90 کی دہائی کی ہندوستانی فلموں کے معروف ترین اور خوفناک ولنز میں شمار ہونے والے اداکار رامی ریڈی (جو فلم 'پرتِیبندھ' میں گینگسٹر 'انا' کے کردار سے مشہور ہوئے) پر اگر ایک تفصیلی جائزہ لیا جائے، تو انہوں نے اپنی مخصوص دھاسو شخصیت، بھاری بھرکم آواز اور خوفزدہ کر دینے والے چہرے کے تاثرات سے ولن کے شعبے میں ایک نیا معیار قائم کیا تھا۔ تامل اور تیلگو سنیما سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے رامی ریڈی نے جب بالی ووڈ میں قدم رکھا، تو انہوں نے ہیروز کے مقابلے میں ایک ایسی طاقتور، بے رحم اور سفاک ولن کی تصویر کشی کی جسے دیکھ کر ناظرین کو سچ مچ خوف کا احساس ہوتا تھا، خصوصاً فلم پرتِیبندھ، وقت ہمارا ہے اور متنازع مگر مقبول فلم گنڈا میں ان کا بے باک انداز آج بھی پاپ کلچر اور سوشل میڈیا پر میمز کی شکل میں زندہ ہے۔ ان کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انہیں اپنی دہشت جمانے کے لیے زیادہ لمبے ڈائیلاگز کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، بلکہ ان کی صرف ایک گہری گھورکی اور مخصوص بے رحم ہنسی ہی پوری فلم میں خوف پھیلانے کے لیے کافی ہوتی تھی۔
رامی ریڈی کے کیریئر کو اگر ان کے چند دھماکے دار اور مشہورِ زمانہ ڈائیلاگز کے بغیر دیکھا جائے تو بات ادھوری رہ جاتی ہے، خصوصاً ا ان کا وہ شہرہ آفاق جملہ "اپون کا ایک ہی اصول ہے... ٹینشن دینے کا، لینے کا نہیں!" آج بھی ہر عام و خاص کی زبان پر رہتا ہے اور اس ڈائیلاگ نے انہیں ممبئییا ٹپوری اسٹائل ولن کے طور پر امر کر دیا۔ اسی طرح نوے کی دہائی کی مشہور ایکشن-مسالہ فلم گنڈا میں انہوں نے 'کالا شیٹی' کا ایسا مضحکہ خیز حد تک خوفناک کردار نبھایا کہ ان کا ڈائیلاگ "کالا شیٹی جب بھی کاٹتا ہے، آدمی مرتا نہیں... تڑپ تڑپ کے پاگل ہو جاتا ہے" آج بھی فلمی حلقوں میں یاد کیا جاتا ہے۔
ان سب کے علاوہ، رامی ریڈی 90 کی دہائی کے روایتی بالی ووڈ سنیما کے اس مخصوص فارمولے کے بھی ماسٹر تھے جہاں ولن کا اصل مقصد ہیرو کو ذہنی اذیت دینا ہوتا تھا؛ انہوں نے بے شمار فلموں میں ہیرو کی بہن یا گرل فرینڈ کے اغوا اور ریپ کی سازشیں رچانے والے بے رحم گینگسٹرز کے کردار بڑی مہارت سے نبھائے۔ فلموں میں ان کا یہ انداز ہوتا تھا کہ وہ لڑکی کو اغوا کر کے اپنے اڈے پر لاتے اور ہیرو کو فون پر چیلنج کرتے ہوئے ایسے جملے بولتے جیسے: "تیری بہن (یا معشوقہ) اب میرے قبضے میں ہے، اب یہاں میری مرضی چلے گی اور تیری شرافت کا جنازہ اٹھے گا"۔ ان کا یہ سفاکانہ اور وحشیانہ انداز ناظرین کے دلوں میں ہیرو کے لیے ہمدردی اور رامی ریڈی کے کردار کے لیے شدید نفرت پیدا کر دیتا تھا، جو کہ ایک بہترین ولن کی سب سے بڑی کامیابی مانی جاتی ہے۔
ایک کیمیکل انجینئر سے اداکار بننے والے اس مایہ ناز فنکار نے ٹائپ کاسٹ ہونے کے باوجود ہر فلم میں ولن کے کردار کو ایک ایسی شدت اور روانی دی کہ وہ نوے کی دہائی کے بچوں کے لیے ڈراؤنا خواب بن گئے، اور اگرچہ وہ 2011 میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن سنیما پر اپنے مخصوص دبدبے اور لازوال اداکاری کی جو چھاپ وہ چھوڑ گئے ہیں، وہ انہیں ہمیشہ پرانی فلموں کے یادگار اور عظیم ولنز کی فہرست میں نمایاں رکھے گی۔
جو عطا ہوئی عشق کے نام سے
اداکاری ہے، یہ بندگی نہیں لگتی
لبوں پر سود و زیاں کی شکایت
کسی صورت یہ خفگی نہیں لگتی
آنکھ سے پھوٹا ہے لہو، جانِ خلیل
دل میں کہیں شرمندگی نہیں لگتی
قرارِ من روحِ من
جانِ من
تُم مکمل عشق ہو
تُم مکمل حُسن ہو
چاند جیسی لڑکی
خواب جیسی لڑکی
احساس جیسی لڑکی
اے راحتِ جاں دلربا
اے دلفریب لڑکی
آپ کی باتوں میں جیسے
بارش کی پہلی خوشبو بسی ہو
اور آپ کی ہنسی میں
بہاروں کی نرم دُھنیں جاگتی ہوں
آپ وہ نایاب خوشبو ہیں
جو روح میں اُتر کر
ہمیشہ مہکتی رہتی ہے
آپ کے لمسِ خیال سے
دل کے ویران موسم بھی
گلزار بن جاتے ہیں
تُم مکمل عشق ہو
تُم مکمل حُسن ہو❤️
تم شاعر کیوں نہیں ہو ؟
لوگ تو خیالی محبوب کے لیے،
محبوب کی ساحرانہ باتوں کے لیے،
اس کی گھنی ریشمی زلفوں کے لیے،
اس کی مخروطی انگلیوں کے لیے،
قاتل نگاہوں کےلیے ،
گلابی گالوں کےلیے ،
معطر ہونٹوں کےلیے ،
صراحی گردن کے لیے،
گردن پر فرضی تِل کے لیے
پورے دیوان لکھ دیتے ہیں۔
اور تم شاعری نہیں کرتے؟
بتاؤ نا
تم شاعر کیوں نہیں ہو ؟
تمہارے پاس تو ایک مجسم غزل ہے...
