Kashan Akmal Gill

10.1K posts

Kashan Akmal Gill banner
Kashan Akmal Gill

Kashan Akmal Gill

@kashanakmal

Journalist - Director Planning @ China Media Group | Previously @SochVideos | @BBCUrdu | @Stateivlp Fellow | views are personal | Obviously!

Islamabad, Pakistan Katılım Aralık 2010
1.2K Takip Edilen2.1K Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
Kashan Akmal Gill
Kashan Akmal Gill@kashanakmal·
Water purifies the body, tears purify the ego, knowledge purifies the mind and love purifies the soul. - Ali Ibn Abi Talib
English
2
4
20
6.5K
Kashan Akmal Gill retweetledi
Afzal Butt
Afzal Butt@Afzalbutt01·
جو لوگ ایک عامل صحافی اور “صحافی نما “ ٹرولز کے درمیان فرق جاننا چاہتے ہیں وہ ایک ہی موضوع پر “ڈالر مافیا” اور مسعود رانا کی تحریر کا تقابلی جائزہ لیں ، انہیں فیصلہ کرنے میں آسانی رہے گی ۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے معاملات پر ممتاز کورٹ رپورٹر اور آئینی معاملات پر اتھارٹی کا درجہ رکھنے والے رانا مسعود حسین اور خالدہ شاہین رانا کی جانب سے پیش کی گئی یہ تحریر محض ایک مؤقف نہیں بلکہ آئینی، جمہوری اور ادارہ جاتی اصولوں کی نہایت مدلل اور جامع تشریح ہے۔ #NPC
Afzal Butt tweet media
اردو
2
12
17
502
Kashan Akmal Gill retweetledi
Ehtisham ul haq
Ehtisham ul haq@ehtishamulhaq87·
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر عبدالرزاق سیال اور سیکرٹری راؤ فرقان کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے منعقد نہ ہونے والے گورننگ باڈی کے اجلاس کے حوالے سے من گھڑت پریس ریلیز جاری کرنے اور پریس کلب کے جمہوری تشخص و وقار کو نقصان پہنچانے کے خلاف گورننگ باڈی کے ارکان نے آئین کی دفعہ 6، شق 6 کے تحت ریکوزیشن کے ذریعے گورننگ باڈی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
Ehtisham ul haq tweet media
اردو
7
12
15
591
Kashan Akmal Gill retweetledi
Attaullah Tarar
Attaullah Tarar@TararAttaullah·
میرے قریبی ساتھی اور حلقے کی ہر دل عزیز شخصیت یونین کونسل 235 کے چیئرمین چودھری آصف مئیو قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے۔ آج لاہور میں ان کے گھر حاضر ہو کر ان کی والدہ، بھائی اور بچوں سے دلی تعزیت کی۔ چودھری آصف مئیو ایک متحرک سیاسی و سماجی شخصیت تھے انکی کمی ہمیشہ محسوس ہو گی۔ اللہ تعالٰی ان کے درجات بلند عطا فرمائیں
اردو
16
65
225
3.9K
Kashan Akmal Gill retweetledi
Azhar Javaid
Azhar Javaid@azharjavaiduk·
جسٹس (ر) منصور علی شاہ کا متنازعہ کردار ؟ ان کی اس فورم میں شرکت کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔کیا پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کا حصہ بن گئے ہیں جب پاکستان حالیہ عرصے میں سفارتی، معاشی اور علاقائی سطح پر مثبت پیش رفت کا دعویٰ کر رہا ہے، تو ایسے فورمز میں قومی کامیابیوں کے بجائے متنازع سیاسی موضوعات کو مرکزی حیثیت دینا قابلِ غور ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا پاکستان کے مثبت عالمی تشخص، سفارتی کامیابیوں اور معاشی بحالی پر بھی اسی سنجیدگی سے گفتگو کی جا رہی ہے، یا توجہ صرف ان موضوعات پر مرکوز ہے جو ملک کے بارے میں منفی تاثر کو تقویت دے سکتے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ سمیت فورم کے مقررین سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ پاکستان کے بارے میں ایک متوازن بیانیہ پیش کرنے کے لیے کون سے اقدامات کیے گئے اور قومی کامیابیوں کو بحث کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا۔ تعمیری تنقید اور علمی مباحث اہم ہیں، لیکن ان کے ساتھ پاکستان کی مثبت پیش رفت اور قومی کامیابیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے
