
🅟🅡🅞 🅣🅐🅝🅞🅛🅘
89K posts

🅟🅡🅞 🅣🅐🅝🅞🅛🅘
@altanole
رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا. human rights activist PhD in Environmental


Actress Mishi Khan has accused the government for alleged artificial weather modifications 🔥

وفاقی وزیر احسن اقبال سے میرا سوال سر عوام کو کفایت شعاری کا کہا جا رہا ہے خود آپ بڑی لگثری گاڑی میں جا رہے ہیں ؟ باقی خود دیکھ لیں

پاکستان سالانہ تقریباً 5000 ارب روپے کا تیل خریدتا ہے۔ لیکن جنگ کی وجہ سے 60 ڈالر فی بیرل ملنے والا تیل 120 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔ جو تیل بردار جہاز اسکو لاتے ہیں انکا کرایہ 4 گنا بڑھ گیا جب کہ انشورنش کمپنیاں اب اس تیل کی انشورنش 10 گنا مانگ رہی ہیں۔ اس کے بعد اس کو صاف کرنے کا خرچہ بھی دگنا ہوگیا ہے۔ یوں اگر پاکستان اتنا ہی تیل خریدتا ہے جتنا پہلے خرید رہا تھا تو کم و بیش 10000 ارب سے 12000 ارب روپے خرچ کرنے پڑیں گے۔ کیا پاکستان کے قومی خزانے میں اتنی رقم ہے؟ یہ تیل پاکستان کو فی لیٹر 500 اور ڈیزل 600 کا ہی پڑ رہا ہے۔ اس کو عوام کو 200 یا 300 پر دینے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ باقی رقم ریاست اپنی جیب سے ڈالے۔ وہ باقی رقم دو طریقوں سے آسکتی ہے۔ یا ریاست قرض لے یا عوام پر ٹیکس لگا کر عوام سے ہی وصول کرے۔ کوئی تیسرا طریقہ آپ جانتے ہیں تو ضرور بتائیں۔ عوام پر ٹیکس لگانا وہی ہوگا کہ ناک یہاں سے پکڑو یا وہاں سے پکڑو۔ جہاں تک قرض لینے کی بات ہے تو ہمیں آئی ایم ایف نے بمشکل ہزار منت ترلوں کے بعد کوئی سوا ارب ڈالر کی قسط جاری کی ہے جو تقریباً 310 ارب روپے بنتے ہیں وہ بھی کڑی شرائط پر۔ کیا یہ 10 یا 12 ہزار ارب روپے کا خرچہ پورا کر لینگے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں حکومت جو اعلی عہدوں پر بیٹھے ججوں افسروں وغیرہ کو مفت تیل دیتی ہے وہ بند کرے تو ٹھیک ہوجائیگا۔ وہ تیل کل ملا کر 114 ارب روپے کا بنتا ہے۔ جس سے میں آدھا حکومت نے چند ہفتے پہلے ہی بند کر دیا۔ لیکن اگر سارا بھی بند کردیں تو 10 یا 12 ہزار ارب میں کتنا فرق پڑ جائیگا؟کچھ کہتے ہیں ایران سے خرید لیں۔ ایران پر اقوام متحدہ کی عالمی پابندیاں ہیں۔ دوستی انکا تیل ریفائن کرنے کی ہماری ریفائنریز میں وہ ٹیکنالوجی نہیں ہے ایتان کا ہیوی تیل ہے جس میں دو پرسنٹ تک سلفر بھی ہوتا ہے اگر ہماری ان ریفائنریز نے کرنٹ ٹیکنالوجی کے ساتھ ریفائن کیا تو یے ریفائنریز کچھ دنوں میں ہی بند ہو جائیں گی اس لے یے وزئبل آپشن نہیں ہے اور اگر ہم اپگریڈیشن کریں بھی جس پر پھر اربوں ڈالر لگیں گے اور وہاں سے ہم دو تین ارب ڈالر کا سستا تیل خرید لینگے بدلے میں مجموعی طور پر اپنی 50 ارب ڈالر کی ترسیلات زر اور برآمدات بند کروا دینگے۔ یہی مسئلہ روسی تیل کے ساتھ بھی ہے۔ وہ بند ہوا تو ابھی تو صرف تیل مہنگا ہوا ہے پھر لوگ ایک دوسرے کو کھا جائنگے۔ جیسے ایران میں ایک لیٹر 15 ہزار ریال کا مل رہا ہے یہاں پر 1 لاکھ روپے لیٹر پٹرول ملے گا۔حکومت کے پاس تین آپشنز ہیں۔ پہلا یہ کہ انڈیا کی طرح تیل کی خریداری روک دے اور عوام سے کہے تیل مہنگا نہیں کر رہے لیکن لا بھی نہیں رہے جو تھوڑا بہت لارہے ہیں۔ اس کے لیے قطار میں کھڑے ہو اور جب 6 گھنٹے بعد باری آئے تو وہاں سے جواب ملے کہ ختم ہوگیا اب کل آکر دوبارہ کوشش کرنا۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ عوام سے اپیل کرے کہ تیل کا استعمال آدھا کردو۔ تاکہ حکومت کو 5 یا 6 ہزار ارب کا ہی خریدنا پڑے اور یہ جنگ کے مہینے گزر جائیں۔ وہ اپیل کی گئی بلکہ لاک ڈاؤن بھی کیا گیا لیکن کسی نے کوئی کان نہیں دھرا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت کی تیل بچانے کی مہم کو ہم ہر صورت ناکام بنائنگے۔ کیونکہ یہی موقع ہے جب حکومت بےبس ہے تو ہم انکی مشکلات بڑھا کر عوام کو باہر نکالیں۔تیسرا آپشن یہی ہے کہ تیل کی قیمت وہی کرو جس پر مل رہا ہو۔ عوام سے اپیل کرو کہ ہم تیل کی سپلائی نہیں روک رہے لیکن تم لوگ خدارا اسکا استعمال آدھا کردو جب تک جنگ ہے تاکہ ملک دیوالیہ نہ ہو۔ کیونکہ ملک دیوالیہ ہوا اور خزانہ خالی ہوا تو پھر ایران کی طرح ایک انڈا ہزار روپے کا ملے گا۔ پھر بات صرف تیل تک محدود نہیں رہے گی۔ اسی لیے امریکہ اور یو اے ای جیسے ممالک میں بھی تیل کی قیمتیں دگنی ہوگئی ہیں حالانکہ وہ خود کفیل ہیں۔ تو آخر میں پھر وہی سوال کہ آپ بتائیں کہ حکومت 100 روپے لیٹر تیل خرید کر عوام کو 50 روپے لیٹر کیسے دے؟ کوئی تجویز یا مشورہ؟نوٹ ۔۔ اگر کوئی یوتھیا موجود ہے اور وہ جاننا چاہتا ہے کہ عمران خان 160 روپے لیٹر دے رہا تھا اس میں بھی 10 روپے ڈسکاؤنٹ کر دیا تھا۔ اس کو قسم ہے کہ وہ تیل سستا کرنے کی وہی تقریر ابھی ابھی یوٹیوب پر اٹھا کر دیکھ لے۔ وہ کہتا ہے کہ اس وقت تیل کی اصل قیمت 220 روپے لیٹر ہے لیکن میں 70 ارب سبسڈی دے رہا ہوں اور 160 کا تم لوگوں کو دے رہا ہوں۔ یاد رہے کہ اس کو تیل صرف 60 روپے لیٹر ملا تھا جو اس نے 220 پر پہنچا دیا تھا تب کوئی جنگ بھی نہیں تھی۔ نہ کرونا کی وجہ سے تیل کی پیدوار کم ہوئی تھی۔ 70 ارب کی سبسڈی کہاں سے دے رہا تھا؟ ظاہر ہے قرض لے کر۔۔ 95 ارب ڈالر سے بیرونی قرضہ 131 ارب ڈالر پر پہنچا کر گیا تھا۔ وہ تقریر بھی عین تحریک عدم اعتماد کے وقت کی تھی جس کا مقصد اپنی حکومت گرنے کی صورت میں آئی ایم ایف ڈیل سبوتاژ کرنا تھا جو ہوئی بھی۔ جس پر شیخ رشید نے کہا کہ



پوری دنیا میں لاک ڈاؤن تھا، تیل مفت مل رہا تھا عالمی منڈی میں














