Sabitlenmiş Tweet
haroon latif 🇵🇰
31.7K posts

haroon latif 🇵🇰
@haroonmalik76
I Prefer Death Then My Defeat..!
On Earth Katılım Haziran 2012
11.4K Takip Edilen13.8K Takipçiler
haroon latif 🇵🇰 retweetledi
haroon latif 🇵🇰 retweetledi

We must not underestimate the challenge we face.
What is unfolding is not a set of isolated incidents, but part of a broader scheme to shape a hostile narrative against Pakistan. Security incidents, fake LoC narratives, digital propaganda, selective international commentary, and attacks on military leadership all feed the same perception war.
The objective is clear: create fear, erode trust in institutions, amplify despair, and portray Pakistan as unstable and vulnerable.
But the real battle is not just physical, it is informational and psychological.
Pakistan’s role as a responsible regional stabilizer and sincere peace-seeking mediator has unsettled certain actors. Narrative destabilization is being used as a tool, but Pakistan’s resolve remains firm.
A nation that has repeatedly defeated terrorism and endured geopolitical pressure will not be shaken by manufactured chaos. Pakistan will remain resilient, committed to peace, stability, and strategic confidence.



English
haroon latif 🇵🇰 retweetledi

@kir_____an بالکل ٹھیک کہا۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین 🤲
اردو
haroon latif 🇵🇰 retweetledi

غیرت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
بلوچستان کی گلیوں میں جھوم کے نکلے۔
مجھے بلوچستان کے ہر باشعور، باغیرت اور روایت شناس فرد سے ایک عاجزانہ سوال پوچھنا ہے۔
جب بی ایل اے خود یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اُن کے پاس ہزاروں نوجوان موجود ہیں، تو پھر عورتوں کو میدانِ جنگ میں دھکیلنے کی ضرورت آخر کیوں پیش آرہی ہے؟
اگر واقعی یہ کوئی نظریاتی تحریک ہے، تو مرد خودکش بمبار انگلیوں پر گنے جانے جتنے کیوں ہیں، جبکہ خواتین کی قطاریں تیار کی جارہی ہیں؟
یہ کونسی بہادری ہے کہ خود کو “بلوچ روایت” کا وارث کہنے والے، دس دس مردوں کے درمیان ایک خاتون کو کھڑا کرکے تصویریں بناتے پھریں؟
کونسی بلوچ غیرت، کونسا سرداری وقار اور کونسی جنگی روایت اس عمل کی اجازت دیتی ہے؟
بلوچستان کی تاریخ میں عورت عزت، پردہ، وقار اور احترام کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے۔
لیکن آج چند نام نہاد انقلابیوں نے اُسی عورت کو تشہیر، پروپیگنڈے اور بارودی سیاست کا ہتھیار بنا دیا ہے۔
اگر جنگ مردوں کی ہے تو عورتوں کو آگ میں کیوں جھونکا جارہا ہے؟
اور اگر مرد اتنے ہی بہادر اور جان نثار ہیں تو پھر عورتوں کو خودکش جیکٹس پہنا کر مارکیٹ میں بھیجنے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟
تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریے کی جنگ کم اور سستی شہرت، میڈیا ڈرامے اور جذباتی استحصال کا کھیل زیادہ لگنے لگی ہے۔
بلوچ روایت کا نام لینے والوں نے شاید یہ بھلا دیا ہے کہ غیرت صرف نعروں سے نہیں، کردار سے پہچانی جاتی ہے۔
@kalmatiJD
@ReshamSaleem3
@Waja__Baloch
@Advjalila
@MSamiUllah_786
@mehrubawan

اردو
haroon latif 🇵🇰 retweetledi

This 2 minute clip completely dismantles India’s entire social media fake campaign.
First, India lost on the battlefield. Then it lost on the narrative front. After that, it resorted to below the belt tactics, and now it has descended into meme warfare.
This is the true stature of the saffronized Indian military and government.
English

@realrazidada دادا اس بار تشریف پر ٹھڈا مارنا پڑے گا، کام مکے سے ودھ گیا ہے۔۔۔
اردو

@am_muneeb1 @Aladin_345 @Mughal3_1_3 عقل کے اندھے، قصور کا پرائس کنٹرول مجسٹریٹ مرزا زاہد بیگ ہے، کبھی تحقیق بھی کر لیا کرو، تشریف میں دماغ آپکا ہے اسے نکالو اور دھو کر استعمال کرو۔۔ مگر چوتیوں میں شرم کہاں سے آئے۔۔
اردو

