

Riaz Khan
17.6K posts

@RiazFighter
♥Philanthropists♥ Soldier EPIC World Group 313




کیا دنیا کا کوئی بھی ملک 9 مئی کی آڑ میں ایک پوری سیاسی جماعت کو ختم کرنے، سیاستدانوں پر جعلی مقدمات منانے، بغیر سزا کے دو سال تک 77 سالہ کینسر سے لڑنے والی بزرگ خاتون سیاستدان کو جیل میں رکھنے، ایک جرم کے بیسیوں مقدمات بنانے، 9 مئی سازش کی من گھڑت کہانی گھڑنے اور ایک شخص پر ایک ہی جرم کے کئی کئی شہروں میں مقدمات بنانے کی اجازت دے سکتا ہے؟ Yes Or No۔

سب سے پہلی گزارش یہ ہے کہ نہ میں پی ٹی آئی کا ووٹر ہوں نہ سپورٹر نہ کارکن نہ رہنما۔ میرا پی ٹی آئی یا عمران خان سے نہیں اپنے اصول سے تعلق ہے۔ آسانی سے یہ سمجھیے کہ میرا اصول فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت،سیاسی انتقام،اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف جدوجہد ہے۔ دراصل پاکستان میں پی ٹی آئی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کا موثر کیا کوئی منشور ہے ہی نہیں۔یہ آٹو پر لگا ہوا ایک سیاسی نظام ہے جس میں سب چل رہا ہے اور اس نظام میں منشور ایک خانہ پری ہے چند صفحوں کا پیٹ بھرنے کے لیے۔ اب مجھ میں اور آپ میں فرق یہ ہے کہ میں عمران خان اور ان کی پارٹی کو اس وقت مظلوم اور حق بجانب سمجھ کر ان کے لیے آواز اٹھاتا ہوں اور آپ شعوری یا غیر شعوری طور پر آئین شکن اور غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں اور الٹا دن رات مظلوم اور مستغیث سے ہی جرح اور اس کے ٹرائل میں مصروف ہیں اور یہ عمل آپ کی ساری باتوں اور اعمال کو مشکوک بناتا ہے۔ باقی آپ کی نیت پر خوش گمانی رکھتے ہوئے آپ کے لیے دست بستہ مشورہ ہے کہ آپ کی نیت اور ارادے بے شک درست ہو سکتے ہیں لیکن آپ کا طرز عمل اور اسلوب آپ کے دعووں کو رد کرتے ہیں۔ اس وقت عمران خان کے پوسٹ مارٹم کا نہیں اس سسٹم کے پوسٹ مارٹم کا وقت ہے۔اس وقت مقدمہ اس فسطائی مظام کے خلاف ہے عمران خان کے خلاف نہیں۔ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ عمران خان کو باہر آنے دیں میں آپ کے ساتھ مل کر عمران خان کا محاسبہ کروں گا۔

