سیدہ ام ہانی

4.1K posts

سیدہ ام ہانی banner
سیدہ ام ہانی

سیدہ ام ہانی

@_SUM_786_

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللہ

Location Katılım Temmuz 2021
408 Takip Edilen2.9K Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
سیدہ ام ہانی
سیدہ ام ہانی@_SUM_786_·
میری محفلِ یاراں میں۔۔۔ ایک شخص ہے۔۔۔ خاص، بہت خاص وہ۔۔۔ با ادب، با نصیب کی مثال وہ۔۔۔ اُس سے ملی ہوں جب سے۔۔۔ جیسے میری ہوئی دوستی ادب سے۔۔۔ اُسکا نرم شیریں لہجہ۔۔۔ ادب و خُلوص میں ڈوبا لہجہ۔۔۔ سرِ شام اُسکی وہ حِکمت کی باتیں۔۔ فکرِ دوراں، فکرِ جہاں، فکرِ محشر کی باتیں۔۔۔
اردو
21
16
133
0
سیدہ ام ہانی retweetledi
Qirtaas🪶
Qirtaas🪶@QirtasWrites·
تحریر نمبر 15 (ایک افسانۂ لا تَعَیُّن) موضوع: بادِ مُخالِف بقلم: آبگینے کشتی کا کوئی نشانِ آغاز نہ تھا، نہ کوئی پہلا لمحہ جسے یاد کیا جا سکے – وہ خود کو دریا کی دھڑکتی موجوں میں پاتی رہی۔۔۔ نہ جانے کب سے، نہ جانے کس کھوئے ہوئے کنارے سے بہتی ہوئی۔ اس کے گرد پانی کا بے کَرانَہ عَفَن تھا جس میں شَب نَمائی کی دھندلی روحیں رقصاں تھیں – ان کی سفیدی پانی کی سیاہی میں گھلتی۔۔۔ الگ ہوتی، پھر گھلتی۔ یہ دریا ایک بے آغاز خواب تھا جس سے کوئی نہیں جاگتا۔ کشتی کے پچھلے حصے کی لکڑی پر پانی کے دَھبّے نے ایک ایسا نقش بنا دیا تھا جیسے کوئی بھولی ہوئی تحریر – گویا دریا خود اپنی یادداشت لکھ رہا ہو – مگر حروف بکھر جاتے ہوں۔ زِیان کی انگلیوں کے درمیان کی جھلیوں میں نمک جم گیا تھا، سفید اور کھردرا، جیسے برف جو پگھلنا بھول گئی ہو۔ صابِر کی پیٹھ، جس پر آبلوں نے ایک دوسرے کو چھوتے ہوئے سرخ اور سیاہ دھبے بنائے تھے، دھوپ میں تیل کی طرح چمکتی تھی – اس کی ہر حرکت کے ساتھ کھال کے باریک چھلکے ہوا میں اڑتے۔۔۔ تقریباً نادیدہ۔ دور اُفُق پر دریا کی وہ بے کَرانَہ سطح دھند میں گم ہو جاتی تھی – آسمان اور پانی کے درمیان کوئی حد نہ تھی، صرف ایک ہی رنگ: سرمئی جس میں پس راکھ، دودھ، اور مٹی کا عکس۔ لکڑی کی عُفُونَت، پانی کی آہَنِی رُطُوبَت، اور کئی راتوں پرانے پسینے کی تیز لیس – ان سب نے مل کر ایک ایسا دِل فِگار عِطر بنا دیا تھا – جس کا سانس لینا بھی زخم کھول دیتا۔ کامِل نے اپنی بائیں بَانہہ کو سینے سے ایسے چپکا رکھا تھا گویا کوئی امانت۔۔۔ جو کبھی کی ٹوٹی، اور اب صرف یاداشت کے زور سے ٹکی۔ وہ بازو – جس میں کبھی زہریلے سانپ کے دانت نے اپنا پیغام چھوڑا تھا – اب محض ایک بے جان کِسَہ تھا: ہڈیوں اور جھلیوں کا وہ مجموعہ جس نے زندگی سے دستبرداری لکھ دی تھی۔ اس کے اوپر سورج کی روشنی پڑتی تو پیلے اور نیلے دھبے بن جاتے۔ کامِل نے ایک بار اس بے جان عضو کو دیکھا، پھر آنکھیں بند کر لیں۔ فَیَّاض کشتی کے پچھلے حصے میں اس طرح دھرا تھا گویا وہ اپنی ہی قبر کھود رہا ہو۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹوٹی دیگچی تھی – جس کے کنارے سے دراڑ نے راستہ بنا لیا تھا، پہلے بال کی مانند باریک، پھر انگلی کی مانند موٹی، پھر اس قدر کہ دیگچی اٹھاتے ہی پانی ٹپک کر واپس گرتا، گویا کوئی بھولا ہوا قرض واپس کرنے سے انکار کر رہا ہو۔ فَیَّاض نے ایک بار اپنی دیگچی کو دیکھا، پھر آسمان کی طرف – جیسے وہ کسی سے پوچھ رہا ہو کہ یہ سب کب ختم ہوگا۔ لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ صابِر آگے دھرا — اس نے اپنا کُرتا اتار کر ایک طرف رکھ دیا... اس کی پیٹھ وہ منظر تھی جسے دیکھ کر نظر جھک جائے: آبلے پھٹے ہوئے، کھال اتری ہوئی، نیچے کی سرخ جھلی نمکین ہوا میں کانپتی ہوئی۔ اس کی پیٹھ ایک کھلا خط تھا جسے ہوا پڑھ رہی تھی – مگر کوئی مخاطب نہ تھا۔ زِیان سب سے پیچھے دبکا ہوا تھا۔ اس کے پیچھے کوئی دیوار نہیں تھی – صرف پانی کی وہ خالی جگہ جو کبھی ختم ہوتی نہیں۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں، لیکن اسے یاد نہ تھا کہ وہ کب سے جاگ رہا ہے۔ اس نے اپنے ہاتھ دیکھے: انگلیوں کی جلد پر پانی نے اتنی گہری جھریاں بنا دی تھیں کہ کسی کھوئے ہوئے شہر کے نقشے... ان میں راستے تھے، چوک، اور کچھ جگہوں پر دھبے۔۔۔ جیسے عمارتیں ہوں۔ اس نے سوچا: ہماری کشتی کس راز کا بارِ گَران لے کر چل رہی ہے؟ لیکن جواب دینے والا کوئی نہ تھا – نہ پانی کی تہہ سے کوئی آواز آئی، نہ بادلوں کے اس پار سے کوئی اشارہ۔ صرف لکڑی کی کراہٹ، ہر موج کے ساتھ ایک آہ – جیسے کشتی خود ایک زخم ہو جو ہوا کو چھوتے ہی بھڑک اٹھے۔ یہ کشتی کسی بھولی ہوئی دعا کی مانند تھی: لکھی تو گئی تھی، مگر کبھی پڑھی نہ گئی – اور اب اس کے حرف پانی کی موجوں میں تَحلِیل ہو رہے تھے۔ ◆◆◆ صبح ہوئی تو سورج نے پردہ اٹھانے سے انکار کر دیا۔ پہلے آسمان پر ایک ہلکی سی سفیدی پھیلی – گویا کسی نے بہت دور کوئی چادر بچھا دی ہو – پھر وہ سفیدی پھیلتی گئی، لیکن سورج کا کوئی کنارہ نظر نہ آیا۔ وہ صرف ایک اندھا اُجالا تھا – جیسے کوئی چراغ۔۔۔ جس کی لو ہو، مگر روشنی نہ ہو۔ کشتی کے تختے، جن کی لکڑی پانی سے پھول کر نرم ہو گئی تھی۔۔۔ دَرزوں سے چھوٹے چھوٹے چشمے پھوٹ رہے تھے۔ فَیَّاض کی دیگچی کی دَراڑ — جو اب تقریباً دو انگلی چوڑی تھی... سے ٹپکتا پانی سورج کی پہلی کرن میں ایک لمحے کو ہیرے جیسا چمکتا، پھر بجھ جاتا – گویا کبھی تھا ہی نہیں۔ کامِل کا چہرہ بے حرکت تھا۔ اس کی آنکھیں کبھی بائیں دیکھتی، کبھی دائیں، کبھی کسی ایسی سمت میں جہاں کچھ بھی نہ تھا۔ اُفُق پر پانی اور آسمان اس طرح مل گئے تھے کہ کوئی حد باقی نہ رہی۔ وہ اُفُق ایک بند دروازے کی مانند تھا جسے کھولنے والا کوئی نہ تھا۔۔۔ اور اس کے پیچھے کیا ہے – یہ سوچنا بھی بے سُود تھا۔ وہ صبح ایک کھلی کتاب سی تھی: جس کے ورق بھیگ چکے ہوں، حروف موجود ہوں، مگر انہیں پڑھنے والا کوئی نہ ہو۔ زِیان نے بائیں دیکھا – پانی۔ دائیں دیکھا – پانی۔ وہ اٹھ کر کھڑا ہوا تو کشتی ڈگمگائی۔ کامِل نے زور سے کہا: "بیٹھ۔ بس کر۔" لیکن اس کی آواز میں وہ خوف تھا جو اپنی بے بسی کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ زِیان بیٹھا نہیں۔ اس نے اپنی گردن گھمائی۔۔۔ پوری طرح گھمائی، گویا کوئی اندھا شخص آواز کی سمت ڈھونڈ رہا ہو۔ ہر طرف پانی – اتنا کہ نظر تھک کر واپس آ جاتی تھی۔ اس کی گردن چٹختی تھی – وہ آواز جیسے کوئی پرانی چابی کسی بند تالے میں گھمائی جا رہی ہو، مگر تالا کھلنے کا نام نہ لیتا۔ بادبان اس قدر پھٹا تھا گویا کسی نے قصداً سازش کی ہو۔ ایک ٹکڑا ہوا میں پَراگَندَگی سے پھڑپھڑا رہا تھا – تھک، تھک، تھک – وہ آواز۔۔۔ گویا کوئی پرندہ اپنے پنجرے کی سلاخوں سے ٹکرا رہا ہو۔ اس ٹکڑے کے دھاگے الگ الگ ہو چکے تھے: کچھ سفید، کچھ گَندُمی، کچھ پانی کی سیاہی سے رنگین۔ یہ دھاگے ہوا میں اڑتے ہوئے کبھی پانی کو چھوتے، کبھی کشتی کے تختے سے لگ کر رک جاتے – جیسے کچھ لکھنے کی کوشش کر رہے ہوں، مگر کوئی حرف نہ بن پاتا۔ وہ بادبان ایک بِکھری ہوئی تحریر کی مانند تھا جسے ہوا پڑھ رہی تھی، مگر اس تحریر کا کوئی معنی نہ تھا۔ فَیَّاض دیگچی سے پانی نکالتا رہا – ہر بار کم۔۔۔ دراڑ پھیل رہی تھی – اور بولا: "یہ کپڑا مر گیا۔ تے ہوا نے ہم سے دشمنی مول لے لی۔ تباہ ہو یہ بادبان!" اس کے لہجے میں بے صبری نہ تھی – بلکہ ایک ایسی تھکاوٹ تھی جس نے شکایت کو بھی بے کار کر دیا ہو۔ اس کے منہ کے کونے پر پسینے کی ایک بوند لٹک رہی تھی – کبھی بڑھتی، کبھی سکڑتی، مگر گرتی نہیں تھی۔ ہوا نے رخ بدلا۔ پہلے مشرق سے – ایک دم ٹھنڈی – پانی کی سطح پر چھوٹی چھوٹی لہریں دوڑ گئیں۔ پھر مغرب سے – گرم اور خشک، جیسے صحرا کی سانس – پانی کی سطح پر ایک تیل سی تہہ جم گئی، جس نے سورج کی روشنی کو پھیلا کر پھیکا کر دیا۔ کشتی آگے بڑھی، پیچھے آئی، ترچھی ہوئی، گھومی – گویا کوئی سَمت گُم کَردَہ راہی جو اپنے گھر کا پتہ بھول چکا ہو، مگر گھر کبھی تھا ہی نہیں۔ زِیان نے کوئی مِصرَعَہ بڑبڑایا جو اسے ہمیشہ ادھورا یاد رہتا تھا: "دریا کو دیکھ کر یہی پیدا ہوا گماں…" وہ رک گیا۔ دوسرا مصرع اس کی زبان پر آیا، پھر واپس گیا – جیسے کوئی مچھلی ہاتھ سے پھسل جائے۔ اس نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھا، آنکھیں بند کیں، سوچا۔۔۔ کچھ نہیں۔ شاید وہ مصرعہ کبھی تھا ہی نہیں – شاید اس نے اسے خود گھڑ لیا تھا۔۔۔ کسی ایسے خَواب آشنا میں جہاں زبان کے اپنے قوانین ہوتے ہیں، اور جہاں شعر مکمل ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہوا نے آدھے مصرعے کو اجاڑ دیا – اور وہ اڑتا ہوا کہیں دور پانی پر جا گرا۔ اس کے گرنے کی جگہ پر پانی کی سطح پر ایک ہلکی سی لہر ابھری – اور پھر وہ بھی ختم۔ وہ مصرعہ اب کہیں نہ تھا – نہ دریا میں، نہ ہوا میں، نہ زِیان کی یاد داشت میں۔ ◆◆◆ سورج نے اپنی تمام تر بے رَحمی کے ساتھ بادلوں کے اس پار سے جھانکنا شروع کر دیا تھا – ایک چھوٹی سی سفید گولائی۔۔۔ اتنی تیز کہ آنکھ اٹھانا اپنی بینائی کو آگ کے حوالے کرنے کے مترادف تھا۔ گویا کوئی چراغ جو اندھے کو روشنی دکھا رہا ہو – مگر اندھا دیکھ نہیں سکتا، اور چراغ کو اس کی پروا نہیں۔ ان شعاعوں نے کشتی کے تختوں کے درمیان کی دَرزوں کو اور کھول دیا، اور لکڑی کے ریشے سونے کی طرح چمکنے لگے – جیسے کوئی لاش زیور پہن کر لیٹی ہو – اور زیور اس کے دکھ کا طَنز کر رہے ہوں۔ فَیَّاض نے اپنی دیگچی کو پانی میں ڈبو کر اٹھایا، ڈبو کر اٹھایا – ہر بار کم، کیونکہ دراڑ پھیل رہی تھی۔ اس کی انگلیاں دیگچی کے کنارے پر اس طرح جمی تھیں جیسے وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتیں – لیکن ہر بار پانی بہتا جاتا تھا۔۔۔ اور وہ خالی ہاتھ رہ جاتا۔ پھر صابِر نے چپّو روک دیا – اتنے زور سے کہ اس کی ہَتھیلی سے خون ٹپک کر چپّو پر سرخ دھبہ بن گیا۔ اس نے آگے کی طرف اشارہ کیا – اپنی ٹھوڑی سے، بغیر بولے۔ اس کی گردن کی رگ پھول گئی، پھر سکڑ گئی۔ اس کا منہ ذرا کھلا – پھر بند ہو گیا۔ پانی میں ہلچل تھی۔ پہلے ایک چھوٹی سی لہر – جیسے کسی نے اندر سے سانس لی ہو – پھر گھیرا بڑھتا گیا۔ لیکن یہاں پتھر نہ تھا – کوئی چیز اوپر آ رہی تھی۔ وہ مخلوق جسے لوگ سُنس کہتے ہیں – دریا کی اندھی ڈولفن – نے سطح توڑی۔ اس کی آنکھیں نہ تھیں – صرف دو سفید دھبے، جیسے مٹی میں دو گڑھے جو کبھی بھرے ہی نہ گئے ہوں۔ اس کی جلد پر گہرے داغ تھے – شاید کسی اور کشتی کے چپّو سے، شاید کسی شکاری کے نیزے سے، شاید کسی ایسی چیز سے جس کا نام اس کی یاداشت سے مٹ چکا تھا۔ اس کی آنکھیں کبھی تھیں ہی نہیں – نہ دیکھنے کے لیے۔ اس نے زور سے سانس لیا – پھونک – جیسے کوئی بند کمرے میں دیر تک روکی ہوئی ہوا ایک دم باہر آئے۔ اس کی سانس کی ہوا نے پانی کی سطح پر چھوٹی چھوٹی لہریں دوڑا دیں – جیسے کوئی یاد جو آئی اور چلی گئی، کوئی نشان چھوڑے بغیر۔ پھر وہ کشتی کے گرد چکر لگانے لگی۔ ایک دھیما، بے پرواہ چکر، گویا کوئی اندھا شخص کمرے کا طواف کر رہا ہو، دیواروں کو ٹٹولتا، اس دروازے کو ڈھونڈتا جو کبھی تھا ہی نہیں۔ اس کے چکر کا ہر گھیراؤ پچھلے سے بڑا تھا – جیسے وہ کشتی کے راز کو ناپ رہی ہو، مگر کوئی راز تھا ہی نہیں – صرف خالی پانی۔ فَیَّاض نے سرگوشی کی – ایک ایسی سرگوشی جس میں حیرت اور خوف کے درمیان کی لرزش تھی: "یہ کیا ہے؟" صابِر نے جواب دیا: "سُنس۔۔۔ اندھی۔" بس دو لفظ۔ مگر ان دو لفظوں میں ایک پوری کتاب کا خلاصہ تھا – وہ کتاب جسے کسی نے کبھی نہیں کھولا، اور جسے کھولنے کی جسارت کسی میں نہ تھی۔ مچھلی نے اپنی ناک سے کشتی کے تختے کو چھوا – ہلکا سا، بے یقینی کے ساتھ۔ اس کے چھونے سے تختے کی لکڑی نے ایک گہری آہ بھری – جیسے اسے کوئی پرانی یاد آ گئی ہو، جیسے کشتی کبھی کسی اور دریا میں تیری تھی، کسی اور وقت میں۔ پھر وہ پلٹی اور غائب ہو گئی – پہلے اس کی دم، پھر اس کی پیٹھ، پھر وہ سفید دھبے جو آنکھیں ہونے کا جھوٹ بولتے تھے۔ پانی نے اسے نگل لیا – اور پانی پھر سے ویسا ہی ہو گیا جیسے پہلے تھا – خالی، بے پرواہ، لا تَعَیُّن۔ زِیان اس جگہ کو دیکھتا رہا – ایک لمحہ۔۔۔ اسے کچھ محسوس ہوا – نہ خوف، نہ حیرت، نہ ترس۔ بس وہ چپٹا پن جو کسی بے معنی کتاب کو پڑھنے کے بعد آتا ہے۔ یہ مچھلی اس کائنات کی ایک آیت تھی – بے ترجمہ، لکھی ہوئی مگر کبھی نہ پڑھی گئی۔ اس نے انہیں نہیں دیکھا – اس لیے نہیں کہ نظر انداز کیا، بلکہ اس لیے کہ آنکھیں تھیں ہی نہیں۔ زِیان نے سورج کی طرف دیکھا – یک دم۔۔۔ بغیر جھپکے، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کے سامنے سیاہ نقطے تیرنے لگے، جیسے کوئی پرانی فلم جس کی پٹی پھٹ گئی ہو۔ سورج بھی نہیں دیکھ رہا تھا – اور جو نہ دیکھے، وہ کیسے اِنصاف کرے؟ زِیان نے آنکھیں بند کیں تو اندر بھی وہی نقطے تھے – روشن، کانپتے ہوئے، جیسے پلکوں کے پیچھے چراغ جل اٹھے ہوں۔ ◆◆◆ دوپہر کی دھوپ نے پانی کی سطح کو ایک ایسی چمکتی ہوئی چادر میں بدل دیا تھا جس کے نیچے کشتی آہستہ آہستہ دھنس رہی تھی – جیسے کوئی تھکا ہوا مسافر بستر میں دھنسے، مگر بستر خود اسے نگل رہا ہو۔ تختوں کے درمیان کی دَرزیں پھیل گئی تھیں، اور ان سے پانی اندر آ رہا تھا – پہلے باریک دھاگے کی مانند۔۔۔ پھر انگلی کی مانند، پھر مٹھی کی طرح – مسلسل، بے روک۔ لکڑی کے ذرے پانی میں بکھر رہے تھے – جیسے یاداشت ٹوٹ رہی ہو، اور ٹوٹنے کے بعد بھی اس کا درد باقی رہ جائے۔ فَیَّاض نے دیگچی رکھ دی تھی۔ یہ فیصلہ نہیں تھا – بس ہاتھ کھل گئے تھے۔ اس کے ہاتھوں کی رَگیں نیلی اور ابھری ہوئی تھیں، مگر آنکھوں میں نہ حساب تھا، نہ سوال۔ وہ پانی نکالتا تھا کیونکہ وہ پانی نکالتا تھا۔ کامِل کی نگاہ اب اپنی بے جان بانہہ پر نہ تھی۔ اس نے پتوار کی رسی سنبھالنے کی کوشش کی – لیکن وہ دھاگے دھاگے ہو چکی تھی۔ ایک لمبا لچکدار دھاگہ اس کی انگلیوں میں اُلجھتا گیا – جیسے کوئی راز جو کھلنے کے بجائے اور گہرا ہو جائے۔ پھر ہوا آئی – اس بار یَک سُو – اسی رخ سے جہاں جانا تھا۔ مگر بادبان اس قدر پھٹا تھا کہ ہوا کشتی کے پہلو سے ٹکرا رہی تھی۔ کشتی ترچھی ہو گئی: ایک کنارا پانی میں دھنس گیا، دوسرا اوپر اٹھ گیا – گویا کوئی بیمار جانور ایک طرف گر چکا ہو۔ یہ ہوا ایک ایسے قَرض کی مانند تھی جو کبھی اَدا نہیں ہوتا – جسے اپنی طرف سمجھا جائے، اور وہ بے حسی سے پلٹ کر رد کر دے۔ زِیان نے ہاتھ ہوا میں اٹھایا – اسے محسوس ہوا کہ ہوا ایک ساتھ دو سمتوں سے آ رہی ہے: ایک ٹھنڈی، ایک گرم – دو متضاد حقیقتیں، جو ایک ہی لمحے میں موجود ہوں، مگر ایک دوسرے کو منسوخ نہ کریں۔ صابِر نے چپّو چلایا – ایک بار، دو بار۔۔۔ ناجانے کتنی بار۔ مگر کشتی وہیں رہی۔ اس کے کندھوں کی ہڈیاں چٹخ رہی تھیں۔ اس کی پیٹھ پر جمے خون پر نمکین ہوا نے لکیریں بنا دی تھیں – ایک ایسا نقشہ جسے کوئی کبھی نہیں پڑھے گا۔ زِیان نے گننے کی کوشش کی۔ ایک، دو، تین… ایک سو بیس پر لہر آئی – گنتی ٹوٹ گئی۔ اس کی نظر کندھوں پر ٹکی رہی۔ کندھے چلتے رہے۔ ایک طویل وقفہ – کوئی نہیں بولا۔ صرف چپّو کی تَراکُش، پانی کی گھرگھراہٹ، اور کامِل کی سانس میں وہ ہلکی سی سیٹی – جیسے اندر کوئی خلا ہو۔ پھر صابِر نے کھَنکارا۔ بس اتنا۔ فَیَّاض نے بہت آہستہ کہا: "پانی۔۔۔" اور پھر خاموشی – اتنی مکمل کہ لگا پانی نے بھی سن لیا ہو، اور اب وہ بھی خاموش ہے۔ ◆◆◆ وہ۔۔۔ سُنہری گھڑی تھی۔ سورج اپنے زخموں سے روشن لہو بہاتا – جیسے کسی بے نام آسمان سے ٹکرا کر ٹوٹا ہو۔ شام چڑھ رہی تھی، پر ڈھلنے کی ادا وہم اوڑھے تھی: ہر چیز سونے میں پگھل رہی تھی – پانی، تختے، جھلسے چہرے، حتیٰ کہ سائے بھی۔ گویا کوئی جھوٹا وعدہ جو سچ ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ جائے۔ سورج ہیت کے کنارے ٹکا تھا۔۔۔گردش کی تھکان سے چور۔۔۔ ایک بڑی سرخ گولائی جو پانی پر اپنی افسردگی اتار رہی تھی۔ دور افق پر ایک دھوکا تھا – سہارے کی صورت – درخت، ایک مینار، چند چھتیں۔ اور اس کے پیچھے آسمان کا بدلتا مزاج – نیلے سے پیلے، پیلے سے نارنجی، نارنجی سے سرخ۔ وہ آسمان ایک زخم تھا جو بھرنے کو ترستا۔ زِیان کی آنکھیں اس سَراب کی طرف اٹھیں۔ اس کے ہونٹ ذرا ہلے – جیسے کوئی مصرعہ آنا چاہتا ہو۔۔۔ کوئی پرانا، آدھا، بھولا ہوا: "جب دید ہی نہ رہی، تو مہتاب کہے کوئی…" اور وہ رک گیا۔ باقی نہیں تھا۔ شاید کبھی تھا ہی نہیں۔ اس نے آنکھیں بند کیں – اور اندر بھی وہی سرخی۔۔۔ جو باہر تھی۔ فَیَّاض اچانک کھڑا ہو گیا – اتنی تیزی سے کہ کشتی زور سے ڈگمگائی۔ کامِل نے جھڑک کر کہا "بیٹھ!"، لیکن فَیَّاض کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو صرف ان لوگوں کی ہوتی ہے جو مرنے سے پہلے زندگی کو ایک بار اور دیکھ لیتے ہیں – وہ چمک جو کسی بجھتے ہوئے چراغ کی آخری لو ہوتی ہے۔ اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، انگلیاں پھیلائیں، اور چلایا — "کنارا! کنارا!" اس کی آواز ایسے پھوٹی جیسے پانی کے اندر سے آئے – دبی، گونجتی، بے اثر، جیسے وہ اپنے ہی خواب میں چیخ رہا ہو اور کوئی سننے والا نہ ہو۔ انہوں نے چپّو چلائے – پہلے سے زیادہ زور سے۔ صابِر کے چپّو سے ایک تیز تَراکُش کی آواز آئی – لکڑی پھٹ رہی تھی، اس کی ہتھیلی پر ایک نیا آبلہ پھوٹ پڑا، لیکن اس نے نہیں روکا۔ اس کے چہرے پر پسینے کی بوندیں جم گئی تھیں – وہ گرتی نہیں، صرف چمکتی۔۔۔ جیسے چھوٹے چھوٹے آئینے، جیسے اس کے چہرے پر ہزاروں آنکھیں کھلی ہوں۔۔۔ مگر کوئی دیکھ نہ رہا ہو۔ کنارا بڑھ رہا تھا۔ پتّے الگ الگ دکھائی دینے لگے – چھوٹے، گول، رگوں سمیت۔ وہ عمارت اب صاف نظر آ رہی تھی – ایک سفید گُنبد، جس کے نیچے کھڑکیاں تھیں، اور کھڑکیوں کے پیچھے اندھیرا، اتنا گہرا کہ لگتا تھا جیسے وہاں کوئی رہتا ہی نہیں۔ لیکن ایک کھڑکی میں وہ چھوٹی سی پیلی بتی اب بھی جل رہی تھی – ایک آنکھ کی طرح – گویا کہہ رہی ہو: "آؤ… مگر پہنچ نہیں سکو گے۔" فَیَّاض نے اپنی دیگچی پھینک دی – وہ پانی میں گر کر ڈوب گئی، اس کی دراڑ سے آخری ہوا نکل کر پانی پر بُلبلے بن گئی – اور اس نے اپنے ہاتھوں سے پانی نکالنا شروع کر دیا، گویا کوئی جو۔۔۔جو اپنے ہاتھوں سے سمندر خالی کرنا چاہتا ہو۔ پھر – پتے دھندلانے لگے۔ پہلے ان کے کنارے غائب ہوئے، پھر ان کا سبز رنگ پھیکا پڑ گیا۔ عمارت جھکی – اس کا گنبد پگھلنے لگا، جیسے موم کا بنا ہوا ہو۔ وہ پیلی بتی بجھ گئی – پہلے چمکی، پھر سکڑی، پھر غائب۔ وہ گہری پٹی پانی سے اٹھی – آہستہ آہستہ، بے آواز – اور نیچے سے کچھ نہ نکلا: صرف خالی پانی، اور پانی کی سیاہی۔ وہ بادَل تھا – ایک لمبا، پست سایَہ – جو کنارا معلوم ہوا تھا۔ کنارا تو کبھی تھا ہی نہیں – اور جو تھا ہی نہیں، اس کے کھونے کا غم کیسا۔ زِیان ہنسا – بے جان ہنسی جو اس کے گلے میں دب کر رہ گئی، ایک خشک، بے بس آواز، گویا کوئی خالی آب کا لوتھڑا۔ اس نے آواز دی: "تم نے کبھی دریا کو اتنا خالی دیکھا ہے؟" کسی نے جواب نہیں دیا۔ پھر ایک لفظ کہا، اکیلا لفظ۔۔۔ اونچی آواز میں، جیسے وہ خود کو پکار رہا ہو: "لا تَعَیُّن!!!" یہ لفظ دریا پر گرا تو پانی نے اسے بھی نگل لیا – جیسے اس نے سب کچھ نگل لیا تھا: امیدیں، ڈوبتے ہاتھ، ادھورے اشعار۔۔۔ سب۔ اور اس لفظ کے ڈوبنے کی جگہ پر ایک چھوٹا سا بُلبلَہ آیا – اور وہ بھی ٹوٹ گیا۔ ہوا نے جواب دیا – یا صرف چلی۔ اس بار وہ تیز تھی، ایک جھونکا جیسے کسی نے ان کے چہروں پر تھپڑ مارا ہو۔ کشتی پیچھے کو دھکیلی گئی – پوری کشتی، ایک ساتھ، گویا کسی نے فیصلہ کر لیا ہو۔ صابِر کا چپّو اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا – پانی پر تیرتا ہوا، جیسے کوئی وعدہ جو کبھی پورا نہ ہوا۔ وہ کنارہ بادل تھا۔ بادل کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا۔ اس کے ہونے کا غم کیسا۔ ◆◆◆ سورج نے جاتے ہوئے پانی کو ایک بار اور چھوا – پوری قوت سے – پھر افق کے نیچے اتر گیا، جیسے کوئی بات جو یاد آئی ہو اور کہے بغیر ہی بھول دی گئی ہو۔ اس کے بجھتے ہی اب ہوا کا مزاج بدل گیا۔۔۔ اب وہ ٹھنڈی نہیں تھی – صرف تاریک تھی، جیسے اندھیرے کی اپنی سانس ہو۔ پانی کا رنگ سرمئی سے سیاہ میں اترا – آہستہ، بے آواز – جیسے کوئی ہاتھ۔۔۔ اوپر سے سیاہی انڈیل رہا ہو، اور خود۔۔۔ دکھائی نہ دے۔ ◆◆◆ آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے بِکھرے پڑے تھے – کہیں گَھنے، کہیں پَتْلے، کہیں اس قدر پَھٹے کہ ان کے پیچھے چاندنی کی دھاریاں چمک رہی تھیں۔ چاند خود کہیں چھپا تھا – اس کی روشنی پانی پر اترتی تو ٹکڑوں میں، بکھری ہوئی، جیسے کسی نے چاندی کے برتن کو پاش پاش کر دیا ہو۔ کبھی ایک لمبی لکیر سی پانی پر پڑتی، کبھی صرف ایک چھوٹی سی گولائی، کبھی کچھ بھی نہیں – صرف سِیَاہی، اتنی گہری کہ آنکھیں اس میں کھو جائیں۔ پانی کی وہ سیاہی مَوجوں کے ساتھ اٹھتی اور گرتی، لیکن موجوں کا کوئی رخ نہ تھا، کوئی آواز نہ تھی – صرف ایک ہلکی سی ہَلچَل، جیسے کوئی سوتا ہوا بدن بے خَوابی میں کروٹ بدل رہا ہو۔ پھر ایک کنارہ آیا – اصلی۔ خاموش، گہرا، قریب۔ اس پر کوئی روشنی نہ تھی، کوئی مکان نہ تھا – صرف ایک لمبی لکیر جہاں پانی ختم ہو کر خاک شروع ہوتی تھی۔ جیسے کوئی خط جس پر صرف ایک لکیر کھینچی گئی ہو، اور لکھنے والا اٹھ کر چلا گیا ہو۔ کامِل نے جھڑکا: "اب اترو۔ کشتی پلٹے گی۔" اس نے یہ نہیں کہا کہ کیسے اترنا ہے، کون پہلے جائے گا – بس "اب اترو"۔ اس کی آواز میں خوف بھی نہیں تھا – صرف تھکن، جیسے وہ دیکھ چکا ہو کہ کوئی راستہ نہیں، اور پھر بھی بول رہا ہو۔ صابِر نے چپّو رکھ دیا۔ اس نے اپنے آبلوں سے بھرے ہاتھ پانی میں ڈبو کر ٹھنڈے کیے – پانی آبلوں میں چبھا، اس نے ہونٹ بھینچ لیے، مگر کوئی آواز نہ نکالی۔ اس کے ہونٹوں کے بیچ سے خون کی ایک پتلی لکیر نکلی اور ٹھوڑی سے ٹپک کر پانی میں گر گئی – جیسے کوئی دستخط۔ چھلانگ سے پہلے اس نے اپنے پاؤں کے تلووں کو تختے پر رگڑا۔ اس کے تَلْوے کی جلد نے لکڑی پر ایک سیاہ نشان چھوڑا – جیسے وہ کہہ رہا ہو: "میں۔۔۔ یہاں تھا"۔ اس کی ایڑی کی جلد موٹی اور سخت ہو گئی تھی، جیسے کسی جانور کا کُھر ہو۔ پھر وہ اٹھا، کشتی کے کنارے پر کھڑا ہوا، ایک لمحہ رکا۔ اس کا منہ ذرا کھلا – پھر بند ہو گیا۔ وہ پانی میں کود گیا۔ اس کے گرنے کی جگہ پر پانی نے ایک گہرا دائرہ بنایا – وہ پھیلتا گیا، پھر غائب ہو گیا، جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔ زِیان نے اسے تیرتے دیکھا – مضبوط، پھرتیلا، ہر چوتھے ہاتھ پر سانس لیتا ہوا۔ اس کا سر پانی سے اوپر آتا، آنکھیں کنارے پر جمی رہتیں، پھر وہ ڈوبتا، ہاتھ آگے بڑھتے، پانی کو چیرتے – جیسے کوئی خط لکھ رہا ہو، مگر وہ خط کبھی ختم نہ ہوتا۔ وہ کنارے سے دس فٹ دور تھا – پھر پانچ فٹ۔ اس کے ہاتھ دلدل کو چھو گئے۔ اس نے زور سے پانی کو دھکیل کر خود کو آگے بڑھایا، اس کے پاؤں نیچے دلدل میں دھنس گئے۔ پھر – وہ رک گیا۔ اس کا بدن اچانک جھَٹکا کھا گیا، جیسے کسی اندھے ہاتھ نے اس کے ٹخنے کو پکڑ لیا ہو – وہ ہاتھ جسے اس نے دیکھا نہیں تھا، جس کے بارے میں کسی نے کبھی بتایا نہیں تھا۔ اس کے بازو ہوا میں لہرائے – ایک بار، دو بار، تین بار۔۔۔ متعدد بار – گویا کوئی پرندہ جو اڑنا چاہتا ہو، مگر اس کے پر کٹ چکے ہوں۔ اس کا منہ کھلا – پانی اس کے منہ میں گھس گیا — نمکین، دلدل کی تَلْخ چاشنی لیے – اور آواز دبا دی۔ کوئی آواز نہ نکلی – صرف ایک خاموش چہرہ، اور آنکھیں جو اب بھی کنارے کو دیکھ رہی تھیں۔ زِیان کا منہ کھلا۔ آواز نہ آئی۔ اس کا گلا جیسے اندر سے بند ہو گیا ہو، جیسے اس کا بھی کوئی حصہ اس دریا میں تھا جو بولنے سے انکار کر رہا تھا۔ وہ ڈوبنے لگا – آہستہ۔ پہلے ٹھوڑی، پھر ناک۔۔۔ پھر آنکھیں – وہ آنکھیں جو اب بھی کنارے کو دیکھ رہی تھیں۔ پھر اس کے بال پانی کی سطح پر تیرنے لگے – کالے، لمبے، جیسے کائی – اور پھر وہ بھی۔۔۔ غائب ہو گئے۔ پانی بند ہو گیا – بالکل بند، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ نہ بُلبلے، نہ لہر، نہ آواز۔ ایک لمحہ گزرا – اتنا لمبا کہ لگا جیسے وقت ٹوٹ گیا ہو۔ اس لمحے ہوا بھی رک گئی۔ زِیان، جو الٹی ہوئی کشتی کے سہارے تھا، نے دیکھا – صابِر کا ہاتھ پانی کے اوپر آیا۔ پہلے انگلیاں – پھیلی ہوئی، کانپتی ہوئی – گویا کوئی اندھا شخص ہوا کو ٹٹول رہا ہو، گویا وہ آخری بار کچھ چھونا چاہتا ہو۔ ان کے نیچے پانی کی سطح پر چاندنی کا ایک ٹکڑا چمک رہا تھا – جیسے کوئی روشنی انہیں بلا رہی ہو، جیسے کوئی دروازہ کھلا ہو، مگر وہ اندر نہیں جا سکتے۔ پھر ہتھیلی – اس پر آبلوں کے نشان، لکیروں کی مانند۔ ایک نیا شگاف تھا – اس سے خون کی ایک پتلی سی لکیر نکلی، پانی میں گھل کر غائب ہو گئی، جیسے کوئی راز جو کبھی کھلا ہی نہیں۔ انگلیاں — کھلیں، بندھیں۔۔۔ کھلیں، بندھیں – گویا کوئی آخری پیغام لکھ رہی ہوں۔ ہوا میں ایک مٹھی، پھر کھلی ہتھیلی، پھر مٹھی۔ تین بار۔ ہر بار مٹھی بند ہونے پر انگلیوں کی ہڈیاں چٹختیں – جیسے کوئی کتاب بند ہو رہی ہو، جیسے کوئی باب ختم ہو رہا ہو۔ یہ ہاتھ وہ آخری سطر تھا جو شاعر لکھنا چاہتا ہے، مگر اس کا قلم ٹوٹ جاتا ہے – حروف ادھورے رہ جاتے ہیں، اور معنی ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ پھر ہاتھ غائب ہوا – جیسے کسی نے روشنی بجھا دی ہو۔ انگلیاں پہلے چھوٹی ہوئیں، پھر دھندلی، پھر صرف چاندنی کا ایک ٹکڑا رہ گیا – اور وہ بھی گم۔ پانی پر ایک بُلبلَہ آیا – اکیلا، بڑا – اور وہ ٹوٹ گیا۔ بعد میں دیہاتیوں کو ایک پرانی زَنجِیر ملی – کسی لَنگَر کی، کسی بھولی ہوئی کشتی کی – صابِر کا پاؤں اس میں پھنس گیا تھا۔ مگر اس وقت، اس تاریک پانی پر، صرف ہاتھ تھا۔ پھر ہاتھ نہ تھا۔ اور جو ہاتھ نہ ہو، وہ کیسے پکارے؟ اور جو پکارے بھی، تو کون سنے؟ ◆◆◆ صبح سے پہلے کی وہ گھڑی تھی جب رات سوتی ہے مگر دن ابھی معلق – آسمان پر ایک ہلکا سا نیلا پن پھیل رہا تھا، لیکن زمین پر اندھیرا ابھی تک ڈٹا ہوا تھا، جیسے کوئی بچہ۔۔۔ جو سونے سے انکار کر دے۔ یہ وہ ٹھرا پل۔۔۔ جب پرندے زندہ ہوتے ہیں پر لبھاتے نہیں – جب سائے پگھل چکے ہوتے ہیں مگر ملاحت۔۔۔ معدوم۔ اس دُھندلکے میں دِہاتِیوں نے تینوں کو دلدل سے نکالا۔ وہ خاموش تھے، ان کے چہرے تھکے ہوئے، آنکھوں میں وہ سوال جس کا جواب کوئی نہیں دیتا۔ ان کے پاؤں دلدل میں دھنس رہے تھے اور پھر نکل رہے تھے – اس آواز کے ساتھ جیسے کوئی بوسِیدَہ دروازہ کھل رہا ہو، مگر اندر کوئی نہ ہو۔ صابِر کی لاش کیچڑ میں پڑی تھی۔ اس کا منہ کھلا تھا، اور ہونٹوں پر کیچڑ جم گئی تھی – جیسے کسی نے اس کے آخری لفظ کو مٹا دیا ہو۔ اس کی آنکھیں بند تھیں، لیکن پلکیں کانپ رہی تھیں – جیسے وہ اب بھی کچھ دیکھ رہا ہو، جیسے اس کی آنکھوں نے بند ہونے سے پہلے کوئی ایسی چیز دیکھ لی تھی جسے وہ بھولنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کے بالوں میں پانی کے گھونگھے آ گئے تھے، اور ایک چھوٹی سی مچھلی اس کے کان کے پاس تیر رہی تھی – جیسے وہ سننا چاہتی ہو کہ اس نے مرنے سے پہلے کیا کہا تھا، مگر اس نے کچھ نہیں کہا تھا۔ فَیَّاض دلدل میں آبدیدہ لیٹا تھا۔۔۔ آنسو گارے میں مل رہے تھے، چہرے پر گہری لَکِیریں بن گئی تھیں۔ اس نے اپنا منہ اپنے کانپتے کندھوں میں چھپا لیا – اتنی تیزی سے کہ اس کی رِیڑھ کی ہَڈّی کی گانٹھیں الگ الگ دکھائی دے رہی تھیں، جیسے کوئی تَسْبِیح جس کے دانے بِکھرنے والے ہوں۔ کامِل دریا سے پیٹھ پھیرے بیٹھا تھا – اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، نہ دریا کو، نہ اس جگہ کو جہاں صابِر ڈوبا تھا۔ اس کی بے جان کِسَہ اس کی گود میں پڑی تھی – اور وہ اسے اپنی دوسری بَانہہ سے تھامے ہوئے تھا، جیسے وہ اسے اڑنے نہیں دینا چاہتا۔ زِیان ایک طرف الٹا پڑا تھا۔ اس نے اپنا چہرہ دلدل سے اٹھایا، ایک بار تھوکا – تلخ اور ریتلا – اور پھر بے سُود لیٹ گیا۔ اس نے دریا کی طرف دیکھا۔ پانی ٹھہرا ہوا تھا – مکمل پھیلا ہوا – اور اس پر ایک بھی حرف نہیں۔ پانی کے اندر، بہت گہرائی میں، کچھ ہلا – یا شاید نہیں۔ زِیان کی آنکھیں وہاں ٹکی رہیں، پھر سطح پر آ گئیں۔ پانی ویسا ہی تھا۔ اس نے اپنے کُرْتے کے اندر سے کاغذ کا ایک پرانا ٹکڑا نکالا۔ اس نے اسے کھولا – کاغذ اتنا پرانا تھا کہ چھونے سے بکھرنے لگا۔ اس کے کنارے پھٹے ہوئے تھے، اور اس پر پانی کے دھبے تھے، جیسے کسی نے اس پر اپنا دکھ چھوڑ دیا ہو۔ اس پر ایک ادھورا مصرع تھا: "ہم نے دریا کو سمجھا تھا کوئی دیوانِ عَطا…" اس نے دوسرا مصرع مکمل کرنے کی کوشش کی – اس کے منہ نے کچھ الفاظ بنائے، لیکن وہ ہوا میں اڑ گئے، کاغذ پر نہیں ٹھہرے۔ اس نے کاغذ کو چار ٹکڑوں میں پھاڑا۔ دو ٹکڑے ہوا میں اڑ گئے۔ دو ٹکڑے پانی میں گرے – ایک تیرا، پھر ڈوب گیا۔ دوسرا تیرتا رہا – آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا، جیسے کوئی امید جو کبھی ملی ہی نہ تھی۔ پانی نے اسے نہیں پڑھا۔ پانی نے کبھی کچھ نہیں پڑھا۔ زِیان کے ہاتھ – وہی ہاتھ جن پر پانی نے جھریاں بنا دی تھیں، وہی ہاتھ جنہوں نے کاغذ پھاڑا تھا – اب بھی کانپ رہے تھے۔ خالی۔ ہوا چل رہی تھی – وہی بادِ مُخالِف، جو کبھی نہیں رکی تھی، جو اس وقت بھی چل رہی تھی جب وہ کشتی میں تھے۔۔۔ جو اب بھی چل رہی تھی، اسی مخالف رخ سے – اس کی تقدیر میں کبھی ساتھ چلنا تھا ہی نہیں۔ آج بھی وہ ہوا چل رہی ہے۔۔۔ اور دریا — اب بھی کھلا ہے۔ Abgeenay @abgeenay21
اردو
1
1
5
179
سیدہ ام ہانی
@Itx_Pari_ Happy Birthday! 🎂 Hope your day is filled with good vibes, smiles, and a little bit of magic ✨
English
1
1
1
41
پری
پری@Itx_Pari_·
ZXX
4
0
5
99
Ali Khan
Ali Khan@AtwoZE·
Guess who just ditched their workplace to spend the morning in a coffee shop? Me thats who 😂
Ali Khan tweet media
English
2
0
6
118
سیدہ ام ہانی
سیدہ ام ہانی@_SUM_786_·
@ali_saj786 میرے حصے میں تو پہلے ہی بٹا ہوا آیا ہے اتنے تھوڑے سے میسر پر کفایت کیسی ہے میری تصویر میں رہنے دو یہ ویرانی مجھ سیاہ بخت پہ رنگوں کی عنایت کیسی تم نے بے کار تکلف ہی کیا کہنے کا ورنہ نفرت تو نفرت ہی ہے نہایت کیسی
اردو
0
0
2
25
Sajjad Ali rajput
Sajjad Ali rajput@ali_saj786·
پوچھو گے نہیں کیسے کٹی تمہارے بعد ہم کو مہنگی پڑی حیات تمھارے بعد اک میں ہوں جسکا حال مسلسل خراب ہے اک آئینے پہ دھول جمی ہے تمہارے بعد میں جانتی ہوں یا میرے رب کو علم ہے تکلیف جتنی میں نے سہی ہے تمہارے بعد آنکھوں کے گرد حلقے پڑتے جا رہے ہیں آنکھوں کے بیچ بھاری نمی ہے تمہارے بعد سادہ سی بات ہے جو سمجھتے نہیں ہو تم میری زندگی میں تمہاری کمی ہے تمہارے بعد یوں ہی امید دلاتے ہیں زمانے والے کب پلٹتے ہیں بھلا چھوڑ کر جانے والے ایسے، ویسے، ویسے کیسے ہیں دیکھو نہ یہ لوگ بھی کیسے کیسے ہیں کیا تم نے نزدیک سے دیکھی ہے تنہائی اس کے سارے راہ میرے جیسے ہیں #اردو_زبان
اردو
1
1
5
80
Ali Khan
Ali Khan@AtwoZE·
@_SUM_786_ Ye ek raaz ki baat hai mei nahi bataun ga.
