آج میاں صاحب کی تصویر دیکھ کر دل خوش ہو گیا
آج ہر چاینے والے کی عید ہوگئی
اللہ پاک ہمارے قائد کو سدا سلامت رکھے آمین
@MaryamNSharif#NawazSharifRulesHearts
@CMComplaintCell
سرگودھا میں
گورنمنٹ انبالہ مسلم گریجویٹ کالج سرگودھا میں زیر تعمیر بی ایس بلاک گذشتہ کئی سالوں سے فنڈز کے انتظار میں کچرے کا ڈھیر بن رہا ہے برائے مہربانی زیر تعمیر بلاک پر نوٹس لیا جائے اس کی تعمیر میں دیر کرنے والے افراد کو کیفرکردار تک پہنچائیں
@RanaUzairSpeaks بھائی ڈیل کر کون رہا ہے
خود سے ہی ایک دوسرے کو ڈیل ڈیل آفر کر رہے ہیں۔
فوج پر حملہ آوور ہونے والوں کو کوئی ڈیل نہیں ۔یہ بس اللہ پاک کے کرم سے ذلیل ہی ہوتے رہیں گے
ایرانی وزیر خارجہ نے جن دو ممالک کیطرف سے اظہار یکجہتی کرنے پر ٹویٹ کرکے شکریہ ادا کیا ان میں سے ایک پاکستان ہے اور دوسرا ترکی
ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر نے جنگ لگنے کے فوری بعد سکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں جن تین ممالک کا حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا ان میں ایک پاکستان ہے اور باقی دو روس اور چین ہیں
ایرانی صدر نے اپنے ٹویٹ میں جن دو ممالک کے سربراہان سے جنگ بندی بارے گفتگو کا ذکر کیا ان میں سے ایک پاکستان اور دوسرا روس ہے
ایران کے نئے سپریم لیڈر کو منتخب ہونے پر جن ممالک نے باقاعدہ مبارکبادی خط بھیجے ان میں سے ایک پاکستان ہے اور باقی دو روس اور آذربائیجان ہیں
پاکستان کی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ پر داخلی محاز پر (افغانستان پر بھی ) تنقید کی بڑی گنجائش ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ایران تنازعے کے دوران بہترین سفارتکاری کا لوہا منوایا ۔ پاکستان کی عالمی سطح پر عزت میں اضافہ ہوا ۔ صورتحال پل پل بدل رہی ہے ابھی تک تو پاکستان سرخرو ہوا ہے یعنی ایران نے بھی پاکستان کی تعریف کی ہے اور سعودی عرب اور عمان نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ تاہم یہ ایک تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہے - بہرحال اس سارے عمل کا کریڈٹ ٹیم لیڈر اسحاق ڈار اور پوری سول ملٹری قیادت کو جاتا ہے۔ @ForeignOfficePk@MIshaqDar50
لاہور
پنجاب ایگریکلچر کمیشن کی پانچویں خصوصی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں پنجاب بھر میں سٹرس (کنو) کی مارکیٹ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے کی، جبکہ اجلاس کی مشترکہ سربراہی کنوینر وزیرِ اعلیٰ پنجاب ٹاسک فورس برائے سٹرس بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا اور صوبائی وزیر زراعت و کنوینر پنجاب ایگریکلچر کمیشن عاشق حسین کرمانی نے کی۔
اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی میاں سلطان علی رانجھا سمیت دیگر اراکین صوبائی اسمبلی، سینئر سرکاری افسران، زرعی ماہرین، یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، کنو گروورز ایسوسی ایشن اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