جنابِ اقرار الحسن، میں مہذب معاشروں میں آئین، قانون و بنیادی انسانی حقوق کی بالادستی کا وہ سبق سنا رہا تھا جو بطور سینئر صحافی اور نومولود سیاستدان آپ کے لیے تو مشعلِ راہ ہونا چاہیے تھا، مگر توقع کے عین مطابق آپ نے اس اصولی بحث کو پھر سے شخصیات کے گرد گھما دیا۔ چلیں اسی پر بات کر لیتے ہیں، جیل جانے سے پہلے اپنی سیاسی زندگی میں یہ جرائم کئے ہونگے جن کی جانب آپ توجہ مبذول کروا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران خان پر درج تین سو مقدمات اور قید انہیں ان جرائم پر نہیں، بلکہ ایسے ٹرائلز میں ملی جن کی اپیلیں سنتے ہوئے آج اس 'رجیم' کو غشی کے دورے پڑ رہے ہیں، کیونکہ بندوبستی نظام جانتا ہے کہ اپنے ہی چنتخب ججز کے سامنے بھی وہ ان کیسز کا دفاع نہیں کر پائیں گے۔ آپ کا یہ مؤقف بھی نظر سے گزرا کہ سیاسی تحریکیں اپنے آغاز میں مقبول ترین بیانیے کو نشانہ بناتی ہیں، اور اسی بنیاد پر آپ عمران خان پر تنقید کرتے ہیں، اصولی طور پر آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ مگر کیا اس تنقید کی آڑ میں آپ 9 مئی سے پہلے اسے بلخصوص بعد ہونے والی اس وحشت کو نظر انداز کر سکتے ہیں جس نے لاکھوں زندگیوں کو اجاڑ دیا؟ اس بندوبستی نظام نے قانون کے نام پر سیاست کا وہ کھیل کھیلا جس کی لپیٹ میں وہ ہزاروں معصوم بھی آئے جو اس احتجاج کا حصہ تک نہ تھے۔ پنجاب میں پولیس کے غضب کا جو بازار گرم رہا، اس میں لوگوں کے گھر لٹ گئے اور غریب باپ اپنی بیٹیوں کے جہیز دے کر اپنی جانیں چھڑاتے رہے، چادر چار دیواری کے تقدس کی پالمالی کے دوران کتنے لوگ دل کے عارضے میں مبتلا ہوئے، اور کئی تو جان سے بھی گئے، الغرض معاشرتی بنیادیں ہلا دیں گئیں۔ اس پورے معاملے کو خالصتاً قانونی زاویے سے نمٹنے کے بجائے 'سیاست زدہ' کر دیا گیا، جس کا نتیجہ خاندانوں کی تباہی اور کاروبار کی بربادی کی صورت میں نکلا۔ اور جن لوگوں نے قانون ہاتھ میں لیا بھی تھا، تو اس دن کی انتظامی اور سیکیورٹی کوتاہیوں پر آج تک کوئی آزادانہ انکوائری کیوں نہ ہو سکی؟ سوال یہ ہے کہ آپ عمران خان کی مخالفت یا نفرت میں پاکستانی عام عوام کے ساتھ اس بربریت کو کیسے 'جواز' فراہم کر سکتے ہیں؟ آپ کی تو اپنی ایک "حقیقی جمہوری سیاسی تحریک" ہے، کیا آپ عوامی حقوق کی پامالیوں کا جواز فراہم کرکے اپنی تحریک کے لیے نئی نسل باہر سے امپورٹ کریں گے؟ آخر میں، آپ کو پی ٹی آئی کا ورکر ایک 'کلٹ' نظر آتا ہے، جو شاید کسی حد تک درست بھی ہو، بدلے میں آپ تحریک انصاف آپکو 'بغضِ عمران' کی انتہا پر دیکھتی ہے۔ یہ دونوں رویے دراصل ایک ہی نفسیاتی مسئلے کی دو مختلف شکلیں ہیں، لیکن عوام کیخلاف وحشت و بربریت پر ہمدردی اور آئین و قانون کی بالادستی کیلئے آواز اٹھانے کی بجائے اسے جواز فراہم کرنے کی کوشش میں مجھے تو آپ 'نفرت عوام' میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔

آپ صرف اقرار الحسن صاحب کی ریچ بڑھا رہے ہیں، ان کے دس ہزار سے کم وویوز تھے، آپ نے رپلائی کیا تو ان کے وویوز 24 ہزار ہو گئے اور آپ کے کوٹ ٹوئٹ کے وویوز 90 ہزار تھے، بار بار رپلائی کرکے ان کے اکاؤنٹ کی ریچ بڑھانے کا جرم مت کریں وسیم ملک صاحب، ابھی @ChaiJournalist نے بھی مجھ سے سختی سے پوچھا ہے کہ وسیم ملک کیوں یہ سب کررہا ہے ؟؟

کبھی کسی لیڈر کو آنسو گیس کے شیل کھاتے ہوئے دیکھا؟ کبھی کسی لیڈر کے بچوں کو کسی احتجاج میں گولیوں کا سامنا کرتے دیکھا؟ کبھی انقلاب کے لیے صبح شام وی لاگ بناتے یوٹیوبرز کے بیٹے بیٹیوں کو سڑکوں پر نکلتے دیکھا؟ یہ لیڈر اور یہ یوٹیوبر انقلاب کے نام پر آپ کو بس عام لوگوں کو الو بناتے ہیں، یہ ان کا کاروبار ہے، یہ ان کا دھندہ ہے۔۔۔ ان کے مفادات کے لیے استعمال ہونے کی بجائے اپنے اقتدار اور عوام کے راج کی جدوجہد کریں۔ عوام راج تحریک میں شامل ہونے کے لیے عوام راج کی ویب سائٹ پر رجسٹریشن کیجئے۔


جو غریب اپنی بند ملاقاتیں نہیں کھلوا سکتا اخے وہ باہر نکل کر جنگ بند کروا دے گا۔ جس نااہل نے اپنی حکومت زرداری سے وزیر خزانہ اُدھار لے کر چلائی اخے وہ باہر نکل کر معیشت ٹھیک کر دے گا۔ قوم کو مزید بے وقوف بنانا بند کریں۔ ایک حقیقی جمہوری جماعت اور مڈل کلاس کے اقتدار کے علاوہ اس ملک کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ #عوام_راج




