Riaz Khan

17.6K posts

Riaz Khan banner
Riaz Khan

Riaz Khan

@RiazFighter

♥Philanthropists♥ Soldier EPIC World Group 313

Malir Karachi, Pakistan Katılım Nisan 2022
3.2K Takip Edilen2.8K Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
Riaz Khan
Riaz Khan@RiazFighter·
رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے پاکستان عوام راج تحریک کا حصہ بننے کے لیے اپنی رجسٹریشن یہاں👇 مکمل کریں یہ تحریک عوام کی ہے، عوام کے لیے ہے، اور عوام کے اختیار کے لیے ہے Please use this refernce code: awaamraaj.pk/register?ref=P… #اب_راج_کرے_گی_خلق_خدا @iqrarulhassan
Riaz Khan tweet media
اردو
1
2
7
221
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
جس جماعت کا نام ہی ایک آدمی کے نام پر ہو وہ کیسے جمہوری ہو سکتی ہے؟ جماعت دکان نہیں ہوتی کہ بورڈ پر پر اپنا نام لکھوا لیں۔ سیاسی جماعت لوگوں کی ملکیت ایک ایسا ادارہ ہوتی ہے جس کا مالک کوئی شخص یا خاندان نہیں ہوتا۔ عوام راج تحریک ایک ایسی سیاسی جماعت کے قیام کی جدوجہد کر رہی ہے جس کے مالک پاکستان کے عام لوگ اور پاکستان کی مڈل کلاس ہو اور وہ جماعت پاکستان کے مڈل کلاس لوگوں کو خوشامد اور چاپلوسی کی بجائے میرٹ اور قابلیت پر اقتدار میں لے کر آئے۔ #عوام_راج
اردو
72
52
183
18.6K
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
دنیا کے کسی بھی ملک میں 9 مئی جیسا واقعہ ہوتا تو اس سے زیادہ سخت سزائیں ہوتیں۔ امریکہ میں کیپیٹل ہل حملے میں حملے کے وقت موجود نہ ہونے کے باوجود منصوبہ ساز اینرک ٹاریو کو 22 سال اور سٹویورٹ روڈز کو اٹھارہ سال سزا سنائی گئی۔ موقع پر موجود لوگوں کو پانچ سے دس سال تک کی سزائیں سنائی گئیں، کئی مہینوں بلکہ سالوں تک گرفتاریاں ہوتی رہیں۔۔۔ کئی لوگوں کی نوکریاں ختم ہوئیں، ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔۔۔ دنیا کے بے شمار ممالک میں ریاستی اور نجی املاک پر حملوں کے ایسے واقعات میں اس سے کہیں سخت سزاؤں کی مثالیں موجود ہیں۔
Ameer Abbas@ameerabbas84

کیا دنیا کا کوئی بھی ملک 9 مئی کی آڑ میں ایک پوری سیاسی جماعت کو ختم کرنے، سیاستدانوں پر جعلی مقدمات منانے، بغیر سزا کے دو سال تک 77 سالہ کینسر سے لڑنے والی بزرگ خاتون سیاستدان کو جیل میں رکھنے، ایک جرم کے بیسیوں مقدمات بنانے، 9 مئی سازش کی من گھڑت کہانی گھڑنے اور ایک شخص پر ایک ہی جرم کے کئی کئی شہروں میں مقدمات بنانے کی اجازت دے سکتا ہے؟ Yes Or No۔