آج ہماری نان شاپ پر سرکاری اہلکار آئے اور بغیر واضح وجہ بتائے چالان کر گئے۔
جب ہم نے ادب سے پوچھا کہ ہمارا قصور کیا ہے؟ نان کا وزن کم ہے یا صفائی کا مسئلہ ہے؟ تو ہمیں سمجھانے کے بجائے دھمکیاں دی گئیں کہ FIR ہوگی یا جرمانہ دو۔
ہم قانون اور سرکاری اداروں کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہر دکاندار کا حق ہے کہ اسے اُس کی غلطی واضح طور پر بتائی جائے تاکہ وہ اسے درست کر سکے۔
غریب محنت کش لوگوں کو بلاوجہ ہراساں کرنا کہاں کا انصاف ہے؟
ہم متعلقہ حکام سے درخواست کرتے ہیں کہ ایسے معاملات میں انصاف اور عزت کے ساتھ بات کی جائے، تاکہ چھوٹے کاروبار کرنے والے خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ اپنا روزگار چلا سکیں۔
@CMComplaintCell
Deputy Commissioner Kasur

اردو

@akamelancaster @Mughal3_1_3 بلا وجہ کی تنقید اچھی نہیں ہوتی، آپ نے بس حکومت کو ٹارگٹ کرنا ہے سو آپکو 0 بھی 2 ہی نظر آئے گا، آنکھوں سے نفرت کی عینک اتار کر دیکھیں۔
اردو

@Aladin_345 @Mughal3_1_3 آپ سب یوتھیوں مطلب چوتیوں سے بحث بے کار ہے آپ سب کا کوا سفید ہی رہے گا، مطلب کسی جاہل نے رسید دی ہے کہ پہلا 2 واضح لکھا اور دوسرا 0 بنا دیا، خیر حقیقت بھی ہو تو گراں فروشی نہ کریں حکومت نے جو نرخ دئے اسی پر سیل کریں نان، روٹی اگر مہنگی چیز ہو تو بھی آپ سب کی تشریف میں آگ لگتی ہے
اردو
haroon latif 🇵🇰 retweetledi

پاکستان معرکۂ حق کی تاریخی کامیابی کی پہلی سالگرہ منا رہا ہے۔ اس دن پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی صلاحیت، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کا دنیا بھر میں لوہا منوایا۔ پاکستان کی بہادر قوم نے غیر معمولی ثابت قدمی، اتحاد اور اپنی افواج کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو حیران کر دیا۔
اس تاریخی موقع پر آئیں ہم سب اپنے بہادر محافظوں کی قربانیوں اور کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے معرکۂ حق کا نشان اپنی ڈی پی پر آویزاں کریں اور قومی اتحاد و فخر کا اظہار کریں۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰🇵🇰

اردو
haroon latif 🇵🇰 retweetledi

🚨 مارخور کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز کی فتنہ الخوارج پر کاری ضرب! 6 انتہائی مطلوب دہشتگرد کمانڈرز سمیت ہلاک‼️
زنگی آدم خیل میں گزشتہ رات دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکورٹی فورسز نے کاروائی کی۔
ہلاک ہونے والوں میں اہم کمانڈرز بھی شامل ہیں:
🔺کمانڈر حنزلہ
🔺ناہید اللہ عرف حیات
🔺اجمل
🔺بہادر عرف مہاجر
🔺ابو درداء
🔺ملنگ عرف سنگری
زخمی ہونے والوں میں:
یاسر عرف مہاجر
عبیدہ عرف جانان
ایک افغان شہری بھی شامل ہے۔
اردو
haroon latif 🇵🇰 retweetledi

بھارتی تو بھارتی افغان بھی نہ چھوڑے انہوں نے
جہاں لڑکی دیکھی وہیں ہوس کے دوڑا دئے گھوڑے انہوں نے
( مارخور شاعر سے معذرت چاہتا ہے)
دس سال سے زیادہ عرصہ کے لیے تیس لاکھ افغان پناہ گزیں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ پاکستان میں رہے۔ پاکستانی فلاحی اداروں ،گورنمنٹ ایجنسیز اور مختلف محکموں کا ان کے کیمپوں میں آزادانہ آنا جانا رہا۔ زخمیوں کی مرھم پٹی اور علاج معالجہ کے غرض سے بھی کئی افغان خواتین فوجی اسپتالوں اور ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر رہیں مگر مارخور کے ریکارڈ میں ہے کہ کبھی کسی ایک افغان بیٹی کی عزت کی طرف ہمارے جوانوں نے نگاہ اٹھا کر بھی دیکھا ہو، نہ کبھی عزتوں کی پامالی کی خبر کسی اخبار میں چھپی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہے برگیڈیئر ایس کے نارائن، جو کابل میں انڈین سفارتخانہ میں دفاعی اتاشی کے طور پر تعینات تھا جس کے پاس ایک افغان نوجوان لڑکی بھارت میں تعلیم کے لیے اسکالرشپ کی عرضی لے کر گئی مگر اپنی عزت تار تار کروا کر لوٹی۔ پاکستان کے خلاف بڑھ چڑھ کر بیانات دینے والی افغان کٹھ پتلی حکومت نے خاموشی سے بھارتی اتاشی کو ملک سے نکال دیا، بھارتی میڈیا نے بھی چپ سادھ لی۔
اور اب بریگیڈیئر نارائن پرومٹ ہورہے ہیں