हिन्दी
1
0
0
22
سیدہ ام ہانی
سیدہ ام ہانی@_SUM_786_·
@SaimaChPk ہاہاہا ارے نہی تاریخ کا بھی حساب ہوتا ہے اور یہ تو جن سے پالا پڑا وہ بتایا وگرنہ ہر انسان صرف اپنے zodiac سے define نہیں ہوتا۔ upbringing، experiences اور personality زیادہ بڑا رول play کرتے ہیں۔
اردو
1
0
1
19
Šaima CH
Šaima CH@SaimaChPk·
@_SUM_786_ اللہ اللہ اللہ جذباتی ہیں حساس ہیں ہم مگر جو آپکی بیان کردا خیالات ہیں یہ تو آج پتہ چلے اچھا ہے یہ سب جاننے کو پوسٹ کی ہے ہم بھی آویں بہت مہان بنے پھرتے ہیں آپکی رائے کا شکریہ ❗️
اردو
1
0
1
14
Šaima CH
Šaima CH@SaimaChPk·
✨کینسرین سٹار✨ علم نجوم (Astrology) کے مطابق برج سرطان (Cancer) کے حامل افراد اپنی جذباتی وابستگی اور وفاداری کے لیے مشہور ہوتے ہیں۔ 🚫جہاں تک "شرک" یا اپنے ساتھی کی توجہ میں کسی اور کی شمولیت کا تعلق ہے، تو کینسرین افراد اس معاملے میں کافی حساس واقع ہوئے ہیں۔ برج سرطان کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں: ### 1. حد درجہ وفاداری اور اخلاص اس برج کے لوگ جب کسی سے رشتہ جوڑتے ہیں تو اسے پوری شدت سے نبھاتے ہیں۔ ان کے لیے محبت اور دوستی ایک مقدس بندھن کی طرح ہوتی ہے، اسی لیے وہ اپنے ساتھی سے بھی اسی سطح کی مکمل وفاداری کی توقع رکھتے ہیں۔ ### 2. توجہ میں شراکت ناپسند کرنا کینسرین افراد فطرتی طور پر تھوڑے "Possessive" (قابضانہ سوچ رکھنے والے) ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنے پیاروں کے معاملے میں بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں اور یہ برداشت نہیں کر پاتے کہ ان کا جیون ساتھی یا قریبی دوست ان کے علاوہ کسی اور کو زیادہ اہمیت دے۔ ### 3. جذباتی اور حساس طبیعت چاند اس برج کا حاکم سیارہ ہے، جس کی وجہ سے ان کے جذبات سمندر کی لہروں کی طرح اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں۔ اگر انہیں ذرا سا بھی احساس ہو کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے، تو وہ فوراً اپنے خول (Shell) میں بند ہو جاتے ہیں اور شدید دکھ محسوس کرتے ہیں۔ ### 4. تحفظ کا احساس (Protective Nature) یہ لوگ نہ صرف خود وفادار ہوتے ہیں بلکہ اپنے خاندان اور رشتوں کے گرد ایک حفاظتی دیوار کھڑی کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے حلقہ احباب میں کسی تیسرے فرد کی ایسی مداخلت کو بالکل پسند نہیں کرتے جو ان کے تعلقات میں دراڑ ڈالے۔ ### 5. مضبوط قوتِ مشاہدہ (Intuition) کینسرین افراد کی چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ اگر کوئی ان سے جھوٹ بول رہا ہو یا وفاداری میں ڈنڈی مار رہا ہو، تو یہ اسے بہت جلد بھانپ لیتے ہیں۔ --- ایک اہم نکتہ: اگرچہ یہ لوگ محبت میں بہت گہرے ہوتے ہیں، لیکن ان کی "توجہ میں شراکت" نہ برداشت کرنے والی عادت کبھی کبھی سامنے والے کے لیے تھوڑی دشواری کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ وہ ہر وقت مکمل توجہ کے طلبگار رہتے ہیں۔ ❗️❗️❗️❗️
Šaima CH tweet media
اردو
14
2
19
723
سیدہ ام ہانی
سیدہ ام ہانی@_SUM_786_·
@SaimaChPk یہ لوگ اکثر اپنے جذبات کو اتنا بڑھا لیتے ہیں کہ چھوٹی بات کو بہت بڑا بنا دیتے ہیں ناراض ہو کر چپ ہو جاتے ہیں (silent treatment) سامنے والے کو guilt feel کرواتے ہیں بغیر سیدھا بات کیے یہ ہے کہ یہ اپنے جذبات کو handle کرنے کے بجائے دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔
اردو
2
0
1
19
Šaima CH
Šaima CH@SaimaChPk·
@_SUM_786_ ✍️کینسیرین کی کوئی اکلوتی خوبی یا خامیاں جو آپکو بھلی یا بری کگتی ہوں یا کبھی کینسرین سے پلا نہیں پڑا؟
اردو
1
0
1
31
Qirtaas🪶
Qirtaas🪶@QirtasWrites·
موضوع : بادِ مخالف عنوان : الجھی ڈائری کے بوسیدہ اوراق میں سے ایک حصہ بقلم : سیدہ اُمِّ ہانی ═════ ❖ ═════ بات یہ نہیں کہ میرے پاس لفظ ختم ہو گئے ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ لفظ کہیں ٹھہر گئے ہیں، کسی انجانی سی تھکن کے زیرِ اثر، کسی ان دیکھے بوجھ کے تلے دب کر. یہ کیفیت نئی نہیں ہے میرے لیے میں اس اجنبیت سے پہلے بھی کئی بار گزر چکی ہوں، مگر ہر بار اس کا رنگ کچھ اور گہرا، کچھ اور بوجھل ہو جاتا ہے. میرے اندر ایک ہنگامہ برپا ہے، ایسا ہنگامہ جس کی آواز باہر تک نہیں پہنچتی، مگر اندر کی ہر دیوار اس کی بازگشت سے لرزتی رہتی ہے. میں خاموش ہوں، مگر یہ خاموشی سکوت نہیں، یہ ایک مسلسل شور ہے جو دل کے نہاں خانوں میں گونجتا رہتا ہے. گزشتہ چند برس یوں لگتے ہیں جیسے وقت نے میرے حصے میں آزمائشیں کچھ زیادہ ہی لکھ دی ہوں یوں لگتا ہے جیسے زندگی نے مجھے میرے ہی خلاف لا کھڑا کیا ہو. میں نے اُن راستوں پر قدم رکھا جن سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کی تھی، اور اُن لوگوں پر اعتبار کیا جنہیں شاید کبھی میرا ہونا سمجھ ہی نہیں آیا۔ میں نے رشتوں کو محض تعلق نہیں سمجھا، انہیں اپنے وجود کا حصہ بنا لیا. مگر عجیب ہے … یہ تعلق کی رمز بھی جو چیز جتنی شدت سے دل میں جگہ بناتی ہے، وہی اتنی ہی شدت سے ٹوٹ کر انسان کو خالی کر جاتی ہے میں نے تعلقات کو محض نبھایا نہیں، انہیں جیا ہے، ان پر یقین کیا ہے، انہیں اپنی ذات کا حصہ بنایا ہے. مگر پھر وہی تعلقات، وہی چہرے، وہی آوازیں ایک ایک کر کے یادوں کے ملبے تلے دبتی چلی گئیں کچھ رشتے یوں بکھرے جیسے کبھی تھے ہی نہیں، اور کچھ یوں ٹوٹے کہ آج بھی ان کی کرچیاں دل میں پیوست ہیں. میں نے خود کو سنبھالا، بارہا بار . ہر بار جب لگا کہ اب مزید ممکن نہیں، میں نے اپنے ہی وجود کو تھام کر خود کو ایک بار پھر کھڑا کیا حالانکہ میں وہ ہوں جو ہنگاموں سے کنارہ کشی اختیار کرتی ہے، جو تلخی سے پہلے خاموشی کو ترجیح دیتی ہے، جو رخصت ہو جانا آسان سمجھتی ہے، بجائے اس کے کہ خود کو ثابت کرتی پھرے. مگر زندگی نے کچھ لمحے ایسے بھی دیے جہاں مجھے اپنے ہی مزاج کے خلاف بغاوت کرنی پڑی. اپنے لہجے میں سختی لانی پڑی، اپنے دل کو سنگ کرنا پڑا، اور اپنی آنکھوں میں وہ جلال اتارنا پڑا جسے میں نے کبھی پسند نہیں کیا تھا اور یہ سب کرتے ہوئے میں اندر سے کہیں بہت آہستہ آہستہ ٹوٹتی رہی. اب کیفیت یہ ہے کہ خیالات کا ایک سیلاب ہے، بے ترتیب، بے مہار، جیسے کوئی دروازہ ٹوٹ کر کھل گیا ہو اور سب کچھ ایک ساتھ اندر آ گرا ہو۔ مگر الفاظ جیسے لبِ خاموشی سیے بیٹھے ہیں، جیسے کسی آخری سفر پر روانہ ہو چکے ہوں اور میں ان کی میت کے سرہانے بیٹھی انہیں واپس بلانے کی بے سود کوشش کر رہی ہوں۔ میں لکھنا چاہتی ہوں، بہت کچھ، بے تحاشا، مگر ہر بار قلم ہاتھ میں آ کر ایک انجانی سی لرزش میں مبتلا ہو جاتا ہے، اور پھر میں خود سے نظریں چرا لیتی ہوں۔ مگر اس سب کے باوجود، میں نے ہار ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ ہاں، میں تھک گئی ہوں، یہ ماننے میں اب کوئی جھجک نہیں۔ ہاں، میرے اندر خالی پن در آیا ہے، یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے۔ مگر میں نے پیٹھ موڑنا نہیں سیکھا۔ میں نے ٹھہرنا سیکھا ہے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، چاہے ہر سمت سے ہوا کا رخ میرے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ میں اب بھی وہیں کھڑی ہوں، لرزتی ہوئی، مگر جمی ہوئی۔ میرے لفظ اگر مجھ سے روٹھ گئے ہیں، میری تحریر اگر سانسوں کے سہارے چل رہی ہے، تو بھی میں اسے مرنے نہیں دوں گی۔ میں اسے اپنے اندر دفن نہیں ہونے دوں گی، میں اسے خاموشی کے اندھیروں میں گم نہیں ہونے دوں گی۔ کیونکہ یہ محض تحریریں نہیں، یہ میری ذات کا وہ حصہ ہے جو ہر شکست کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ میں لکھنا چاہتی ہوں… بہت کچھ اور بے حد، سچ تو یہ ہے کہ لکھ لینا آسان ہوتا ہے… کیونکہ لکھ کر انسان اپنے بوجھ کا کچھ حصہ اُتار دیتا ہے۔ مگر نہ لکھ پانا یہ ایک ایسی اذیت ہے جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی۔ یہ اندر ہی اندر انسان کو کھوکھلا کرتی رہتی ہے، بغیر کسی آواز کے، بغیر کسی نشان کے. میری دنیا بھی کچھ بدل سی گئی ہے۔ میرا انداز، میری باتیں، میری خاموشیاں سب کچھ اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ ہاں، میں تھک چکی ہوں. مگر اس کے باوجود… میں نے مکمل طور پر ہار ماننے سے انکار کر دیا ہے. چاہے میرے لفظ ٹوٹے ہوئے ہوں چاہے میری تحریر سانسوں کے سہارے ہی کیوں نہ چل رہی ہو میں اسے مرنے نہیں دوں گی. کیونکہ یہ صرف الفاظ نہیں… یہ میرا وجود کا وہ حصہ ہے جو ہر بار ٹوٹ کر بھی زندہ رہتا ہے. اور میں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ شاید… ابھی میرے اندر کہیں ایک ننھی سی رمق باقی ہے۔ ایک مدھم سی روشنی جو بجھنے سے پہلے آخری بار ضرور چمکتی ہے. میں اسی روشنی کو تھامے ہوئے ہوں. سیدہ ام ہانی @_SUM_786_
Qirtaas🪶@QirtasWrites

اے تخلیقِ نو کے مسافرو! قرطاس اس بار آپ کو دعوت دیتا ہے کہ اپنے قلم کی قوت سے "بادِ مخالف" کے تھپیڑوں کا رخ متعین کریں۔ وہ ہوا جو چراغوں کو بجھانے کا قصد کرتی ہے، وہی تو عقابوں کو بلند پروازی کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ چاہے وہ حالات کی سنگینی ہو، معاشرے کی بے رخی، یا اپنے ہی اندر اٹھنے والے شک و شبہات کے طوفان اپنی تحریروں سے اس تلاطم کی منظر کشی کریں جو قدموں کو اکھاڑنے کی کوشش تو کرتا ہے مگر ارادوں کو مضبوط کر جاتا ہے۔افسانہ ہو یا آپ بیتی ، ہمیں انتظار رہے گا آپ کی تحاریر کا جو ثابت کریں کہ تند و تیز ہواؤں کے سامنے سینہ سپر ہونا ہی زندگی کا اصل حسن ہے۔ موضوع: بادِ مخالف 1. امیدوار کے لیے انتظامیہ کے آفیشل ہینڈل کو فالو کرنا لازمی ہوگا تاکہ اپ ڈیٹس ملتی رہیں۔ اکاؤنٹ کی قسم: امیدوار کا اکاؤنٹ پبلک ہونا ضروری ہے، پرائیویٹ اکاؤنٹس کی تحاریر پینل کو نظر نہیں آئیں گی۔ 2. تحریر کے ضوابط: تحریر مکمل طور پر غیر مطبوعہ (Unpublished) اور امیدوار کی اپنی تخلیق ہونی چاہیے۔ سرقہ: کسی دوسرے کی تحریر اپنے نام سے شیئر کرنے پر امیدوار کو فوری طور پر نااہل (Disqualify) کر دیا جائے گا۔ موضوع کی پابندی: تحریر دیئے گئے موضوع یا عنوان کے عین مطابق ہونی چاہیے۔ اخلاقی حدود: تحریر میں کسی بھی قسم کی مذہبی، سیاسی، لسانی منافرت یا غیر اخلاقی الفاظ کا استعمال ممنوع ہے۔ 3. امیدوار کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ اپنی تحریر انتظامیہ تک پہنچائے۔ 4. نتائج: ججز تحریر کا انتخاب زبان و بیان کی چاشنی، املا کی درستی، خیال کی ندرت اور موضوع پر گرفت کی بنیاد پر کریں گے۔ فیصلہ: ججز کا فیصلہ حتمی ہوگا اور اسے کسی بھی فورم پر چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ 5. تحریر جمع کروانے کی آخری تاریخ 14 اپریل 2026 وقت۔ رات 12 بجے (پاکستان ٹائم) ہے۔

اردو
3
5
10
1.2K
Alister
Alister@Alister_men·
لائٹ چلے جانے پر آڈیو کیسٹ پلیئر میں کیسٹ کے پھنس جانے کا ڈر اور کیسٹ کو انگلی کے ساتھ گھما کر ری پلے کرنے کا مزہ آج کل کی Gen Z کیا جانے جو یوٹیوب اور Spotify ya کی عادی ہے۔ #BeautifulERA
اردو
2
0
6
165
سیدہ ام ہانی retweetledi
Maher zada🌙🌺
Maher zada🌙🌺@Maherzada44·
ردائے سخن میں بیت بازی کے پہلے مقابلے نے سماں باندھ دیا۔ زاہد صاحب کی ٹیم نے نہایت خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ مقابلہ جیت لیا ٹیم کے ہر رکن نے بہترین اشعار اور حاضر جوابی سے محفل کو چار چاند لگا دیے مبارک باد بہت بہت زاہد صاحب آپ کو پوری ٹیم کو 💐 @comphortor #ردائے_سخن
Maher zada🌙🌺 tweet media
اردو
11
9
30
1.9K
سیدہ ام ہانی
ہے اس کی ہمت؟ مجھے بھلائے ؟ میں ساتھ چھوڑوں ، وہ مر نہ جائے! تمہیں پتا ہی نہیں ہے اس کا میں اس کے سب سے قریب تر ہوں وہ میرے بارے میں سوچتا ہے میں سب سے زیادہ قریب ہوں اس کے میں اس کو اندر سے جانتی ہو وہ جب یہ کہہ دے کہ ؛ میں تمہارا میں آنکھ بند کر کے مانتی ہوں۔۔
سیدہ ام ہانی tweet media
اردو
4
1
17
431
Alister
Alister@Alister_men·
20 اپریل 571 عیسوی 12 ربیع الاول پیر کا اس کائنات میں ایک ایسی ہستی کا ظہور ہوا جو امام انبیاء کہلاتے ہیں جو رحمت العالمین کہلاتے ہیں جو خداوند ذات کے بعد مالک کائنات کہلاتے ہیں۔ یعنی آقا جی صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا آج ماشاءاللہ پیر کا دن ہے اور تاریخ بھی 20 اپریل ہے۔
اردو
3
0
6
125
سیدہ ام ہانی retweetledi
سیدہ ام ہانی
سیدہ ام ہانی@_SUM_786_·
شاہ جہان نے محبت میں تاج محل بنوایا تھا 🏰 میں غریب لڑکی ہوں تمھاری قبر پکی کروا دونگی 🥹😎😀
اردو
10
1
16
610
سیدہ ام ہانی
بات یہ ہے کہ ہمیں اپ کو تکلیف دینے کی بالکل ضرورت نہیں ہے کیوں کہ اپ پہلے سے ہی تکلیف کے اندر ہے اپ حسد کر سکتے ہیں اپ منافقت کر سکتے ہیں اس سے زیادہ خدا نے اپ کو کچھ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں دی اپ پہلے ہی اپنی سوچ، اپنے حسد، اور اپنے جھوٹوں میں دفن ہے You can't compete with us
اردو
1
1
18
325