ساجد محمودجدون

249K posts

ساجد محمودجدون banner
ساجد محمودجدون

ساجد محمودجدون

@Sajid2k

🌷🌷لا إله إلا الله محمد رسول الله 🌷🌷🌷🌷 🌹🌹🌹🌹Proud to be a Muslim....Proud to be a Pakistani...🌳🌳🌳🌳

Katılım Temmuz 2019
3.8K Takip Edilen3.7K Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
ساجد محمودجدون
اسلام علیکم میرے نبی کریم محمد صلی اللّہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں ان کے بعد نبوت ختم ہو گئ روز قیامت انھی کی شفاعت ملنی ہے میرا عقیدہ اور میرا ایمان یہی ہے بس میرے فالورز میں کوئ قادیانی ہے تو اسی وقت نکل جائے ان کا میرے فالورز میں ہونا میرے ایمان کی توہین ہے
اردو
37
52
87
0
ساجد محمودجدون retweetledi
Jackson Hinkle 🇺🇸
Jackson Hinkle 🇺🇸@jacksonhinkle·
💔🇵🇸 May Abu Hamza, his family & his brother’s family rest in peace.
Jackson Hinkle 🇺🇸 tweet media
English
1.7K
14.8K
78.4K
2.4M
ساجد محمودجدون retweetledi
RAShahzaddk
RAShahzaddk@RShahzaddk·
شروع ہو گے نورانی کے سہولت کار ، نورانی نے یہاں ایک صحافی خاتون کو دھوکہ دیا دوسری شادی کی دو بچے پیدا کئیے پھر امریکہ بھاگ گیا وہ عورت سوشل میڈیا پر روتی رہی کہ بچوں کو پوچھتا نہی تب اس اعزاز سمیت ایک صحافی نے اس کے حق میں ٹویٹ نہی کی الٹا یہ اور نورانی کے دوست اسے آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہتے رہے اس عورت کی بدترین ٹرولنگ کی گی اب گورایہ نے تسلیم کیا کہ طلاق کے جعلی کاغذات نورانی نے امریکہ جمع کرائے اتنا درد ہوتا تو ان معصوم بچوں کے لیے بولتے جنہیں نورانی چھوڑ گیا کبھی منہ تک نہی لگایا @AmbreenFatimaAA
Azaz Syed@AzazSyed

ابھی ابھی امریکہ میں مقیم سینئر صحافی احمد نورانی کی والدہ سے سیکٹر آئی 14 اسلام آباد میں ان کے گھر پر ملاقات ہوئی ۔ ان کے دو بیٹوں کو نامعلوم افراد اٹھا لے گئے بیٹوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور والدہ اور بہن کو زدو کوب کیا گیا۔ بوڑھی والدہ اپنے بیٹوں کے بارے میں بڑی پریشان نظر آئیں۔

اردو
164
314
986
50.7K
ساجد محمودجدون retweetledi
Mufti Abu Muhammad
Mufti Abu Muhammad@muftiabumuhamad·
ہمارا مائک بند کرنا مسلئے کا حل نہیں حضرت سیدہ طیبہ طاہرہ امی جان حضرت عائشہ صدیقہ پر بات کیوں نہیں ہوئی اور 17 رمضان المبارک کو میری جگہ دوسرا بندہ کیوں بٹھایا گیا ؟ صرف اس لئے کہ میں اپنی ماں حضرت عائشہ صدیقہ کی عظمت پر بات کروں گا ، وہ ہو گی ہر صورت ہو گی پہرہ جاری رہے گا ان شاءاللہ ✍️ مفتی ابو محمد عفی عنہ
Sindh, Pakistan 🇵🇰 اردو
128
497
1.9K
89.7K
ساجد محمودجدون
RAShahzaddk@RShahzaddk

