Shah Mohammad Babar retweetledi

تیمرگرہ () ۔۔۔۔۔یکم مئی2026
جے یوآئی کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ تیرہ برس سے برسرِ اقتدار حکمرانوں نے صوبے کو بدانتظامی، بدامنی اور پسماندگی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے، ترقیاتی منصوبے فائلوں سے باہر نہ نکل سکے جبکہ عوام بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔
وہ جمعہ کے روز ڈسٹرکٹ پریس کلب تیمرگرہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر جے یو آئی خیبر پختونخوا کے صوبائی نائب امیر مولانا عبدالحسیب حقانی، صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمد رحیم حقانی، صوبائی ناظمِ انتخابات مولانا احمد علی درویش سمیت دیگر صوبائی قائدین بھی موجود تھے۔سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک منصوبے میں رکاوٹوں کی ذمہ دار بھی پاکستان تحریک انصاف ہے، جس کی ناقص پالیسیوں نے نہ صرف ملکی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا بلکہ برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ عوام ووٹ پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو دیتے ہیں، لیکن جب سڑکوں پر نکلنے اور عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا وقت آتا ہے تو نظریں جمعیت علمائے اسلام کی طرف اٹھتی ہیں۔
انہوں نے ارباب نیاز اسٹیڈیم میں صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد کو ”ڈرامہ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسمبلی اجلاس عمارت سے باہر منعقد کرنا درست ہے تو پھر اسمبلی عمارت کی حیثیت کیا باقی رہ جاتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جمعیت علمائے اسلام مہنگائی، بدامنی اور لاقانونیت کے خلاف جلد ملک گیر مہم شروع کرے گی۔
مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ گزشتہ تیرہ برس سے ”تبدیلی“ کے دعوے محض نعرے ثابت ہوئے، درجنوں بڑے منصوبے یا تو ادھورے پڑے ہیں یا مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، جس سے حکومتی نااہلی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیم کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور لاکھوں بچے آج بھی سکولوں سے باہر ہیں، جو حکمرانوں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کی مدبرانہ سیاست کے باعث پی ٹی آئی کو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے مؤقف کے سامنے جھکنا پڑا، اور اگر ان کی سیاست سے مخالفین کے لہجے میں شائستگی آئی ہے تو یہ جمعیت کی سیاسی کامیابی ہے۔
انہوں نے صوبائی حکومت سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی مسلسل ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اقتدار چھوڑ دینا ہی ان کے لیے بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبے کے کسی بھی ضلع میں حکومتی رٹ دکھائی نہیں دیتی، پولیس تھانوں تک محدود ہو چکی ہے جبکہ عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ریاستی رٹ بری طرح کمزور ہو چکی ہے۔




اردو





















