سحر بیاں retweetledi
سحر بیاں
939 posts

سحر بیاں
@seharebayan
جہاں لفظ سحر بن جاتے ہیں، روزانہ ایک نیا شاعر، انتخاب، شاعری YT Channel: https://t.co/Qw4XFYlrDN Fbpage: https://t.co/evrw0fOcvx
Katılım Aralık 2025
184 Takip Edilen218 Takipçiler
سحر بیاں retweetledi

سید غلام عباس محسن نقوی کی پیدائش
May 5, 1945
محسن نقوی 5، مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے- اردو ادب کا یہ دمکتا چراغ 15 جنوری 1996ء کو مون مارکیٹ لاہور میں اپنے دفتر کے باہر دہشت گردوں کی فائرنگ سے بجھ گیا
——
نمونہ کلام
——
عمر اتنی توعطا کر میرے فن کو خالق
میرا دشمن میرے مرنے کی خبر کو ترسے
——
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
——
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں
——
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
——
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
——
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
——
قتل چھپتے تھے کبھي سنگ کي ديوار کے بيچ
اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بيچ
اپني پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر
سر سلامت نہيں رہتے يہاں دستار کے بيچ
——
میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہوگا
میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی
——
ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا
نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس
زرد موسم بانجھ رت کو بے لباسی دے گیا
——
شہر کے سب لوگ ٹھہرے اجنبی
زندگی تو کب مجھے راس آئے گی
اب تو صحرا میں بھی جی لگتا نہیں
دل کی ویرانی کہاں لے جائے گی
——
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی
لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر
ہم لوگ تو اکتا گئے اپنی سنا آوارگی
اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا مرے غم کا سبب
صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا آوارگی
اس سمت وحشی خواہشوں کی زد میں پیمان وفا
اس سمت لہروں کی دھمک کچا گھڑا آوارگی
کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں
محسنؔ مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی
...................................

اردو
سحر بیاں retweetledi

تیرے میرے بیچ زمانہ
بن بیٹھا دیوار قسم سے
دل کملا، دل پاگل، جھلّا
آنکھیں زار و زار قسم سے
#سحر_بیاں
شاعر: جناب زین شکیل صاحب @zainshakeel300
اردو
سحر بیاں retweetledi

جب وہ ملنے کی کوئی بات نہیں کرتا ناں
میں بھی چپ چاپ حجابوں میں پڑا رہتا ہوں
شاعر: جناب زین شکیل صاحب @zainshakeel300
#سحر_بیاں
اردو
سحر بیاں retweetledi

جب وہ ملنے کی کوئی بات نہیں کرتا ناں
میں بھی چپ چاپ حجابوں میں پڑا رہتا ہوں
شاعر: جناب زین شکیل صاحب @zainshakeel300
#سحر_بیاں
اردو
سحر بیاں retweetledi

اسماعیل راز کی شاعری — غزلیں، نظمیں اور اشعار via @seharebayan sehar-e-bayan.com/poet/ismail-ra…
اردو

مبارک عظیم آبادی کی شاعری — غزلیں، نظمیں اور اشعار via @seharebayan sehar-e-bayan.com/poet/mubarik-a…
اردو

ناشاد کانپوری کی شاعری — غزلیں، نظمیں اور اشعار via @seharebayan sehar-e-bayan.com/poet/nashad-ka…
اردو

@_imaan_n ناشاد کانپوری کی شاعری اور احوال زندگی
sehar-e-bayan.com/poet/nashad-ka…
فارسی
سحر بیاں retweetledi

