Sabitlenmiş Tweet
شانو ☕
37.4K posts

شانو ☕ retweetledi

کرنے دو!
کسی کو روکو مت
خدا کیلئے کسی کو ٹوکو مت
سانس لینا بڑا دشوار ہے
خدا کیلئے مشکل مت بنو
جو جو کر رہا ہے اسے کرنے دو
اگر کوئی تمہیں غلط سمجھتا ہے
سمجھنے دو
اگر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے
کرنے دو
اگر کوئی تمہیں نظر انداز کر رہا ہے
کرنے دو
اگر کوئی تمہاری محنت پر چپ رہتا ہے
رہنے دو
اگر کوئی تم سے منافقت کرتا ہے
کرنے دو
لیکن کسی کو ٹوکو مت
کسی کو روکو مت
جو جانا چاہ رہا ہے اسے جانے دو
جو آنا چاہ رہا ہے اسے آنے دو
تم اگر کچھ نہیں کرسکتے
تو کسی کے کرنے میں مداخلت مت بنو
تم کسی کو مجبور نہیں کرسکتے
کسی کے دل میں محبت پیدا نہیں کرسکتے
تم فقط ایک بےبسی کی مورت ہو
مورت چپ رہنے کیلئے بنائی جاتی ہے
سو تم چپ رہو !
اگر کوئی تم سے دور جا رہا
جانے دو
اگر کوئی تم پر تنقید کر رہا
کرنے دو
اگر کوئی تمہارا مزاق بنا رہا
بنانے دو
اگر کوئی تمہارے کردار کو تباہ کرنا چاہ رہا
کرنے دو
روکو مت کسی کو
بس تم خود رک جاؤ
اب سنو غور سے
یہ سب الفاظ فقط تمہارے لیے ہیں
کسی کو روکو مت
کسی کو احساس مت دلاؤ کہ تم روکنا چاہتے ہو
تم بس خود رک جاؤ
جب تم رک جاؤ گے
تو تم الگ ہوجاؤ گے
جب تم الگ ہوجاؤ گے
تو کسی کا کچھ بھی کرنا تمہیں تکلیف نہیں دے گا
تم نے خود کو بچانا ہے سب سے
اور رکنا ہے
رکنے والے ہارتے نہیں ہے
بس وہ بلا وجہ کی جنگوں کا حصہ نہیں بنتے
وہ بس اپنی جنگ میں ہی سپہ سالار سپاہی اور بادشاہ ہوتے ہیں
اور آخر میں جیت جاتے ہیں
سو تم پرسکون رہو
اور کرنے دو سب کو جو دل چاہتا ہے !
عباس
اردو
شانو ☕ retweetledi

ہمیں آواز دے دینا
اگر دُکھ زِندگانی کے
تمہیں آزار پہنچائیں
کوئی جلتی ہوئی ساعت ، کوئی جلتا ہوا لمحہ
تمہارے دِل پہ دستک دے
تو ہم کو یاد کر لینا
مجھے آواز دے دینا
ابھی زِندہ ہیں ہم اِس زندگی کی بیکرانی میں
ابھی تک دے رہے ہیں امتحاں
اِس کارگاہ امتحانی میں
ابھی تک مُبتلا ہیں ہم اِسی خواب جوانی میں
تم اپنا کوئی دُکھ ہم سے نہیں تو کس سے بانٹو گے ؟؟؟
کِسے آواز دو گے تم ؟؟؟
اردو
شانو ☕ retweetledi

