@NidaAhm16105291 میڈم یہ کسی نے فنی ویڈیو کے طور پہ بنایا ہوگا مگر اپ جیسی جو ایک شوہر سے بیزار ہو کے اسلام کے خلاف ایک موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتی، کو بکنے کا موقع مل گیا۔
بلوچستان ٹرین دھماکے کے بعد پی ٹی آئی خوشی کے شادیانے بجا رہی ہے اور اداروں کو ٹارگٹ کر رہی جبکہُ سارا پاکستان جانتا ہے کہُ انکا بیانیہ بھارت اور اسرائیل سے چلتا ہے ۔
مریم منیر کا ڈوبتا پنجاب 🚨مافیہ نے زمینوں پر قبضے کے لیے اسلام آباد سے چند منٹ کے فاصلہ پر پورا روات بازار جلا دیا گیا ۔
غریبوں کی دوکانیں جلتی رہی نہ فائر برگیڈ ائی نہ کسی نے بھجنے کا آرڈر دیا ۔پوری قوم تماشہ دیکھتی رہی ۔
یہی غریب قوم کو چاہیے گھٹ گھٹ کر مرنے سے بہتر ہے جاتی عمرہ کو جلائے ،زرافہ ہاؤس کو جائے سب سے بڑی فساد کی باڑھ جی ایچ کو جلائے تو کہ قوم سکھ کا سانس لے ۔
@Saminakhan4000 اپنی ہڈ حرامی کا دوش بے زبانوں پر مت ڈالو! اصل میں سب سے بڑے کاہل سست گدھے تم خود ہو بحثیتِ پاکستانی، اور یہی گدھے جب پاکستان سے باہر کسی اور ملک میں جاتے ہیں تو خچروں کی طرح کام کرتے ہیں۔
عربوں کو اونٹ کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان کی طبیعت میں نخوت ، غيرت اور سختی کا عنصر بہت پایا جاتا ہے ...
ترکوں کو گھوڑے کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان میں طاقت ، جراءت اور اکڑ پن کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے....
انگریزوں کو خنزیر کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان میں فحاشی, بدکرداری وغیرہ کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے ....
حبشی افریقی بندر کھاتے ہیں اس لیے ان میں ناچ گانے کی طرف میلان زیادہ پایا جاتا ہے....
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
جس کو جس حیوان کے ساتھ انس ہوتا ہے اس کی طبیعت میں اس حیوان کی عادتیں غیر شعوری طور پر شامل ہوجاتی ہیں... اور جب وہ اس حیوان کا گوشت کھانے لگ جائے تو اس حیوان کے ساتھ مشابہت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ....
ہمارے زمانے میں فارمی مرغی کھانے کا رواج بن چکا ہے... چنانچہ ہم بھی ان فارمی مرغیوں کی طرح صبح و شام چوں چوں تو بہت کرتے ہیں لیکن ایک ایک کرکے ہمیں ﺫبح کردیا جاتا ہے ...
فارمی مرغی کا گوشت کھانے کی وجہ سے ہم میں سستی کاہلی کی، ایک جگہ بیٹھے رھنے کی ،زندگی میں دوڑ دھوپ نہ کرنے کی، سر جھکا کر چلنے کی، مزاحمت نہ کرنے کی،زیادتی برداشت کرنے کی اور پستی اور ذلت میں رہنے کی عادتیں پیدا ہوچکی ہیں.
