
بومر طبقے کا اصل مسئلہ عمر نہیں، ذہنی جمود ہے۔ ایک وقت کے بعد جب انسان کو مسلسل سنا جائے، نقل کیا جائے، اس کی ہر بات پر "واہ واہ" ملنے لگے، تو آہستہ آہستہ اسے یہ گمان ہو جاتا ہے کہ اب بہترین رائے صرف اسی کے پاس ہے، بہترین تجزیہ بھی، بہترین اخلاقیات بھی اور شاید عقل کل بھی۔ پھر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سننا چھوڑ دیتا ہے اور جو انسان سننا چھوڑ دے، وہ سیکھنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ آج مسلسل چوتھا دن ہے اور ہر پانچویں چھٹے گھنٹے بعد ایک 'تجزیہ کار صاحب' وہی ایک clip، وہی ہاتھ ملانے والی سٹوری، وہی زبردستی کا پیدا کردہ outrage دوبارہ ہر طرف پھینک رہے ہیں، جیسے پوری دنیا کی اخلاقیات کا آخری سرٹیفکیٹ انہی کے پاس ہو۔ مجھے حیرت یہ نہیں کہ لوگ رائے رکھتے ہیں۔ حیرت یہ ہے کہ بعض لوگ ہر موضوع پر حتمی اتھارٹی بننے کی کوشش کیوں کرتے ہیں، خاص طور پر ان موضوعات پر جہاں نہ انکی academic depth ہے، نہ تاریخی شعور ہے، نہ مذہبی علم ہے۔ صرف over confidence ہے۔ اور بعض اوقات confidence، knowledge کا سب سے بڑا حجاب ہوتا ہے۔ اور پھر مسئلہ صرف رائے تک نہیں۔ وہ ایک پوری نسل کو intellectually inferior ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ صرف اس لیے کہ نئی نسل سوال کرتی ہے۔ لاجک اور reasoning کے ساتھ جواب دیتی ہے اور blind reverence سے انکار کرتی ہے۔ اگر نئی نسل آپ کو challenge کرتی ہے، تو یہ بدتمیزی نہیں یہ ایک زندہ معاشرے کی علامت ہے۔ آپ امریکہ میں رہیں، liberal school of thought مانیں، conservative ہوں، مذہبی ہوں یا secular یہ سب آپ کا حق ہے۔ لیکن خدا کے لیے اپنے ہر personal bias کو intellectual depth کا نام مت دیجیے اور ہر بھونڈے ٹاپک اور اپنے تھکے ہوئے narrative کو قوم کی خیرخواہی بنا کر مت بیچیے۔ کیونکہ ایک وقت آتا ہے جب انسان خود کو 'ہر فن مولا اور عقل کل' ثابت کرتے کرتے، اپنے ہی تضادات کا شکار ہونے لگتا ہے۔ اور بڑی irony یہ ہے کہ انسان اکثر اپنی بے نقابی کسی بڑے scandal سے نہیں، ایک چھوٹی سی ضد، ایک چھوٹے سے ego trip اور ایک غیر ضروری obsession سے کرواتا ہے۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ لوگ غلط راستے پر چلے جاتے ہیں۔ ہم سب ایسا کرتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کچھ لوگ اپنی انا بچانے کے لیے پوری نسل کو جاہل، جذباتی یا گمراہ ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نوجوان نسل کو جوتے مار مار کے خاموش کروانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب لوگ سوال بھی کریں گے، دلیل بھی دیں گے، اور آپ کی hypocrisy کو point out بھی کریں گے۔ اور اگر ہر اختلاف آپ کو اپنی توہین لگتا ہے، تو شاید مسئلہ دوسروں کے لہجے میں نہیں، آپ کے اندر کے خوف کا ہے۔ اللہ ہم سب کو اس تکبر اور نخوت سے بچائے جس میں انسان خود کو عقل کا آخری مرکز سمجھنے لگتا ہے۔ اور اللہ ہمیں ایسے لوگوں کے شر سے بھی محفوظ رکھے جو قوم کے درد سے زیادہ اپنی relevance بچانے میں مصروف رہتے ہیں۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین

