🚨🚨 احمد نورانی کی صحافتی بددیانتی بے نقاب احمد نورانی نے ایک گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی رپورٹ لکھی ہے جو صحافتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان گزٹ، جو تمام سرکاری معاملات پر ضوابط وضع کرتا ہے، اس میں واضح ہے کہ سفارتی پاسپورٹ سے متعلق شرائط عمران خان کے دور میں تبدیل کی گئیں۔ اس کی تصدیق کے لیے نیچے اصل دستاویز کا عکس موجود ہے۔ پاکستان میں پاسپورٹ کی تین اقسام 1:- سفارتی پاسپورٹ (سرخ رنگ) – مخصوص اعلیٰ سرکاری و حکومتی عہدیداران کے لیے 2:- آفیشل پاسپورٹ (گہرے نیلے رنگ) – سرکاری ملازمین اور مجاز افراد کے لیے 3:- عام پاسپورٹ (سبز رنگ) – عام شہریوں کے لیے اہم نکات: 
✅ پاکستان مختلف سرکاری عہدیداروں کو سفارتی پاسپورٹ جاری کرتا ہے، اور اگر وہ سرکاری ڈیوٹی پر ہوں تو ان کے بیوی بچوں کو بھی مل سکتا ہے۔ 
✅ فوج کے چار ستارے والے جنرل (آرمی چیف) سفارتی پاسپورٹ کے اہل ہوتے ہیں، جبکہ ان کے بچے آفیشل پاسپورٹ رکھنے کے مجاز ہیں۔ 
✅ احمد نورانی نے جھوٹ بولا کہ آرمی چیف کی بیٹیوں کے پاس سفارتی (سرخ) پاسپورٹ ہے، جبکہ حقیقت میں وہ صرف آفیشل پاسپورٹ کی حقدار ہیں۔ یہ جھوٹی خبر اب کیوں چلائی جا رہی ہے؟ یہ پاسپورٹ سال 2022 میں جاری کیے گئے، جب آرمی چیف کی تعیناتی کا مرحلہ جاری تھا۔ •اسی وقت ان معلومات کو سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کو بھیجا گیا تاکہ مخصوص افراد کا راستہ روکا جا سکے۔ •اب انہی پرانی سفری دستاویزات کو توڑ مروڑ کر ایک جھوٹی کہانی بنائی جا رہی ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ 🚨 بنیادی سوال: احمد نورانی کو یہ سرکاری دستاویزات کس نے فراہم کیں؟ یہ پوری مہم منظم طور پر اداروں کو بدنام کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے، اور اس کا مقصد سیاسی و عسکری قیادت پر بے بنیاد الزامات لگانا ہے۔ یہ صحافت نہیں، بلکہ ایک ایجنڈا ڈرائیون مہم ہے جس میں جھوٹ، مس لیڈنگ انفارمیشن اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

QME
0
0
1
7
Azaz Syed
Azaz Syed@AzazSyed·
ابھی ابھی امریکہ میں مقیم سینئر صحافی احمد نورانی کی والدہ سے سیکٹر آئی 14 اسلام آباد میں ان کے گھر پر ملاقات ہوئی ۔ ان کے دو بیٹوں کو نامعلوم افراد اٹھا لے گئے بیٹوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور والدہ اور بہن کو زدو کوب کیا گیا۔ بوڑھی والدہ اپنے بیٹوں کے بارے میں بڑی پریشان نظر آئیں۔
Azaz Syed tweet media
اردو
718
3.8K
11.5K
467.2K
ساجد محمودجدون retweetledi
خرمی
خرمی@khurmi_5·
یہ تبدیلی والے پڑھے لکھے لوگ پختونخوا پر بارہ سال سے مسلط ہے۔ شاہ زیب خانزادہ پریشان ہے کہ یا تو میں نے اکنامکس میں غلط پڑا ہے یا فارمولا چینج ہوگیا ہے 😂🤣😂
اردو
35
438
979
32.9K
ساجد محمودجدون retweetledi
Zafar Shirazi 🇵🇰
Zafar Shirazi 🇵🇰@ZafarShirazi7·
ارشاد بھٹی نے جب طارق جمیل سے حور لائبہ سے متعلق کوئی مستند دلیل سہی مسلم سہی بخاری سے مانگی تو کہتا ہے وہاں نہیں ہے تجھے سہی مسلم بخاری کا بخار کیوں چڑھ گیا ہے لگتا ہے مرزے سے متاثر ہوکر بیٹھا ہے یہی وہ مولوی ہے جو نیازی کی ایمانداری کی قسم کھا رہا ہے بغیر کسی دلیل کے ۔۔۔۔
اردو
46
246
705
46.6K
ساجد محمودجدون retweetledi
Jackson Hinkle 🇺🇸
Jackson Hinkle 🇺🇸@jacksonhinkle·
🚨🇵🇸 🇮🇪 IRELAND STANDS WITH PALESTINE!
English
43
127
946
46.9K
ساجد محمودجدون retweetledi
Saeed Chaudhary
Saeed Chaudhary@saeedchaudhary6·
شیل بیٹا پھینک رہا ہے اور آنسو ماں کے نہیں رک رہے (لال ٹوپی والا سنا ہے گرفتار ہوگیا ہے اور والدہ رو رو کر دہائیاں دے رہی ہیں کہ میرا بیٹا بے قصور ہے )
اردو
37
278
784
56.3K
ساجد محمودجدون retweetledi
Na Kar Yaar 🇵🇰 ☣️ 🪖 نہ کر یار
@falakjavaidkhan سب یوتھیوں کو وہاں کے جاؤ نا جہاں خود چھپی بیٹھی ہو تاکہ کوئی پکڑا ہی نا جاسکے کہ اشتہاری مجرمہ ہونے کے باوجود نہیں پکڑی جارہی۔
اردو
1
31
111
576
ساجد محمودجدون retweetledi
Ch Fawad Hussain
Ch Fawad Hussain@fawadchaudhry·
اختر مینگل کے خط میں فرح عظیم کے سوالات کا جواب نہیں ہے جو انھوں نے پوچھا کہ آپ سردار امیر اور عام آدمی غریب کیوں ہے؟ آپ کے بچے باہر اور بلوچستان کے بچوں کے پاس سرکاری اسکول بھی نہیں؟ آخر کیوں وسائل صرف سرداروں تک رہے ؟
Akhtar Mengal@sakhtarmengal