اردو
382
359
1K
133.6K
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
نہیں حضور ایسے نہیں۔ بھٹو نے جنرل ایوب کو ڈیڈی کہا، اقتدار میں آئے اور اقتدار سے نکالے جانے پر انقلابی بن گئے۔ نواز شریف نے جنرل ضیاء کا مشن آگے بڑھانے کے دعوے کیے، اقتدار میں آئے، نکالے جانے پر انقلابی بن گئے۔ عمران خان نے جنرل مشرف کو ووٹ دیا، راحیل شریف کی انگلی کی خواہش کی، باجوہ کو جمہوری اور سلجھا ہوا کہا، اقتدار میں آئے اور نکالے جانے پر انقلابی بن گئے۔۔۔ اور ہمیں ہر بار آپ جیسے “دانشوروں” نے کہا یہ مظلوم ہیں، ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ حالانکہ یہ تمام لوگ وہ لوگ تھے جو ظلم کے اس نظام کی آگ میں لکڑیاں ڈال ڈال کر آگ بھڑکا رہے تھے کہ اس دہکتی گ میں خود ان کے ہاتھ بھی جل گئے۔۔۔ اس لیے ہم ان میں سے کسی کو مظلوم ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ انہیں مظلوم، ہیرو اور انقلابی مان کر آپ آئیندہ نسلوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ جب جی چاہے بیس تیس سال جرنیلوں کے تلوے چاٹو، اقتدار اور لیڈری کے مزے لو اور اگر نکالے جاؤ تو جمہوریت کے نام پر انقلابی بن جاؤ۔۔۔ آپ سمیت جو بھی آج عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے وہ اس قبیح روایت کو زندہ رکھنے میں سہولت کاری کر رہا ہے۔ اس طرح تو یہ سفر کبھی رُکے گا ہی نہیں۔ جو ایک بار بھی سب جانتے بوجھتے ہوئے جرنیلوں کی گود میں بیٹھا، ہمیں اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسترد کرنا ہو گا۔۔۔ جرنیلوں کے پرانے ملازم کبھی انقلاب نہیں لا سکتے۔
Ahmad Farhad@AhmadFarhadReal

سب سے پہلی گزارش یہ ہے کہ نہ میں پی ٹی آئی کا ووٹر ہوں نہ سپورٹر نہ کارکن نہ رہنما۔ میرا پی ٹی آئی یا عمران خان سے نہیں اپنے اصول سے تعلق ہے۔ آسانی سے یہ سمجھیے کہ میرا اصول فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت،سیاسی انتقام،اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف جدوجہد ہے۔ دراصل پاکستان میں پی ٹی آئی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کا موثر کیا کوئی منشور ہے ہی نہیں۔یہ آٹو پر لگا ہوا ایک سیاسی نظام ہے جس میں سب چل رہا ہے اور اس نظام میں منشور ایک خانہ پری ہے چند صفحوں کا پیٹ بھرنے کے لیے۔ اب مجھ میں اور آپ میں فرق یہ ہے کہ میں عمران خان اور ان کی پارٹی کو اس وقت مظلوم اور حق بجانب سمجھ کر ان کے لیے آواز اٹھاتا ہوں اور آپ شعوری یا غیر شعوری طور پر آئین شکن اور غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں اور الٹا دن رات مظلوم اور مستغیث سے ہی جرح اور اس کے ٹرائل میں مصروف ہیں اور یہ عمل آپ کی ساری باتوں اور اعمال کو مشکوک بناتا ہے۔ باقی آپ کی نیت پر خوش گمانی رکھتے ہوئے آپ کے لیے دست بستہ مشورہ ہے کہ آپ کی نیت اور ارادے بے شک درست ہو سکتے ہیں لیکن آپ کا طرز عمل اور اسلوب آپ کے دعووں کو رد کرتے ہیں۔ اس وقت عمران خان کے پوسٹ مارٹم کا نہیں اس سسٹم کے پوسٹ مارٹم کا وقت ہے۔اس وقت مقدمہ اس فسطائی مظام کے خلاف ہے عمران خان کے خلاف نہیں۔ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ عمران خان کو باہر آنے دیں میں آپ کے ساتھ مل کر عمران خان کا محاسبہ کروں گا۔

