Sabitlenmiş Tweet
مہہ ثناء خان
228.3K posts

مہہ ثناء خان
@iamMahay___
Will response the way you deserve Response depend attitude Half poetess, talkative Sharp angerd* Attitudes decide response
Karachi, Pakistan Katılım Şubat 2017
465 Takip Edilen49.9K Takipçiler
مہہ ثناء خان retweetledi
مہہ ثناء خان retweetledi
مہہ ثناء خان retweetledi
مہہ ثناء خان retweetledi
مہہ ثناء خان retweetledi
مہہ ثناء خان retweetledi

@muamir ہماری کالونی کو ٹارگٹ کیا جا رہا بھتے کی پرچیاں دی جا رہی ہیں کھلے عام آ کر لوٹ کر مار کر چلے جاتے آج دو بھائی بےچارے پنجاب سے ادھر آئے وے تھے پیسے لے کر منڈی سے آ رہے تھے اک سولہ کا ایک ۲۲ کا دونوں کو مار کر چلے گئے اور یہ پہلا کیس نہیں ہے
زرداری نے اپنی سابقہ بےغیرتی شروع کر دی
اردو
مہہ ثناء خان retweetledi

کراچی میں بچے کی ہلاکت اور تعصب و سیاست
کراچی… وہ شہر جو ہر طرح کے سانحات کی لاتعداد کہانیاں اپنے دامن میں سمیٹے بیٹھا ہے۔ ایک ایسا جہاں موبائل چھیننے والوں کے ہاتھوں ہزاروں لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، کب سر راہ گن ہوائنٹ پر آپ کی گاڑی چھن جائے، جہاں بے قابو ڈمپر ہر دوسرے دن کسی گھر کا چراغ بجھا دیتے ہیں۔ ایسے شہر میں اگر کوئی بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں اسے بھی کوئی “بڑی خبر” نہیں سمجھا جاتا۔
چند دن شور مچے گا، پھر کسی اور سانحے پر نئی بحث شروع ہو جائے گی۔ وجہ سادہ ہے: ہر مسئلے کو سیاست، تعصب اور علاقائی چپقلش کے کفن میں لپیٹ کر دفن کر دیا جاتا ہے۔ کراچی والے احتجاج کریں تو مسائل سننے کے بجائے سندھ کی پانچ ہزار سالہ تاریخ کے اسباق پڑھا دیے جاتے ہیں۔ سڑکوں کی تباہ حالی کی بات کرو تو اردو اسپیکنگ اور سندھی کی بحث چھیڑ دی جاتی ہے۔ اس بے مقصد شور نے اصل ذمہ داروں کو ہمیشہ پسِ منظر میں، کہیں دور مسکراتا چھوڑ دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت شہر کی لوکل اور صوبائی حکومت دونوں پیپلز پارٹی کے پاس ہیں۔ اگر مئیر گٹر کے ڈھکن کی چوری کا ملبہ پولیس پر ڈال بھی دے، تب بھی سیاسی و انتظامی ذمہ داری پیپلز پارٹی ہی کی بنتی ہے۔ پہلے بھی عرض کیا تھا کہ کراچی کے مسائل کا سوال مئیر سے کم اور وزیرِ اعلیٰ سے زیادہ پوچھا جانا چاہیے تاکہ ذمہ داری کا گول پوسٹ ادھر اُدھر نہ کیا جاسکے۔
اس حادثے کے بعد مئیر کا استعفیٰ مانگنے سے بہتر تھا کہ سب سے پہلے اس مقام کے منتخب نمائندوں اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا، کیونکہ کوئی تو ذمہ دار ہے! اگر سندھ حکومت کو ہیلمٹ نہ پہننے والوں کا علم ہو سکتا ہے تو گٹر کے ڈھکن چرانے والوں کے بارے میں چھان بین کیوں نہیں ہو سکتی؟ کسی کو تو پکڑیں، کسی کو تو سزا دیں۔ لیکن افسوس کہ سزا کا سلسلہ کہیں غائب ہے اور شور صرف دو چار دن کا مہمان۔
یوں لگتا ہے کہ ذمہ داری طے کرنے کا کوئی نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی کے سپورٹرز اس انتظار میں رہتے ہیں کہ ملک کے کسی اور شہر، خصوصاً لاہور میں، ایسا کوئی واقعہ ہو جائے تاکہ کہہ سکیں کہ “وہاں بھی تو یہ ہو رہا ہے”۔ مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ دنیا کے کسی ملک میں ایسا حادثہ ہو تو ذمہ دار سے فوراً حساب لیا جاتا ہے۔
ہم شاید سب کے سب صرف شور مچانے کے لیے ہی رہ گئے ہیں… اور نتیجہ صفر۔

اردو

پرانا اکائونٹ suspend ہونے کے بعد اب ایکس پر آنے کا دل ہی نہیں کرتا۔
اور کبھی دل کرے بھی تو کوئی پشانتا نہیں ہے😪
تسی دسو واپس آیا جائے یا ایکس اب ہمارے قابل نہیں رہا؟
@Chiishmish
@sultan_danish
@iamMahay___
@irumrae
@FarheenBasit
@umama86
@MariamWaraich
@SULTANAMMAR_RT

اردو