ایک کھلا خط… ہر اس شخص کے نام جو ہمیں سمجھنے کا دعویٰ کرتا ہے مزاحیہ بات ہے کہ آپ میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان صرف گوادر تک محدود ہے۔ گوادر کو نکال بھی دیں، تب بھی بلوچستان برصغیر کا سب سے زیادہ وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ مگر افسوس، ریاستی بیانیے نے آپ کو اس سچ سے دور رکھا ہے۔ اب ذرا حقیقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں۔ بلوچستان وہ خطہ ہے جہاں ریکوڈک کی زمینوں میں سونا اور تانبا دفن ہے، جن کی مالیت کھربوں ڈالرز میں ہے۔ اگر یہ وسائل بلوچ عوام کے ہاتھ میں ہوتے تو شاید آج وہ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے۔ پھر سینڈک ہے، جہاں کے خزانے نکالے جا رہے ہیں، مگر ان کے وارث آج بھی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ یہ وہ سرزمین ہے جس نے پاکستان کو قدرتی گیس دی، جس سے پورے ملک کے چولہے جلتے ہیں، فیکٹریاں چلتی ہیں، معیشت پروان چڑھتی ہے—مگر اسی بلوچستان کے کئی گھر آج بھی اندھیروں میں ڈوبے ہیں، چولہے ٹھنڈے ہیں، بچے سردیوں میں ٹھٹھر کر مر جاتے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جس نے پاکستان کو سمندر دیا، گوادر دیا جس پر آج سب کی نظریں ہیں، اقتصادی راہداری دی جس سے پورے ملک کے تاجروں کو فائدہ پہنچا، مگر یہی گوادر جہاں کے ماہی گیر آج بھی مچھلیاں پکڑنے کے لیے اجازت نامے مانگتے ہیں، روزی روٹی کے لیے ترستے ہیں۔ بلوچستان نے سب کچھ دیا، مگر خود ہمیشہ بھوک، محرومی، اور لاپتہ افراد کے نوحے سنے۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ جس زمین نے سب کچھ دیا، اس کے لوگ آج بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں؟ جس زمین نے پاکستان کو شناخت دی، آج اسی کے فرزندوں کی قبریں بے نام ہیں؟ یہ وہی بلوچستان ہے جہاں ایک بیٹی اپنے باپ کے جوتے ڈھونڈتی ہے، اور جب ان میں سے دھول نکلتی ہے، تو وہ ایسی چیخ مارتی ہے کہ پورا بلوچستان اس کے ساتھ چیخ اٹھتا ہے۔ کیونکہ یہاں کوئی ایک گھر نہیں بچا جس کا کوئی فرد لاپتہ نہ ہو، میرا اپنا گھر بھی نہیں! چلو، وہ سب تو “ایجنٹ” ہیں، مگر میرا والد؟ وہ جو بلوچستان کا پہلا وزیرِاعلیٰ تھا؟ وہ جس نے آپ کے آئین پر حلف اٹھایا، جمہوریت پر یقین رکھا، ہر غیر آئینی طاقت سے لڑا؟ وہ جو مینگل قبیلے کا سردار تھا؟ اس کا بیٹا بھی لاپتہ ہو گیا! پھر بھی بلوچستان ہی غلط؟ اور جب انصاف مانگنے آتے ہیں تو کیا ملتا ہے؟ ہمدردی؟ پچھتاوا؟ نہیں! سوال پوچھا جاتا ہے: “کیا آپ خود کو پاکستانی سمجھتے ہیں؟” اور ہاں، بہت معذرت کے ساتھ، یہاں برابری صرف اس وقت آتی ہے جب کسی پنجابی کے خون پر مذمت کرنی ہو، ورنہ بلوچ کی چیخوں پر یقین تک نہیں آتا کہ یہ اسی ملک کے شہری ہیں۔ دوری خود پیدا کر کے پوچھتے ہو، “کیوں رو رہے ہو؟” یہ ملک ہمیشہ ہماری چیخوں پر بہرا بنا رہا، ہمیشہ ہمیں نظر انداز کیا، ہمیشہ ہمیں غدار کہا، اور اب وہی کہہ رہا ہے: “ہمیں تمہاری ضرورت ہے!” آپ خوش ہوں یا ناراض، مجھے یہ کہنا پڑے گا: پاکستان، بلوچستان کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ اللہ آپ سب کے دل میں اتنی ہمدردی ڈالے کہ آپ سمجھ سکیں کہ آج کا بلوچ نوجوان آپ سے بات کرنے کے لیے تیار کیوں نہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ آپ کی وہ “انا پرستی” ہے جو آج بھی اسے اپنا مقام دینے کو تیار نہیں۔