انداز !
اس دنیا میں کتنے انداز ہیں
کہتے ہیں دنیا کی آبادی آٹھ ارب سے اوپر جاچکی ہے
اور ہر انسان کا ہر روپ میں اپنا الگ انداز
اتنی زیادہ کیلکولیشن میں کیسے کروں گا؟
جس چیز کو ہم ناپ نہیں سکتے
اسکو جانچنا بھی مناسب نہیں ہے
اب سنو میری بات
ہر انسان کا دکھ اور خوشی منانے کا انداز الگ ہے
یہ وہ طریقے ہیں جن کو اپنا کر انسان سکون حاصل کرتا ہے
سکون کا آگے ہی بڑا فقدان ہے
سنا ہے آنے والوں وقتوں میں سکون کا قحط پڑنے والا ہے
اور آخر میں سکون صرف میوزیم میں سجا ہوا رہ جائے گا
تو کہنا یہ ہے کہ
اگر کوئی سکون حاصل کرنے کیلئے
کوئی نیا انداز اپناتا
تو اسے جانچنے مت لگ جاؤ
بلکہ مسکرا کر اسکی طرف دیکھ کر
اسکے سکون میں اضافہ کرو
اب آگے سنو نا
اس دنیا میں تقریباً 16 ارب انداز ہیں
8 ارب خوشی کے اور 8 ارب غم کے
ہر انداز دوسرے سے مختلف ہے
اس لیے یہاں سب ابنارمل ہے
باقی اور انداز ان پہلی اینٹوں کی پیداوار ہیں
تم سب یاد نہیں کرسکتے
لیکن تم محسوس کرنے کی کوشش کر سکتے ہو
کہ کسی نے ایسا انداز کیوں اپنایا
اور تم اسے اپنا انداز تحفے میں دے سکتے ہو
اس کے ساتھ اسکا انداز اپنا کر!
عباس
اردو
شانو ☕ retweetledi

Mohsin humara Fakher hai. Mohsin na Sirf acha artist hai balky logo ko respect deny wala Insan hai. Yeah khasiyat insan k achy khandani hony ki alaamt hai. Jeo Mohsin ❤️
Adan Bakhsh@AdanBakhsh
کل رات سپیس ( ایک کپ چائے ) میں آرب ہاشمی کے کلام کو جس طرح سے محسن نے کمپوز کر کے گایا۔ اس پرفارمنس نے غزل کو دلوں تک پہنچا دیا۔ فن جب خلوص سے ملتا ہے تو اثر چھوڑ ہی جاتا ہے۔ دل سے شکریہ ہر سننے والے کا۔@ManalNoor9 @MohsinZafar888 @AribHashmi @SAMZ1512 @Tsundere789
हिन्दी
شانو ☕ retweetledi
شانو ☕ retweetledi

@AbbasKhan251 میں نے بس اسکی تسلی کیلئے تھاما اسے
وہ سمٹتے ہوئےکچھ اور بھی قریب ہوا
کماااااال 🔥🔥🔥
اردو
شانو ☕ retweetledi
شانو ☕ retweetledi
شانو ☕ retweetledi
شانو ☕ retweetledi

میں نے ہمیشہ چاہا میں اپنے
پیاروں کی امید پر پورا اُتر سکوں
ایسا چراغ بنوں جو اندھیروں کو مٹا دے
ایسا لفظ بنوں جو خاموشیوں کو زبان دے
ایسا مرر بنوں جو اصل چہرے دکھا دے
سچ کا ساتھ دوں لیکن جب میں نے دیکھا
کہ دنیا کی امید تو فریب کا دوسرا نام ہے
یہاں سچائی بیچ دی جاتی ہے ،ٹھوکر ماری جاتی ہے
وفا کو کمزوری سمجھا جاتا ہے
اور دوغلے پن کو تعریف کی سند دی جاتی ہے
تو میرے اندر سے آواز آئی یہ راہ تیرے واسطے نہیں تھی
کہاں رک گئی ہو تم تو اُس قافلے کی مسافر ہو
جس کے قدموں کا نشان بھی خاک پر نہیں رہنا چاہیے
جو حق کی تلاش میں خود کو مٹا دیتے ہیں ۔
کہاں رُک گئی ہو ؟

اردو
شانو ☕ retweetledi
شانو ☕ retweetledi
شانو ☕ retweetledi
شانو ☕ retweetledi

اکثر مسئلہ لوگ نہیں ہوتے ، ہماری امیدیں ہوتی ہیں ۔
💯
BeniAli⭐⭐🌙 🇵🇰@Abbhiha
اکثر مسئلہ لوگ نہیں ہوتے ، ہماری امیدیں ہوتی ہیں ۔
اردو
شانو ☕ retweetledi