اردو
haroon latif 🇵🇰 retweetledi

دفاعی بجٹ تو بھارت سے سات اور ایران سے بھی دو گنا کم ہے۔
لیکن معترضین تو اس پر کم ہی بات کرتے ہیں.
وہ تو کہتے ہیں تم کاروبار کرتے ہو، اصل کمائی تو وہ ہے۔
لیکن کبھی جواب نہیں دیا جاتا۔
میرا خیال ہے دینا چاہیے ۔
بتانا چاہے کہ
آپ کا دفاعی بجٹ اور اسکے کاغذ میں دفتری کرسی یعنی آفس چیئر نامی کوئی شے ہے ہی نہیں، کاغذ میں آج بھی وہی ہاتھ کی بُنائی والی کرسیاں ہیں۔
بجٹ اور کاغذ کہتے ہیں ایئرکنڈشنر صرف گریڈ 19 اور اس سے اوپر والے افسر کے دفتر اور گاڑی میں ہونگے۔۔۔
اچھی بات ہے، غریب ملک ہے نا لگاؤ اے سی کسی کرنل اور میجر کے دفتر میں،
لیکن یہ ہی معاملہ پھر ہر سرکاری دفتر میں کام کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ بھی کرلیں۔
بجٹ اور اسکے کاغذ کہتے ہیں کہ فوجی گاڑی میں بیٹری دو سال سے پہلے تبدیل نہیں کی جائے گی۔
تو اگر بیٹری دوسال سے پہلے خراب ہوجائے تو سرکاری گاڑی کھڑی کردیں ؟
آرمی کے میس میں تو آپ گئے ہونگے، وہاں موجود چار دیواری، چھت اور ان پر موجود رنگ کے علاوہ کچھ بھی سرکاری بجٹ سے نہیں ہوتا۔
بجٹ میں موجود تعمیرات کے حصے میں کہیں بھی کسی کینٹ کی چار دیواری اور یا داخلی دروازے کا کوئی تصور ہی نہیں۔ دفاعی تعمیرات میں صرف ریتی سریا سمینٹ ملتے ہیں، اس سامان کو دفاعی لائن تک پہنچانے اور وہاں تعمیر کرنے کے لئے کسی مزدور اور مستری کا دفاعی بجٹ میں کچھ حصہ نہیں، فوجی جوان خود سامان ڈھوئے گا اور دفاعی لائن تک پہنچائے گا، دن میں مستری مزدور کا کام کرے گا اور رات کو چار گھنٹے ڈیوٹی بھی دے گا.
کسی تفریح مقام، کھیل کے میدان اورگیسٹ ہاؤس میں ایک روپیہ بھی سرکاری بجٹ سے نہیں لگتا۔
جوانوں کے راشن کو پکانے کے لئے خشک راشن، چینی، تیل سبزیاں گوشت اور نمک ملتا ہے۔ باقی مصالحوں کا حساب گول مول ہی ہے۔
لاکھ فوجی کشمیر میں اور لاکھوں فاٹا و بلوچستان میں اگلے مورچوں پر ہیں، دفاعی بجٹ میں انکے افطار میں نہ کوئی کھجور ہے، نہ روح افزاء اور نہ کوئی پھل.
7 لاکھ کی فوج کے لئے دفاع کے بجٹ میں ٹی وی کی اسکرین، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ کے ڈیوائس اور کنکیشن کا زکر نہیں۔
لان کو پانی دینے والے پائپ، پانی کو ٹھنڈا کرنے والی مشین، روٹی بنانے کیلئے تندور،
کھانا گرم کرنے لئے اوون،
مہمان کے لئے چائے،
دفتر میں لگانے کے لئے بورڈ آئینہ اور یو پی ایس و بیٹری کا کوئی زکر بجٹ اور سرکار کے کاغذ میں نہیں ۔
دفاعی بجٹ تو تنخواہ، اسلحہ بارود، گاڑیوں ، راشن اور میزائل ،جہازوں اور ایندھن کے لئے ہے۔
اور باقی سب اخپل بندوبست ہے۔
یہ اخپل بندوبست وہیں سے ہوتے ہیں جسکا طعنہ صبح شام ملتا ہے ۔
اس اخپل بندوبست کا ایک ایک روپیہ منٹ شیث پر ریکارڈ ہوتا ہے اور بذریعہ چیک ہی بینک سے نکلتاہے ۔