اقرار صاحب آپ کا منشور یا لائحہ عمل پڑھا اور اسے پڑھنے کے بعد کچھ گزارشات و حاصلات پیش خدمت ہیں۔ 1۔یہ بہت سبجیکٹو عامیانہ اور موضوعی قسم کا منشور ہے اور ننانوے فی صد اس بات کے گرد گھومتا ہے کہ آپ ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں جو اپنی سرشت بنیاد اور تنظیم میں بھی جمہوری ہو۔یہ عمدہ بات ہے کہ جماعت کسی شخصیت یا خاندان کی اسیر ہو کر نہ رہ جائے لیکن سارے منشور میں ننانوے فی صد زور صرف اسی بات پر مرکوز رکھنا اور اسے ہی تمام مسائل کی جڑ قرار دینا حتی کہ جمہوری تسلسل میں رخنے کی بھی،ہر گز درست نہیں۔پاکستان میں جمہوری تسلسل میں رکاوٹ کی بنیادی وجہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ہے نا کہ جماعتوں کے اندر مضبوط جمہوری نظام کا نہ ہونا۔صرف اس ایک بات پر زور دے کر آپ پھنسی پھوڑے پر تو بات کر رہے ہیں لیکن کینسر ہر نہیں۔ 2۔یہ منشور ایک طائرانہ آوٹ لائن ضرور ہے لیکن کوئی مربوط و مبسوط منشور نہیں جو سیاست معیشت معاشرت سمت اور پالیسیز سے متعلق گہرائی اور گیرائی میں جامع و عملی لائحہ عمل دے۔ 3۔یہ ویسا ہے خانہ پری منشور ہے جیسا پاکستان کی کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کا منشور ہاں البتہ اس میں جماعت کے اندر جمہوریت پر زور زیادہ ہے باقی ہوائی فائرنگ ہے۔ 4۔پاکستان میں جمہوری تسلسل اور پاکستانی نظام کو لگے کینسر یعنی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کا راستہ روکنے سے متعلق کوئی دردمندی لائحہ عمل یا دوٹوک موقف نہیں۔بس ایک جگہ ذائقے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا ذکر ہے وہ بھی اس عذر کے ساتھ کہ اصل مسئلہ جماعت کے اندر جمہوریت کا نہ ہونا ہے نا کہ اسٹیبلشمنٹ کی غیر آئینی و قانونی مداخلت۔ 5۔اگر آپ نے کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کا شاہکار کمیونسٹ پارٹی کا منشور پڑھا ہوتا تو آپ کو بہتر اندازہ ہوتا کہ منشور کیا اور کتنا اہم ہوتا ہے اور کیسے یہ خانہ پری سے مختلف ایک چیز ہے۔ 6۔میں نہایت دردمندی احترام غیر جانبداری اور صدق نیت سے عرض کرتا ہوں کہ آپ کی توانائیاں ننانوے فی صد صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کو رد کرنے میں خرچ ہو رہی ہیں جس سے تاثر ملتا ہے کہ عوام راج تحریک اور سوشل میڈیا ایکٹوازم باقاعدہ آپ کو اسائنمنٹ کی صورت میں تفویض کیے گئے ہیں۔آج بھی آپ کی ننانوے فی صد پوسٹیں عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف بالکل اسی اسلوب میں ہیں جیسے کسی تھڑے کے ٹاوٹ کی جو آپ کو ہر گز زیبا نہیں۔میں قطعا آپ کو ٹاوٹ نہیں کہتا لیکن آپ کی ٹویٹس باتوں تحریر و تقریر اور کوششوں کا ماحصل یہی تاثر ہے کہ آپ کسی اسائنمنٹ پر ہیں۔ 7۔آپ کا سوشل میڈیا ایکٹوازم قطعی طور پر آپ کو ایک مصلح یا وسیع تناظر میں کسی بڑے سیاسی عمل کے کیے ایک غیرجانبدار مبلغ یا بنیاد گزار ثابت نہیں کرتا۔ 8۔میں آپ کی نیت اور خلوص پر شک نہیں کرتا لیکن آپ کی زبان اور آپ کا لفظ دونوں اس وقت آپ کو اس فسطائی نظام کا سہولت کار و پروپیگنڈا کار ثابت کرتے ہیں۔ 9۔آخر میں گزارش ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کا مینی فیسٹو پڑھیں تا کہ آپ کو علم ہو کہ منشور کسے کہتے ہیں۔اور ساتھ میں وعدہ کہ اگر کل کو آپ کوئی عملی سطح پر متاثر کن منشور بنانے میں کامیاب ہو جائیں اور اس کی پہلی شق میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کا راستہ روکنے کے عہد اور اس کے مکمل لائحہ عمل کو بیان کر سکیں تو میں اسی روز بطور کارکن آپ کی جماعت کا حصہ بن جاوں گا۔ وسلام

