Punhal

17.3K posts

Punhal banner
Punhal

Punhal

@yarpunhal

Matric (Science)

United States Katılım Şubat 2022
194 Takip Edilen840 Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
Punhal
Punhal@yarpunhal·
ازین قلمرو حیرت چه ممکن است رهایی مگر کسی قدم انشا کند ز رنگ و گریزد #بیدل حیرت کی اس قلمرو سے رہائی کیسے ممکن ہے مگر یہ کہ کوئی رنگ سے قدم بنائے اور چلا جائے۔
اردو
1
5
18
4.1K
Punhal
Punhal@yarpunhal·
@BarkatKhattak1 @khattak_amer @mustajab_dr @Sohrab_Rafiq میں نے کئی ہفتوں سے ٹویٹر پر آنا کم کردیا ہے۔ کچھ مصروفیات ہیں، کچھ مسائل ہیں۔ فیس بک پہلے ہی تقریباً ختم کر چکا ہوں۔ اگر طبیعت مائل نہ ہوئی تو کم از کم کچھ عرصے کیلئے خدا حافظ کہنا پڑے گا۔ خبروں کیلئے اکاؤنٹ شاید بحال رکھوں۔ 🤔
اردو
1
2
4
219
Punhal
Punhal@yarpunhal·
@azmat660 😀یہ ایک اہم نقطہ ہے۔ مذہبی تاریخ میں اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں۔
اردو
1
0
1
13
AZMAT QAISRANI
AZMAT QAISRANI@azmat660·
@yarpunhal یہ کوی بوگس معلوم ہوتی ہے جس کا رائٹر ہی چھپا ہے کہ کل کو کہے میں نے تو لکھی ہی نہیں پھر ساری بحث بے معنی ہو جائے گی
اردو
1
0
0
19
Punhal
Punhal@yarpunhal·
@azmat660 جس کتاب کا عنوان ہی اوریجنل معلوم نہ ہو، اس کے مندرجات پر یوں بھی اعتبار کرنا بہت مشکل ہے۔
اردو
1
0
1
8
AZMAT QAISRANI
AZMAT QAISRANI@azmat660·
@yarpunhal جی بالکل ایسے ہی ہے صرف کہانیاں ہیں ان لوگوں کی۔ شکریہ
اردو
1
0
1
19
Punhal
Punhal@yarpunhal·
@azmat660 میرا اصلی کمنٹ اگرچہ عمومی تھا لیکن میرے خیال میں یہ صاحب کوئی اتنے اہم نہیں کہ انہیں پڑھا جائے۔
اردو
0
0
1
7
AZMAT QAISRANI
AZMAT QAISRANI@azmat660·
@yarpunhal جی بالکل لیکن یہ نہ تو معتبر ہیں اور نہ ہی غیر سیاسی ایڈورڈ سید نے کہا ہے کہ کوئی بھی علم سیاسی مداخلت کے بغیر نہیں چاہے وہ ذاتی مفاد ہی کیوں نہ ہو
اردو
2
0
1
16
Punhal
Punhal@yarpunhal·
@azmat660 ذاتی یادداشتوں میں تو ریفرینس وغیرہ نہیں ہوتے۔ لیکن یادداشت زیادہ سے زیادہ اتنی ہی معتبر ہوسکتی ہے جتنا اسے لکھنے والا معتبر سمجھا جاتا ہو۔ اس کے باوجود یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی بھی شخص، چاہے کتنا ہی معتبر و حق گو کیوں نہ ہو، عموما خود کو غلط اور مخالفوں کو درست نہیں کہتا۔
اردو
1
0
1
13
AZMAT QAISRANI
AZMAT QAISRANI@azmat660·
@yarpunhal کتاب وہ ہوتی ہو جس کا ریفرنس اور ببلو گرافی ہو یہ کہانیاں ہیں اور ایسی کتاب کو کتاب کہنا توہین ہے
اردو
1
0
0
26
Punhal
Punhal@yarpunhal·
نیست در بیداری موهوم ما بیحاصلان آنقدر خوابی ‌که‌کس زحمت دهد تعبیر را #بیدل ہم بے حاصلوں کی موہوم بیداری میں اتنا (سا) خواب بھی نہیں کہ کوئی تعبیر کو زحمت دے۔
اردو
1
1
4
184
Punhal
Punhal@yarpunhal·
@m_bangesh امریکی یونیورسٹیز کی بات کر رہا ہوں۔ میں پاکستان کے موجودہ تعلیمی منظر سے براہ راست واقفیت نہیں رکھتا۔
اردو
0
0
1
26
All Too Human
All Too Human@m_bangesh·
@yarpunhal نہ ان پاکستانی نوسربازوں کا رچرڈ فائنمین سے دور کا کوئی تعلق اور نہ انکے پانچ پانچ سو جعلی مقالوں کا علم سے کوئی واسطہ- اور نہ ڈگریاں جاری کرنے والی یہ سینکڑوں پاکستانی نوکر شاہیاں یونیورسٹی کہلانے کے لائق-
اردو
1
0
5
300
Punhal
Punhal@yarpunhal·
جبکہ موجودہ دور کے کامیاب پروفیسرز کا اپنے کیریئر میں چار پانچ سو پیپرز لکھنا اب عام بات بن گئی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان میں سے کام کا ایک آدھ ہی پیپر ہوتا ہے۔ ایک بہت مشہور پروفیسر صاحب سے بات کر کے اندازہ ہوا کہ انہیں اپنے ہی مضمون کی بنیادی باتوں کا علم نہیں تھا۔ ایک بہت بڑی یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ چیئر نے مجھ سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ ”مجھے کبھی کوئی نیا آئیڈیا نہیں سوجھتا۔ ہاں تم مجھے ایک آئیڈیا ایک خیال دے دو، میں اسے اس طرح سجا سنوار کر بیچ لوں گا ، اس پر فنڈنگ حاصل کر لوں گا کہ تم حیران رہ جاؤ گے۔“ فی زمانہ اکثر پروفیسرز کی کامیابی کا راز ان کا علم یا قابلیت نہیں بلکہ اس بات میں چھپا ہے کہ وہ کتنی فنڈنگ لا سکتے ہیں۔
Cosmos Archive@cosmosarcive

