آدم
13.2K posts

آدم
@papyaryar1
instrument engineer, follower of naqshbandi soffiisem,









ابھی کسی سے بات ہورہی تھی کہ پچھلے سال پوری قوم نے کھلے دل سے #معرکہ_حق میں سوشل میڈیا پر انڈیا کے خلاف جنگ لڑی لیکن جس طرح سے کراچی میں پیپلز پارٹی کے کچھ لیڈران نے ”اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنے اپنے کو“ کے مصداق کٹر یوتھیوں اور اپنے پسندیدہ چمچوں کو ٹرافیز بانٹیں م اُس سے والنٹیرز کا اتنا دل ٹُوٹا کہ ابھی ایک سال پورا ہونے پر آپ کو سوشل میڈیا پر وہ جوش و خروش نہیں نظر آرہا۔ جن سے بات ہورہی تھی اُس نے بھی یہی کہا کہ جن کو ٹرافیز دیں اُن سے ٹُویٹ کروائیں، ہم کیوں کریں۔ @OfficialDGISPR




کبھی کبھی ہمیں گریس دکھانی چاہئیے اور سیدھا کہنا چاہئیے کہ ہاں خبر درست نہیں۔ مجھ سے غلط خبر ہو گئی and that’s it. ہم سب ہر روز سینکڑوں خبریں ڈیل کرتے ہیں۔ غلطی بھی ہو جاتی ہے۔ مسلہ تب ہے جب غلطی کر کے دوسروں پر ڈالو اور انکے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ بھی کر ڈالو۔



سوالوں سے تو آپ بھاگ گیے جو میں نے پچھلے جواب میں پوچھے تھے اور موضوع اقرار اور ائر پورٹ واقعہ سے بدل کر عمران خان پر لے گیے -- وہ آپ کے حواسوں پر سوار ہے - اس پر بات کیے بغیر آپ کا سیاسی سروائیول ممکن نہیں- ویسے جو آپ کا حال ہو چکا ہے اس ایف آئی اے والے نے آپ کے بارے میں غلط نہی کہا تھا - ایسا لب و لہجہ ہو تو کوئی کیوں نہ کہے کہ اس کا حال بھی جواد احمد والا ہوگا - باقی پچھلے جواب میں ہی جواب تھا ' پر اس کیلئے مزاج میں تحمل اور نظر میں بصیرت ہونا ضروری ہے - پھر کاپی کر دیتا ہوں : چلیں آپ ہونگے چوٹی کے سنگر بھی اور سیاستدان بھی پر چوٹی کے انسان بھی بن جائیں اور اپنا لب و لہجہ ویسا کریں جیسا کسی پارٹی کے سربراہ کا ہونا چاہیے- اپنی ٹویٹ میں کوئی نظریہ دیں ' کوئی منشور دیں ' کوئی مسائل پر بات کریں ' یہ کیا ہر وقت عمران خان ' اس کی اس کی شخصیت ' اس کی بیٹی ' -- آپ اور اقرار کب تک خان پر تنقید کر کر کے ویوز اور توجہ لیتے رہیں گے - زبان کی طرح آپ اپنے ابجیکٹیو بھی بڑے کریں کیونکہ چھوٹی ہونے کیلئے آپ کی سوچ کافی ہے - " سلام


سیاسی، نظریاتی اور ذاتی اعتبار سے جواد احمد عمران خان سے ہزار گنا بہتر ہے کیونکہ اس نے کبھی اپنی بیٹی کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا، کبھی کسی کی گھر جا کر اُس کی بیوی اور پانچ بچوں کی ماں کو گمراہ کر کے اسے طلاق نہیں دلوائی، کبھی فوجی ڈکٹیٹروں ووٹ نہیں دیا، کبھی کسی جرنیل کو جمہوری نہیں کہا، کبھی جرنیلوں کے تلوے نہیں چاٹے۔۔۔ سو مجھے جواد احمد سے ملائے جانے پر کوئی مسئلہ نہیں، مجھے جواد احمد کو ذلیل کہنے اور خود کو فیملی کی موجودگی میں تحقیر کا نشانہ بنائے جانے پر اعتراض ہے۔ ایسے موقع پر تحمل اور برداشت کا مطلب ہے کہ آپ اس شخص کو یہ حوصلہ دے رہے ہیں کہ وہ آئندہ ائیرپورٹ پر ہر نظریاتی مخالف کو ذلیل کرے اور اُس کی دیکھا دیکھی ایئرپورٹس، گلیوں اور بازاروں میں لوگ دوسروں کو فیملیوں کے ساتھ گالیاں دیتے رہیں۔