Azhar Javaid tweet mediaAzhar Javaid tweet mediaAzhar Javaid tweet media
اردو
25
73
151
25.1K
Kashan Akmal Gill retweetledi
Nayyer Ali
Nayyer Ali@Nayyer_Aliz·
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سینئر نائب صدر احتشام الحق، سیکرٹری فنانس عابد عباسی اور دیگر عہدیداران و ممبران گورننگ باڈی نے صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال اور سیکرٹری راؤ فرقان کی جانب سے مبینہ اجلاس کے حوالے سے جاری کردہ پریس ریلیز کو حقائق کے منافی، جھوٹ پر مبنی اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ #NPC #Islamabad
Nayyer Ali tweet media
Islamabad, Pakistan 🇵🇰 اردو
1
5
12
794
Kashan Akmal Gill retweetledi
Badar Shahbaz 🇵🇰
Badar Shahbaz 🇵🇰@BSWarraich·
چینی صدر شی جن پنگ کا وزیراعظم شہباز شریف کو "دیرینہ دوست" اور پاک چین دوستی کو "ناقابلِ شکست" قرار دینا، علی بابا گروپ کے چیئرمین کا "شریف سپیڈ" کا اعتراف، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امن کے لیے کوششوں کو سراہا جانا پاکستان کیلئے بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ یہی وہ شہباز ڈپلومیسی ہے جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر کھویا ہوا مقام واپس دلوایا، الحمدللہ 🇵🇰🇨🇳 #SharifSpeed
اردو
1
31
116
1.6K
Kashan Akmal Gill retweetledi
Afzal Butt
Afzal Butt@Afzalbutt01·
تیسرے نیشنل جرنلسٹس کنونشن میں پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور ملک کے دور دراز علاقوں سے تشریف لانے والے تمام سینئر، نوجوان اور متحرک صحافیوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ #NJC #PFUJ #NWJC
Afzal Butt tweet media
اردو
1
7
13
388
Kashan Akmal Gill
Kashan Akmal Gill@kashanakmal·
@TheSaadKaiser Bas kar pagglay... Rulaye ga kia...? 🥺 It is their job actually, but yes, littering isnt civilized way of disposing trash.
English
0
0
1
78
Saad Kaiser 🇵🇰
Saad Kaiser 🇵🇰@TheSaadKaiser·
Aik baar phir say KACHRA utha raha hoon. If you can’t change yourself, then stop complaining about Pakistan. It is not the job of CDA workers to pick up and clean your trash every time..
English
60
31
285
20.2K
Kashan Akmal Gill retweetledi
Kashan Akmal Gill retweetledi
Attaullah Tarar
Attaullah Tarar@TararAttaullah·
جب کارکردگی کا دفاع ممکن نہ رہے تو میڈیا پر حملے شروع ہو جاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کیوں بڑھ رہی ہے، ترقیاتی منصوبے کیوں رکے ہوئے ہیں، سرمایہ کاری کیوں نہیں آ رہی اور نوجوان روزگار کے لیے کیوں پریشان ہیں۔ ان سوالات کا جواب دینے کے بجائے صحافیوں کو موردِ الزام ٹھہرانا حقیقت سے فرار ہے۔ میڈیا مسائل پیدا نہیں کرتا، صرف عوام کے سامنے لاتا ہے۔ جمہوری قیادت تنقید کا جواب حقائق سے دیتی ہے، بدمعاشی سے نہیں۔
Pakhtun Digital@PakhtunDigital