تمہارے پاس تو میں ہوں نا۔
–خلیل بلوچ
@Masterji_UPWale I am using my Yahoo email for this Twitter account.
And the reason Yahoo didn’t ask you to buy more storage is that it simply deletes inactive account data if the account isn’t used for a long time.
Yahoo did that to me and now I can't recover my old data
اردو ٹائپنگ میں اعراب کیسے لگاتے ہیں ؟
اکثر زیر، زبر یا پیش لگانا ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ مَردوں اور مُردوں میں فرق ضروری ہے😁
جس حرف پر اعراب لگانے ہوں وہ حرف ٹائپ کر کے نیچے تصویر میں جس بٹن پر پیلے رنگ کا دائرہ ہے اسے ایک سیکنڈ کیلئے دبائیں تو سب زیر، زبر، پیش، شد، کھڑی زبر زبر پیش وغیرہ شو ہو جائیں گے اپنی ضرورت کے مطابق کلک کریں اس حرف پر وہ اعراب لگ جائیں گے
تم کیوں کہتی ہو کہ تمہارا حسن لا جواب نہیں ہے؟
کیسے کہہ سکتی ہو کہ میں نے ابھی حسن دیکھا ہی کہاں ہے؟
میں نے تمہارا قیامت خیز حسن دیکھا ہے نا ،
اس سے زیادہ خوبصورتی ہو سکتی کیا ؟
میں نے پسینے کی جو بوندیں دیکھی ہیں تمہارے چہرے پر،
شبنم کے قطروں سے مزین صبحِ دم کے کھلے پھول میں اس سے زیادہ تازگی ہو سکتی ہے کیا؟
اچھا مجھے ایک بات بتاؤ
مجھے جو تمہاری زُلف کا سایہ میسر ہے، تپتی دوپہر کی گرمی اور تنہائی اس راحت کو توڑ سکتی ہے ؟
شام ہو، میں ہوں، افق ہو،چائے ہو اور تم ہو، اِس سے بہتر زندگی ہو سکتی ہے ؟
کھلی آنکھ سے دیکھوں تو رنگوں میں ، آنکھیں بند کروں تو تصور میں اگر تم نظر نہ آؤ
میری اپنی بسائی ہوئی دل کی دنیا میں اگر میں تم کو نہ دیکھ پاؤں ، تو اس سے بڑھ کر بھی تیرگی ہو سکتی ہے کیا ؟
تم مجھ سے ہمکلام ہو، تمہارے لبوں پر میرا نام ہو ، پھر کائنات میں کوئی چیز تمہارے لہجے سے زیادہ شیریں ہو سکتی ہے ؟
میں سنتا رہوں تم بولتے رہو، اپنی آواز سے سماعت میں رس گھولتے رہو ، میں تمہیں دیکھتا رہوں تم اپنا ورق ورق مجھ پر کھولتی رہو ، تو پھر کوئی صنم ہو سکتا ہے اس کے علاوہ بندگی ہو سکتی ہے ؟
دیکھ لو ، کہاں تم ایک عرشی صورت، کہاں میں ایک پاگل لڑکا، ہم ساتھ ہیں پھر بھی ،
دنیا کو اس سے زیادہ حیرانگی ہو سکتی ہے کیا ؟
"تم تو مجھے پاگل کر دو گے، کہاں سے لاتے ہو الفاظ میں سمندروں سی گہرائی پاگل لڑکے"
تم کیسے کہہ سکتی ہو میرے الفاظ سمدر کے سے گہرے ہیں؟
تم مجھے بتاؤ کہ دنیا کے سمندروں میں تمہاری آنکھوں کی سی گہرائی ہو سکتی ہے ؟
مجھے بتاؤ نا کہ تم کیوں کہتی ہو ہو کہ تمہارا حسن لا جواب نہیں ہے؟
کیسے کہہ سکتی ہو کہ میں نے ابھی حسن دیکھا ہی کہاں ہے؟
میں نے تمہارا قیامت خیز حسن دیکھا ہے نا ، اس سے زیادہ خوبصورتی ہو سکتی ہے کیا ؟
خلیل بلوچ