کاروبار فوج خود نہیں کرتی، جگہ دیتی،
ریٹائر لوگ کرتے ہیں،
پرویڈنٹ فنڈ پوری دیانت داری سے لگتا ہے۔
ڈی ایچ اے پر اعتراض ہوتا ہے.
ڈی ایچ اے کی زمین سرکار سے یا نجی مالکان سے بالکل اسی طرح لی جاتی ہے جسطرح باقی سرکاری و نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز لیتی ہیں. زمین لینے کے لئے ایک دھیلا پائی ٹکہ روپیہ دفاعی بجٹ سے نہیں لیا جاسکتا. ڈی ایچ اے فوجیوں کے علاوہ عام لوگوں کو بھی زمین اسلئے فروخت کرتی ہے تاکہ ترقیاتی اور انتظامات کے اخراجات پورے ہوں. کس رینک کے فوجی کو مفت پلاٹ نہیں ملتے. الاٹمنٹ ہوتی ہے پھر دوران سروس قسطیں ادا کرنی ہوتی ہے. شہداء اور جنگ میں شدید زخمی ہونے والوں کو استشنی ہے.
یہ ملازمین کے لئے پلاٹس کا بندوبست عدلیہ، پولیس، دیگر وفاقی ادارے حتیٰ کے پی ٹی وی اور کراچی پریس کلب جیسے ادارے بھی کرتے ہیں.
فوجی پوری سروس سامان بند کرنے اور کھولنے میں لگاتا ہے گھر بنانا تو دور کی بات وہ کہیں اور قسطوں پر پلاٹ تک لینے کے قابل بھی نہیں ہوتا.
ریلوے بھی شدید خسارے میں ہے وہ اپنی لاکھوں ایکٹر زمین کو استعمال میں لاسکتی ہے.
ہر صوبائی حکومتوں کے پاس بھی لاکھوں ایکڑ سکنہ یا زرعی زمینیں ہیں.
لیکن مسئلہ نیت اور شفافیت کا ہے۔
ہر ادارے کے ملازمین کی تنخواہ سے پروڈنٹ فنڈ کی کٹوتی ہوتی ہے اسے کسی اور کاروبار میں لگایا جاتا ہے نفع نقصان میں شراکت داری ہوتی ہے.
یہ EOBI بھی تو ایسے ہی کرتا ہے. اس نے بھی سینکڑوں عمارتیں ملازمین کے فنڈ سے لی ہیں، یہ ادارہ کاروبار بھی کرتا ہے اور ریٹرنز بھی دیتا ہے.
لیکن اگر فوج اپنے ملازمین کا پروڈنٹ فنڈ اپنے ہی دیگر اداروں کے ذریعے کاروبار میں لگا کر لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنائے اور ملکی معیشت میں مثبت حصہ ڈالے تو اسکا فعل قابلِ تنقید کیوں؟
محض اسلئے کہ فوج پر تنقید کرنے میں Swag ہے، فوج پر تنقید سوشل میڈیا کا غالب مشغلہ ہے اور فوج پر تنقید سیاست کے قنوطیت زدہ ماحول میں ایک پناہ کا کام کرتی ہے؟
اردو

@AdeelAsifPkOne دادا یہ تو تین مرد تین کہانیاں لکھنی ہوں گی۔۔۔ 🤣
اردو

haroon latif 🇵🇰 retweetledi

الحمد اللہ مارچ سے اپریل کے دوران افغانستان سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی میں 40 فیصد سے زائد کمی ہو چکی ہے، جبکہ آپریشن “غضبِ لِلحق” کے آغاز کے بعد مجموعی طور پر 80 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
افغانستان کے اندر موجود درجنوں دہشت گرد کیمپ، ٹھکانے اور اڈے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ سب مارخور اور ہماری فورسز کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے
اردو