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
——
نامور اردو ڈرامہ نگار و معروف لیجنڈ اور انڈین شیکسپیئر کا خطاب پانے والے آغا حشر کاشمیری کا یوم وفات
(پیدائش: 3 اپریل 1879ء – وفات: 28 اپریل 1935ء)
منتخب کلام
——
چوری کہیں کھلے نہ نسیمِ بہار کی
خوشبو اڑا کے لائی ہے گیسوئے یار کی
——
یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں؟
——
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
——
جوانی میں عدم کے واسطے سامان کر غافل
مسافر شب سے اٹھتے ہیں جو جانا دور ہوتا ہے
——
یہ میری شاعری اے حشرؔ شرحِ دردِ الفت ہے
وہی سمجھیں گے اس کو جو زبانِ دل سمجھتے ہیں
——
بھری ہو آگ سینے میں تو شعر گرم پیدا ہو
کہ شاعر وہ شجر ہے حشرؔ جلتا ہے تو پھلتا ہے
——
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لیے
بادلو ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کے لیے
——
بہا جاتا ہے تن گھل گھل کے اشکوں کی روانی میں
گرے کٹ کٹ کے دریا کا کنارہ جیسے پانی میں
——
دل کے آئینے میں تصویریں جڑی ہیں حسن کی
جس طرف کو میں چلا ساتھ اک پری خانہ چلا
——
یہ تو مئے انگور ہے کیا بات ہے اس کی
تو زہر بھی ہاتھوں سے پلائے تو مزا دے
——
جس راہ میں ہیں ٹھوکریں وہ راہ اے انساں نہ چل
جرم و گنہ کے بوجھ سے ورنہ گرے گا منہ کے بل
——
جوانی میں عدم کے واسطے سامان کر غافل
مسافر شب سے اٹھتے ہیں ، جو جانا دور ہوتا ہے
ہماری زندگانی حشرؔ مٹی کا کھلونا ہے
اجل کی ایک ٹھوکر سے جو چکنا چور ہوتا ہے
——
صاحبِ تاج گئے ، مفلس و محتاج گئے
ہم بھی جاتے ہیں اگر کل نہ گئے آج گئے
——
اچھا ہے کسی طرح کٹے بھی شبِ فرقت
اے دل میں تجھے ، تو مجھے الزام دئیے جا
ڈر ہے کہ کہیں سعی کی طاقت بھی نہ لے لے
قسمت کو دعا کوششِ ناکام دئیے جا
——
تم ستم کرتے رہے اور ہم ستم دیکھا کیے
خانماں برباد ہو کے رنج و غم دیکھا کیے
سر ہوئے تیغِ عداوت سے قلم دیکھا کیے
تم نے کیں لاکھوں جفائیں اور ہم دیکھا کیے
——
حشرؔ یہ کالی گھٹائیں اور توبہ کا خیال
تم یہیں بیٹھے رہو میں سوئے میخانہ چلا
——
جو خزاں ہوئی وہ بہار ہوں ، جو اُتر گیا وہ خمار ہوں
جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں ، جو اُجڑ گیا وہ دیار ہوں
میں کہاں رہوں میں کہاں بسوں ، یہ یہ مجھ سے خوش ہ وہ مجھ سے خوش
میں زمین کی پیٹھ کا بوجھ ہوں ، میں فلک کے دل کا غبار ہوں
مرا حال قابلِ دید ہے ، نہ تو یاس ہے نہ امید ہے
نہ گلہ گزار خزاں ہوں میں ، نہ سپاس سنج بہار ہوں
کوئی زندگی ہے یہ زندگی ، نہ ہنسی رہی نہ خوشی رہی
مری گُھٹ کے حسرتیں مر گئیں ، انہی حسرتوں کا مزار ہوں
وہ ہنسی کے دن وہ خوشی کے دن ، گئے حشرؔ یاد سی رہ گئی
کبھی جامِ بادۂ ناب تھا ، مگر اب میں اُس کا اُتار ہوں
——
اُن کے تیور وہی ہیں اتنی دل آزاری کے بعد
آج تو میں رو دیا احساسِ ناچاری کے بعد
آبرو کے مدعی تھے جان کے دشمن نہ تھے
دشمنوں کی قدر جانی آپ کی یاری کے بعد
رو چکا اے دل جواں مرگی پہ اپنی صبر کر
صبر ہی کرنا پڑے گا نالہ و زاری کے بعد
عشق کی توہین ہے درمانِ الفت کی تلاش
کہہ گئے چپکے سے یہ بھی میری غم خواری کے بعد
پیچھے پیچھے حشرؔ ہے آگے فریبِ آرزو
پھر چلا اُس کی گلی میں اس قدر خواری کے بعد
——
اک قیامت روز ہے بیمارِ الفت کے لیے
کیسے مانوں دن مقرر ہے قیامت کے لیے
اس لیے کرتا ہے سجدے عشق تیری یاد کو
اک خدا بھی چاہیے دنیائے الفت کے لیے
کیوں خفا ہوتے ہو میں آیا ہوں اتنا پوچھنے
کیا سزا تجویز کی ہے جرمِ الفت کے لیے
اے خوشا قسمت ، نگاہِ ناز گر کر لے قبول
لائے ہیں نذرِ وفا اک بے مروت کے لیے
——
غریبوں کا بھی کوئی آسرا ہوتا تو کیا ہوتا
بتِ کافر ہمارا بھی خدا ہوتا تو کیا ہوتا
کوئی لذت نہیں ہے پھر بھی دنیا جان دیتی ہے
خداوندا محبت میں مزا ہوتا تو کیا ہوتا
جب اتنی بے وفائی پر اسے دل پیار کرتا ہے
جو یارب وہ ستمگر باوفا ہوتا تو کیا ہوتا
سنا ہے حشرؔ وہ ذکرِ وفائے غیر کرتے تھے
جو میں بھی بیچ میں کچھ بول اٹھا ہوتا تو کیا ہوتا
——
جس دن سے بے مروت تو جلوہ گر نہیں ہے
دنیائے عاشقی میں شب ہے ، سحر نہیں ہے
بیمارِ غم نہ ہو گا اچھا تسلیوں سے
اچھی دوا تھی لیکن اب کارگر نہیں ہے
مستی میں حسن اس کا ، نشے میں ہے جوانی
وہ کیا مری خبر لے جسے اپنی خبر نہیں ہے
اے حشرؔ دیں گی دھوکا ظالم کی مست آنکھیں
ہو آشنا وفا سے ، یہ وہ نظر نہیں ہے
——
تم کیا ہر ایک مجھ سے بیزار ہے جہاں میں
عنوانِ بے کسی ہوں دنیا کی داستاں میں
سجدے نہیں ہیں ہمدم جھک جھک کے پڑھ رہا ہوں
لکھی ہے میری قسمت اس سنگِ آستاں میں
کافر تری زباں ہے قدرت کا شعرِ رنگیں
ورنہ کہاں سے آیا جادو ترے بیاں میں
اے حشرؔ ہو مبارک ، ہے آج وصل کی شب
اک چاند ہے بغل میں ، اک چاند آسماں میں
——