کچے کے علاقے میں ایک 9 سالہ بچی کی شادی ہوتی ہے، جس کی وڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اس وقت پوری دُنیا سے پاکستان پر تنقید ہو رہی ہے۔
کیا یہ علاقہ پاکستان کا حصہ نہیں ہے؟
کیا یہاں ریاست کی رِٹ قائم نہیں ہے؟
اس بچی کو بچانا کیا ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کی ذمہ داری نہیں ہے؟
جو توڑو وہی لال
یہ ایف آئی اے ٹیم راولپنڈی میں ایک سنار کی دوکان پر ریڈ کرتی ہے ،دوکاندار اور سیلز مین پر تشدد بھی کرتی ہے بولنے کا انداز ایسا کہ جیسے دوکاندار نہیں کوئی اور مخلوق ہیں ،عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہیں لینے والے عوام پر ہی ظلم کے پہاڑ توڑتے ہیں ، ایف آئی ٹیم ریڈ کرے مگر کسی کی تزلیل تو نہ کرے سوال پوچھنے پر جوان بیٹے کے سامنے والد کو تھپڑ ماریں گے تو کوئی برداشت نہیں کرے گا ،وزیر اعظم اور وزیر داخلہ صاحب عوام پر بھی رحم کریں یہاں انسان بستے ہیں اس لئے گزارش ہے کہ ان سرکاری ملازمین کو پہلے تربیت دیں نہیں تو ان لوگوں کو بارڈر پر بھیج دیں
@PakPMO@MohsinnaqviC42@fia
اسلام آباد ایرپورٹ ایف آئی اے کی ریسلر خاتون اہلکار کا خاتون مسافر پر تشدد .وجہ کیا تھی اس نے میرے سے ٹوائلٹ پیپر کیوں مانگا ? میں کوئی صفائی والی ہوں .یہ میری توہین کر رہی تھی. ریسلر خاتون کا بیان
یہ پاکستان ہے ادھر جس کا بس چلتا ہے وہ فرعون بن جاتا ہے افسوس ہے جرنلوں نے اس ملک میں قانون ختم کر کے پورا ملک جنگل بنا دیا ہے
کل رات ھمارے گھر میں اے سی لگا ،کمپنی تھی Haier , برانڈ تھا Candy اور ماڈل تھا .13 HF .
ارادہ تو ھمارا T3 انورٹر لینے کا تھا ، لیکن سیلز مین نے ھمارے برین کو یوں واش کیا کہ T3 تو پنجاب اور بلوچستان کے لئے ھے کراچی جیسے شہر کے لئے تو اس کی ضرورت ہی نہیں ۔
میٹرک پاس سیلزمین جیت گیا ،اور ھم تین گریجویٹ ھار گئے ۔1 لاکھ 5 ھزار میں یہ اے سی ھم نے کراچی صدر میں سرمہ والا کی دکان سے خرید لیا ۔
قارئین کرام ،کیا سیلز مین کا کہنا درست تھا کہ ھائیر کا T3 کراچی کے موسم کے لئے نامناسب ھے ۔
اب ھم آتے ہیں اس پوسٹ کے اصل مقصد کی طرف ۔
ھائیر کمپنی کے مکینک نے اے سی انسٹال کیا اور میں حیران رہ گیا ،جب اس مکینک نے اے سی اسٹارٹ کرنے سے پہلے HAIER COMPANY کے نمبر 042111142437 پر کمپلین درج کرائ کہ اےسی کے کمپریسر میں پرابلم ہے ۔
اگر وہ مکینک AC اسٹارٹ کرنے کے بعد یہ شکایت درج کراتا تو شاید مجھے یہ بات ھضم ھو جاتی ،
لیکن اے سی اسٹارٹ کرنے سے پہلے کمپریسر فالٹی ہونے کی کمپلین درج کرانا اور وہ بھی میرے نام سے درج کرانا اور کمپلین کے لئے میرا ہی موبائل یہ کہ کر استعمال کرنا کہ مجھے ایک کال کرنی ھے ،ذرا اپنا موبائل دے دیں ،یہ سب کچھ مجھے حیران کرنے کے لئے کافی تھا ۔
1لاکھ پانچ ھزار کے اے سی کے ساتھ پلگ موجود نہیں تھا ،مکینک نے ایک پرانا پلگ لگایا اور اس پلگ کے 500 روپے علیحدہ سے وصول کئے ۔
کیا یہ ھائیر کمپنی کی پالیسی ہے کہ کسٹمر کو گلٹی فیل کرایا جائے کہ اس نے پلگ کا انتظام کرکے نہیں رکھا ۔