اردو
109
80
392
48K
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
وسیم ملک صاحب مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں آئین، قانون اور انسانی حقوق کا سبق صرف ایک مخصوص ٹولے کے لیے یاد آتا ہے۔ وہ ٹولہ جو بات بات پر ملٹری کورٹس کا مطالبہ کرتا تھا اب جب وہ خود ملٹری کورٹس کا شکار بنا ہے تو ہم اصولی بنیاد پر آج بھی ملٹری کورٹس کی مخالفت کرتے ہیں لیکن اس ٹولے کو مظلوم نہیں مان سکتے۔ عمران خان صاحب کے جیل میں ہونے کے حوالے سے ہزاروں مرتبہ کہہ چکا اور پھر کہتا ہوں کہ عمران خان کی جیل اُن کے جرم کرنے یا نہ کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ مقتدرہ ان سے ناراض ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمران خان بے قصور ہے۔ موجودہ مقدمات کو چھوڑ دیجئے۔۔۔ عمران خان نے پچیس سال اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر جو کچھ کیا، جیسے آئین توڑنے والے ڈکٹیٹر مشرف کو ووٹ دیا اس پر کم سے کم اُن پر آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے۔۔ اور یہی کام آج جنرل ضیاء سے کے کر آج تک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر آئین شکنی کرنے والے نواز شریف کے ساتھ بھی ہونا چاہئے۔ یہی تو ہماری تحریک “عوام راج” کا موقف ہے کہ جس نے ایک بار بھی جرنیلوں کی آئین شکنی میں سہولت کاری کی اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسترد کر دیا جائے۔۔۔ اور اُن جرنیلوں کو بھی نشان عبرت بنانا چاہئے۔ لیکن پرویز مشرف کا آئین شکنی کی سزا سنائی گئی تھی تو اسی ٹولے نے آفت مچائی تھی۔ خدارا اس ٹولے کا پاکستان کے عوام کے طور پر منطبق مت کیجئے۔
Waseem Malik@iwaseemmalik

جنابِ اقرار الحسن، میں مہذب معاشروں میں آئین، قانون و بنیادی انسانی حقوق کی بالادستی کا وہ سبق سنا رہا تھا جو بطور سینئر صحافی اور نومولود سیاستدان آپ کے لیے تو مشعلِ راہ ہونا چاہیے تھا، مگر توقع کے عین مطابق آپ نے اس اصولی بحث کو پھر سے شخصیات کے گرد گھما دیا۔ چلیں اسی پر بات کر لیتے ہیں، جیل جانے سے پہلے اپنی سیاسی زندگی میں یہ جرائم کئے ہونگے جن کی جانب آپ توجہ مبذول کروا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران خان پر درج تین سو مقدمات اور قید انہیں ان جرائم پر نہیں، بلکہ ایسے ٹرائلز میں ملی جن کی اپیلیں سنتے ہوئے آج اس 'رجیم' کو غشی کے دورے پڑ رہے ہیں، کیونکہ بندوبستی نظام جانتا ہے کہ اپنے ہی چنتخب ججز کے سامنے بھی وہ ان کیسز کا دفاع نہیں کر پائیں گے۔ آپ کا یہ مؤقف بھی نظر سے گزرا کہ سیاسی تحریکیں اپنے آغاز میں مقبول ترین بیانیے کو نشانہ بناتی ہیں، اور اسی بنیاد پر آپ عمران خان پر تنقید کرتے ہیں، اصولی طور پر آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ مگر کیا اس تنقید کی آڑ میں آپ 9 مئی سے پہلے اسے بلخصوص بعد ہونے والی اس وحشت کو نظر انداز کر سکتے ہیں جس نے لاکھوں زندگیوں کو اجاڑ دیا؟ اس بندوبستی نظام نے قانون کے نام پر سیاست کا وہ کھیل کھیلا جس کی لپیٹ میں وہ ہزاروں معصوم بھی آئے جو اس احتجاج کا حصہ تک نہ تھے۔ پنجاب میں پولیس کے غضب کا جو بازار گرم رہا، اس میں لوگوں کے گھر لٹ گئے اور غریب باپ اپنی بیٹیوں کے جہیز دے کر اپنی جانیں چھڑاتے رہے، چادر چار دیواری کے تقدس کی پالمالی کے دوران کتنے لوگ دل کے عارضے میں مبتلا ہوئے، اور کئی تو جان سے بھی گئے، الغرض معاشرتی بنیادیں ہلا دیں گئیں۔ اس پورے معاملے کو خالصتاً قانونی زاویے سے نمٹنے کے بجائے 'سیاست زدہ' کر دیا گیا، جس کا نتیجہ خاندانوں کی تباہی اور کاروبار کی بربادی کی صورت میں نکلا۔ اور جن لوگوں نے قانون ہاتھ میں لیا بھی تھا، تو اس دن کی انتظامی اور سیکیورٹی کوتاہیوں پر آج تک کوئی آزادانہ انکوائری کیوں نہ ہو سکی؟ سوال یہ ہے کہ آپ عمران خان کی مخالفت یا نفرت میں پاکستانی عام عوام کے ساتھ اس بربریت کو کیسے 'جواز' فراہم کر سکتے ہیں؟ آپ کی تو اپنی ایک "حقیقی جمہوری سیاسی تحریک" ہے، کیا آپ عوامی حقوق کی پامالیوں کا جواز فراہم کرکے اپنی تحریک کے لیے نئی نسل باہر سے امپورٹ کریں گے؟ آخر میں، آپ کو پی ٹی آئی کا ورکر ایک 'کلٹ' نظر آتا ہے، جو شاید کسی حد تک درست بھی ہو، بدلے میں آپ تحریک انصاف آپکو 'بغضِ عمران' کی انتہا پر دیکھتی ہے۔ یہ دونوں رویے دراصل ایک ہی نفسیاتی مسئلے کی دو مختلف شکلیں ہیں، لیکن عوام کیخلاف وحشت و بربریت پر ہمدردی اور آئین و قانون کی بالادستی کیلئے آواز اٹھانے کی بجائے اسے جواز فراہم کرنے کی کوشش میں مجھے تو آپ 'نفرت عوام' میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔

اردو
39
28
116
7.8K
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
سوچیں یہ شخص پی ٹی آئی والوں کا سب سے عظیم دانشور ہے۔۔۔ جس کام سے دوسرے کو روک رہا ہے وہی کام خود بھی کر رہا ہے 😅 صدیق بھائی !! یہ ریچ وغیرہ آپ جیسے ڈالر خوروں کے مسائل ہیں۔ ریچ چاہئے ہوتی تو جس زمانے میں آپ اور عمران ریاض جیسے لوگ جنرل باجوہ کے تلوے چاٹ کر ڈالر بنا رہے تھے، ہم اس زمانے میں باجوہ کی ایکسٹینشن کے خلاف ٹوئیٹس نہ کرتے۔ ریچ چاہئے ہوتی تو سب سے مقبول عمران خان کے بیانئیے کے خلاف جا کر مشکل راستے کا انتخاب کرنے کی بجائے آپ کی طرح قلم اور ضمیر فروشی کر رہے ہوتے۔ باقی آپ نے گذشتہ انٹرایکشن میں خود تسلیم کیا کہ آپ جنرل باجوہ کے زمانے میں جاہل تھے، اور چونکہ اس کے بعد آپ نے جہالت دور کرنے والا کوئی آپریشن نہیں کروایا تو ظاہر ہے آج بھی جاہل ہیں۔ اللہ آپ کو ہدائیت دے۔
Siddique Jan@SdqJaan

آپ صرف اقرار الحسن صاحب کی ریچ بڑھا رہے ہیں، ان کے دس ہزار سے کم وویوز تھے، آپ نے رپلائی کیا تو ان کے وویوز 24 ہزار ہو گئے اور آپ کے کوٹ ٹوئٹ کے وویوز 90 ہزار تھے، بار بار رپلائی کرکے ان کے اکاؤنٹ کی ریچ بڑھانے کا جرم مت کریں وسیم ملک صاحب، ابھی @ChaiJournalist نے بھی مجھ سے سختی سے پوچھا ہے کہ وسیم ملک کیوں یہ سب کررہا ہے ؟؟

