Sabitlenmiş Tweet
Ramzi
29.8K posts

Ramzi
@Ramzinama
A happy and blessed teacher of special children
Punjab, Pakistan Katılım Temmuz 2017
1.7K Takip Edilen1.6K Takipçiler
Ramzi retweetledi
Ramzi retweetledi

@urdu_bazm
صبحِ وصال، پوچھ رہی ہے ، عجب سوال
وہ پاس آ گیا،۔۔۔۔ کہ ،۔۔۔۔بہت دور ہو گیا!!!
#اردو
#بشیربدر
اردو
Ramzi retweetledi
Ramzi retweetledi

@urdu_bazm #اردو
@urdu_bazm
💐💐 بزمِ میر تقی میر 💐💐
نہ ہوا پر نہ ہوا میر" کا انداز نصیب
ذوق" یاروں نے بہت زور غزل میں مارا
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا 💐
اردو
Ramzi retweetledi
Ramzi retweetledi

@AdbiVirsa_ مینا کماری ناز کی یہ غزل درد، محرومی اور محبت کی تلخ حقیقتوں کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔
سادہ الفاظ میں گہرا احساس سمو دینا ہی اس کلام کا اصل حسن ہے۔
اردو
Ramzi retweetledi

مینا کماری ناز
آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا
جب میری کہانی میں وہ نام نہیں ہوتا
جب زلف کی کالک میں گھل جائے کوئی راہی
بدنام سہی لیکن گمنام نہیں ہوتا
ہنس ہنس کے جواں دل کے ہم کیوں نہ چنیں ٹکڑے
ہر شخص کی قسمت میں انعام نہیں ہوتا
دل توڑ دیا اس نے یہ کہہ کے نگاہوں سے
پتھر سے جو ٹکرائے وہ جام نہیں ہوتا
دن ڈوبے ہے یا ڈوبی بارات لیے کشتی
ساحل پہ مگر کوئی کہرام نہیں ہوتا

اردو
Ramzi retweetledi
Ramzi retweetledi

سوچ رہے ہو؟ سوچو! لیکن بول نہ پڑنا
دیکھ رہے ہو شہر میں کتنا سنّاٹا ہے!
آنس معین
@urdu_bazm #اردو
اردو
Ramzi retweetledi

