Sabitlenmiş Tweet

میں نا تو حکومت کا حمایتی ہو نہ ہی ان کا مخالف ہو۔ ایک عام انسان ہو جو کبھی کچھ سوچتا ہے کبھی کچھ۔ اس لیے میں دوسروں لوگوں کی طرح ہمیشہ حکومت کی مخالفت میں یقین نہیں رکھتا۔ یہ مشکل وقت ہیں۔ اس عارضی مہنگائی کو برداشت کرنا ہو گا ورنہ مستقل مہنگائی آ جائے گی۔ پٹرول امپورٹڈ آئٹم ہے۔ اُور ہر امپورٹڈ مال پر ٹیکس ڈیوٹی یا لیوی لگتی ہے۔ جو لوگ مفت پٹرول چاہتے ہے وہ ملک کے دشمن ہیں۔ بغیر ٹیکس لیوی کے کوئی حکومت کام نہیں کر سکتی۔ پٹرول مزید مہنگا بھی ہو جائے ملک بچنا چاہیے۔ ورنہ ہائپر انفلیشن میں ہزاروں بھی کم پر جائے گے ۔ 25 کروڑ لوگوں کو سبسڈی نہیں دی جا سکتی۔ پٹرول کو چھوڑنا ہو گا۔ سائیکل کا استعمال کرنا سیکھیں۔ میرا دادا موٹر سائیکل نہیں چلاتا تھا۔ ہمیشہ سائیکل۔ سائیکل کو اپنائے۔ جنگ میں زندہ ہیں کافی ہیں۔ عیاشی جنگوں میں اچھی نہیں لگتی۔ پٹرول عیاشی ہے۔ یہ میری رائے ہے۔ کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
اردو












