shehla
75.8K posts

shehla
@shehlarezvi512
Entertainment music nature Sports News Fitness TVD Ian somerhalder💚 huge supporter of ISfoundation in love with somereed baby girl BODHI SOLEIL 💙👶👶💚


کاٹن رل گئی۔ تربوز اور سبزیاں رل گئیں۔ کینو رل گیا۔ آم اب رل گئے۔ مگر معیشت کے اعشاریے بہتر جا رہے ھیں۔ حکومتی ذرائع







میں ایک آخری بار پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹرولز اور اُن عناصر سے درخواست کر رہا ہوں کہ گالم گلوچ، کردار کشی اور بے ہودہ زبان کا استعمال بند کریں۔ اگر میں اُن نام نہاد مقدس اور تقدس کے لبادے اوڑھے ہوئے گندے کرداروں کے بارے میں بولنا شروع ہو گیا تو پھر یوتھیوں کے لیے لوگوں کا سامنا کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ہر چیز سوشل میڈیا کے نعروں اور مصنوعی پارسائی سے نہیں چھپائی جا سکتی۔ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو پھر میں بھی یہ بھول جاؤں گا کہ کون کس کا کیا لگتا ہے اور کس کے کس سے تعلقات ہیں۔ پھر اُن تقدس کے مصنوعی لبادے اوڑھے ہوئے کرداروں کو بھی بے نقاب کروں گا جو پسِ پردہ بیٹھ کر پروپیگنڈا مہمات چلا رہے ہیں اور دوسروں کو آگ میں دھکیل کر خود پارسائی کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ میں خاص طور پر شفیع جان کو بھی کہتا ہوں کہ ذاتی حملوں اور غیر مہذب گفتگو سے باز آ جائیں۔ یہ آخری بار کہہ رہا ہوں۔ اس کے بعد اگر جواب آیا تو پھر شکایت مت کیجیے گا کہ سخت ردِعمل کیوں ملا۔ ہر انسان کے صبر اور خاموشی کی ایک حد ہوتی ہے۔ میں نے اب تک تحمل، خاموشی اور ظرف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، مگر اسے میری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر آپ مسلسل یہی زبان استعمال کریں گے تو پھر جواب بھی اُسی لہجے میں ملے گا۔ اُس وقت پردے کے پیچھے بیٹھے کردار بھی اپنے انجام کے لیے خود ذمہ دار ہوں گے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ میں نہ کسی عہدے کا طلبگار ہوں، نہ کسی رعایت کا امیدوار، اور نہ ہی مجھے اُس جماعت کا حصہ بننے کی خواہش باقی رہی ہے جو محسن کُشی، بے توقیری، بہتان تراشی اور بدزبانی کی علامت بنتی جا رہی ہو۔ میں نے ہمیشہ عمران خان صاحب کا احترام کیا، اُن کا دفاع کیا، مگر اس کے جواب میں مسلسل ٹرولنگ، تضحیک اور کردار کشی ملی۔ میں آج بھی نہیں چاہتا کہ معاملات اُس نہج تک پہنچیں جہاں واپسی کے راستے بند ہو جائیں۔ میں عمران خان کی جماعت کو نقصان پہنچانے کا خواہشمند نہیں، مگر مجھے مسلسل دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کی جائے۔ کیونکہ جب انسان خاموشی چھوڑ دے تو پھر بہت سے مقدس چہروں کے نقاب اترنے میں دیر نہیں لگتی۔ اب بھی وقت ہے کہ سیاسی اختلاف کو اخلاق اور تہذیب کے دائرے میں رکھا جائے۔ ورنہ پھر جو آگ دوسروں کے لیے جلائی گئی تھی، اُس کی تپش بہت دور تک محسوس ہوگی۔