اردو
226
499
2K
86.5K
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
پی ٹی آئی کے جو یوٹیوبر اپنی گندی سیاست اور ڈالرز کے لیے حرمتِ رسولﷺ کو بیچ دیتے ہیں اُن کے لیے ملک کو بیچنا کون سی بڑی بات ہے۔۔۔ اگر اوریا مقبول جان، عمران ریاض، صدیق جان اور معید پیرزادہ آپ کے دانشور ہیں تو آپ کا بھی اللہ ہی حافظ ہے۔۔۔
اردو
222
614
1.6K
32.5K
Riaz Khan retweetledi
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
@Jabir786baig جرنیلوں کا پٹہ گلے میں ڈال کر، اُن کے تلوے چاٹتے ہوئے، دُم ہلاتے ہوئے، اپنے مالکوں کی تعریفوں کی پُل باندھ کر، مسیحا بننے کی اداکاری کرنے والے ہر حرامخور بے غیرت پر اللہ کی لعنت۔۔۔
اردو
164
385
1.3K
40.5K
Riaz Khan retweetledi
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
کیا ان کی چار آنکھیں، چھ ہاتھ اور بیس ٹانگیں ہوتی ہیں؟ کیا اللہ انہیں کوئی الگ مشین لگا کر بھیجتا ہے جو آپ میں یا آپ کے بچوں میں نہیں ہوتی؟ صرف مائنڈ سیٹ کا فرق ہے۔ صرف یہ سوچ بدلنی ہے کہ “لیڈر ایک ہی ہوتا ہے”۔ جس دن یہ سوچ بدل گئی اُس دن مڈل کلاس کے لوگ بھی لیڈر ہوں گے۔۔۔ کسی کی چاپلوسی کر کے نہیں بلکہ اپنی قابلیت، میرٹ اور انٹرنل الیکشنز کی بنیاد پر۔ عوام راج تحریک ایسی ہی سیاسی جماعت بنانے جا رہی ہے جس میں یہ سب ہو اور جس کے ذریعے عام لوگ اور مڈل کلاس نوجوان بھی اس ملک پر حکمرانی کریں گے۔
اردو
111
59
187
15.1K
Riaz Khan retweetledi
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
ناظم آباد کراچی میں عوام راج کے ایگزیکٹو ممبران سے ملاقات۔ کراچی کی ہر یونین کونسل اور ٹاؤن میں عوام راج تحریک کو منظم اور متحرک کرنے کا کام جاری ہے۔ کراچی عوام راج تحریک کے ساتھ ہے اور عوام راج تحریک کراچی کے ساتھ۔۔۔ بہت جلد کراچی میں عوام راج کا جلسہ ہو گا۔
اردو
42
37
111
7.3K
Riaz Khan retweetledi
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
لوگ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے وڈیروں کے ڈیروں پر ذلیل ہوتے رہیں اس لیے نواز شریف، زرداری اور عمران خان سمیت کسی جمہوریت کے چیمپئن نے بھی آج تک بلدیاتی نظام مضبوط نہیں ہونے دیا۔ انشاء اللہ عوام راج میں بلدیاتی نمائندہ وزیراعظم سے زیادہ طاقت ور ہو گا۔ تعلیم، صحت، ڈویلپمنٹ، پولیس اور مقامی ٹیکسز سمیت ہر چیز پر گلی محلے کے منتخب نمائندے کا اختیار ہو گا۔
اردو
65
78
257
21.3K
Riaz Khan retweetledi
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
@Its_Ibrahimonly ہر خوشامد کرنے والے پر اور بالخصوص جرنیلوں کی خوشامد کرنے والے ہر بے غیرت پر اللہ کی لعنت
اردو
34
81
271
6.7K
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
جس کو خود 72 سال کی عمر تک جرنیلوں اور اسٹیبشلمنٹ کا کردار ہی پتہ نہیں تھا۔۔۔ اخے اُس نے ہمیں شعور دیا ہے۔
اردو
849
579
3.1K
236.2K
Riaz Khan retweetledi
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
