
باجوڑ امن کے لئے نکلنے والوں کو سلام۔ میرے پاکستانیو آپ کو اندازہ نہیں کہ مارٹر گولو، گن شیپ ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے سائے میں امن کی آواز اٹھانا کتنا مشکل ہے۔ بندوق کی نالی کے سامنے عدم تشدد کا نعرہ بلند کرنے کے لیے کتنی جرات درکار ہوتی ہے۔ امن کے لئے متحد کرنے والے بغیر اشتہار اور بینر پوسٹر کے مہم کیسے چلاتے ہیں۔ جب “ریاست” ہی امن کے بجائے جنگ کا فیصلہ کر چکی ہو تو پھر جنگ روکنا اور اپنے گھر بچانا کتنا مشکل ٹاسک ہے۔ اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ امن کا ساتھ دو اور جو ساتھی یہ مشکل ترین کام کر رہے ہیں ان کی آواز بنو۔ اگر یہ کامیاب ہو گئے تو ان کی کوشش آپ کے گھروں کو بھی اس آگ سے بچا لے گی جس کی تپش نے ہمارے گھر راکھ کیے تھے تو جھلسے آپ کے آنگن بھی تھے۔ دوسرا اہم معاملہ کہ امن تحریک اور جرگوں کی امن کے لیے لاکھوں کی تعداد میں مارچز دیکھ کر اب اپنے مقاصد کے لئے ان ہی ناموں (جرگہ وغیرہ) کو قانون سازی اور میڈیا بیانیہ کے لئے استعمال کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔ ہم نے زمانہ طالب علمی میں آپریشن اور ڈالری جنگ کے خلاف آواز اٹھائی اور امن کا نعرہ بلند کیا تو فوج نے امن کے نام پر امن کمیٹیز بنا دیں جن کی حقیقت پختونخواہ کا ہر شہری جانتا ہے۔ حال ہی میں ہم نے جرگے کر کے امن تحریک سے نئی جنگ کا منصوبہ مالاکنڈ میں ناکام بنایا اور اسی طرز پر اب ہر ضلع میں امن کے قیام کے لئے جرگے کر کے امن مارچز کیے تو آئی ایس آئی اور فوج اب وفاق کی طرف سے قانون سازی سے لے کر آپریشن کے لیے راہ ہموار کرنے اور ہمارے جنازوں تک کے لیے جرگہ کا نام استعمال کرنے لگی ہے۔ نام نہیں طریقہ کار بدلو۔ پالیسی بدلو۔ یہ کھیل بند کر دو۔ ہمارا قومی جرگہ وہی ہے جو امن کا پرچم تھامے اس ڈالری جنگ کے خلاف نکل رہا ہے۔ اس کے علاوہ سابقہ فاٹا کے لیے نئی قانون سازی میں جرگہ کا عنوان دے کر یا کسی شہری پر گولی چلانے کے بعد سیف ہاوس میں پانچ افراد سے مل کر میڈیا کو جرگے کے ٹکرز جاری کرکے آپ اس کو ہماری قوم کا فیصلہ نہیں کہہ سکتے۔ امن تحریک، قومی جرگے کا بیانیہ واضح دو ٹوک اور لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں بیچ چوک گونج رہا ہے کہ آپریشن نا منظور، ڈالری جنگ نا منظور، وسائل پر قبضہ نامنظور، نیا تجربہ نا منظور۔ یہ بھی قوم نوٹ فرما لے کہ امن اور جرگے کے نام پر مختلف آوازوں کو فوج کی طرف سے ہدایات مل گئی ہے لہذا تمام ساتھی آنکھ اور کان کھلے رکھیں، اپنی تحریک کو تمام سیاسی و نظریاتی وابستگیوں سے بالاتر رکھنا ہے۔ امن کی آوازوں کو دھمکیوں اور ٹارگٹ کلنگ کے بعد اب تقسیم کی کوشش بھی تیز ہے سو متحد رہیں تقسیم کی صورت یہ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوں گے۔ اسلام آباد مارچ کے حوالے سے تین اضلاع کے قومی جرگوں کا فیصلہ آگیا ہے باقی جرگوں کے فیصلے کے بعد حتمی اعلان کیا جائے گا، اسلام آباد مارچ بھی امن کے پرچم کے سائے تلے ہوگا اور سیاست سے بالاتر ہوگا۔ تیسری بات صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا ہے میں تمام اراکین اسمبلی کو یاد دلاتا چلوں کہ جب دہشت گردی کی اس نئی جنگ کو ہم پر تھوپنے کا آغاز ہوا تو پی ٹی آئی نمائندوں کو نشانہ بنانا بھی اس کا حصہ تھا جس کا آغاز ملک لیاقت علی پر قاتلانہ حملے سے ہوا جس میں وہ شدید زخمی اور ان کے خاندان کے افراد شہید ہوئے۔ ہم نے مشکل ترین حالات میں تحریک چلائی، اس وقت بہت سارے اراکین کو دھمکیاں مل چکی تھیں خوف کے بادل منڈلا رہے تھے لیکن میں نے خود کو بے گھر کیا اور آج آپ سمیت الحمد اللہ لاکھوں لوگ اپنے گھر میں محفوظ ہیں۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جن علاقوں میں آج امن ہے یہ آپ کے پاس امانت ہے اور اس کی حفاظت آپ کی زمہ داری اور جہاں یہ آگ پھیل چکی اس آگ کو بجھانا اور قوم کا ساتھ دینا آپ کا فرض ہے۔ آپریشن، ڈرون حملے اور ڈالری جنگ کے خلاف اقدام اٹھانا آپ کی ذمہ داری ہے کیونکہ عمران خان کا موقف واضح ہے اور ان کے نام پر آپ کو ووٹ ملا۔ اس لیے واضح طور پر بتا دوں کہ امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں، قوم پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔















