کل لاہور جانا ہوا تو سوچا کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی "بشیر سنز" کا انتخاب کر لیتے ہیں، صبح 10:30 کی دو ٹکٹس لیں اور واپسی کے لیے رات 10:30 کی بھی پہلے ہی بکنگ کر لی تاکہ سفر آرام سے گزرے، لیکن نیازی ایکسپریس پہنچتے ہی اندازہ ہو گیا کہ فیصلہ غلط تھا، ٹکٹ چیک کرنے والے نے کہا گاڑی خالی ہے جہاں مرضی بیٹھ جائیں تو ہم فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئے، مگر تھوڑی دیر بعد ہی ڈرائیور صاحب نے عجیب لہجے میں کہا کہ پیچھے جا کر بیٹھیں، نہ کوئی وجہ بتائی نہ کوئی تمیز دکھائی، چونکہ گاڑی میں فیملیز بیٹھی تھیں اس لیے بحث مناسب نہ سمجھی اور خاموشی سے پیچھے چلے گئے، اوپر سے ٹائمنگ کا یہ حال کہ گاڑی 10:30 پر نکلنی تھی لیکن 10:32 پر ڈرائیور صاحب خود ہی لیکچر دے رہے تھے کہ دو منٹ اوپر ہو گئے ہیں جبکہ ایک بندے کا انتظار بھی ہو رہا تھا اور اس پر طنز کیا جا رہا تھا کہ لگتا ہے 300-400 روپے دے دیے ہوں گے، آخرکار گاڑی 10:35 پر چلی، نہ وقت کی پابندی، نہ سروس کا معیار، نہ بات کرنے کا سلیقہ، اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم1550 روپے بھاری کرایہ اس لیے دیتے ہیں کہ ہمیں بدتمیزی سننے کو ملے یا سفر کو اذیت بنایا جائے، "بشیر سنز" اگر واقعی سروس دینا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اپنے سٹاف کو اخلاق سکھائے کیونکہ مسافر کرایہ عزت کے ساتھ سفر کرنے کا دیتا ہے، ذلیل ہونے کا نہیں۔
لیاقت گوجرہ
شوکت خانم ہسپتال اپیل 🚨
عمران خان بدقسمتی سے اس رمضان میں بھی جیل میں ہیں جبکہ اس وقت شوکت خانم ہسپتال کو پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔
جتنا بھی ممکن ہو شوکت خانم ہسپتال کو ڈونیشن دیں اور اس میسج کو گھر گھر تک پہنچائیں
حوریہ کا تعلق الجزائر سے ہے،کالج میں پڑھائی کے دوران ایک کلاس فیلو لڑکے سے انہیں محبت ہوئی،دونوں نے نکاح کرلیا ۔
شادی کو پندرہ سال گزر گئے اس دوران ان کے ہاں آٹھ بچوں کی پیدائش ہوئی لیکن اولاد کو لیکر یہ عجیب آزمائش سے گزرتے رہے،کوئی بچہ شادی کے چھ ماہ بعد وفات پاتا کوئی سال دو سال بعد اس طرح انکے آٹھ کے آٹھ بچے فوت ہوگیے ۔
شادی کے بعد گزرا ہر ماہ و سال ان کیلئے اذیت کا تھا،اولاد کی اموات کے بوجھ سے زندگی بوجھل تھی کہ حوریہ کا شوہر بھی اس دنیا سے چلا گیا ۔
شوہر کی جدائی کے کچھ عرصے بعد حوریہ کو کینسر کی تشخیص ہوئی حوریہ کیلئے گزری زندگی دکھوں سے بھری تھی ہی اب تو مستقبل بھی تاریک تھا ۔
اسپتال کے بیڈ میں پڑے کینسر سے لڑتی حوریہ کو خیال آیا ہے اس بیماری کو شکست دے کر چند سال جی بھی لوں تو کس کیلئے ؟
ماں باپ بچپن میں گزر گیے تھے،اولاد بھی بچپن میں یکے بعد دیگرے داغ مفارقت دیتے گیے،شوہر بھی چلا گیا ۔
اب جینا کس کیلئے ہے،جینے کا کوئی مقصد بھی تو نہیں ہے ۔
حوریہ انہی سوچوں میں خود سے لڑ رہی تھی کہ اچانک ان کے دماغ میں ایک خیال آیا یہ اسپتال سے نکلی اور سیدھا گھر پہنچی،ان کے جسم میں ایک عجیب توانائی امڈ آئی تھی،انہوں نے گھر کی سیٹنگ اور صفائی کرلی،کچھ چادریں ،بستر کمبل اضافی منگوا لیے،انہیں زندگی کا مقصد مل چکا تھا،اب انہیں جینا تھا،دوسروں کیلئے جینا تھا۔
حوریہ نے اپنے گھر کو “دارالایتام” قرار دیا،انہوں نے یتمیوں کی کفالت ،تربیت اور انکی پرورش کا کام شروع کر دیا ۔
یہ ماں بن کر ان یتمیوں کی نگہداشت کرتی ،کچھ عرصے میں دو سے چار اور چار سے آٹھ ہوتے یتمیوں کی خاصی تعداد انکے ساتھ رہنے لگی،یہ پورا پورا دن اور پوری پوری رات یتیم بچوں کے ساتھ گزارتی،ان بچوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کیلئے یہ خود بھاگ دوڑ کرتی،یتیم بچوں کیلئے کھلونے خرید لاتی ان بچوں کے ساتھ یہ گھنٹوں کھیلتی ۔
حوریہ کو دارالایتام کھولے کئی سال گزر چکے تھے اس دوران اللہ تعالی کی مدد سے انہوں نے کینسر کو بھی شکست دی،حوریہ اور اس کے کام کی شہرت پورے ملک میں پھیل گئی،جزائر کے لوگوں میں یہ “ام الايتام " یتمیوں کی ماں کے نام سے مشہور ہوئیں،حکومتی سطح پر انکی حوصلہ افزائی اور انکی خدمات کا اعتراف ہونے لگا۔
اب پورے جزائر میں حوریہ کی نگرانی میں درجنوں یتیم خانے چل رہے ہیں،یہ اب اپنی زندگی سے خوش ہیں،انہوں نے ایتام کی کفالت کے علاوہ بھی کئی فلاحی کام شروع کر رکھے ہیں۔
سبحان اللہ زندگی بھی عجیب گورکھ دھندا ہے جہاں لگے کہ سب کچھ ختم ہوچکا وہی سے ایک بھرپور آغاز ممکن ہے ۔
زندگی بہت خوبصورت ہے بس اسے جینے کا انداز ہمیں آنا چاہیے اس لیے دکھوں اور کلفتوں کے باوجود زندگی جینا سیکھیں،زندگی کا مقصد طے کرلیں،دوسروں کی خوشیوں کو اپنا مقصد بنانے والے کبھی مستقل غم میں نہیں رہ سکتے،یہ قانون قدرت ہے کہ پھول اگانے والے خوشبووں میں رہتے ہیں۔
بقلم :
فردوس جمال!!!