لگتا ہے کہ GHQ نے لنگڑے تیاگی کے دونوں چھوکروں کا دوبارہ سے میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ 3 ماہ سے تیاگی گینگ کی آواز نہیں نکل رہی تھی لیکن آج تیاگی کے چھوکروں کی رہائی کے لئے ٹرینڈ بنایا ھوا ہے
اور یہ کتے کس کے ہیں،یہ بات تو لنگڑا تیاگی اپنی زندگی میں بتا گیا تھا
@ShafiqAhmadAdv3 کتا تو تیرا باپ مرزا غلام قادیانی کافر مادرچود خنزیر ہے سمجھے لبرل گشتی کے بچے۔۔
لعنت تیری نسلوں پر اور تیری پوری قادیانی کافر قوم پر 🖐🖐🖐🖐🖐🖐🖐
جب تک تحریک لبیک کا سعد رضوی فوج کے کام کا مہرہ تھا تب وہ ایسے ہی شاہانہ پروٹوکول کے ساتھ فرعون بنا گھومتا تھا۔
اور پھر اسی فوج نے سعد رضوی کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا، مریدکے قتل عام کے بعد تحریک لبیک رہی اور نہ ہی سعد رضوی کا کوئی نام لیوا باقی رہا ۔
#دنیا_مقام_عبرت_ھے
🔵🚨 جو مظلوموں کے ساتھ نہیں کھڑے ہوتے اللہ تعالیٰ انہیں اس دنیا میں ہی ان کی اولاد کی شکل میں ، ان کی بیویوں کی شکل میں ان کے والدین کی صورت میں یا بیماریوں کی شکل میں اس دنیا کے اندر ہی اس کا وبال دکھائے گا ۔
انجینئر محمد علی مرزا کا 👇
#450LivesMatter#JusticeFor450
@VictimsofB_Gang مرزے جھنمی دجال نے جیل سے نکلتے ہی حرامی قادیانی کافر گستاخوں کی ہمایت کرکے خود کو ایکسپوز کر دیا کے وہ مرزے کانے قادیانی کافر دجال کا لونڈا ہے
جو سٹوڈنٹس انٹیلیجنس ایجنسیوں کو جوائن کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے یہ تصویر دیکھیں اور سوچیں کہ کیا وہ اس قابل ہیں کہ ایسے حالات میں بھی ملک و قوم کی حفاظت کر سکیں گے؟
دورِ حاضر میں خفیہ ایجنسیوں میں شمولیت کو ایک عام سرکاری ملازمت سمجھ لینا ایک سنگین فکری غلطی ہے۔ خفیہ ادارہ کسی پوسٹ، سکیل یا مراعات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ وقت قربانی، خاموش خدمت اور غیر معمولی استقامت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ راستہ صرف انہی افراد کے لیے ہے جو آرام، شناخت، شہرت اور ذاتی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر وطن کے لیے جینے اور ضرورت پڑنے پر گمنامی میں مٹ جانے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
بہت سے لوگ اس شعبے میں شامل ہونے کا خواب تو دیکھتے ہیں، مگر اس راہ پر چلنے کی صلاحیت ہر ایک میں نہیں ہوتی۔ یہاں انتخاب خواہش یا سفارش کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار، ذہنی مضبوطی، اعصابی توازن، غیر متزلزل وفاداری اور قربانی کے جذبے پر ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ کون کرتا ہے، کیسے کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے، یہ سب خود اس نظام کا حصہ ہے جو ہمیشہ پردۂ راز میں رہتا ہے۔
یہ وہ میدان ہے جہاں جسمانی اذیت، ذہنی دباؤ اور نفسیاتی آزمائشیں محض تصور نہیں بلکہ ایک ممکنہ حقیقت ہوتی ہیں۔ ایسے مراحل آتے ہیں جہاں انسان کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ درد، خوف اور موت کے امکان کے باوجود اپنی زبان، اپنے راز اور اپنے وطن سے غداری نہیں کرے گا۔ یہاں اصل جنگ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ خود اپنے وجود کے خلاف لڑی جاتی ہے کہ کہیں ایک لمحے کی لغزش اسے مجاہد سے غدار نہ بنا دے۔
