Kashan Akmal Gill
10.1K posts

Kashan Akmal Gill
@kashanakmal
Journalist - Director Planning @ China Media Group | Previously @SochVideos | @BBCUrdu | @Stateivlp Fellow | views are personal | Obviously!














The recent matter involving a PML-N Member of the Provincial Assembly and a prominent media personality is a personal issue and will be addressed strictly on merit and in accordance with the law, however, I want to make it absolutely clear that I will not spare anyone found involved in attempting to harass, threaten, or exploit a woman. No individual, regardless of status, position, or political connections, is above the law. State institutions will perform their duties independently, impartially, and in accordance with the Constitution and the law. Any attempt to exert political pressure, abuse influence, or exploit a woman through threats of releasing personal content publicly will be met with firm and uncompromising action. Consider this a clear and serious warning to anyone involved.

مبینہ طور پر اطلاعات ہیں اداکارہ مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ دونوں اکٹھے باہر سفر کرتے رہے ہیں مہنگے تحائف ، گاڑی مہنگی گھڑیاں جس میں رولیکس کی گھڑی بھی شامل ہے ، وکٹوریا سیکرٹ سے شاپنگ اور کرائے پر گھر بھی شامل ہے۔#mominaiqbal #Pakistan #NCCI

اپنے پیارے بھائی راجہ کبیر صاحب کے اعزاز میں گزشتہ شب منعقدہ عشائیے کے دوران اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا۔ ہمارے سوشل میڈیا واریئرز ہماری پہچان ہیں، جنہوں نے ہر مشکل وقت میں پاکستان اور سچ کا علم بلند رکھا۔ ہمیں اپنے ان بہادر ساتھیوں پر بے حد فخر ہے۔ 🇵🇰 @kabeerraja786

🚨🚨خیبرپختونخوا میں صحافتی پابندیوں کا نیا دور۔ سہیل آفریدی کی جانب سےافسران اور وزراء کو نیا حکمنامہ جاری۔ جو بھی تنقید کریں، الزام لگائیں، تین دن کے اندر قانونی کارروائی کریں اور نوٹس بھیج دیں۔



وعلیکم السلام۔۔۔ آپ کی مکمل بات یہی تھی کہ حکومت پیٹرول پر سبسڈی دے رہی ہے (2 ہزار روپے ماہانہ)۔ اب ذرا اس شخص کا سوچیں جس کا روزانہ کام کیلئے آتے جاتے ایک لیٹر پیٹرول (415 روپے) لگتا ہے اور تنخواہ 50 سے 60 ہزار۔ مہینے کی کمائی 60 ہزار جس میں سے 12500 روپے پیٹرول پر خرچ (21%) اصل فرق یہیں لوئر کلاس کو پڑتا ہے، ایلیٹ کو پیٹرول کی کوئی ٹینشن نہیں۔ باقی آپ گراؤنڈ میں آئیں، آپ کی موٹرسائیکل سواروں سے ملاقات کراتا ہوں، بات چیت کرتے ہیں، وہ آپ کو بتائے گا کہ فرق پڑتا ہے یا نہیں، انشا اللہ آپ کی تسلی ہو جائے گی