جناب اقرار الحسن! سب سے اہم پہلو آپ کی نظر سے اوجھل رہا یا پھر آپ نے جان بوجھ کر فکری بدیانتی کی، یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بہرحال، چونکہ آپ نے تقابلی جائزہ لیا ہے، تو آئیے اسے مکمل دیانتداری کے ساتھ دیکھتے ہیں: کیپیٹل ہل حملے میں ملوث افراد کو سزائیں کسی فوجی عدالت نے نہیں بلکہ امریکہ کی فیڈرل سویلین کریمنل کورٹ، یعنی ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ضلعی عدالت برائے ضلع کولمبیا نے سنائیں۔ جہاں مکمل طور پر شفاف ٹرائل ہوا، وکلاء موجود تھے، جرح ہوئی، شواہد پیش کیے گئے اور تحریری فیصلے جاری ہوئے۔ یہاں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے آج بھی تحریری فیصلوں کے منتظر اور رجیم کے چنتخب ججز کے آئینی بینچ کے فیصلے کے مطابق آزادانہ اپیل کے حق کے لیے قانون سازی کا انتظار کر رہے ہیں۔ کیپیٹل ہل حملے میں ملوث ملزمان کو سزا کے بعد اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا مکمل حق ملا اور ان اپیلوں کی باقاعدہ سماعت بھی ہوئی۔ یہاں دو برس سے زائد عرصے کے بعد بھی اپیلیں لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کی منتظر ہیں۔ کیپیٹل ہل حملے میں پورے عمل کے دوران نہ امریکہ کا قانونی ڈھانچہ بدلا، نہ کوئی آئینی ترامیم کی گئیں اور نہ ہی ججز کو دباؤ میں لانے کے لیے ان کے گھروں پر کریکر حملے کیے گئے۔ کیپیٹل ہل حملے کے ملزمان کو یہ رعایت نہیں دی گئی کہ وہ پریس کانفرنس کر کے کسی سیاسی شخصیت کے خلاف بیان دے اور اس کے بدلے میں اسے جرم سے آزادی مل جائے۔ کیپیٹل ہل حملے کے معاملے میں قانون پوری طرح متحرک ہوا، لیکن اسے سیاسی ہتھیار نہیں بنایا گیا۔ نہ سیاسی جماعت توڑی گئی نہ وفاداریاں تبدیل کروائی گئیں، نہ لوگوں کو جبری لاپتہ کیا گیا اور نہ ہی بعد میں انہیں میڈیا پروگرامز کے ذریعے “برآمد” کروایا گیا۔ 9 مئی کے واقعات میں سب سے بڑا المیہ یہی رہا کہ اسے خالص قانونی انداز میں نمٹانے کے بجائے فیصلہ سازوں نے سیاست زدہ کرکے وقتی فائدے کیلئے مستقل نقصان کو دعوت دی۔ اور آخر میں، سب سے اہم نکتہ، کیپیٹل ہل حملے کی باقاعدہ تحقیقاتی کارروائی امریکی کانگریس میں ہوئی، یعنی January 6 Committee Hearings جہاں گواہوں کو طلب کیا گیا، حلفیہ بیانات لیے گئے، حملے کی ویڈیوز اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا گیا، ذمہ داروں کا تعین کیا گیا اور پھر مفصل رپورٹ سفارشات کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کی گئی۔ اہم بات یہ کہ یہ تمام کارروائی براہِ راست ٹی وی پر نشر ہوئی اور عوام نے ہر مرحلہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ صرف چند چیدہ چیدہ تضادات ہیں، ورنہ مکمل تقابل کیا جائے تو حقائق کی ایک طویل فہرست سامنے آ سکتی ہے۔ آپکی آدھی سچائی وقتی بیانیہ تو گھڑ لے شائد، مگر حقیقت کو زیادہ دیر چھپا نہیں سکتے۔