کنو کے سرکاری نرخ، فیکٹری مالکان کی ذمہ داریاں، ایس او پیز پر عملدرآمد، کسانوں کو درپیش مسائل اور مارکیٹ کے مجموعی نظام پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
کنوینر وزیراعلیٰ پنجاب ٹاسک فورس بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا نے اجلاس میں شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ کنو کے کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے، اور کنو کے نرخوں، خریداری کے عمل اور فیکٹریوں کے ایس او پیز پر کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ فیلڈ میں مؤثر نگرانی کو یقینی بنائے اور کسان دشمن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔
اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کنو کی مارکیٹنگ، ایکسپورٹ، اور ویلیو ایڈیشن کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جائیں گی، تاکہ کنو کے کاشتکاروں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ مل سکے۔
@MNFSR_Pakistan@AgriculturePunjab@GovtofPunjabPK@pmln_org@SMAshiqHussain@SULTANALIRANJH3
ریاست مدینہ کیا تھا؟
ریاست مدینہ کا نام۔ استعمال کرنا چاہیے۔
جاوید غامدی صاحب نے چند سیکنڈ میں پوری داستاں بیان کرکے طارق جمیل جیسے مولویوں کے چورن کو بینقاب کیا جو ایک زانی اور فراڈیے سے ریاست مدینہ بنوا رہے تھے۔
جب ابھینندن پکڑا گیا میں گواہ ہوں اس میٹنگ میں بیٹھا ہوا تھا ایاز صادق نے صحیح کہا تھا کہ ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں فیض حمید اور عمران خان نے بندہ واپس کردیا کہ کہیں ہم کسی آزمائش میں نہ پڑ جائیں
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف
کی سیالکوٹ میں پریس کانفرنس
اسلام علیکم ایک سوال ہے بورڈ کی طرف سے پینل میں جس کا نام نہیں گیا۔نہ نام گیا نہ انٹرویو ہوا پھر فائنل آرڈر کیسے ہو گئے کہاں گیا میرٹ کہاں گئی پالیسی کہ میرٹ ہوگا۔برائے مہربانی اس پر سختی سے نوٹس لیں
@MaryamNSharif@RanaSikandarH
@RanaSikandarH@MaryamNSharif
اسلام علیکم ایک سوال ہے بورڈ کی طرف سے پینل میں جس کا نام نہیں گیا۔نہ نام گیا نہ انٹرویو ہوا پھر فائنل آرڈر کیسے ہو گئے کہاں گیا میرٹ کہاں گئی پالیسی کہ میرٹ ہوگا۔برائے مہربانی اس پر سختی سے نوٹس لیں
گذ شتہ برس خان صاحب کا پیغام موصول ہوا کے سینیٹ کے لیے کاغذات جمع کراؤ۔ مجھے کچھ مناسب نہیں لگا کہ حلقے کی سیاست کرنے والے کو سینیٹ لڑوانا اور اس کا سینیٹ پر راضی ہوجانا دونوں ہی زیادہ دانشمندانہ باتیں نہیں لگتیں۔ دوبارہ پیغام آیا کہ لازمی اپلائی کرنا ہے، سو کیا۔
