saifullah
78.1K posts

saifullah
@SaifullahCh786
Student of International Relation In The Universty of Punjab.
Lahore Katılım Temmuz 2011
1.6K Takip Edilen2K Takipçiler
saifullah retweetledi

BISP Is Not Welfare, It Is Pakistan’s Social Contract thefridaytimes.com/21-May-2026/bi…
English

@tariqmateen مسلم کو اگر اِنکی ضرورت ہے سیاست کرنے کے لیے تو بہتر ہے سیاست چھوڑ دیں
اردو

الحمد للہ رب العالمین
اے میرے رب! تیرے فضل و کرم سے آج میں ان مبارک مسافروں میں شامل ہوں جنہیں تو نے اپنے گھر کا دعوت نامہ دیا۔ حج صرف انہی کے مقدر میں لکھا ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ خاص طور پر منتخب فرماتا ہے۔ یہ کوئی انسانی کاوش یا دولت کا نتیجہ نہیں، بلکہ صرف اللہ کی طرف سے ایک عظیم انعام ہے جس کے لیے وہ بندہ ہی منتخب ہوتا ہے جس پر اس کا خاص رحم ہو۔
میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا کہ اس وقت میرے دل میں کیا موجزن ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں اور زبان بس یہی کہتی ہے: لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك۔
اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھ جیسے گناہگار کو بھی اپنے حرم کی طرف بلایا۔ یہ احساس الفاظ سے باہر ہے۔ دل میں ایک طوفانِ شکر ہے جو بیان نہیں ہو سکتا۔ یا اللہ! اس سفرِ مبارک کو قبول فرما، ہمارے تمام حجاجِ کرام کے حج کو قبول فرما، اور ہمیں بار بار یہ سعادت نصیب فرما۔
آمين يا رب العالمين

اردو

@ZahidGishkori @ShahzadShafi007 ایک دن سارہ پروجیکٹ عمران خان کے نام لگ جانا ہے
اردو
saifullah retweetledi

جس طرح امامِ سیاست آصف علی زرداتی کے خلاف ہر دور میں استعماری قوتوں اور ان کے مقامی سہولت کاروں نے جھوٹے پروپیگنڈے، من گھڑت خبروں اور سازشی بیانیوں کے ذریعے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کبھی ان کے استعفے کی افواہیں اڑائی جاتی ہیں، کبھی وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لئے این ایف سی ایوارڈ، صوبائی خودمختاری اور 18ویں ترمیم پر حملے کیے جاتے ہیں، اور اب 28ویں ترمیم جیسے بے بنیاد شوشے چھوڑ کر عوام میں انتشار پیدا کرنے اور قومی یکجہتی پر کاری لگانے کی مذموم کوشش ہو رہی ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ 18ویں ترمیم پاکستان کی وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کا وہ تاریخی معاہدہ ہے جس نے صوبوں کو ان کے آئینی، مالی اور انتظامی حقوق دیے۔ این ایف سی ایوارڈ نے وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا، جبکہ صوبائی خودمختاری نے وفاق کو مضبوط کیا۔ مگر کچھ طاقتیں آج بھی ایک مخصوص سوچ کے تحت تمام اختیارات اسلام آباد میں مرکوز کر کے چھوٹے صوبوں کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔
کراچی کو سندھ سے الگ کرنے، گوادر کو بلوچستان سے چھیننے، یا صوبائی اسمبلیوں کی منظوری کے بغیر صوبے توڑنے جیسے خیالات صرف آئین دشمنی نہیں بلکہ ملک دشمنی اور وفاق پاکستان کے وجود پر خود کش حملہ ہیں۔ یہ وہ خطرناک ایجنڈا ہے جو ریاستی اکائیوں کے درمیان نفرت، محرومی اور بداعتمادی پیدا کر کے پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی واضح کرتی ہے کہ وفاق پر حملہ دراصل پاکستان پر حملہ ہے۔ شہید بھٹو سے لے کر شہید رانی بینظیر بھٹو تک، اور آج کی قیادت میں امام سیاست آصف علی زرداری @BBhuttoZardari @AseefaBZ اور پاکستان پیپلز پارٹی ہر اس سازش کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے جو ریاست و وفاق پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔
25 کروڑ محب وطن، وفاق پرست اور غیرتمند پاکستانی عوام کے ہوتے ہوئے نہ آئین پر ڈاکہ ڈالنے دیا جائے گا، نہ صوبوں کے حقوق چھیننے دیے جائیں گے، اور نہ ہی پاکستان کو لسانی و صوبائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ ملک تمام اکائیوں کے اتحاد، برابری اور آئینی احترام سے مضبوط ہوگا، کسی آمرانہ سوچ یا استعماری ایجنڈے سے نہیں۔
اردو
saifullah retweetledi

