پالیسی تھی کہ پنجاب کے پولیس اہلکاروں کو واپس بلا کر صوبہ میں انتظامی خلا پیدا کرکے PPP کی فارم 47 جیسی حکوم مسلط کرنا تھا- تاہم، یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ: بلوچستان حکومت کی جانب سے کسی بھی پنجابی اساتذہ یا افسران کو نکالنے کا کوئی مستند یا سرکاری فیصلہ، ثبوت موجود نہیں اس حوالے سے کوئی قابلِ تصدیق ریکارڈ دستیاب نہیں ہے یہ بیانیہ جو پنجابیوں کا نکالنے کاہے White Paper on Balochistan سے ماخوذ ہے، جو 19 اکتوبر 1974 کو Pakistan Peoples Party حکومت نے شائع کیا تھا، جس کا مقصد National Awami Party کی بلوچستان حکومت کو برطرف کرنے اور فوجی آپریشن کو جواز فراہم کرنا تھا۔ علمی اختلاف کا احترام اپنی جگہ، لیکن سنگین الزامات کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہوتے ہیں۔ بغیر ثبوت کے دعوے محض پروپیگنڈا بن جاتے ہیں- میرا یقین صرف حقائق اور مستند شواہد پر ہے۔ اگر قابلِ اعتماد ثبوت پیش کیا جائے تو میں بطور ایک ذمہ دار فرد اور بلوچ، سچ کو تسلیم کرنے اور ضروری ہو تو قومی معذرت کی حمایت کرنے سے گریز نہیں کروں گا۔
























