KhawarHussain
812 posts









زبردستی کرایہ دار بنانے کا طریقہ۔۔۔۔ قومی اسمبلی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی فرح گوگیوں اور گوگوں نے PTA کے متنازع ترمیمی بل میں زبردستی کرایہ دار کی شق 5 بی ii بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت ٹیلی کام کمپنی اور شہری رضامندی کے ساتھ جگہ کرایہ طے کر سکتے ہیں تاہم اگر کرایہ طے ہونے میں اختلاف ہوتا ہے تو معاملہ حکومت کو بھجوایا جائیگا۔۔۔ اس شق میں پہلی خامی کہ معاملہ حکومت کو بھجوائے گا کون؟ دوسری خامی کہ حکومت کو آئین کے آرٹیکل 23/24 کی موجودگی میں یہ اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی شہری کی جائیداد کے کرایہ کا تعین کریں۔ تیسری خامی پورے بل میں کہیں بھی appreciate government کی تعریف اور تشریح نہیں کی گئی۔ چوتھی خامی کہ پورے بل میں جائیداد کے مالک کے حقوق کا کہیں تحفظ نہیں لکھا ہوا۔ پانچویں خامی کہ کسی بھی خلاف ورزی پر جائیداد کے مالک کو تو مافیاز کی نوکری کرنے والی حکومت یا سیکریٹری 5 کروڑ تک جرمانہ کر سکتا ہے لیکن یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ کسی بھی خلاف ورزی پر ٹیلی کام کمپنی کو بھی جرمانہ ہوگا۔





Americans are going to regret this statement so badly one day. JD Vance says: “I have joked that I have two very, very important people in my life. An Indian and a Pakistani. The Indian is my wife, and the Pakistani is Field Marshal Munir.”