گلگت بلتستان اور پاکستان پیپلز پارٹی و بھٹو خاندان کا رشتہ محض سیاست کا نہیں بلکہ اعتماد، قربانی، خدمت اور حقوق کی جدوجہد کا رشتہ ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جو شہید ذوالفقار علی بھٹو سے شروع ہوا، شہید رانی بینظیر بھٹو نے اسے مزید مضبوط کیا، امام سیاست آصف علی زرداری نے اسے استحکام دیا اور آج پاکستان کے مستقبل چیئرمین بلاول بھٹو اس مشن کو نئی نسل کی آواز بنا کر آگے بڑھا رہے ہیں۔
جب گلگت بلتستان کے عوام بنیادی شناخت، آئینی حقوق اور ترقیاتی سہولتوں سے محروم تھے، تب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس خطے کے عوام کو غلامی جیسے فرسودہ نظام سے نجات دلائی۔ راجگی نظام اور ایف سی آر جیسے استحصالی ڈھانچوں کا خاتمہ کرکے بھٹو شہید نے گلگت کے عوام کو عزت، شناخت اور آزادی کا احساس دیا۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام آج بھی بھٹو خاندان کو صرف سیاسی قیادت نہیں بلکہ اپنا محسن سمجھتے ہیں۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دونوں ادوارِ حکومت میں گلگت بلتستان کے نوجوانوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کے لیے ترقی کے دروازے کھولے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر کے متعدد منصوبے شروع کیے گئے۔ محترمہ بینظیر بھٹو جانتی تھیں کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کے محروم اور دور افتادہ علاقوں کے عوام ہیں، اسی لیے انہوں نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی بات کی۔
بعد ازاں صدر مملکت آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو تاریخی خودمختاری دینے کے لیے گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009 دیا، جس نے پہلی بار اس خطے کو بااختیار اسمبلی، وزیر اعلیٰ اور گورنر جیسے ادارے اور آئینی عھدے دیے۔ یہ وہ تاریخی اقدام تھا جس نے گلگت بلتستان کے عوام کو احساس دلایا کہ ان کی آواز بھی اہم ہے اور ان کے حقوق بھی تسلیم کیے جا رہے ہیں۔
آج چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی @BBhuttoZardari نوجوان نسل کے خوابوں کی تعبیر بن کر گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق، آئینی شناخت اور ترقی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری ہر فورم پر گلگت بلتستان کے عوام کے حقِ نمائندگی اور ترقی کی بات کرتے ہیں، کیونکہ @PPP_Org ہمیشہ محروم طبقات کی آواز رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کے غیور، باوفا اور باشعور عوام آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان سے والہانہ عقیدت رکھتے ہوئے محبت کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مشکل وقت میں اگر کسی جماعت نے ان کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کی تو وہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی تھی۔ بھٹو خاندان اور گلگت بلتستان کا رشتہ اقتدار کا نہیں بلکہ دلوں کا رشتہ ہے، اور دلوں کے رشتے کبھی ختم نہیں ہوتے۔
زرداری کمان بلاول تیر
جیئی بھٹو بینظیر
اردو

@samiabrahim سینیٹ چیرمین کب سے سرکاری ملازمین کو ترقی دینے لگے ۔ اور سینیٹ چیرمین کا راشتدار ہونا کوئی گناہ ہے سینیٹ چیرمین ابھی بنے ہیں وہ پتہ نہیں کب سے سرکاری ملازم ہے
اردو




