29 مئی..... آج اداکار شکیل کا 88 واں یوم پیدائش ہے۔
شکیل (اصل نام یوسف کمال) 29 مئی 1938 کو بھوپال، بھارت میں ایک انتہائی روشن خیال گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے دو چھوٹے بھائیوں اور ایک بہن کے ساتھ ایک بڑے شہر میں بچپن گزارا۔ شکیل نے اپنی ابتدائی تعلیم ایک انگلش میڈیم اسکول میں حاصل کی، جو کہ تقسیم سے پہلے ہندوستان میں تھا۔ مزید برآں، انہوں نے ہندوستان میں ایک فرانسیسی مشنری اسکول میں تعلیم بھی حاصل کی۔
شکیل 1952 میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان کے شہر کراچی چلے گئے۔ نوجوان شکیل کو بچپن سے ہی اداکاری کا شوق تھا۔ کراچی میں اپنے اسکول کے دنوں میں، شکیل باقاعدگی سے غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ گریجویشن کے فوراً بعد شکیل نے اسٹیج ڈراموں میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
کمال یوسف نے اپنا نام بدل کر شکیل رکھ لیا اور 1966 کی فلم 'ہونہار' میں ڈیبیو کیا۔ کاسٹ میں شکیل- وحید مراد- رخسانہ- ترنم- کمال ایرانی شامل تھے۔ شکیل کے لیے فلم ’ہونہار‘ ایک چیلنج تھا جسے انھوں نے زبردست جوش کے ساتھ پورا کیا۔
شکیل کا پہلا ٹیلی ویژن ڈرامہ ’نیا راستہ‘ تھا جسے حسینہ معین نے لکھا اور 1971 میں کراچی ٹیلی ویژن سے ٹیلی کاسٹ کیا۔
بنیادی طور پر، شکیل ایک قدرتی اداکار ہیں، جو اپنے آپ کو ایک پیشہ ورانہ فرض کے طور پر پوری لگن سے ادا کرتے ہیں۔ کراچی ٹیلی ویژن نے 1970 کی دہائی میں عید الفطر کا خصوصی ڈرامہ 'ہیپی عید' پیش کیا۔ شکیل اور نیلوفر عباسی، جو پہلے نیلوفر علیم کے نام سے مشہور تھیں، شاندار فن کے ساتھ آئے اور 'ہیپی عید' کو ایک یادگار ڈرامہ بنا دیا۔
کامیابی کی خواہش پاکستانی ثقافت کا حصہ ہے۔ شکیل اور نیلوفر عباسی نے حسینہ معین کے کراچی ٹیلی ویژن ڈرامہ سیریل ’شہزوری‘ میں ایک بار پھر کام کیا۔
’’انکل عرفی‘‘ کا جذباتی نتیجہ اتنا غیر متوقع تھا کہ لفظی طور پر کوئی بھی اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ درحقیقت حسینہ معین نے اپنے مکالموں میں اس قدر مایوسی کو جنم دیا تھا کہ بتیس سال بعد بھی یہ خاندان کے اٹوٹ بندھن کی کڑوی میٹھی مثال میں ایک کلاسک کے طور پر کھڑا ہے۔
مزید برآں، شکیل نے حسینہ معین کے میگا ہٹ ڈرامہ سیریل ’اِن کہی‘ میں لازوال شہرت حاصل کی۔ کاسٹ میں شکیل، شہناز شیخ، جاوید شیخ، سلیم ناصر، جمشید انصاری شامل تھے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ شکیل کے بے شمار کردار ہمیشہ زندگی کی مٹھاس کو بڑھاتے ہیں۔ 'عروسہ' شکیل کا ایک اور مقبول ٹیلی ویژن ڈرامہ سیریل ہے۔ کاسٹ میں شکیل-غزالہ کیفی-عدنان صدیقی-مشی خان شامل ہیں۔
تمام پاکستانی ٹیلی ویژن ڈرامہ سیریل شکیل کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے پیش آتے ہیں، جو انہیں شاندار طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ شکیل اپنی سماجی خدمات کے لیے بھی مشہور ہیں۔ پاکستان میں حالیہ زلزلے کے دوران وہ سرگرم رہے۔ اسی طرح وہ سگریٹ نوشی کے خلاف مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ مزید برآں، شکیل نے کراچی میں منعقدہ حالیہ پاکستانی ٹیلی ویژن ایوارڈ تقریب میں جیتنے والوں کو ایوارڈز سے نوازا۔
شو بزنس میں ان کی زبردست شراکت کے اعتراف میں، شکیل نے 1992 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ جیتا۔ شکیل کی لمبی، صحت مند، خوشحال زندگی، اور واقعی اچھی زندگی ہے۔ انہوں نے گھریلو خاتون فرحت شکیل سے شادی کی۔ ان کا ایک بیٹا حیدر شکیل اور ایک بیٹی حرا شکیل ہے۔ کچھ عرصے پہلے ان کا بائی پاس سرجری بھی کیا گیا تھا۔ 19 جون 2023 کو انہیں دل کی تکلیف کے باعث ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اور 23 جون 2023 کو یہ انتقال کر گئے.
وہ 22 پاکستانی فلمیں درج ذیل ہیں جن میں وہ نظر آئے:
جان نثار، ہونہار ، سہاگن ، دل میرا دھڑکن تیری، جوشِ انتقام، نا خدا ، پاپی، زندگی، داستان، سرحد کی گود میں، گھروندا۔ انسان اور گدھا، بادل اور بجلی، چاہت، مسٹر 420، باغی شہزادے، کرشمہ، پہلا پہلا پیار، گنہاوں کی بستی، بلیک کیٹ، وجود، مالک ، راستہ، جناح، زہر عشق اور انگلش فلم ’بٹر فلائیز آر فری' ہیں۔
شکیل کے کچھ مشہور ٹیلی ویژن ڈرامہ سیریل اور ڈرامے ذیل میں درج ہیں۔
ہنی مون، ، زیر، زبر، پیش۔ نام دار، ٹک ٹک کمپنی، منٹوراما، پرچھائیاں۔ انا۔ چاند گرہن۔ اڑان ، تپش۔ افشاں، آنگن ٹھیڑا، شاہ جی، زمین، دوسری عورت، آندھی، تم سے مل کر، اور سائے۔
شو بزنس میں ان کی شراکت کے اعتراف میں، انہیں 1992 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔

اردو
Ramzi retweetledi
Ramzi retweetledi

اک صاحب سعودیہ سے 3 سال کے بعد واپس آئے
تو ترسے ہوئے تھے سبزہ دیکھنے کو
لاھور ایئر پورٹ سے باھر نکلے تو ڈرائیور آیا ھوا تھا
مین روڈ پہ پہنچتے ہی صاحب نے ڈرائیور کو اک سرسبز کھیت کے پاس گاڑی روکنے کو کہا
اور تقریباً دوڑتے ھوئے اس سر سبز کھیت کے اندر جا کے بیٹھ گئے
سبزے کی ٹھنڈک کو اپنی سانسوں انکھوں سے اپنے اندر تک انہیل کرتے ھوئے
دونوں بازو پھیلا کے سبزے پر ھی لیٹ گئے
دل ہی نہیں چاہ رھا تھا کہ قدرت کی اس گود کو چھوڑ کے واپس گاڑی میں بیٹھنے کو
کچھ دیر کے بعد جب دل تھوڑا ٹھنڈا ھوا
تو واپس گاڑی میں بیٹھے اور ڈرائیور نے دوبارہ سفر کا آغاز کیا
کچھ دور جانے کے بعد ڈرائیور نے صاحب کی طرف دیکھتے ھوئے انتہائی معصومیت سے پوچھا
" سر جی ، ایئرپورٹ دے اندر لیٹریناں نئیں ھوندیاں؟ "
اردو کلاسیک
اردو
Ramzi retweetledi
Ramzi retweetledi