🚨🚨خیبرپختونخوا میں صحافتی پابندیوں کا نیا دور۔ سہیل آفریدی کی جانب سےافسران اور وزراء کو نیا حکمنامہ جاری۔ جو بھی تنقید کریں، الزام لگائیں، تین دن کے اندر قانونی کارروائی کریں اور نوٹس بھیج دیں۔

اردو
343
285
486
176.3K
Kashan Akmal Gill retweetledi
Khalid Mahmood
Khalid Mahmood@Kmahmood70·
@fawadchaudhry During your tenure, you tried to establish a media authority, thousands of people were laid off from institutions, and reporters’ beats were changed. What did you achieve from all this? 🧐
English
3
4
5
1.6K
Kashan Akmal Gill retweetledi
Naseem Abbas
Naseem Abbas@Naseemsawag·
یورپین پارلیمنٹ کی سپین سے ممبر ایرینی مونٹیرو نے یورپین پارلیمنٹ کی صدر سے کہا کہا- ، اسرائیل پچھلے 24 گھنٹوں سےبحیرہ روم کے عین وسط میں بحری جہازوں اور یورپی شہریوں کو اغوا کر رہا ہے۔ آپ کو یہ مذاق لگ رہا ہے۔ کیا آپ ان کی حفاظت کے لیے کبھی کوئی قدم اٹھائیں گی؟ وہ یورپی شہری ہیں۔ اگر یہ ایران ہوتا، یا روس ہوتا جو بحیرہ روم کے وسط میں یورپی شہریوں کو اغوا کرنے آ کھڑا ہوتا، تو آپ کیا کرتیں؟ لیکن چونکہ یہ اسرائیل ہے، تو آپ مسکراتی ہیں اور دوسری طرف دیکھ لیتی ہیں اپ کو شرم انی چاہیے۔
اردو
3
166
251
2.2K
Kashan Akmal Gill retweetledi
Khurram Schehzad
Khurram Schehzad@kschehzad·
احمد صاحب، میں خود ایک متوسط طبقے کے پس منظر سے آیا ہوں اور گزشتہ تقریباً 22 سال سے عوامی مسائل، روزمرہ معیشت اور street-level dynamics کو قریب سے دیکھتا اور cover کرتا رہا ہوں۔ اس لیے عام آدمی، خاص طور پر lower اور کمزور طبقات پر پڑنے والے دباؤ سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ میرا مؤقف بھی یہی تھا کہ پہلے جب قیمتیں artificially نیچے رکھی جاتی تھیں تو اُس سبسڈی کا بڑا فائدہ نسبتاً elite طبقے کو بھی مل رہا تھا، جو اصولاً نہیں ملنا چاہیے تھا۔ اب کوشش یہ ہے کہ محدود وسائل میں زیادہ توجہ اُن کمزور طبقات پر دی جائے جو واقعی زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جبکہ elite کو blanket subsidy نہ دی جائے۔ اسی تبدیلی پر زیادہ شور بھی اُسی طبقے کی طرف سے آ رہا ہے۔ یہی بات میں نے پہلے بھی واضح کی تھی۔ اگر میری تفصیلی وضاحت کے باوجود بھی بات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جائے، تو پھر مزید وضاحت شاید ممکن نہیں رہتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مشکل حالات صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کو درپیش ہیں۔ ایسے میں ریاست، میڈیا اور تمام stakeholders کی ذمہ داری ہے کہ بحث مکمل سیاق و سباق اور ذمہ داری کے ساتھ کی جائے، تاکہ عوام تک درست تصویر پہنچے، نہ کہ آدھی بات سے غلط تاثر۔ اختلاف اپنی جگہ، مگر ذمہ دارانہ گفتگو ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
Ahmad Warraich@ahmadwaraichh

وعلیکم السلام۔۔۔ آپ کی مکمل بات یہی تھی کہ حکومت پیٹرول پر سبسڈی دے رہی ہے (2 ہزار روپے ماہانہ)۔ اب ذرا اس شخص کا سوچیں جس کا روزانہ کام کیلئے آتے جاتے ایک لیٹر پیٹرول (415 روپے) لگتا ہے اور تنخواہ 50 سے 60 ہزار۔ مہینے کی کمائی 60 ہزار جس میں سے 12500 روپے پیٹرول پر خرچ (21%) اصل فرق یہیں لوئر کلاس کو پڑتا ہے، ایلیٹ کو پیٹرول کی کوئی ٹینشن نہیں۔ باقی آپ گراؤنڈ میں آئیں، آپ کی موٹرسائیکل سواروں سے ملاقات کراتا ہوں، بات چیت کرتے ہیں، وہ آپ کو بتائے گا کہ فرق پڑتا ہے یا نہیں، انشا اللہ آپ کی تسلی ہو جائے گی

