Sabitlenmiş Tweet
SAJEEL AHMAD
14.3K posts

SAJEEL AHMAD retweetledi

بیٹھ جائیں علی محمد خان صاحب….
آپ کھڑے رہ کر تھک گئے ہوں گے۔ ویسے بھی آپ کا عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونا اور نہ کھڑا ہونا ایک برابر ہے۔
آپ بس اپنی زلفیں لہرائیں اور بل کھا کر ٹک ٹاک بنائیں…
Ali Muhammad Khan@Ali_MuhammadPTI
علی محمد تب بھی آخر تک کھڑا رہا اور آج بھی کھڑا ہے کیونکہ علی کا کام ہی کھڑے رہنا ہے ۔ ۔ کیا آپ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں ؟
اردو
SAJEEL AHMAD retweetledi
SAJEEL AHMAD retweetledi
SAJEEL AHMAD retweetledi
SAJEEL AHMAD retweetledi
SAJEEL AHMAD retweetledi
SAJEEL AHMAD retweetledi

سب کو ایک دن اس رب کے حضور اس میدان میں حاضر ہونا ہے جہاں آج احرام میں پاکستانی اپنے رب کے حضور درد رکھنے والے لیڈر کا مقدمہ لے کر پہنچے ہیں۔ جو نہیں پہنچے ان کی نگاہیں آسمان پر اٹھی ہیں اور ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں۔ کوئی ناجائز قید فرد کی واپسی کے لیے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہے تو کوئی عزت نفس اور چادر چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی فریاد لیے ہوئے ہے۔ وہ سب سننے والا ہے، سب جاننے والا ہے۔

اردو
SAJEEL AHMAD retweetledi

عثمان بزدار کا پنجاب مریم نواز کے پنجاب سے بہتر تھا۔ اطہر کاظمی نے وجوہات گنوا دیں
@_Mansoor_Ali
@2Kazmi
اردو
SAJEEL AHMAD retweetledi
SAJEEL AHMAD retweetledi
SAJEEL AHMAD retweetledi

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُون۔
سرگودھا سے تعلق رکھنے والے طالب علم عمر فاروق باجوہ نے اپنی والدہ کو شدید جگر کی بیماری سے بچانے کے لیے اپنا جگر عطیہ کیا۔ یہ ٹرانسپلانٹ سرجری شیخ زاید ہسپتال میں اس امید کے ساتھ کی گئی تھی کہ ان کی والدہ کو زندگی کا دوسرا موقع مل سکے گا۔
لیکن افسوسناک طور پر آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث عمر فاروق اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ ان کی قربانی نے ہزاروں دلوں کو غمگین کر دیا ہے اور یہ ماں کے لیے اولاد کی بے لوث محبت کی ایک عظیم مثال بن گئی ہے۔ ایک ایسا بیٹا جس نے اپنی جان کا حصہ اس ماں کے لیے قربان کر دیا جس نے اسے زندگی دی تھی۔
اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔

اردو
SAJEEL AHMAD retweetledi
SAJEEL AHMAD retweetledi
SAJEEL AHMAD retweetledi

SAJEEL AHMAD retweetledi
SAJEEL AHMAD retweetledi
SAJEEL AHMAD retweetledi
SAJEEL AHMAD retweetledi

بابا جی کا کہنا ہے کہ اس ڈکیت کے آنے سے قبل مشرف دور میں پیٹرول 30 روپے لٹر تھا اس بارے کیا خیال ہے
نواب عادل رندھاوا✍🏻@DilKNawabR
جب نواز شریف چور ہوا کرتا تھا، تب پیٹرول 62 روپے ہوا کرتا تھا،
اردو
SAJEEL AHMAD retweetledi

وہ دونوں جب ملیر کورٹ کی سیڑھیاں اتر رہے تھے تو ان کے چہروں پر عجیب سا سکون تھا۔ جیسے برسوں کی جنگ کے بعد کسی نے انہیں جینے کا حق دے دیا ہو۔
لڑکی کے ہاتھ میں عدالت کے کاغذات تھے، اور لڑکے کی آنکھوں میں ایک چھوٹا سا گھر۔ ایک ایسا گھر جہاں شام کو چائے ٹھنڈی ہو جایا کرے اور جھگڑے صرف اس بات پر ہوں کہ بچے کا نام کون رکھے گا۔
وہ دونوں محبت کرتے تھے بس اتنا ہی جرم تھا۔
شہر کراچی ہمیشہ کی طرح شور میں ڈوبا ہوا تھا۔ سڑکوں پر گاڑیاں تھیں، دھواں تھا، جلدی میں بھاگتے لوگ تھے، لیکن ان دونوں کے لیے وقت جیسے رک گیا تھا۔
لڑکی نے آہستہ سے کہا:
"اب کوئی ہمیں جدا نہیں کر سکے گا نا؟"
لڑکے نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
"اب قانون بھی ہمارے ساتھ ہے۔"
مگر وہ شاید بھول گئے تھے کہ اس ملک میں قانون کتابوں میں رہتا ہے، اور فیصلے بندوقیں کرتی ہیں۔
گاڑی ابھی ملیر کورٹ سے کچھ ہی دور نکلی تھی کہ پیچھے سے آنے موٹر سائیکل سوار نے گاڑی کے ساتھ بائیک جوڑی۔
لڑکی نے چونک کر دیکھا۔ وہ چہرے جانے پہچانے تھے۔۔۔۔۔اپنے لوگ۔ وہ لوگ جنہوں نے بچپن میں اسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا۔
پہلا فائر شاید لڑکے کو لگا۔
دوسرا لڑکی کے سینے میں اترا۔
اور پھر گولیوں کی آواز اتنی بڑھ گئی کہ محبت کی آخری چیخ بھی سنائی نہ دی۔
سڑک پر لوگ رکے،
کچھ نے ویڈیو بنائی،
کچھ نے کہا:
"غلط کیا ہوگا تبھی مارے گئے۔" اور شہر دوبارہ اپنی رفتار میں چلنے لگا۔
کل صبح کو خبر سوشل میڈیا پر زندہ رہی گی پھر کسی نئے اسکینڈل نے اسے دفن کر دینا ہے۔ لیکن آج رات کراچی کے آسمان پر ایک سوال بہت دیر تک منڈلاتا رہے گا:
آخر محبت سے اتنا خوف کیوں ہے؟
یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں قاتل غیرت مند کہلاتے ہیں اور محبت کرنے والے مجرم؟ جہاں ماں باپ اولاد کو پیدا تو کر سکتے ہیں مگر ان کی مرضی سے جینے کا حق نہیں دے سکتے۔ جہاں مسجدوں میں رحم کی باتیں ہوتی ہیں مگر گھروں میں نفرت پالی جاتی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں انسان مرنے سے پہلے نہیں مرتا، وہ تب مر جاتا ہے جب اسے اپنی پسند سے جینے کی اجازت نہیں ملتی۔
یہ معاشرہ شاید واقعی ناقابلِ اصلاح ہے۔
کیونکہ یہاں مسئلہ قانون کا نہیں، ذہنوں کا ہے۔
اور جن ذہنوں میں محبت جرم بن جائے، وہاں قتل ہمیشہ عبادت سمجھا جاتا رہے گا۔

اردو
SAJEEL AHMAD retweetledi





