نام نہاد مہذب دنیا پہ لعنت جو یہ سب ہونے دے رہی ہے
یہ ظلم ہے
Yousaf Siddiqui-The Writer@YousafSiddiquii
اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز: بھوک اب جنگ کا سب سے سستا ہتھیار بن چکی ہے۔ میزائل، بم اور ٹینک مہنگے ہوتے ہیں، مگر خوراک روک کر پوری آبادی کو توڑا جا سکتا ہے۔ غزہ میں بھوک کوئی حادثہ نہیں، بلکہ دباؤ، سزا اور کنٹرول کا طریقہ بن چکی ہے۔
اردو
Ramzi retweetledi

ہر ہوٹل کے باہر لکھا ہوتا ہے
یہاں پر لذیذ کھانے ملتے ہیں
دوکانوں کے باہر لکھا ہوتا ہے
یہاں سے بارعایت سودا خرید فرمائیں
لیکن کیا واقعی ایسا ہوتا ہے ؟
Samina khan@Saminakhan4000
پاکستان میں ڈاکٹر حضرات اپنے کلینک پر ”ھُوَ الشَّافِی“ ہیڈ ماسٹر سکول کی دیوار پر ”رَبِّ زِدنِی عِلمًا“ دکاندار حضرات ”وَاللّٰہُ خَیرُ الرَّازِقِین“ دودھ والا ”مَن غَشَّ فَلَیسَ مِنَّا“ ڈرائیور حضرات ”اللہ نگہبان“ تھانے کا ایس ایچ او ”اَلرَّاشِی وَالمُرتَشِی کِلٰاھُمَا فِی النَّار“ عدالت کا جج ”اِعدِلُو ھُوَ اَقرَبُ لِلتَّقویٰ“ سیاست دان پارلیمنٹ میں ”اِنَّ لحُکمُ اِلَّا لِلّٰہ“ جیسے الفاظ لکھوا کر اسلامی ٹچ دیتے ہیں✨
اردو
Ramzi retweetledi

بہت بڑی سچائی ہے یہ، بہت دیر سے سمجھ میں آتی ہے، مگر جب آتی ہے بہت آسان ہو جاتا ھے رشتوں کی الجھنوں کو سمجھنا اور سلجھانا!
ہر انسان اپنے اندر کئی موسم، کئی آوازیں، کئی ادھوری اور کئی چمکتی ہوئی دنیا لیکر چلتا ہے،
شاید اس لئے رشتوں کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے اور انسان کو پڑھنے کے لئے صرف آنکھیں نہیں احساس چاہئے۔!
اردو
Ramzi retweetledi
Ramzi retweetledi

اُن دنوں میں پی ٹی وی پر ایک پنجابی پروگرام کی میزبانی کرتی تھی۔
ایک روز پروگرام ختم کر کے نکلی تو قیصر شریف کے کمرے میں پی ٹی وی کی سالگرہ کے پروگرام کی میٹنگ چل رہی تھی۔ میں نے باتوں میں اپنی بیٹی کی اُسی دن سالگرہ کا تذکرہ کیا تو سب نے محبت سے کہا کہ کیک آپ کی بیٹی سے ہی کٹوائیں گے۔
میں سمجھتی مذاق تھا مگر کچھ دن بعد باقاعدہ مدعو کیا گیا ،
اُن دنوں میں کیولری میں رہتی تھی۔ صبح سویرے اپنی ذاتی کلٹس پر پی ٹی وی جا رہی تھی، ساتھ والی سیٹ پر بیٹی بیٹھی تھی۔
گزشتہ رات شہر میں گستاخانہ خاکوں والے ملک کے خلاف شدید احتجاج ہوا تھا، اس لیے راستے میں جگہ جگہ توڑ پھوڑ کے آثار نمایاں تھے۔
مال روڈ سے کچھ پہلے شامی روڈ پر اچانک ایک بڑا پتھر بڑی شدت سے گاڑی کی اُس سائیڈ پر آ لگا جہاں بیٹی بیٹھی تھی۔ پوری سکرین میں شدید دراڑیں پڑ گئیں۔ میں اور بیٹی آواز کی دہشت سے بری طرح سہم گئے۔میں تو یہ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی کہ اگر وہ پتھر بیٹی کو لگ جاتا تو ،
بہرحال گاڑی روک کر اردگرد پوچھا تو معلوم ہوا کہ کسی گاڑی یا سکوٹر کے ٹائر نیچے آکر پتھر ہماری طرف آیا تھا۔ سڑک پر بلب اور دوسری ٹوٹی ہوئی چیزیں بکھری پڑی تھیں، شاید انہی پتھروں سے رات بھر غصہ نکالا گیا تھا۔
پی ٹی وی پہنچے تو وہاں قوی خان، طارق عزیز، شوکت علی، ترنم ناز اور میزبان عائشہ ثناء اور دیگر فنکار موجود تھے۔ پریا نے کیک کاٹا، بہت ہنسی مذاق ہوا، محفل خوب سجی رہی… مگر دل کے اندر کہیں اک خوف دیر تک موجود رہا اور دُکھی کرتا رہا’

اردو
Ramzi retweetledi










