گورائیہ صاحب (Official)

48.2K posts

گورائیہ صاحب (Official) banner
گورائیہ صاحب (Official)

گورائیہ صاحب (Official)

@gorayaaftab1

Philanthropist | Blogger| Political Analyst | Make Poverty History | Official account @GorayaAftab -Web: https://t.co/DfzHnSvbE2

Sydney, Australia Katılım Ekim 2018
9.4K Takip Edilen12.9K Takipçiler
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
Aftab Ahmad Goraya
Aftab Ahmad Goraya@GorayaAftab·
This is how a statesman speaks… One year ago the world watched Pakistan some doubted us, some under estimated us. Today the world knows Pakistan stands, Pakistan endures and Pakistan prevails and let me say this in the spirit of those who have come before us, we are not a nation that bows before pressure, we are not a nation that compromises its sovereignty, we are a nation that rises again and again stronger, prouder and more united. Long live Pakistan long live the will of its people. Pakistan Hamisha Zinda Baad.
English
0
9
12
50
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
Bashir Nichari
Bashir Nichari@bashirnichari1·
جناح ٹاؤن گارڈن ایسٹ میں دو دن پہلے امیر ظفر نے روڈ کا افتتاح کیا تھا، اور آج ہی روڈ دبنا شروع ہوگئی۔ اگر یہی کام مرتضی وہاب کے ہوتا تو جماعت اسلام والے زمین آسمان ایک کر دیتے۔ اصل مسئلہ کام نہیں، معیار کا ہے احتساب سب کے لیے ایک جیسا ہونا
اردو
1
73
81
657
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
Aftab Ahmad Goraya
Aftab Ahmad Goraya@GorayaAftab·
پہلے آپ خود کو ایک سنجیدہ سیاستدان کے طور پر منوائیں تاکہ آپ کے مؤقف کو بھی سنجیدگی سے لیا جا سکے۔ جو شخص ہر وقت لڑنے اور للکارنے کے موڈ میں ہو، اس کے ساتھ نظریاتی بحث آگے بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ برداشت کے بغیر نہ سوشلزم آگے بڑھتا ہے، نہ جمہوریت۔ بڑی پارٹیوں کی قیادت پر الزام تراشی اور بد زبانی کرنے سے آپ کو ایک ٹرولر سے زیادہ اہمیت نہیں مل سکتی۔ اگر واقعی آپ نظریاتی بحث چاہتے ہیں تو لہجہ بدلیے، دروازہ خود بخود کھل جائے گا۔۔۔
اردو
0
24
53
2.2K
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
Aftab Ahmad Goraya
Aftab Ahmad Goraya@GorayaAftab·
لاہور شہر کے بارہ دروازے لاہور کے دروازوں کا ذکر کیا جائے تو شہر سے قلعے کو ملانے والا دروازہ مسجدی دروازہ کہلاتا تھا جو بعد میں بگڑتے بگڑتے مسیتی دروازہ اور پھر مستی دروازہ بن گیا۔ دوسرا دروازہ قلعے اور بعد میں بننے والی بادشاہی مسجد کے درمیان سے دریا میں اترنے والی سیڑھیوں کے شروع میں بنایا گیا۔ یہاں رات کو روشنی کی جاتی تھی اس لئے اس کا نام روشنائی دروازہ رکھا گیا۔ لاہور کی ٹکسال بڑی مشہورِ تھی اس لئے راوی روڈ کے شروع میں بننے والے دروازے کا نام ٹکسالی دروازہ رکھا گیا۔ اس سے تھوڑا آگے داتا دربار کی طرف جائیں تو بھاٹی دروازہ آ جاتا ہے جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہاں بھٹی قوم آباد تھی۰ اس سے آگے چلیں تو موری ہے جس کو دروازہ تو نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ شہر کا کوڑا کرکٹ باہر نکالنے کے لئے استعمال ہونے والا راستہ تھا۰ اس سے آگے آئیں تو لوہاری دروازہ آ جاتا ہے۰ یہاں شائد لوہار کام کرتے ہوں گے جس کی وجہ سے اس کانام لوہاری دروازہ پڑ گیا۰ آگے چلتے جائیں تو شاہ عالمی دروازہ آ جاتا ہے جس کا نام علم دوست بادشاہ شاہ عالم کے نام پر رکھا گیا۰ شاہ عالم آخری مغل بادشاہ تھا جو لاہور آیا اس کے بعد کسی مغل بادشاہ کو لاہور آنے کا موقع نہ ملا۰ چلتے جائیں تو موچی دروازہ آتا ہے اسکے بعد اکبری دروازہ اور پھر دلی دروازہ، یکی دروازہ اور خزری دروازہ، سرکلر روڈ کی طرف مڑیں تو شیراں والا دروازہ آتا ہے جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہاں شیر رکھے جاتے تھے۔ لاہور شہر ایک وجہ شہرت اس کے بارہ دروازے بھی ہیں لیکن ان دروازوں میں سے بیشتر دروازے اب موجود نہیں ان کا صرف نام ہی باقی ہے۔