شکریہ کہ آپ نے وقت نکال کر عوام راج تحریک کا منشور پڑھا۔ میں متفق ہوں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ کی غیر آئینی مداخلت ہے اور آپ نے اسٹیبلشمنٹ کے غیر آئینی کردار کے خاتمے کے حوالے سے ہمارا لائحۂ عمل جاننا چاہا ہے تو شاید میں اس کی وضاحت ایک سوال کے ذریعے کر سکوں ۔ آپ یہ بتائیے کہ جس جماعت کے ساتھ آپ کھڑے ہیں اُس کے پاس اسٹیبلشمنٹ کے اِس کردار کو ختم کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ کیا وہ بی ایل اے کی طرح بندوق اٹھائیں گے؟ کیا وہ طالبان کی طرز پر دہشت گردی کریں گے؟ کیا وہ مکتی باہنی کی طرح انڈین فوج سے مدد طلب کریں گے؟ مقابل طاقت کے پاس بندوق ہے، توپیں ہیں، ٹینک ہیں۔۔۔ اس کا سامنا بزورِ بازو کیسے کیا جا سکتا ہے؟ میرے نزدیک اس کا صرف ایک حل ہے اور وہ یہ کہ اسٹیبلشمنٹ کی ووٹ چوری کے لیے گھر کا دروازہ اندر سے کھولنے والے افراد کو گھر سے باہر نکالیے۔ 2018 میں یہ دروازہ عمران خان نے کھولا تھا اور 2024 میں نواز شریف اور آصف زرداری نے۔ مارشل لاء لگنے پر بھی یہی سیاستدان مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اور ہار لے کر ڈکٹیٹر کو ویلکم کرنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ ہر نظام کو ٹھیک کرنے کا آغاز گھر سے ہوتا ہے اور ہم چوروں کے ساتھ ملے ہوئے گھر کے افراد کو گھر سے نکالنے کی بجائے انقلابی مان لیتے ہیں، فوجی ڈکٹیٹر کی گود میں پلنے والا نواز شریف ووٹ کو عزت دو کی بات کرتا ہے تو ہم اسے جمہوریت سمجھ لیتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے انگوٹھے چوس کر اقتدار میں آنے والا عمران خان حقیقی آزادی کی بات کرتا ہے تو ہم اسے جمہوریت سمجھ لیتے ہیں۔ جو لوگ اپنی پارٹیوں میں جمہوریت نہیں لا سکے وہ ملک میں جمہوریت کیا خاک لائیں گے؟ ادارے کے مقابلے میں اٹھہتر سال تک ہم شخصیات کی لڑائی لڑتے رہے ہیں۔ کبھی بھٹو کی لڑائی، کبھی بے نظیر کی لڑائی، کبھی نواز شریف کی لڑائی، آج عمران خان کی لڑائی۔ نظریے کی لڑائی کس نے لڑی؟ ادارے کے مقابلے میں افراد کو لانے کی بجائے ایک عوامی جمہوری ادارہ بنائیے۔ کیونکہ ایک شخص جب پارٹی ہوتا ہے تو وہ اپنے اقتدار کے لیے جھٹ سے اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ جاتا ہے۔ ادارہ، جہاں سب مل کر فیصلے کرتے ہیں وہاں یہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔ جو منشور آپ نے پڑھا دراصل وہ منشور کا ابتدائیہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ میرٹ اور انٹرنل الیکشن کی بنیاد پر ایک جمہوری جماعت کی منتخب ہونے والی قیادت اپنے منشور، آئین اور جماعت کے نام کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہے۔ عوام راج ایک تحریک ہے، جماعت نہیں۔ اور آخر میں اور کوئی بھی اسٹیبلشمنٹ کا غیر آئینی کردار ختم کر سکتا ہے لیکن اس کے سابق ملازم نہیں۔ اگر کوئی لیڈر، صحافی یا شاعر یہ کہے کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کی حقیقت نہیں جانتے تھے تو وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ کیا آپ حلف دے سکتے ہیں کہ آپ نے محاصرہ، پیشہ ور قاتلو اور ابوجہاد نہیں پڑھی تھیں؟ آئیے طعنے اور ایک دوسرے پر الزام کے بغیر اس معاملے پر مدلل گفتگو کرتے ہیں۔ آپ چاہیں تو کسی دن آن کیمرہ بھی گفتگو کی جا سکتی ہے۔ سلامتی ہو۔
Ahmad Farhad@AhmadFarhadReal