اردو
60
25
42
10.4K
Kashan Akmal Gill
Kashan Akmal Gill@kashanakmal·
پاکستان میں میڈیا کے جو حالات ہیں، اس کا آغاز کہاں سے ہوا؟ بربادی کا سفر شروع کہاں سے ہوا؟ کیا یہ بنیادی اور سب سے بڑا سوال اس ساری بحث میں پیشِ نظر نہیں رکھنا چاہیے؟ یہ سوال بھی ضروری ہے کہ آج جیسے عطاء اللہ تارڑ صحافی کی جبری برطرفیوں اور ناانصافیوں پر اشتہارات روکنے جیسے فیصلے کر رہے ہیں، پی ٹی آئی دور میں ہر روز سینکڑوں صحافیوں صرف ایک کال پر نکال دیئے جاتے تھے، فواد صاحب نے کسی ایک کے لیے سنٹیڈ لیا؟۔ کس نے موبائل لہرا کر کہا تھا کہ "میڈیا ہماری جیب میں ہے، ہمیں چینلز کی ضرورت نہیں"، وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ نیوز چینلز پر سوالات ہوتے تھے، اس کو توڑ یہ نکالا گیا کہ سوشل میڈیا کی ایک گھنگرو توڑ فورس تیار کی گئی، اور انہیں زبردستی "صحافی" کا درجہ دلوایا گیا۔ جہاں بات نہ بنی بھرے مجمعے میں "تھپڑ جڑ دیئے"۔ آپ حکومت کی ناقد ہیں، کیا آپ کی طرح پی ٹی آئی پر تنقید کرنے والوں کی نوکریاں قائم رہتی تھیں؟ نصرت جاوید صاحب جیسے انسٹیٹیوٹ کو سال کا سال گھر بٹھا دیا گیا تھا۔
Shiffa Z. Yousafzai@Shiffa_ZY