میری HAIER کمپنی کے ذمہ داران سے گزارش ھے کہ
1۔ھر اے سی کے ساتھ پلگ مہیا کیا جائے ۔
2۔ میری اس فیک کمپلین کی تحقیق کی جائے ۔
کسٹمر مقصود احمد ۔ 186 700 186 03
@AkhtarH15638653 اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کے مظہرکلیم کے شروعاتی سو ناولز بہت ہی بہترین تھے۔ مگر جو مزہ جو سحر ابنِ صفی کے ناولز میں تھا وہ کہیں اور سے نہیں ملا۔ ابن صفیِ کے ولنز سنگ ہی، کنگ چانگ، تھریسیا بمبل بی، الفانسے، ڈاکٹر ڈریگوز، بوغا وغیرہ بھی باکمال تھے۔
@AkhtarH15638653 عمران سیریز کو بہترین انداز میں ابنِ صفی کے علاوہ کوئی نہیں لکھ سکا، میں نے شروعات مظہرکلیم کے ناولز سے کی تھی اور ان کے سینکڑوں ناولز پڑھ ڈالے تھے پھر ایک دن ابن صفی کی عمران سیریز کا ناول ہاتھ لگا دعاگو، اس کے بعد ابن صفی کے علاوہ کسی کو نہیں پڑھا۔
عمران سیریز ایک ایسی سیریز جو ابتدائی طور پر ابن صفی مرحوم نے شروع کی اور اس میں ایک ایسی خیالی ریاست "پاکیشیا" کا ذکر ہے جس کی ایک سیکرٹ سروس ہے۔ عمران سیریز اسی سیکرٹ سروس کے کارناموں پر مشتمل ہے۔ اس کے سات سے آٹھ مستقل ممبران ہیں۔ ان کا سربراہ ایکس ٹو ایک ایسا خفیہ شخص ہے جس کو آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔ جو ہمیشہ نقاب میں رہتا ہے۔
علی عمران ایک کردار جو بظاہر مسخرہ اور غیر سنجیدہ شخص ہے اور یہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جس کی وجہ سے کوئی اس کو سیریس نہیں لیتا۔ وہ ساری معلومات جو اس کے خطرناک ہونے سے متعلق ہوتی ہیں وہ کسی سے بھی اس کی پہلی ملاقات کے بعد مشکوک ہو جاتی ہیں اور اسی وجہ سے دشمن دھوکہ کھا جاتا ہے۔
عمران کو ختم کرنے کیلئے بہت مشنز بھیجے گئے لیکن سب کے سب ناکام ہوئے۔ عمران کے ساتھیوں میں نمایاں سیکرٹ ایجنٹ صفدر سعید، تنویر، شکیل اور اس کی سیکنڈ ان کمانڈ مس جولیانا فٹرواٹر ہیں۔ایک فری لانسر ہے جس کا نام ٹائیگر ہے۔ اور علی عمران ایم ایس سی ڈی ایس (آکسن) کے دو ذاتی محافظ اور وفادار ملازم جوزف اور دوسرا شائد جوانا تھا۔ درست کر دیں اگر میں غلط ہوں۔
ابن صفی کی وفات کے بعد بہت سارے ادباء اور لکھاریوں نے یہ کوشش کی کہ وہ بھی عمران سیریز کو لکھ کر ویسا ہی مقام و مرتبہ پائیں جیسا ان کرداروں کے خالق کو تھا لیکن جو مقام قارئین نے جناب مظہر کلیم کو دیا وہ کسی اور کو نہیں ملا۔ انہوں نے اس سیریز کو اپنی کردار نگاری سے چار چاند لگا دئیے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں سائنس فکشن اور فضائی اور بحری مہمات بھی شامل ہیں جنہوں نے قاری کے ذہن کو کھولا اور حالات و واقعات کو نئے زاویے سے دیکھنے کی نظر دی۔
ان کرداروں کی نوک جھونک بے مثال تھی۔ لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ ہم جولیا کے عاشق تھے اور تنویر ہمیں زہر لگتا تھا کیونکہ وہ (ہمارے)رقیب کا عہدہ سنبھالے ہوئے تھا۔ عمران سیریز ہمارے بچپن کی یادوں میں سے ایک یاد ہے اور ہماری نسل میں اگر حب الوطنی اور قومی جذبہ نظر آتا ہے تو اس کا سارا کریڈٹ ہمارے ان بے لوث مصنفین کو جاتا ہے جنہوں نے شعوری کوشش کی کہ قوم میں یہ تمام اوصاف پیدا ہوں جو ایک محب وطن فرد کا خاصہ ہوتی ہیں۔