مجھے پتہ ہے کہ تم تھک چکے ہو
بہت زیادہ تھک چکے ہو ،
اب تمہارا من نہیں کرتا نا کوشش کرنے کا
اب تمہارا من نہیں کرتا نا لڑنے کا
کیونکہ کتنی بھی کوشش کرو کتنا بھی لڑو
اس دنیا کو زرا فرق نہیں پڑ رہا
اور کس کیلئے کوشش کریں
کوئی سمجھ ہی نہیں رہا
کس کو پتہ ہی نہیں ہے
تمہارے دل اور تمہارے کندھے پر
دونوں پر کتنا سارا بوجھ ہے
لوگ تمہیں ہنستے دیکھتے ہیں مسکراتے دیکھتے ہیں
انہیں لگتا ہے کہ سب ٹھیک ہے اس کی زندگی میں ،
کچھ لوگ تو ایسا بھی سوچتے ہیں کہ کتنا لکی ہے یہ انسان، اتنے لوگ چاہنے والے
پر انہیں حقیقت پتہ ہی نہیں ہے
انہیں بتانے سے بھی کوئی مطلب نہیں ہے نا
انہیں بتائیں ، تو انہیں لگتا ہے آپ کو ہمدردی چاہیے
دن تو تم کیسے بھی کاٹ لیتے ہو ،
پر راتیں گزارنا بہت مشکل ہے تمہارے لئے
درد دھوکے تمہیں کھا رہے ہیں
پھر بھی تم جھوٹی ہنسی کے ساتھ
دنیا کے سامنے پیش ہو جاتے ہو ،
کیسے کر لیتے ہو یار یہ سب ؟
اتنا تھکنے کے باوجود بھی
دنیا نہیں دیکھ پارہی پر
بس اتنی بات کرنا چاہتی ہوں کہ
میں دیکھ رہی ہوں تب سے جب
شاید ایک دوسرے کو اتنا جانتے بھی نہیں تھے
ہر میری بھی کہانی آپ جیسی ہی ہے
میں بھی کوشش کر رہی ہوں
آپ بھی تھوڑی کوشش کرتے رہیے
ہم تھک سکتے ہیں
تھکنا فطری ہے
تھکنا allowed بھی ہے
ہارنا allowed نہیں ہے
ٹھیک ہے نا ؟ ؟
ہارنا نہیں ہم نے .

اردو
شانو ☕ retweetledi

جنگل چھوٹا ہے، اسی لیے میں تمہیں گہری محسوس ہوتی ہوں لیکن حقیقت میں میں اُس وقت گہری ہوئی تھی جب پرندہ سو گیا تھا میں ہر روز اُس پرندے کو تسلی دیتی ہوں اور پھر اپنی جگہ واپس آ جاتی ہوں میں سوچتی ہوں کہ تمہاری دنیا کیسی ہے، کیا وہ صبح جیسی ہے ؟ روشن روشن ؟
جب میں مری تو میرا نام رات رکھ دیا گیا، اور اب لوگ مجھے فاصلہ کہتے ہیں میں یہ بھی سوچتی ہوں کہ تم دوبارہ کب پیدا ہوگے شاید اُس وقت جب یہ پرندہ جاگ جائے گا ؟
پرندے کا چہچہانا ہی میرا جنم دن ہے جب وہ جاگتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے فاصلہ اور پیڑ ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے ہوں، اور اسی لمحے پرندے کی آنکھ کھل جاتی ہے
اور شاید وہی میرا دوبارہ جنم بھی ہو …

