Sabitlenmiş Tweet

تازہ غزل
پڑا ہے آج سمندر سے واسطہ اُس کا
ڈبو نہ دے کہیں کشتی کو ناخدا اُس کا
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے اب بھی باقی ہے
مرے لبوں کی دراڑوں میں ذائقہ اس کا
کمان کھینچ رہا تھا عدو میری جانب
سو میں نے دیکھ لیا ہاتھ کانپتا اس کا
یہ اور بات تکلف نے کر دیا محدود
میں اس کے شہر میں بھی ہاتھ تھامتا اُس کا
اسے کسی کی حمایت کی کیا ضرورت ہے
خدا کا شکر مددگار ہے خدا اُس کا
وہ دل کی طرح کو ئی پیچ دار آدمی ہے
مری سمجھ سے تو باہر ہے مدعا اُس کا
وہ دیکھتا ہے تو خوں میں بھنور سے پڑتے ہیں
سو مجھ سے دیکھا نہیں جاتا دیکھنا اُس کا
دکھا رہا ہوں کمالِ ہنر وری اُس کو
بنا رہا ہوں میں رستوں میں راستا اُس کا
اسی لیے تو میں رہتا ہوں اس کے ساتھ آرب
کوئی نہیں ہے جہاں میں مرے سوا اُس کا
آرب ہاشمی
اردو