آپ کیا کہتے ہیں۔کچھ یاد آیا
فیلڈ مارشل کو لوگ کہا کرتے تھے نیازی والا گند آپ لوگوں کا ڈالا ھوا ہے خود ہی صاف کرو
اگلوں نے صرف صاف نہیں کیا بلکہ صاف کرکے دفن بھی کردیا ہے😂
جیو فیلڈ مارشل ❤️
یہی وہ یوتھ تھی جس پر نیازی کو مان تھااگلوں نے انکا کا رخ ہی موڑ دیا ہے
سفارتکاری میں استقبال صرف رسم نہیں ہوتا، یہ آپ کی عالمی حیثیت اور تعلقات کی عکاسی کرتاہے ✅
👇دو تصویریں… ایک سوال 🤔
ایک طرف وزیراعظم شہباز شریف کا قطر میں شاندار استقبال—ریڈ کارپٹ، گارڈ آف آنر، مکمل پروٹوکول۔
دوسری طرف عمران خان کا دورہ—سادہ استقبال، صفر پروٹوکول۔ یہ تھی مہاتما کی عزت 😅
پاکستان ائیر فورس سعودی عرب پہنچ گئی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب جنگیں در جنگیں ہونگی تو اللہ غیرعرب میں سے ایک فوج اٹھائے گا جو عربوں سےاچھے سوار ہونگے اوربہتر ہتھیار رکھتے ہوں گےاللہ اسکے ذریعہ دین کی مدد فرمائے گا سنن ابن ماجه
@MirMAKOfficial@TanveerZehra1 آ بتاؤں تُجھ کو رمز آیۂ اِنَّ الْمُلُوْک
سلطنت اقوامِ غالب کی ہے اک جادُوگری
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سُلا دیتی ہے اُس کو حُکمراں کی ساحری
میں پاکستان کے لیئے خوش ہوں اور کیوں نہ ہوں پاکستان میری آخری آرامگاہ ہوگی انشااللہ۔
مخالفت نظام کی ہے مُملکتِ پاکستان کی نہیں۔ پاکستان پر جان قربان۔ پوری دُنیا پاکستان کی تعریف کررہی ہے۔ بھارت میڈیا پر آگ لگی ہوئی ہے۔ بذاتِ خود ایران کھلے عام پاکستان کی تعریف کررہا ہے۔
پہلے دن سے کہہ رہا تھا کہ ایرانی حکومت پاکستان سے بہت خوش ہے۔ ایرانی سفیر سے ملاقات کے بعد میں نے خود اُن کی بات آپ سب کے سامنے رکھی کہ وہ پاکستان کی کاوشوں سے پسِ پردہ اور سرِ عام بھی بہت خوش ہیں۔
اس تمام ہیجانی کیفیت کے دوران دن میں کئی مرتبہ میری ایرانی سفارتکاروں سے بات ہوتی تھی اور ہر بار پاکستان کی بات نکلتی اور ہر بار وہ اطمینان کا اظہار کرتے۔
اپنی سیاسی مخالفت کو برقرار رکھیں۔ یہ آپ کا جمہوری حق ہے مگر جب پاکستان کے لئیے خوش ہونے کا اور بطور پاکستانی فخر کرنے کا وقت ہو تو اُس پر فخر کریں۔
ہمارا پاکستان کے علاوہ کچھ نہیں۔ ایرانیوں کی مشکلات سے سیکھیں۔ دُنیا کی مشکلات سے سیکھیں۔ برادر عرب ممالک کی مشکلات سے سیکھیں۔
بہتر نظام کے خواہشمند رہیں اور پاکستان کی خوشی میں خوش ہوں۔
آباد رہیں۔ اللہ آپ سب کو کامیاب کرے۔ آمین۔
کوئ بات بُری لگی ہو تو پیشگی معذرت۔
پاکستان زندہ باد۔ آمین۔
آپ کے ملک نے دنیا میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوایا ہو۔۔ حقیقتاً لاکھوں زندگیاں بچائی ہوں۔ سویلین انفرااسٹرکچر محفوظ بنایا ہو۔ دنیا کو اربوں ڈالر کے خسارے سے بچایا ہو۔ اربوں انسانوں کو توانائی بحران اور غربت سے بچایا ہوں۔
تو آپ کا سینہ فخر سے کیسے چوڑا ہوگا۔
لیکن کچھ حرامخور بھی ہیں۔
تو ایسے حرامخوروں پر۔۔۔۔۔ بےشمار