اردو
شانو ☕ retweetledi

ایک قسم کی اداسی جو زیادہ جاننے کی وجہ سے آتی ہے
جو دنیا کو اس کی اصل شکل میں دیکھنے سے بنتی ہے
جو زندگی کو سمجھنے میں کہ یہ کوئی عظیم ایڈونچر نہیں، بلکہ معمولی اور بے فائدہ لمحات گزارنے کا نام ہے
جو یہ سمجھنے میں کہ محبت پریوں کی کہانی نہیں
بلکہ ایک کمزور سا اور آپ کو چھوڑ جانے والا جذبہ ہے
جو یہ احساس رکھنے میں کہ خوشی کوئی مستقل احساس نہیں بلکہ ایک کم یاب، چھو کر گزر جانے والا عارضی وقت ہے، جسے ہم قابو میں نہیں رکھ سکتے
اور ان سب چیزوں کو سمجھنے سے ایک گہری تنہائی پیدا ہوتی ہے۔ ایک ایسی اداسی کہ آپ اس دنیا سے، دوسرے لوگوں سے بلکہ خود سے کٹ چکے ہیں
ورجینیا وولف
اردو
شانو ☕ retweetledi

خواجہ سرا ۔۔
روز کی طرح آج بھی وہ مجھے اسی سڑک پر
گھومتا نظر آیا مجھے دیکھا تو میری طرف قدم بڑھائے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس نے پاس پہنچ کر میرا ہاتھ پکڑ کر روک لیا اور کہا آج نہیں صاحب آج پیسے نہیں آج وقت چاہیے ہاں ہاں ضرور بتاؤ کیاکہنا ہے(میں نے جیب سے ہاتھ باہر نکالا)
وہ میری طرف زخمی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولنا شروع ہوا صاحب ایک بات تو بتاؤ!کیا ہم انسان نہیں ہوتے؟ کیا ہمارا اور آپ کا پیدا کرنے والا رب ایک نہیں؟
یہ سوال اس نے بڑے ٹوٹے ہوئے لہجے میں پوچھا اور ایک دم سے میرے اندر ایک سوال پیدا ہوا کہ کیا واقعی ہم ان کو انسان مانتے ہیں یا پھر محض ضمیر کو بہلانے کے لیے ہاں کہہ دیتے ہیں؟
میں خاموش تھا میرےپاس جواب دینے کو الفاظ نہیں تھے یا شاید میں جواب دینا نہیں چاہتا تھا ۔
وہ ہلکا سا طنزیہ انداز میں مسکرایا اور کہنے لگا آپ کے پاس بھی سب کی طرح جواب نہیں نا کوئی بات نہیں صاحب ہم اس سب کے عادی ہیں۔یہ"عادی ہیں" کہنا ایسا لگا جیسے کسی نے کھینچ کر میرےچہرے پر طمانچہ مارا ہوسنوصاحب !!جب میں پیدا ہوا تھا نا تو میری ماں نے بھی مجھے سینے سے لگایا تھا میرا بھی خواب تھا سب کی طرح سکول جانا،کھیلنا اور نوکری کرنا ماں مجھ سے بڑا پیار کرتی تھی تو صاحب پھر جب میں اس وقت قصوروار نہیں تھا تو بعد میں کیسے ہو گیا؟جیسے جیسے بڑاہوتا گیا سب کی نظریں بدل گئی محبت کی جگہ شرمندگی نےلے لی۔
ماں کی آنکھوں میں بیزاری چھا گئی تو ابو کی آواز سخت ہوتی گئی اور جانتے ہو صاحب ایک دن کیاہوا اس کی آواز بھاری ہو رہی تھی ایک دن انہوں نے کہا تم بدنامی ہو شرمندگی ہو ہمارے لیے اور مجھے گھر سے نکال دیا گیا لاوارث کر دیاگیا (ایک دم خاموشی چھا گئی) اس دن میں رویا نہیں بلکہ مرگیا اندر سے ختم ہو گیا یہ احساس ماردیتا ہے صاحب کہ اب آپ کا نہ کوئی گھر رہا ہے نہ کوئی اپنا باقی ہے میں گھر سے نکل کے سڑکوں پر گھومنے لگا اپنے جیسے اور انسانوں کے ساتھ کوئی آتا حقارت سے تکتا تو کوئی دھکے دے کر چلا جاتا تب سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے،کوئی