اردو

طارق عزیز کا یومِ پیدائش
April 28, 1936
(پیدائش: 28 اپریل 1936ء – وفات: 17 جون 2020ء)
——
طارق عزیز کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی انہوں نے مرنے سے قبل اپنی تمام جائداد اپنے پیارے وطن پاکستان کو وقف کردی۔ ان کی وصیت کے مطابق تدفین سے قبل ان کی پراپرٹی اور 4 کروڑ 41 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرادی گئی،
نمونہ کلام
ربِّ کریم
ایسے اسم سکھا دے سانوں
ہرے بھرے ہو جائیے
گہرے علم عطا کر سانوں
بہت کھرے ہو جائیے
....
رَبِّ اَرِنی
اَج دی رات میں کلّا وَاں
کوئی نئیں میرے کول
اَج دی رات تے میریا ربّا
نیڑے ہو کے بول
....
سچّا شرک
دُور پرے اَسمان تے
رَب سچّے دا ناں
ہیٹھاں ایس جہان وِچ
بس اِک ماں اِی ماں
——
گھر کی چھت پہ کھڑا تھا میں
جب اس نے پیار جتایا تھا
کوئلے سے دیوار پہ لکھ کر
اپنا نام بتایا تھا
——
گناہ کیہہ اے ، ثواب کیہہ اے
ایہہ فیصلے دا عذاب کیہہ اے
میں سوچناں واں چونہوں دِناں لئی
ایہہ خواہشاں دا حباب کیہہ اے
جے حرف اوکھے میں پڑھ نئیں سکدا
تے فیر جگ دی کتاب کیہہ اے
ایہہ سارے دھوکے یقین دے نیں
نئیں تے شاخ گلاب کیہہ اے
ایہہ ساری بستی عذاب وچ اے
تے حُکمِ عالی جناب کیہہ اے
——
شب دیر تک وہ روتا رہا ، صبح مر گیا
مجھ کو تو یہ عجیب لگا ، جو وہ کر گیا
——
ہم وہ سیہ نصیب ہیں طارق کہ شہر میں
کھولیں دوکاں کفن کی تو سب مرنا چھوڑ دیں
——
پِچھلی راتیں تیز ہوا
سارے شہر وِچ پھردی رہی
زہری قہر دا کوئی وظیفہ
چاروں پاسے کردی رہی
میں تے بُوہا بند ای رکھیا
اپنے پورے زور نال
پتہ نئیں کیہ بیتی ہووے
میرے جیہے کِسے ہور نال
——
ہولی ہولی بُھل جاواں گے
اِک دُوجے دیاں شکلاں وی
ہولی ہولی سِکھ جاواں گے
زندہ رہن دیاں عقلاں وی
——
اِک حقیقی گل
مُڈھ قدیم توں دنیا اندر
دو قبیلے آئے نیں
اِک جنہاں نے زہر نیں پیتے
دوجے جنہاں پیائے نیں
............................

اردو

عجیب لوگ ہیں پہلے مجھے پکارتے ہیں | Ajeeb log hain pehle mujhe pukarte hain - راکب مختار via @seharebayan sehar-e-bayan.com/poet/rakib-muk…
سحر بیاں retweetledi