تارڈ صاحب بذات خود اچھے انسان ہیں۔ اور پیکا کی منظوری کے وقت مرحوم عرفان قادر کے ساتھ صحافیوں سے کئی بار ملے بھی۔ حالیہ دنوں میں نجی چینلز کی جانب سے نکالے گئے ورکرز کے لیے بھی جو تارڈ صاحب نے سٹینڈ لیا وہ ایک قابل تعریف عمل ہے۔ لیکن انٹرویوز دینے میں یا ایکراس دی بورڈ پروگراموں میں شرکت کرنے کا سکور تارڈ صاحب کا فواد چوہدری صاحب سے بڑا کم ہے۔ تارڈ صاحب سے عزت کا تعلق ہے لیکن میرے 365 نیوز کے پروگرام میں تارڈ صاحب ایک بار بھی شامل نہیں ہوئے۔ یہی شکایت بہت سے صحافیوں کو ن لیگ کے زیادہ تر رہنماوں سے ہے۔ حامد میر صاحب اور نسیم زہرہ صاحبہ کا ایک پروگرام کا کچھ سال پرانا کلپ ریکارڈ پر موجود ہے جہاں دونوں ہی ن لیگ کے حوالے سے یہی بات کر رہے ہیں کہ وہ پروگراموں میں شرکت ہی نہیں کرتے۔ بحر حال فواد چوہدری is a man of ideas…صحافیوں کے ساتھ یقینی طور پر زیادہ گھلتے ملتے تھے۔ ایک عام آدمی کی طرح دفتر چلاتے تھے اور کئی بار دیکھا کہ جو ملنا چاہتا تھا بغیر روک ٹوک انکے دفتر میں آ سکتا تھا۔ ویسے یہ چیز تحریک انصاف کے دیگر وزرا میں بھی پائی جاتی تھی کہ انکے دفاتر میں کسی کا بھی داخلہ خاصہ آسان تھا۔ سوائے دو چار کو چھوڑ کر۔فواد صاحب ہر اینکر کے پروگرام میں شرکت کرتے تھے اور سب کو انٹر ویو دیتے تھے چاہے کوئی انکی حکومت کا کتنا ہی مخالف کیوں نہ ہو۔ تحریک انصاف کے تقریبا ہر بڑے چھوٹے لیڈر کا انٹرویو کیا۔ سخت سوالات بھی پوچھے، اور آبجیکٹوٹی کی خاطر کچھ بونگے سوال بھی پوچھے جنکا جواب بھی معلوم ہوتا تھا اور یہ بھی پتہ ہوتا تھا کہ اس معاملے میں حکومت کا شاید اتنا قصور بھی نہیں ہے لیکن کبھی بھی سخت سوال پوچھنے کے بعد ایسا نہیں ہوا کہ یہ خیال آیا ہو کہ اب تو یہ بندہ دوبارہ شو پر آئے گا ہی نہیں۔ جبکہ دیگر جماعتوں کی طرف پھینکے گئے سوال اگر اتنے سخت نہیں بھی ہوتے تھے تو بھی پروگراموں میں شرکت کرنے سے فرار اختیار کرتے تھے یا میسج کا جواب دینا بھی کئی مرتبہ گوارا نہیں کرتے تھے۔ ن لیگ کے چند ہی وزرا ہیں جو کھل کے پروگراموں میں شرکت کرتے تھے اور بلا جھجک ہر سوال کو face کرتے ہیں۔ ان میں طارق فضل چوہدری، حنیف عباسی، خرم دستگیر، علی پرویز ملک، شزرہ منصب، کوثر کاظمی، جاوید لطیف، قیصر شیخ، بلال کیانی اور رانا ثنا اللہ شامل ہیں۔ اس کا تعلق بحر حال کانفیڈنس اور احساس زمہ داری سے بھی ہے۔ ن لیگ صحافیوں کو یا اپنا دوست بنانا چاہتی ہے یا انکو دشمن سمجھ لیتی ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ حساب نہیں تھا۔ اور اگر اس بات کو مزید سمجھنا ہو توپرانے پروگراموں میں اینکرز کی سوال کرتے ہوئے tone غور سے دیکھ لیں کہ ن لیگ کے مہمانوں سے سوال پوچھتے ہوئے انکی کیا tone ہوتی تھی یا ہوتی ہےاور پی ٹی آئی کے اس وقت کے وزیروں سے سوال کرتے ہوئے انکی کیا tone ہوتی تھی۔ صحافی کے لیے ہر مہمان قابل احترام ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔

اردو
78
62
70
3.6K
Kashan Akmal Gill retweetledi
Saad Kaiser 🇵🇰
Saad Kaiser 🇵🇰@TheSaadKaiser·
پی ٹی آئی کارکن زیشان صاحب، ایک تو آپ لوگ منہ اٹھا کر صحافی بن جاتے ہیں۔ جس خاتون کو آپ اَن پڑھ کہہ رہے ہیں، انہوں نے یونیورسٹی آف لندن اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے اسکول آف لا سے قانون کی تعلیم حاصل کی ہے، جو دنیا کے (Top ranking in the world) بہترین لا اسکولز میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کا عمران نیازی واقعی ان کے سامنے اَن پڑھ ہی لگتا ہے، جسے یہ تک معلوم نہیں کہ جاپان اور جرمنی آپس میں بارڈر شیئر نہیں کرتے۔ لیکن خیر، کلٹ کو کچھ سمجھانا بندر کو الجبرا سمجھانے جیسا ہے، اس لیے آپ لوگ اپنی ہی دنیا میں خوش رہیں۔ ویسے، بلاول بھٹو پارٹی چیئرمین ہیں، وزیرِ خارجہ نہیں۔ تھوڑا خود بھی پڑھ لیا کریں!
Saad Kaiser 🇵🇰 tweet mediaSaad Kaiser 🇵🇰 tweet media
Syed Zeeshan Aziz@iemziishan

ان میں زیادہ تر تو پڑھے لکھے ہی نہیں ہیں اور پھر کوشش بھی نہیں کرتے.

اردو
134
132
486
70.9K