گھٹیا کہتا ہے تو کوئی حقیر سمجھتا ہے سب کو ہم قصوروار لگتے ہیں ہم کسی سے بات کرتے ہیں تواچھوت سمجھا جاتا بچوں کوہم سے فوراً دور کر لیاجاتا ہے ہمیں دیکھ کر فقرہ بازی کی جاتی ہے(اس کی آنکھوں سے ایک آنسو گرا اس نے اسے بے دردی سے صاف کیا اور بولتا رہا) ہم سڑکوں پر ہنستے ہیں تالیاں بجاتے ہیں تو سب کولگتا یہ ہم خوشی سے کرتے ہیں تم مکمل انسانوں کوہم ادھورے انسانوں کی اندرونی چیخیں کیوں نہیں سنائی دیتی(اس کا لہجے میں نمی گھلی ہوئی تھی ایسے جیسے آنسو پینے کی کوشش کر رہا ہو)
جانتے ہو صاحب یہ سب تو پیٹ پالنے کا ذریعہ ہے درحقیقت تو ہم اندر سے باربار مر رہے ہوتے ہیں مگر ہماری موت پر کوئی نہیں روتا(اس نے میری جھکی ہوئی آنکھوں میں جھانکا اور کہا)تم مکمل انسان ہم سے یہ کیوں نہیں پوچھتے ہمیں کیا چاہیے یہ تماشہ یا صرف عزت اور پہچان؟ میں ساکت کھڑا تھا کوئی جواب نہ تھا س نے میری کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا صاحب ایک بات کا جواب تو دو۔جب آپ ہمیں دیکھتے ہو تو کیانظر آتا ہے ایک انسان یاپھر شرمندگی؟
میری نظریں مزید جھک گئیں وہ آہستہ سے پیچھے ہٹنے لگااور مسکرا دیا وہ مسکراہٹ دل کوچیرتی ہوئی محسوس ہوئی ہم بھی انسان ہیں مگر ہمیں جینے کاکوئی حق نہیں ہم لاوارث ہی مرجاتے ہیں
سنو صاحب کبھی اپنے آپ سے سوال کرنا کہ اگر تم میری جگہ ہوتے توکیا یہ زندگی خوشی خوشی جیتے؟میں نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا(جیسے سوال تیر کی طرح چبھا ہو)
وہ مڑ کرجانے لگا جاتےجاتے پھر پلٹ کربولا صاحب کبھی دعا کرو نہ تو یہ ضرور کرنا کہ یہ معاشرہ ہمیں قبول کرنا سیکھ جائے یہ کہہ کروہ بھیڑ میں گم ہوگیا اور میں اپنے ضمیر کے کٹہرے میں اکیلا کھڑارہ گیاجہاں اب سوالات نہیں ایک بوجھ تھا ندامت تھی اس دن مجھے سمجھ آیا کہ کچھ لوگوں سے ہم اپنی گھٹیا سوچ کی وجہ سے جینے کا حق تک چھین لیتے ہیں تو کیا قصور ان کا ہے یا ہماری سوچ کا یا پھر اس نام نہاد معاشرے کا جو انسان کوانسان سمجھنے سے پہلے اسکو اس کی شناخت کی بنیاد پر پرکھتا ہے
کیا فرق ہے اس میں اور ہم میں؟
جسم کا یاسوچ کا؟
کیاواقعی ہم مکمل ہیں؟
اور وہ جسے ہم نامکمل سمجھتے ہیں وہ کیا ہے؟کیونکہ انسانیت،احساس،برداشت محبت تو ہمارے اندر نہیں تو ہم مکمل کیسے ہوئے؟ہم ان کو تمسخر بھری نظروں سے دیکھ کر انکی توہین کر کے درحقیقت ان کو بنانے والے مصور کی توہین کررہے ہوتے ہیں بھلا ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنےوالے کہ مکمل کون اور نامکمل کون!! کس کو جینے کا حق ہے اور کس کو نہیں!!!
اس دن پہلی بار احساس ہوا کہ کچھ لوگ بھوک سے سڑکوں پر نہیں مرتے بلکہ ہماری سوچ،بے حسی اور خود غرضی انکو مار دیتی ہےتو پھر مکمل کون ہے اورنامکمل کون اس پر ضرور سوچنا !!
عباس
اردو
شانو ☕ retweetledi






