
Rahim Ullah ⁱᴾⁱᵃⁿ
76.2K posts

Rahim Ullah ⁱᴾⁱᵃⁿ
@RahimUllah804
https://t.co/KqsWxPHVpQ hi #IKsFrontLine


عمران خان نے پشاور میں اس ہفتے بڑا جلسہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب کچھ لوگ عمران خان کے اس حکم پر بھی اعتراض کریں گے۔


جے ڈی وینس سے ملنے کی خواہش ایک خاص شخصیت نے فرمائی ہے۔ انکی خواہش پر تو کچھ بھی ہو سکتا ہے ———-



دشمن کا ساتھ دینے کے لئیے آپکا غدار ہونا ضروری نہیں، آپکا بیوقوف ہونا ہی کافی ہے۔


The Iranians are coming. The delegation has departed from Tehran.


اہم، امریکہ نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تو پاکستانی حکومت نے اسی دن یعنی 28 فروری کو پیٹرول کی قیمت میں 8روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 16 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا، حالانکہ حکومت کے اپنے مطابق اس وقت 45 دن کا پیٹرول اور ڈیزل پہلے سے خریدا ہوا موجود تھا، اس کے بعد حکومت نے 6 مارچ کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55,55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا، اس کے بعد حکومت نے 2 اپریل کو پیٹرول 137روپے 23 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا اگلے دن وزیراعظم نے پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لیٹر کی کمی کرتے ہوئے 57 روپے اضافہ برقرار رکھا، یوں ایران امریکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 120 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 244 روپے کا اضافہ کیا ہے، لیکن یہاں اہم بات یہ ہے کہ وزیر پیٹرولیم نے 6 مارچ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ جس دن عالمی مارکیٹ میں قیمتیں نیچے آئیں گی،ہم اسی پھرتی سے آ کر قیمتیں کم کریں گے جس تیزی سے اضافہ کررہے ہیں، اب نوبل پرائز کے لیے نامزد عالمی دہشتگرد ٹرمپ کے سرنڈر کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ایسے گری ہیں جیسے مسلمانوں کی نظروں میں ایران پر حملہ کرنے والے اور حملہ آوروں کے اتحادی گرے ہیں تو امید ہے کہ آج انتہائی پھرتی کے ساتھ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل سستے کیے جائیں گے، حالانکہ پہلے ہی یہ اضافہ دو وجوہات سے ناجائز تھا، ایک تو اس لیے کہ پیٹرول اور ڈیزل حکومت کے اپنے دعووں کے مطابق سستے خریدے ہوئے پہلے سے پڑے تھے اور دوسرا اگر کچھ تیل بعد میں بھی آیا تو بھی آبنائے ہرمز سے پاکستان کے لیے جہاز گزز رہے تھے، اب حکومت کو بغیر کسی ڈرامے کے قیمتیں کم کرنی چاہئیں، لیکن یہ نہیں کریں گے کیونکہ ان پر عوام کا کوئی دباو نہیں اور ان کا ٹیکس شارٹ فال 610 ارب کا ہے جوکہ انہوں نے عوام کے خون پسینے سے پورا کرنا ہے بجائے امیروں سے ٹیکس لینے یا اپنے اخراجات کم کرنے کے۔









