
🚨 ATENÇÃO l Adultos estão chupando chupeta como forma de aliviar o estresse
Talha Ahmad
2.8K posts

@italhachohan
Long Live Pakistan ❤️🇵🇰

🚨 ATENÇÃO l Adultos estão chupando chupeta como forma de aliviar o estresse

Please🙏🙏🙏 I need blood for my Amma........ Please help..

🚨B- negative blood required in Faisalabad Phone 03287915911

یکم جون تک پنجاب میں دکانیں،مارکیٹس،شاپنگ مال،ہوٹل ریسٹورنٹس رات آٹھ بجے بند کرنے کی پابندی اٹھانے کا اعلان




If you made $200k last month trading, maybe just keep doing that. You don't need to sell me a course too.


If physicists are so smart why haven’t they figured out how to make any money yet



قرآئن بتاتے ہیں کہ اسلام آباد میں مارگلہ کے پہاڑوں کے مقابل قد اٹھائے کھڑی حیات ہوٹل، حیات ریذیڈنسی اور کانسٹیٹیوشن 1 کے متبادل ناموں سے پکاری جانے والی عمارت بھی ماضی کا قصہ ہونے جا رہی ہے۔ جمعہ کی شام اسلام آباد میں بارش ہو کر ٹھہری تو ہوا کی سرسراہٹ کی جگہ، کچھ اجنبی سی سرگوشیوں نے لینا شروع کر دی۔ اس دوران اطلاع آئی کہ آئی جی اسلام آباد نے وفاقی پولیس کے 800 اہلکاروں کو باوردی مگر بغیر اسلحہ جناح کنونشن سینٹر پہنچنے کا حکم دیا ہے۔ کچھ دیر بعد چند تصاویر اور ویڈیو کلپس سامنے آئے جن میں اسلام آباد پولیس کے اہلکار کنونشن سینٹر کے باہر موجود دکھائی دیے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل تک صرف تقریبات کا مرکز رہنے والا جناح کنونشن سینٹر آج کل وزارت داخلہ کا دفتر بھی کہلاتا ہے۔ وقت کچھ اور آگے گزرا، سرگوشیاں کچھ واضح ہوئیں تو اطلاعات آئیں کہ مختلف تنازعات کا شکار رہنے والی عمارت کو خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ قارئین کو بتاتے چلیں کہ سی ڈی اے کی جانب سے 2005 میں ہوٹل کے لیے 99 سالہ لیز پر دی گئی 13 ایکڑ جگہ کو ایک کمپنی نے رہائشی اپارٹمنٹ پراجیکٹ بنا کر فروخت کر دیا تھا۔ ماضی میں بھی یہ معاملہ عدالتوں میں رہا جس کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی عدالت نے عمارت کو قانونی درجہ دے دیا تھا۔ اس فیصلہ پر کہیں دبے اور کہیں کھلے لفظوں میں بہت کچھ کہا جاتا رہا۔ کسی نے اسے عمارت کے بااثر مالکان سے منسوب کیا، کوئی اپارٹمنٹس کے نئے مالکان کے اختیار کو وجہ بتاتا رہا۔ وقت آگے بڑھتا رہا۔ کانسٹیٹیوشن ون یا حیات ریذیڈنسی نکھرتی رہی، شاہراہ دستور کی ایک جانب مارگلہ کے سرسبز پہاڑ منظر کا مستقل حصہ ہیں، دوسرے سرے پر یہ عمارت بھی کچھ ایسا ہی درجہ پانے کے لیے کوشاں رہی۔ مگر پھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے انتظام و انصرام کے ذمہ دار اداے سی ڈی اے نے انگڑائی لی۔ اپنے قوانین کی بنیاد پر عمارت کی لیز منسوخ کی تو انتظامیہ عدالت چلی گئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مختصر حکم میں سی ڈی اے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد جمعہ کی شب ہونے والی سرگرمی اور پولیس کی نقل وحرکت کے بعد عمارت کے مکینوں کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے فلیٹس میں آ کر جمعہ کی شام تک خالی کرنے کا کہا ہے۔ کچھ رپورٹس میں مکینوں سے منسوب کیا گیا کہ ہفتہ کی شام تک رضاکارانہ انخلا کی مہلت، وگرنہ بذریعہ آپریشن عمارت خالی کرانے کی وارننگ دی گئی ہے۔