پچھلے دو سال سے مری جی ٹی روڈ پر نا اہل اورسست ٹھیکیدار کی وجہ سے مری کی عوام انتہائی پریشانی کا شکار ہے جگہ جگہ سے روڈ کو اکھاڑ دیا گیا ہے جبکہ کام کی رفتار انتہائی سست اور ناقص ہے جس کی وجہ سے مری سفر کرنے والے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں انتظامیہ فوری اس پر نوٹس لے اور اس اذیت سے عوام کی جان چھڑوائے۔
پاکستان ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے
آپ سوچیں 108کنال کا پلاٹ 87 کروڑ میں حوالے کر دیا اب ٹھیکیدار نے گھر بنا کر بیچ دیے یہ 87کروڑ بھی پنجاب بینک سے لیے اور واپس نہی کیے کہا خسارہ ہو گیا ہے وہ اربوں لے کر سائڈ پر ہو گیا اب اکیس سال ریاست نے کروڑوں روپے وکیلوں کی فیسیں دیں فیصلہ حق میں آیا اب کمیٹی بنا دی کمیٹی یہی کہے گی الیٹ مالکان کو پیسے دو اب اربوں روپے کا معاوضہ سرکاری کھاتے سے جائے گا
جن ججوں ، افسران اور ٹھیکدار نے لوٹا اس کی جائداد بیچ کر معاوضہ نہی دیں گے
بس یہی ڈاکے جن کے خسارے میں یہ ملک ہے
میں حیران ہوں کہ بمشکل پاسنگ مارکس لینے والے نے سی ایس ایس امتحان میں پورے پاکستان میں ٹاپ کیا ہے تو باقیوں کی قابلیت کیا ہوگی۔
ہمارے زمانے میں تو اتنے مارکس لینے والے پاس ہونے کے باوجود بھی رینکنگ میں نہیں آتے تھے۔
پاکستان کی نوجوان نسل پر بہت سنجیدگی سے کام کرنا ہے، اُنہیں نہ صرف پڑھنے بلکہ کریٹیکل تھنکنگ پر لگائیں۔
اس نسل نے کل پاکستان چلانا ہے!
مجھے ایک ڈرائیور کی ضرورت ہے جسے فوٹو گرافی بھی آتی ہو ۔ اگر لائسنس نہیں ہے تو میں اپنے پیسوں سے دلوا دوں گی ۔ مگر محفوظ گاڑی چلانا جانتا ہو
باقی کھانا ، پینا ، رہائش اور گھر میں وائی فائی سب کچھ میری طرف سے ۔ انشاء اللہ جتنا ہو سکے گا میں سہولیات مہیا کروں گی ۔
مجھے اسکول تک لے کے جانا اور کبھی کبھار گاؤں گھومنے جاتی ہوں ساتھ چاہیے ۔ لانگ ڈرائیو بھی کبھی کبھی ہوتی لاہور ، اسلام آباد کام کے حوالے سے ۔ ورنہ اپنے شہر ہی رہنا ہے ۔ میرا شہر لیہ ہے۔ کمنٹ کریں میں باقی ساری ڈیٹیل خود انباکس کروں گی لوکیشن وغیرہ فون نمبر ۔ بہت شکریہ
@GFarooqi@Shabbir17970370 یہی پانی آپ کو دوکان سے 110 سے 120 میں ملتا ہے اور یہی بوتل آپ کو ہوٹل سے 250 سے 280 کی ملتی ہے۔ ان سے کوئی کیوں نہیں سوال کرتا؟
آج دکان پر قیمتیں دیکھ کر خیال آیا کہ یہ منرل واٹر کمپنیوں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس ہے بھی یا نہیں!!؟؟؟ ہر چند ہفتے بعد یہ اپنی من مرضی سے قیمتیں بڑھا دیتے ہیں، پانی زمین سے مفت نکالتے ہیں اور عوام تک بیچنے کیلئے یہ بھی مافیا بنے ہوئے ہیں۔ ان کمپنیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں ٹھیک کیس لگا تھا اور ایکسپوژ ہوئے تھے، کیس کی سفارشات بھی تھیں کہ ان منرل واٹر بیچنے والی کمپنیوں کو ریگولیٹ کیسے کرنا ہے لیکن پھر جو پاکستان میں ہوتا ہے وہی ہوا ۔۔۔۔
وزیر توانائی سو جوتے سو پیاز کھانے کے بعد اعلان کر رہے ہیں کہ سولر چھوٹے صارفین پر لائسنس فیس ختم ہو گئ ہے مزے کی بات یہ وہ فیس ختم ہوئی جو درباری اور راتب خور کہہ رہے تھے فیک نیوز ہے اور ہمیں معافی مانگنی چاہیے ہم نے شر پھیلایا ہے
بہر طور آپ سب کو مبارک کہ آپ نے راتب خوروں اور درباریوں کی سنے بغیر احتجاج ریکارڈ کروایا اور اپنے حق پر کھڑے رہے بجلی کے معاملے پر راتب خوروں کو میوٹ پر لگا دیں