اقرار صاحب آپ کا منشور یا لائحہ عمل پڑھا اور اسے پڑھنے کے بعد کچھ گزارشات و حاصلات پیش خدمت ہیں۔ 1۔یہ بہت سبجیکٹو عامیانہ اور موضوعی قسم کا منشور ہے اور ننانوے فی صد اس بات کے گرد گھومتا ہے کہ آپ ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں جو اپنی سرشت بنیاد اور تنظیم میں بھی جمہوری ہو۔یہ عمدہ بات ہے کہ جماعت کسی شخصیت یا خاندان کی اسیر ہو کر نہ رہ جائے لیکن سارے منشور میں ننانوے فی صد زور صرف اسی بات پر مرکوز رکھنا اور اسے ہی تمام مسائل کی جڑ قرار دینا حتی کہ جمہوری تسلسل میں رخنے کی بھی،ہر گز درست نہیں۔پاکستان میں جمہوری تسلسل میں رکاوٹ کی بنیادی وجہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ہے نا کہ جماعتوں کے اندر مضبوط جمہوری نظام کا نہ ہونا۔صرف اس ایک بات پر زور دے کر آپ پھنسی پھوڑے پر تو بات کر رہے ہیں لیکن کینسر ہر نہیں۔ 2۔یہ منشور ایک طائرانہ آوٹ لائن ضرور ہے لیکن کوئی مربوط و مبسوط منشور نہیں جو سیاست معیشت معاشرت سمت اور پالیسیز سے متعلق گہرائی اور گیرائی میں جامع و عملی لائحہ عمل دے۔ 3۔یہ ویسا ہے خانہ پری منشور ہے جیسا پاکستان کی کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کا منشور ہاں البتہ اس میں جماعت کے اندر جمہوریت پر زور زیادہ ہے باقی ہوائی فائرنگ ہے۔ 4۔پاکستان میں جمہوری تسلسل اور پاکستانی نظام کو لگے کینسر یعنی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کا راستہ روکنے سے متعلق کوئی دردمندی لائحہ عمل یا دوٹوک موقف نہیں۔بس ایک جگہ ذائقے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا ذکر ہے وہ بھی اس عذر کے ساتھ کہ اصل مسئلہ جماعت کے اندر جمہوریت کا نہ ہونا ہے نا کہ اسٹیبلشمنٹ کی غیر آئینی و قانونی مداخلت۔ 5۔اگر آپ نے کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کا شاہکار کمیونسٹ پارٹی کا منشور پڑھا ہوتا تو آپ کو بہتر اندازہ ہوتا کہ منشور کیا اور کتنا اہم ہوتا ہے اور کیسے یہ خانہ پری سے مختلف ایک چیز ہے۔ 6۔میں نہایت دردمندی احترام غیر جانبداری اور صدق نیت سے عرض کرتا ہوں کہ آپ کی توانائیاں ننانوے فی صد صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کو رد کرنے میں خرچ ہو رہی ہیں جس سے تاثر ملتا ہے کہ عوام راج تحریک اور سوشل میڈیا ایکٹوازم باقاعدہ آپ کو اسائنمنٹ کی صورت میں تفویض کیے گئے ہیں۔آج بھی آپ کی ننانوے فی صد پوسٹیں عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف بالکل اسی اسلوب میں ہیں جیسے کسی تھڑے کے ٹاوٹ کی جو آپ کو ہر گز زیبا نہیں۔میں قطعا آپ کو ٹاوٹ نہیں کہتا لیکن آپ کی ٹویٹس باتوں تحریر و تقریر اور کوششوں کا ماحصل یہی تاثر ہے کہ آپ کسی اسائنمنٹ پر ہیں۔ 7۔آپ کا سوشل میڈیا ایکٹوازم قطعی طور پر آپ کو ایک مصلح یا وسیع تناظر میں کسی بڑے سیاسی عمل کے کیے ایک غیرجانبدار مبلغ یا بنیاد گزار ثابت نہیں کرتا۔ 8۔میں آپ کی نیت اور خلوص پر شک نہیں کرتا لیکن آپ کی زبان اور آپ کا لفظ دونوں اس وقت آپ کو اس فسطائی نظام کا سہولت کار و پروپیگنڈا کار ثابت کرتے ہیں۔ 9۔آخر میں گزارش ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کا مینی فیسٹو پڑھیں تا کہ آپ کو علم ہو کہ منشور کسے کہتے ہیں۔اور ساتھ میں وعدہ کہ اگر کل کو آپ کوئی عملی سطح پر متاثر کن منشور بنانے میں کامیاب ہو جائیں اور اس کی پہلی شق میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کا راستہ روکنے کے عہد اور اس کے مکمل لائحہ عمل کو بیان کر سکیں تو میں اسی روز بطور کارکن آپ کی جماعت کا حصہ بن جاوں گا۔ وسلام

اردو
55
25
129
38.3K
Riaz Khan retweetledi
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
وسیم صاحب !! تو پھر مکمل موازنہ کیجئے۔ کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے والوں نے کبھی آرمی چیف کو ابو نہیں کہا تھا۔ کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے والوں نے کبھی فوج کے ساتھ مل کر دھرنے نہیں دیئے تھے۔ کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے والوں نے کبھی آرمی چیف کو جمہوری اور سلجھا ہوا کہہ کر اُس کی ٹاؤٹ گیری نہیں کی تھی۔ کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے والوں نے کبھی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ثاقب نثار کی عدالتوں کے ساتھ مل کر سیاسی مخالفین کو وکٹمائز نہیں کیا تھا۔ کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے والوں نے آئی ایس آئی چیفس کی گود میں پرورش نہیں پائی تھی۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی ظلم کی جس آگ میں لکڑیاں ڈال ڈال کر آگ بھڑکا رہے تو آج خود اُسی آگ میں جل رہے ہیں تو ہمدردی کیسی ؟
Waseem Malik@iwaseemmalik

جناب اقرار الحسن! سب سے اہم پہلو آپ کی نظر سے اوجھل رہا یا پھر آپ نے جان بوجھ کر فکری بدیانتی کی، یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بہرحال، چونکہ آپ نے تقابلی جائزہ لیا ہے، تو آئیے اسے مکمل دیانتداری کے ساتھ دیکھتے ہیں: کیپیٹل ہل حملے میں ملوث افراد کو سزائیں کسی فوجی عدالت نے نہیں بلکہ امریکہ کی فیڈرل سویلین کریمنل کورٹ، یعنی ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ضلعی عدالت برائے ضلع کولمبیا نے سنائیں۔ جہاں مکمل طور پر شفاف ٹرائل ہوا، وکلاء موجود تھے، جرح ہوئی، شواہد پیش کیے گئے اور تحریری فیصلے جاری ہوئے۔ یہاں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے آج بھی تحریری فیصلوں کے منتظر اور رجیم کے چنتخب ججز کے آئینی بینچ کے فیصلے کے مطابق آزادانہ اپیل کے حق کے لیے قانون سازی کا انتظار کر رہے ہیں۔ کیپیٹل ہل حملے میں ملوث ملزمان کو سزا کے بعد اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا مکمل حق ملا اور ان اپیلوں کی باقاعدہ سماعت بھی ہوئی۔ یہاں دو برس سے زائد عرصے کے بعد بھی اپیلیں لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کی منتظر ہیں۔ کیپیٹل ہل حملے میں پورے عمل کے دوران نہ امریکہ کا قانونی ڈھانچہ بدلا، نہ کوئی آئینی ترامیم کی گئیں اور نہ ہی ججز کو دباؤ میں لانے کے لیے ان کے گھروں پر کریکر حملے کیے گئے۔ کیپیٹل ہل حملے کے ملزمان کو یہ رعایت نہیں دی گئی کہ وہ پریس کانفرنس کر کے کسی سیاسی شخصیت کے خلاف بیان دے اور اس کے بدلے میں اسے جرم سے آزادی مل جائے۔ کیپیٹل ہل حملے کے معاملے میں قانون پوری طرح متحرک ہوا، لیکن اسے سیاسی ہتھیار نہیں بنایا گیا۔ نہ سیاسی جماعت توڑی گئی نہ وفاداریاں تبدیل کروائی گئیں، نہ لوگوں کو جبری لاپتہ کیا گیا اور نہ ہی بعد میں انہیں میڈیا پروگرامز کے ذریعے “برآمد” کروایا گیا۔ 9 مئی کے واقعات میں سب سے بڑا المیہ یہی رہا کہ اسے خالص قانونی انداز میں نمٹانے کے بجائے فیصلہ سازوں نے سیاست زدہ کرکے وقتی فائدے کیلئے مستقل نقصان کو دعوت دی۔ اور آخر میں، سب سے اہم نکتہ، کیپیٹل ہل حملے کی باقاعدہ تحقیقاتی کارروائی امریکی کانگریس میں ہوئی، یعنی January 6 Committee Hearings جہاں گواہوں کو طلب کیا گیا، حلفیہ بیانات لیے گئے، حملے کی ویڈیوز اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا گیا، ذمہ داروں کا تعین کیا گیا اور پھر مفصل رپورٹ سفارشات کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کی گئی۔ اہم بات یہ کہ یہ تمام کارروائی براہِ راست ٹی وی پر نشر ہوئی اور عوام نے ہر مرحلہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ صرف چند چیدہ چیدہ تضادات ہیں، ورنہ مکمل تقابل کیا جائے تو حقائق کی ایک طویل فہرست سامنے آ سکتی ہے۔ آپکی آدھی سچائی وقتی بیانیہ تو گھڑ لے شائد، مگر حقیقت کو زیادہ دیر چھپا نہیں سکتے۔

اردو
100
87
316
51.4K