دنیا کی بدنام جیلوں اور تفتیشی مراکز خواہ وہ تہاڑ ہو، پل چرخی ہو یا دیگر مقامات کی دیواریں اس حقیقت کی خاموش گواہ ہیں کہ پاکستان کے بیٹے کن آزمائشوں سے گزرے۔ یہ وہ داستانیں ہیں جو اگر کبھی مکمل طور پر منظرِ عام پر آ گئیں تو قوم کے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیں گی۔ ان کہانیوں میں شکست نہیں، استقامت ہے؛ کمزوری نہیں، فولادی عزم ہے۔
یہ لوگ تاریخ کے شور میں نہیں، خاموشی میں زندہ رہتے ہیں۔ یہ نہ داد کے طلبگار ہوتے ہیں، نہ پہچان کے۔ یہ عبداللہ بن حذافہؓ کی استقامت کے وارث اور یاسر و سمیہؓ کی برداشت کی عملی تصویر ہوتے ہیں کہ اذیت کے عروج پر بھی زبان شکایت سے آشنا نہیں ہوتی۔
آج کے آرام پسند معاشرے میں، جہاں معمولی دباؤ پر نظریات بدل جاتے ہیں، وہاں ان لوگوں کی قربانی کا ادراک مشکل ہو چکا ہے۔ جو اپنے ہی کمروں میں خوف زدہ ہو جاتے ہیں، وہ اس خوف کی نوعیت کیا جانیں جس میں جانور یا سائے نہیں، بلکہ ایک لفظ کی قیمت وطن کی سلامتی ہوتی ہے۔
یہ وہ محافظ ہیں جو مختلف روپ دھارتے ہیں کبھی عام شہری، کبھی طالب علم، کبھی استاد، کبھی تاجر، اور کبھی کسی ادارے میں ایک خاموش ذمہ دار۔ ان کی شناخت ان کا ہتھیار نہیں، ان کی خاموشی ہوتی ہے۔
یہ ہیں تو ہم ہیں
یہ نہ ہوں تو ہمارا کوئی نشان نہ ہو
اللہ تعالیٰ ہمارے وطنِ عزیز کی حفاظت فرمائے، اور ان گمنام محافظوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے جو نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں پر خاموشی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔
پاکستان زندہ باد
افواجِ پاکستان پائندہ باد
مسلکی کھاتہ داری !
محمد علی مرزا کے جاندار اعتراضات کا آخری جواب یہ دیا جاتا ہے کہ مرزا صاحب کو کوئی مسلک پسند نہیں کرتا اور نہ ان کا کوئی مسلک ہے۔ گویا مذہب کی حیثیت ثانوی ہے ؟ مسلک ناگزیر اور اولیت کا حامل ہے؟میں سمجھتا ہوں یہی مرزا صاحب کی نہ صرف کامیابی ہے بلکہ کامیاب وار ہے کہ اُنہوں نے مولویوں کو مذہب کے مضبوط قلعے سے نکال کر مسلک کی کچھار میں پناہ لینے پر مجبور کردیا ہے۔اگر ملک کی فضا علمی ہو تو شاید اس ملک میں مکالمے کا ماحول بنے لیکن ہمارے زبردست مولوی حضرات مجادلے ہی کو پسند کرتے ہیں اور مسلک مجادلے کا بہترین مورچہ ہے!
@iqrarulhassan@rizwanghilzai تجھے بھی فتنہ خان کی طرح لانچ کیا گیا ہے کام نکلنے کے بعد تیری ہوا بھی نکال دی جائیگی کیونکہ یہ بوٹ والے کسی کے سگے نہیں ہوتے
@rizwanghilzai ان صاحب نے بھی پروفائل میں خود کو جرنلسٹ لکھا ہوا ہے۔ ہمت کریں یار، دلیری دکھائیں اور تسلیم کریں کہ آپ پی ٹی آئی کارکن ہیں۔
شخصیت پرستوں کے لیڈر کا دیا ہوا شعور یہ ہے کہ لکھائی پر لیڈر ماننا ہے تو دیواروں پر جعلی بابوں کے اشتہار لکھنے والوں کی لکھائی تو ان سے بھی اچھی ہوتی ہے۔۔۔