اردو
116
192
949
76.3K
ساجد محمودجدون retweetledi
Rana Ayyub
Rana Ayyub@RanaAyyub·
Prime Minister Modi should send this image to the Emir of Qatar and the President of the UAE who he considers his friends and brothers
Rana Ayyub tweet media
English
1.8K
3.9K
11.9K
567.5K
ساجد محمودجدون retweetledi
RAShahzaddk
RAShahzaddk@RShahzaddk·
🚨The truth about Gwadar's history:🚨 Before Pakistan's formation, there was no province named Balochistan. Gwadar, which was part of Makran for centuries, was later under the influence of the Gachki and Belidi Baloch tribes. In the 17th century, it was under Iran’s Nadir Shah. It then became part of the Kalat state and was handed over to Oman’s ruler by the Khan of Kalat in 1783. In 1861, the British took control, and after their exit, Gwadar remained with Oman. In 1958, Pakistan purchased it for $10 million. However, the payment was for the land and territorial rights, not infrastructure—Gwadar was a small, underdeveloped fishing town at the time, with no roads or significant infrastructure. The agreement for Gwadar's transfer was presented and approved in Pakistan’s National Assembly. This was a territorial agreement, not an infrastructure purchase.
Akhtar Mengal@sakhtarmengal

The History of Gwadar: A Reality Check Gwadar has been a part of Balochistan since day one, long before the British arrived in the subcontinent. In 1783, during the rule of Khan of Kalat, Mir Noori Naseer Khan I, his brother-in-law, Taimur Sultan of Oman, had a dispute over the Omani throne and sought refuge in Gwadar. In response, Naseer Khan allowed him to govern Gwadar and collect its revenue for sustenance. When the British expanded their control over the region, they supported Omani rule over Gwadar, using it for their strategic interests in the Gulf and South Asia. Even after the Sultan’s dispute was resolved, Gwadar remained under Oman’s administration. It was during Feroz Khan Noon’s tenure as Prime Minister that Pakistan negotiated to reclaim Gwadar, with Aga Khan IV providing a MAJOR financial contribution to the purchase price. The payment made to Oman was not a price for the land, but rather compensation for the infrastructure and developments Oman had undertaken in Gwadar. The claim that Oman “sold” Gwadar due to financial distress is historically inaccurate. Oman was not in a position where it had to sell land for survival—unlike Pakistan, which has a history of not just renting out land, but also compromising its sovereignty. This was only Gwadar CITY not the whole district. If people spent more time reading real history, rather than state-manufactured narratives, perhaps this country wouldn’t be where it is today—just like how Pakistan Studies textbooks conveniently claim that Pakistan won all its wars.

English
17
127
303
11.3K