پھر وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ جنرل الیکشن میں کاغذات ریجیکٹ ہوئے، تائید کنندہ اور تجویز کنندہ کو اغوا کرکے ان پر تشدد کیا گیا۔ اپیل میں گیا وہاں سے بھی فیصلہ خلاف آیا۔ سینیٹ کی نامزدگی پر بھی یہی متوقع تھا یہی ہوا۔ ابھی چونکہ چھبیسویں ترمیم کے زریعے آئین کا مکمل کباڑہ نہیں نکالا گیا تھا، پارٹی نے آئی ایل ایف کے وکلاء کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ وکیل ہائیر کرکے ہائیکورٹ میں فیصلہ چیلنج کردیا۔ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ حق میں دیا تو سینیٹ انتخابات ملتوی کردیے گئے۔ شرط ایک؛ جس نام پہ کاٹا لگا تھا اس پر کاٹا لگا رہیگا۔ ہم خدا ہیں ہمارا فیصلہ ہے اول تو ہوگا نہیں، ہوا تو جیتے گا نہیں، جیتا تو آ نہیں سکتا، آیا تو واپس نہیں جائیگا۔ اور ساتھ ہی بیانیے؛ کیا کرلیگا؟ سیٹ ضائع، ووٹ ضائع (جیسے ووٹ، اکثریت جیسی چیزیں یہ اب تلک خاطر میں لائے ہوں)۔ آج دن تک خدائی کی لڑائی جاری رہی۔ مجھے یقین ہے آگے بھی جاری رہے گی، دنوں کی بات ہے ارادے واضح تھے واضح تر ہوجائیں گے۔ اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نہ مجھے عمران خان کے بغیر اس پارلیمانی نظام کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی ہے نہ اس کا کوئی فائدہ۔ انتخابات کی واضح اکثریت۔ فارم ۴۷ کی حکومت مسلط کرنے کے باوجود نوے سے اوپر ایم این ایز۔ سینکڑوں نمائندگان دیگر اسمبلیوں میں کیا کرپائے ہیں جو ایک سینیٹ کی نشست کر لے گی کہ جب ملک میں آئین ہی نہیں۔ جب عدل ہی تماشہ ہے اور ڈنڈے کے زور پر ڈگڈگی تماشہ لگا کر ملک کے ہر ادارے کو مافیہ کے مفادات کے تحفظ کا ننگا ناچ نچوایا جارہا ہے۔ ایسے میں کون سے ایوان کی کوئی تقدیس باقی رہ گئی ہے کہ جس کا نمائندہ بننا کوئی قابلِ تحسین امر ہو (اور جو ایوان بنا ہی ووٹ کا استحصال کرکے ہو وہاں آپ اپنے لوگوں کے حقوق کا ہی کیا تحفظ کر پائیں گے)۔
سچ کہوں تو مجھے خان صاحب کی سوچ بھی نہیں سمجھ آئی کیا کرنا ہے مراد سعید کو سینیٹر بنوا کر؟ فائدہ؟ ایوانِ بالا کا احترام نہ شبلی فراز کا گریبان بچا سکا، نہ اعظم سواتی کی چادر اور چاردیورای اور قید تو وہ ہے جو اعجاز چوہدری دو سال سے کاٹ ہی رہا ہے۔ مراد سعید کا سر کیا بچا لینا ہے اس نے؟
بہت منطق ڈھونڈی نہیں ملی تو بسم اللہ پڑھ کر دستخط کردیے۔ دوسری جانب جو بھاگ دوڑ شروع ہوئی اور جو ایڑھی چوٹی کا زور لگا تو خان صاحب کی منطق سمجھ آئی؛”آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے، کاٹا صرف اللہ کی ذات لگاتی ہے“۔
۲۰۱۳ کے الیکشن میں جب پارٹی کے بڑوں نے میرے ٹکٹ کی مخالفت کی تو خان صاحب نے ایک جملہ کہا تھا ”مراد میرا پوسٹر بوائے ہے“۔ آپ کو اپنا پرایا، کوئی مراد سعید کے بغض میں، کوئی محبت کے لبادے میں تو کوئی کھلم کھلا عمران خان کی نفرت میں تو کوئی مایوسی میں تنکے کا سہارہ کھوجتے اور کم فہمی میں وراثت کے منجن بیچے گا، مگر میں بس یہی ہوں۔ پوسٹر بوائے؛ ایک استعارہ۔ بس یہی بتانا تھا کہ اس سے زیادہ ایڑھی چوٹی کا زور لگا لو، چاہے ایوانوں اور عدالتوں کو قحبہ خانے بنا دو، ملک کی ہر قابلِ فروخت زبان سے اپنی خدائی کے بیانیے بنوالو آج عمران خان نے آپ کی آنکھوں کے سامنے محض ایک پوسٹر رکھا ہے، جس کا ٹائٹل ہے؛ “آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے“۔
انشاءاللہ عمران خان واپس آئیگا!