پارلیمنٹ لاجز کو ویگو ڈالے سے بچائیں، پابندی لگائیں، خواجہ آصف #ARYNews












عوام کو متنازعہ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن بل پر اعتراض کیا ہے! از سعدیہ خالد یہ ترمیمی ایکٹ پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کو جدید، مسابقتی اور منظم بنانے کے لیے لایا گیا اس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے اختیارات بڑھائے گئے، نئی فنڈنگ اسکیمیں بنائی گئیں، اور ٹیلی کام کمپنیوں کے حقوق و فرائض واضح کیے گئے۔ ایکٹ کے اہم نکات 1. پی ٹی اے PTA کے اختیارات میں اضافہ اس ترمیم کے بعد PTA صرف لائسنس جاری کرنے والی اتھارٹی نہیں رہی بلکہ اسے مزید اختیارات دیے گئے جن میں ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان تنازعات حل کرنا ، مارکیٹ میں منصفانہ کمپیٹیشن کو یقینی بنانا ، صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنا کمپنیوں کے درمیان آمدنی کی تقسیم یعنی ریونیو شئیرنگ کی نگرانی کرنا ، یونیورسل سروس اوبلی گیشن (USO) پر عملدرآمد کروانا شامل ہیں 2- یونیورسل سروس فنڈ Universal Service Fund کا قیام ایک نیا فنڈ بنایا گیا تاکہ ان علاقوں میں موبائل، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس پہنچانا جہاں فون سروس موجود نہیں ، سروس بہت کمزور ہے ، دیہی اور دور دراز علاقے ہیں اسکے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ ٹیلی کام کمپنیوں کی لازمی شراکت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی گرانٹس اسپیکٹرم نیلامیوں سے حاصل رقم دیگر اداروں کی امداد سے یہ پیسہ لیا جائے گا 3. ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ فنڈ کا قیام ایک الگ فنڈ بنایا گیا جسکا مقصد انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کے شعبے میں تحقیق نئی ٹیکنالوجی کی ترقی ، مقامی اختراعات (Innovation) کی حوصلہ افزائی کرنا ، اس فنڈ میں بھی کمپنیوں اور حکومت کی شراکت شامل ہوگی 4. متنازعہ Right of Way (حقِ گزر) کا نیا قانون یہ اس ایکٹ کی سب سے اہم ترامیم میں سے ایک ہے حکومت کا موقف ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں فائبر آپٹک یا دیگر نیٹ ورک بچھانے کے لیے سڑکوں ، سرکاری زمین ، نجی زمین سے گزرنے کی اجازت لینے میں مشکلات کا سامنا کرتی تھیں اسلئے اب لائسنس یافتہ ٹیلی کام کمپنیوں کو سرکاری یا نجی زمین سے گزرنے کا قانونی حق دے دیا گیا جسکے لئے کمپنی کو اس زمین پر ٹاور لگانے کیلئے مالک کو مناسب معاوضہ دینا ہوگا اگر مالک 30 دن میں کمپنی کو جواب نہ دے تو کمپنی کی ٹاور لفانے کی درخواست خود بخود منظور شدہ سمجھی جائے گی تنازعہ کی صورت میں متعلقہ حکومت 60 دن میں فیصلہ کرے گی حکومت کے مطابق اس سے فائدہ یہ ہو گا کہائبر نیٹ ورک تیزی سے بچھ سکے گا ، دور دراز علاقوں تک انٹرنیٹ پہنچانا آسان ہوگا 5. اسپیکٹرم کی نیلامی پی ٹی اے PTA کو اختیار دیا گیا کہ وہ ریڈیو فریکوئنسی اسپیکٹرم کی نیلامی کر سکے ، شفاف مقابلے کے ذریعے لائسنس جاری کرے یعنی موبائل کمپنیوں کو فریکوئنسی دینے کا عمل زیادہ شفاف بنایا گیا 6. ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے نئی ذمہ داریاں لائسنس ہولڈر کمپنیوں کو USF میں حصہ ڈالنا ہوگا ، R&D فنڈ میں حصہ ڈالنا ہوگا ، لائسنس کی شرائط پوری کرنے کے لیے سیکیورٹی جمع کرانی ہوگی 7. قومی سلامتی کے حوالے سے سختی حکومت اور متعلقہ اداروں کو اختیار دے دیا گیا کہ غیر منظور شدہ کرپٹو (Encryption) آلات کے استعمال پر کارروائی کریں ، اگر کوئی ٹیلی کام سروس قومی سلامتی یا عوامی تحفظ کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو اس پر پابندی یا کنٹرول لگایا جا سکے 8. پی ٹی اے PTA کی ساخت میں تبدیلی وفاقی حکومت کو اختیار دیا گیا کہ PTA کے ارکان کی تعداد بڑھا سکے ، ان کی اہلیت اور تقرری کا طریقہ طے کرے ، اس کے علاوہ اگر PTA میں کوئی نشست خالی ہو تو صرف اسی وجہ سے اسکے فیصلے کالعدم نہیں ہوں گے 9. اپیل اور تنازعات کا نیا نظام اگر PTA اور کسی کمپنی کے درمیان لائسنس کی شرائط، یا کسی دوسرے معاملے پر اختلاف ہو تو پہلے مذاکرات کیے جائیں گے مسئلہ حل نہ ہو تو ہائی کورٹ یا وفاقی حکومت کے قائم کردہ ٹریبونل میں جایا جا سکے گا 10. مقابلے (Competition) کا فروغ ایکٹ میں شامل کیا گیا کہ ٹیلی کام مارکیٹ میں اجارہ داری (Monopoly) نہ بنے تمام کمپنیوں کو برابر مواقع ملیں صارفین کے مفادات کا تحفظ کیا جائے عوام حق راہ گزر والی شق پر اس لیے ناراض یا پریشان ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس میں انکے اختیارات اپنی ہی زمین پر ختم ہو جائے گا لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر کوئی مالک 30 دن میں جواب نہ دے تو کمپنی کو خود بخود اجازت مل جائے گی اور لوگوں کی جائیداد پر کمپنیواں اپنی مرضی چلائیں گی یعنی ہم نے اجازت دی یا نہیں کام پھر بھی ہو جائے گا