اردو
1
31
62
2.4K
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
Aftab Ahmad Goraya
Aftab Ahmad Goraya@GorayaAftab·
پاکستان کی سب سے بڑی سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر صاحب باتیں آپ برابری کی کر رہے ہیں خود کو سوشلسٹ بھی کہتے ہیں اور سیاسی کارکنوں کو معمولی بھی کہتے ہیں۔ ایسا تضاد کیوں؟ اپنی بڑائی کا اتنا ہی زعم ہے تو کیوں معمولی جیالوں کے لیول پر آ کر انہیں جواب دے رہے ہیں؟ ہمارے لئے جیالا ہونا فخر کی بات ہے، معمولی غیر معمولی ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ بات شروع ہوئی آپ کے مطالبے سے کہ چیرمین بلاول خود پیپلزپارٹی کو سوشلسٹ پارٹی کہہ دیں تو محترم آپ ہیں کون؟ یہ مطالبہ کرنے والے؟ آپ کی ساکھ کیا ہے؟ آپ کا سیاسی وزن کیا ہے؟ پیپلزپارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جس کی نمائندگی پورے ملک کی اسمبلیوں میں موجود ہے۔ پیپلزپارٹی کی جمہوریت کے لئے جدوجہد کی ایک مکمل تاریخ ہے اگر آپ کو سیاست کا اتنا شوق چڑھا ہے تو اس کا مطالعہ کریں۔ پیپلزپارٹی اپنے آغاز سے لے کر ہر محاذ پر مزدوروں اور محنت کشوں کا مقدمہ لڑتی رہی ہے۔ پیپلزپارٹی نے اپنے اقتدار کے ادوار میں نہ صرف ٹریڈ اور سٹوڈنٹس یونینز کی حمایت کی ہے بلکہ مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے قانون سازی بھی کی ہے۔ مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اس وقت جتنے بھی لیبر لاز موجود ہیں وہ پیپلزپارٹی کا ہی تحفہ ہیں۔  چیرمین بلاول کا یہ لیول نہیں کہ وہ ایک نوآموز سیاستدان جس کی پارٹی کا ابھی کہیں کوئی وجود ہی نہیں ہے اس کے مطالبے پر وضاحتیں دیتے پھریں بلکہ یہ ہم لوگوں کی بھی غلطی ہے کہ سیاسی لوگ ہوتے ہوئے ایک ایسے شخص کے ساتھ مکالمے پر اُتر آئے جسے سیاست کی الف ب بھی نہیں معلوم، جسے صرف زبان چلانا آتی ہے جو سیاسی کارکنان کو معمولی کہتا ہے اور دعوے “برابری” کے کرتا ہے۔ اور آخر میں ایک وضاحت کہ آپ کے ساتھ کوئی بدتمیزی نہیں کی گئی بلکہ صرف ایک سوال پوچھا گیا اور تمیز کے ساتھ پوچھا گیا جو آپ کو بُرا لگ گیا تو مسٹر، سیاست میں آئے ہو تو سوال تو ہو گا، اس لئے برداشت پیدا کرو اور سوال کا جواب دینا سیکھو۔
اردو
2
30
55
643
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
Aftab Ahmad Goraya
Aftab Ahmad Goraya@GorayaAftab·
جنگ کے آغاز کے وقت بنگلہ دیش میں تیل کی قیمت تقریباً 130 ٹکا تھی جو آج بھی اسی سطح پر برقرار ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں قیمت اُس وقت 257 روپے تھی جو اب بڑھ کر 400 سے تجاوز کر چکی ہے۔ بنگلہ دیش نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بڑی حد تک اپنی قومی پٹرولیم کمپنی پر ڈالا اور عوام کو براہِ راست دباؤ سے بچانے کی کوشش کی۔ جبکہ ہم نے نہ صرف قیمتوں میں اضافہ کیا بلکہ لیوی بھی بڑھا دی، یوں سارا بوجھ عوام پر منتقل کر دیا۔۔۔ ڈاکٹر فرخ سلیم
اردو
1
52
99
2.2K
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
Aftab Ahmad Goraya
Aftab Ahmad Goraya@GorayaAftab·