Promoting abusive and Zaleel accounts is policy of Federal Govt? #Sharamnak

تارڈ صاحب بذات خود اچھے انسان ہیں۔ اور پیکا کی منظوری کے وقت مرحوم عرفان قادر کے ساتھ صحافیوں سے کئی بار ملے بھی۔ حالیہ دنوں میں نجی چینلز کی جانب سے نکالے گئے ورکرز کے لیے بھی جو تارڈ صاحب نے سٹینڈ لیا وہ ایک قابل تعریف عمل ہے۔ لیکن انٹرویوز دینے میں یا ایکراس دی بورڈ پروگراموں میں شرکت کرنے کا سکور تارڈ صاحب کا فواد چوہدری صاحب سے بڑا کم ہے۔ تارڈ صاحب سے عزت کا تعلق ہے لیکن میرے 365 نیوز کے پروگرام میں تارڈ صاحب ایک بار بھی شامل نہیں ہوئے۔ یہی شکایت بہت سے صحافیوں کو ن لیگ کے زیادہ تر رہنماوں سے ہے۔ حامد میر صاحب اور نسیم زہرہ صاحبہ کا ایک پروگرام کا کچھ سال پرانا کلپ ریکارڈ پر موجود ہے جہاں دونوں ہی ن لیگ کے حوالے سے یہی بات کر رہے ہیں کہ وہ پروگراموں میں شرکت ہی نہیں کرتے۔ بحر حال فواد چوہدری is a man of ideas…صحافیوں کے ساتھ یقینی طور پر زیادہ گھلتے ملتے تھے۔ ایک عام آدمی کی طرح دفتر چلاتے تھے اور کئی بار دیکھا کہ جو ملنا چاہتا تھا بغیر روک ٹوک انکے دفتر میں آ سکتا تھا۔ ویسے یہ چیز تحریک انصاف کے دیگر وزرا میں بھی پائی جاتی تھی کہ انکے دفاتر میں کسی کا بھی داخلہ خاصہ آسان تھا۔ سوائے دو چار کو چھوڑ کر۔فواد صاحب ہر اینکر کے پروگرام میں شرکت کرتے تھے اور سب کو انٹر ویو دیتے تھے چاہے کوئی انکی حکومت کا کتنا ہی مخالف کیوں نہ ہو۔ تحریک انصاف کے تقریبا ہر بڑے چھوٹے لیڈر کا انٹرویو کیا۔ سخت سوالات بھی پوچھے، اور آبجیکٹوٹی کی خاطر کچھ بونگے سوال بھی پوچھے جنکا جواب بھی معلوم ہوتا تھا اور یہ بھی پتہ ہوتا تھا کہ اس معاملے میں حکومت کا شاید اتنا قصور بھی نہیں ہے لیکن کبھی بھی سخت سوال پوچھنے کے بعد ایسا نہیں ہوا کہ یہ خیال آیا ہو کہ اب تو یہ بندہ دوبارہ شو پر آئے گا ہی نہیں۔ جبکہ دیگر جماعتوں کی طرف پھینکے گئے سوال اگر اتنے سخت نہیں بھی ہوتے تھے تو بھی پروگراموں میں شرکت کرنے سے فرار اختیار کرتے تھے یا میسج کا جواب دینا بھی کئی مرتبہ گوارا نہیں کرتے تھے۔ ن لیگ کے چند ہی وزرا ہیں جو کھل کے پروگراموں میں شرکت کرتے تھے اور بلا جھجک ہر سوال کو face کرتے ہیں۔ ان میں طارق فضل چوہدری، حنیف عباسی، خرم دستگیر، علی پرویز ملک، شزرہ منصب، کوثر کاظمی، جاوید لطیف، قیصر شیخ، بلال کیانی اور رانا ثنا اللہ شامل ہیں۔ اس کا تعلق بحر حال کانفیڈنس اور احساس زمہ داری سے بھی ہے۔ ن لیگ صحافیوں کو یا اپنا دوست بنانا چاہتی ہے یا انکو دشمن سمجھ لیتی ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ حساب نہیں تھا۔ اور اگر اس بات کو مزید سمجھنا ہو توپرانے پروگراموں میں اینکرز کی سوال کرتے ہوئے tone غور سے دیکھ لیں کہ ن لیگ کے مہمانوں سے سوال پوچھتے ہوئے انکی کیا tone ہوتی تھی یا ہوتی ہےاور پی ٹی آئی کے اس وقت کے وزیروں سے سوال کرتے ہوئے انکی کیا tone ہوتی تھی۔ صحافی کے لیے ہر مہمان قابل احترام ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔



ان میں زیادہ تر تو پڑھے لکھے ہی نہیں ہیں اور پھر کوشش بھی نہیں کرتے.
