Punhal
17.3K posts






مراد سعید کی کتاب “دزدنیم شب کا رقیب” مجھ تک پہنچ گئی ہے، آج رات سے پڑھنا شروع کروں گا اور جلد ہی تفصیلی ریویو پیش کروں گا


کس کو معلوم کہ ہم حسن شناسانِ ازل کتنے اوہام سے گزرے تو یقیں تک پہنچے

ہوسکتا ہے کہ خدا نے کسی کی نظر کو بنایا ہی اس طرح ہو کہ فطری قوتیں اس نظر سے ٹرانسمٹ یا منعکس ہوتی ہوں۔ واللہ اعلم۔ 🤔



اگر آپ نظر بد/نظر لگنے پر یقین رکھتے ہیں تو آپ کا ایمان پھر یہ ہوا کہ ایک عام انسان کی نظر، خدا/اللہ/ایشور سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے۔ کائنات کو چلانے والا آپ کی ایک بری نظر کے آگے ڈھیر ہے۔ جزاک اللہ خیرا



Richard Feynman wrote 37 research papers during his career.

What’s the function of this in a laptop charger?

ہوسکتا ہے بزرگ صاحب مشاہدہ ہوں (خود کہ رہے ہیں کہ پہنچے ہوئے تھے) اور خود ہی واقعہ کے راوی ہوں۔ دوسری بات چور کھانا کھانے کے بعد سو گئے تو گدھے کو باندھ کے ہی سوئے ہونگے تو کسی نے تو گدھے کو کھولا ہوگا۔ وہ بھی تو راوی ہوسکتا ہے۔ اور اگر گدھے کو کھولنے والا کوئی نہیں تھا بلکہ خود گدھا ان کے مرجانے منتظر تھا تو اتنا سیانا گدھا روای بھی ہوسکتا ہے۔ آخر پہنچے ہوئے بزرگ کا گدھا تھا

@ch_sajaad جن کو لگتا ہے کہ ایران (شیعہ) کافر ملک ہے تو وہ اپنی بہن کا رشتہ اسرائیل کو دے دیں کیونکہ وہ پکا سنی دیوبندی اہل سنت والجماعت ہے پین یکے 🖐🏻

@mumti بیٹھ جاتے ہیں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے


انجینئرنگ۔۔۔ جمعے والے دن کی بات ہے مولوی صاحب نے ممبر پر قصہ سنانا شروع کیا۔ کہنے لگے پرانے زمانے میں ایک پہنچے ہوئے دیندار بابے کے گھر تین چور داخل ہوئے۔ گھر میں گدھا باندھا ہوا تھا، چوروں کو جو کچھ بھی ہاتھ لگا، سب اس پہنچے ہوئے بابے کے گدھے پر لاد دیا اور چل پڑے۔ راستے میں دو چوروں نے منصوبہ بنایا کہ تیسرے کو قتل کر دیتے ہیں تاکہ ہمارا حصہ زیادہ ہو جائے۔ چنانچہ انہوں نے تیسرے کو مار ڈالا۔ کھانا کھانے کے بعد جب باقی دونوں سو گئے تو ان میں سے ایک اٹھا اور دوسرے کو نیزہ مار کر قتل کردیا۔ لیکن اس دوسرے مرے ہوئے چور نے پہلے ہی کھانے میں زہر ملا دیا تھا، چنانچہ وہ تیسرا بھی صحرا میں مر گیا۔ تینوں چوروں کے مرنیکے بعد وہ گدھا، جس پر سارا سامان لدا ہوا تھا، خود ہی واپس اس پہنچے ہوئے بابے کے گھر پہنچ گیا۔ لوگ واہ واہ سبحان اللہ کرتے رہے لیکن میں پہلے تو سنتا رہا پھر مجھ میں توحید کا کیڑا جاگ اٹھا اور مزید برداشت نہ کر سکا۔۔ اور مولوی صاب سے کہا: مولی صاحب وہ تینوں تو مرگئے، پھر آپ کو یہ کہانی لفظ بہ لفظ "گدھے" نے سنائی یا کسی فرشتے نے؟ یہ سن کر مولی صاحب جلال میں آگئے اور اسے اپنی گستاخی سمجھتے ہوۓ کہنے لگے: ابے نکل یہاں سے اے ناہنجار مرتد انسان آئندہ اس مسجد میں نظر نہیں آنا. اب آپ ہی بتائیں میں نے کونسا غلط سوال کیا؟😎😁 منقول
