
Rex Tex
6.9K posts

Rex Tex
@rixwan
Industry 5.0 | Cybersecurity | Data Privacy | Blockchain | Thinker | Business Leader | Lover of Peace

























تین عورتیں، تین کہانیاں۔۔ انمول پنکی غریب گھرانے کی تھی، جرائم پیشہ گینگز کے ساتھ کام کرتے کرتے خود کو محترمہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی اور شاندانہ گلزار سمجھنے لگ گئی تھی کہ اسے کوئی پکڑ نہیں سکتا حالانکہ پاکستانی نظام کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ غریب کے بچے کو یہ نظام پکڑتا ہے اور پھر یہ نظام پورا زور لگاتا ہے کہ دیکھو ہم نے کتنا بڑا کام کیا ہے اور عین اسی وقت نظام اپنی اشرافیہ کے بچوں، خواتین (چاہے جتنے بڑے مرضی جرائم کر رہے ہوں) انہیں تحفظ فراہم کر رہا ہوتا ہے۔ آج تک کسی کی جرات نہیں ہو رہی کہ محترمہ فضیلہ عباسی صاحبہ کے مقدمے میں ضمانت منسوخ کرانے کیلئے دلائل ہی دے سکیں، نظام کی طاقت کا اندازہ کریں کہ اب میڈیا پر فضیلہ عباسی صاحبہ کے کیس کی خبر بھی نہیں چلنے دی جاتی بلکہ اب صحافی حضرات انکے کیس کی سوشل میڈیا پر بھی کوئی اپ ڈیٹ وغیرہ نہیں دیتے۔ شاندانہ گلزار صاحبہ کیخلاف وزیر اعظم شہباز شریف کیخلاف جھوٹی خبر پھیلانے کے مقدمے کو کئی ماہ گزر گئے لیکن آج تک کسی مائی کے لعل میں اتنی جرات نہیں ہو رہی کہ وہ انکی ضمانت منسوخ کرا سکے، انہیں گرفتار کر سکے۔ یہی پاکستانی نظام کی حقیقت ہے، جتنے دولت مند ہوتے جائیں گے، نظام اتنا ہی آپ کا غلام بنتا جائیگا۔


ماضی کے جھروکوں سے ۔۔۔۔ جنتا کی جانکاری کے لیے بتایا جاتا ہے کہ اسحاق ڈار نیب کے حدیبیہ پیپرملز کیس میں شریف خاندان کے خلاف سن 2000میں مشرف دور میں مجسٹریٹ کے سامنے بیٹھ کر 164 کا بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ شریف خاندان کے لئے منی لانڈرنگ کرتے رہے ہیں ۔ اور لندن کی قاضی فیملی کے ناموں پر جعلی اور بے نامی اکاونٹس کھول کر انہوں نے 1 کروڑ40 لاکھ ڈالرز کی رقوم پاکستان سے باہر منتقل کیں۔ وعدہ معاف گواہ بننے پر ڈار صاحب کو معافی مل گئی ۔ بعد میں 2012میں لاہور ہائیکورٹ کے دو ججوں نے مہربان ہو کر اسحاق ڈار کیخلاف ریفرنس ہی اڑا دیا۔لیکن نیب جس کے پاس پکے ثبوت تھے اس نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کی زحمت نہ کی۔ خیر وقت گزرا اور 2017 آ گیا۔۔ پاناما اسکینڈل آگیا عمران خان سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ وزیراعظم نواز شریف کے آمدن سے زائد اثاثوں اور فلیٹوں کا ذکر چھڑا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنے پانچ رکنی بینچ نے نیب چئیرمین قمر زمان کو بلا لیا اور اس سے پوچھا کہ ہاں بھئی کسی زمانے میں ڈار صاحب نے شریف خاندان کیلئے منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا ،164 کا بیان دیا تھا ۔ وہ بیان کاغذ کا ٹکرا نہیں نواز شریف کیخلاف شواہد کا حصہ تھا لیکن لاہور ہائیکورٹ کے دو ججوں نے ریفرنس اڑا دیا تو آپ نے اس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کیوں دائر نہیں کی ؟ ججوں کی ڈانٹ ڈپٹ سننے کے بعد نیب نے سپریم کورٹ میں کیس دائر کر دیا تین رکنی بینچ بنا ،اللہ بھلا کرے اس بینچ کے سربراہ قاضی فائز عیسئ نکل آئے جنہوں نے 164 کا بیان ہوتے ہوئے بھی نیب کا حدیبیہ پیپر ملزکیس سنے بنا ہی اڑا کر رکھ دیا اور کہہ دیا گھڑے مردے مت اکھاڑو ساتھ ہی میڈیا پر بھی پابندی لگا دی کہ خبردار اس کی رپورٹنگ کی تو۔۔ ڈار صاحب بھی بیان سے مکر گئے کہ اگر منی لانڈرنگ کا الزام نہ لگاتاتو مشرف مجھے اٹک قلعے میں بند کر دیتا۔جان بچانے کو بیان دیا یوں ایک سالڈ کیس کاغذات کی قبر میں دفن ہو گیا دیکھتے ہیں اب کیا بنتا ہے؟










اخلاقی طور پر اسحاق ڈار کو اپنے عہدے سے استعفی دینا چاہئے تاکہ کیس کی شفافیت متاثر نہ ہو۔۔