لیفٹ کی سیاست اور لیفٹ کا راستہ آسان نہیں ہوتا یہ بات پیپلزپارٹی کی قیادت اور کارکنان بڑی اچھی طرح جانتے ہیں لیکن درست راستہ یہی ہے، یہ بات بھی قیادت اور کارکنان بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں۰ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی آمر کوڑوں، پھانسیوں، قید و بند اور ہر طرح کے ظلم و تشدد کے باوجود پیپلزپارٹی کی قیادت اور کارکنان کو شکست نہیں دے سکا اور ہر آزمائش سے پیپلزپارٹی سرخرو ہو کر ہی نکلی ہے۔ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
اردو
2
38
73
703
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
Aftab Ahmad Goraya
Aftab Ahmad Goraya@GorayaAftab·
جماعت المنافقین کراچی کے امیر منعم ظفر اور ٹاؤن چیرمین نے 30 اپریل کو UC-1 جناح ٹاؤن میں پورے تام جھام کے ساتھ سڑک کا افتتاح کیا جو دو دن بعد ہی بیٹھ گئی اور ٹرک سڑک میں دھنس گیا۔ جماعت المنافقین کا پروپیگنڈہ دیکھیں اور کرتوت دیکھیں 👇
اردو
2
70
118
1.8K
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
Aftab Ahmad Goraya
Aftab Ahmad Goraya@GorayaAftab·
آپ کی خبر غلط ہے۔ ہمایوں اختر نہ پہلے کبھی پیپلزپارٹی میں رہا ہے نہ اس وقت پیپلزپارٹی میں ہے۔۔۔
اردو
2
29
66
1.2K
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
Aftab Ahmad Goraya
Aftab Ahmad Goraya@GorayaAftab·
کیا پاکستان کی سب سے بزی سوشلسٹ پارٹی میں آپ کے علاوہ کوئی اور بھی ممبر ہے یا صرف آپ ہی ہیں؟ دو دن پہلے یوم مئی گزرا ہے آپ کی جماعت کا کوئی ایونٹ نظر سے نہیں گزرا۔ شائد ہم سے مس ہو گیا ہو پلیز اپنے اس ایونٹ کا لنک بھجوا دیں تاکہ اس ایونٹ میں آپ کی تقریر سن کر آپ کی پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کر سکیں۔
اردو
3
29
54
4.4K
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
Aftab Ahmad Goraya
Aftab Ahmad Goraya@GorayaAftab·
کہنے کو ہم ایٹمی طاقت ہیں لیکن بچے کی دوائی خریدنے کے لئے اگر استعمال کی چیزیں بیچنا پڑیں تو آنسو واقعی نہیں رُک پاتے۔ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ یہ ویڈیو کھنڈر بن چکے سندھ کی نہیں بلکہ یورپ بن چکے پنجاب کی ہے۔۔۔ دَرداں دی ماری جندڑی علیل اے سوہنا نہ سندا‘ دکھاں دی اپیل اے
اردو
2
72
134
1.8K
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
Aftab Ahmad Goraya
Aftab Ahmad Goraya@GorayaAftab·
میر عمران شاہ صاحب کے بڑے بھائی ڈاکٹر زاہد ظہیر صاحب جلال پور جٹاں میں قائم پاکستان کے پہلے مفت ایڈز علاج کے ہسپتال کے روحِ رواں ہیں۔ یہ ہسپتال میر عمران شاہ صاحب کی فیملی کے زیرِ انتظام چل رہا ہے اور اس کا نام ان کی مرحومہ دادی کے نام پر “بشیراں بیگم ٹرسٹ ہسپتال” رکھا گیا ہے۔ @MeerImranShah
Aftab Ahmad Goraya tweet mediaAftab Ahmad Goraya tweet media
اردو
7
54
95
2K
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
لئیق
لئیق@itishashmi·
یوم مئی شہداء کو خراج تحسین آفتاب گورایا @GorayaAftab بہترین آرٹیکل 👏 شکاگو کے شہدا کی قربانی کے نتیجے میں جہاں دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مختلف تحریکوں نے جنم لیا جنہوں نے کئی ملکوں میں استحصالی نظام کو ہلا کر رکھ دیا. اس جدوجہد کے نتیجے میں بہت سے ممالک میں مزدور دشمن قوانین کا خاتمہ ہوا اور آجر اور اجیر کے درمیان قابل عمل تعلقات کی راہ ہموار ہوئی وہیں کالونی ٹیکسٹائل مل میں مزدوروں کے قتلُ عام کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں ٹریڈ یونینز پر پابندی لگا دی گئی اور پورے پاکستان کی طرح مزدوروں کے لئے بھی سیاہ رات مسلط کر دی گئی۰
Aftab Ahmad Goraya@GorayaAftab

