
جب تک ایک نہ تجربہ کار اور نئے بندے کے ہاتھ میں حکومت تھی تب تک پیٹرول 214 جبکہ ڈیزل 149 کی بلند ترین اور مہنگی ترین سطح پر تھا
جب تجربہ کار اور فارم 47 کی پیداوار بادشاہ سلامت کی منظورےنظر ائے تو اج ماشاءاللہ پٹرول 458 جبکہ ڈیزل 520 روپے پہنچا کر اپنے تجربہ کاری کے ساتھ غریب عوام کو مستفیض کیا
اگر میں غلط نہ ہوں تو پٹرول اور ڈیزل کو مہنگا کرنے کے پیچھے عوام کی توجہ الیکٹرک موٹر سائیکل اور الیکٹرک کار کی طرف لانا ہے
اور یہاں بھی غریب خسارے میں ہی ہے
انا للہ وانا الیہ راجعون
کہاں ہیں وہ لنڈے کے صحافی
جو چیخ چیخ کر مہنگائی کا رونا روتے رہے 2018 سے 2022 تک
اج جب غریب مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے تو ان کو مہنگائی نظر کیوں نہیں ارہی
اج جب غریب مہنگائی سے تنگ ہو کر خودکشی کر رہا ہے تو ان کو غربت نظر کیوں نہیں ا رہی
میں بتاؤں کیوں نہیں نظر ارہی ؟؟؟؟
اج ان کے لفافے ان کو باقاعدہ طور پہ وصول ہو رہے ہیں
جس کی وجہ سے ان کی مہنگائی دیکھنے والی نظر کام کرنا چھوڑ گئی ہے
یہ چاہتے تو 50 روپے 50 روپے مہنگا کر کے بھی غریب کو ترسا ترسا کے مار سکتے تھے
انہوں نے اکٹھا 136 روپے مہنگا کر کر ایک ہی سانس میں مارنے کی کوشش کی
ایسی صورت میں ایک ہی حل پیچھے رہ گیا ہے غریب اور عام عوام کے لیے
اپنے حق کے لیے روڈوں پر نکلیں
نہیں تو یہ ظالم جابر حکمران اپ کی میتوں کو بھی نوچ کھائیں گے
اور ان کو پوچھنے والا کوئی بھی نہیں ہوگا
نکلو اپنے حقوق کی خاطر
نکلو اس ظالم اور جابر غریب دشمن حکومت ۔۔۔۔
@PTIofficial
@Aladeen_Pro
@ImranRiazKhan
@noreen_khanum
@SohailAfridiISF

اردو
