وقت کے ساتھ استحصال کے انداز بدلتے رہے لیکن نہ تو طاقتور طبقہ اپنی روش سے باز آیا اور نہ ہی کمزور کے دن کبھی بدل سکے۔طاقتور اور کمزور کی یہ کشمکش آج بھی بیشتر ممالک میں نمایاں نظر آتی ہے. شکاگو اور ملتان کے مزدور شہدا کو سرخ سلام تحریر: آفتاب احمد گورائیہ sites.google.com/view/aftabahma…

اردو
0
3
5
75
گورائیہ صاحب (Official) retweetledi
Seema Shaikh
Seema Shaikh@seema7766·
133 مزدور شہید ہوئے. عینی شاہدین کے مطابق مل کا صحن لاشوں اور زخمیوں سے بھرا ہوا تھا جن کو انتظامیہ نے راتوں رات ٹرک میں ڈال کے مظفر گڑھ کے قریب اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا. اس واقعے کا ایک المناک پہلو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ان دفن ہونے والوں میں بہت سے زخمی بھی شامل تھے.😢
Aftab Ahmad Goraya@GorayaAftab

وقت کے ساتھ استحصال کے انداز بدلتے رہے لیکن نہ تو طاقتور طبقہ اپنی روش سے باز آیا اور نہ ہی کمزور کے دن کبھی بدل سکے۔طاقتور اور کمزور کی یہ کشمکش آج بھی بیشتر ممالک میں نمایاں نظر آتی ہے. شکاگو اور ملتان کے مزدور شہدا کو سرخ سلام تحریر: آفتاب احمد گورائیہ sites.google.com/view/aftabahma…

اردو
1
15
18
156