Richard Feynman wrote 37 research papers during his career.

اردو
4
9
82
8.3K
Punhal
Punhal@yarpunhal·
@molve_arif وہ پولیو ویکسین میں چھپا ہوتا ہے۔
اردو
1
0
1
17
Muhammad arif
Muhammad arif@molve_arif·
@yarpunhal ہوسکتا ہے اس میں امریکہ نے جاسوسی چِپ لگائی ہو۔
اردو
1
0
1
22
Punhal
Punhal@yarpunhal·
پرانے زمانے کے قصوں میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی تھی، زبان حال۔ یعنی کسی کی حالت، یا وہاں موجود چیزوں کی ترتیب یا بے ترتیبی، یا کسی بے زبان کی حالت سے ظاہر جو تاثرات معلوم ہوتے تھے وہ قصہ گو، کہانی نویس اپنے الفاظ میں بیان کردیتا تھا۔ اکثر محرم کے ذاکر بھی اس تیکنیک کا استعمال کرتے ہیں۔
Muhammad arif@molve_arif

ہوسکتا ہے بزرگ صاحب مشاہدہ ہوں (خود کہ رہے ہیں کہ پہنچے ہوئے تھے) اور خود ہی واقعہ کے راوی ہوں۔ دوسری بات چور کھانا کھانے کے بعد سو گئے تو گدھے کو باندھ کے ہی سوئے ہونگے تو کسی نے تو گدھے کو کھولا ہوگا۔ وہ بھی تو راوی ہوسکتا ہے۔ اور اگر گدھے کو کھولنے والا کوئی نہیں تھا بلکہ خود گدھا ان کے مرجانے منتظر تھا تو اتنا سیانا گدھا روای بھی ہوسکتا ہے۔ آخر پہنچے ہوئے بزرگ کا گدھا تھا

اردو
0
1
2
146
Punhal
Punhal@yarpunhal·
@ch_sajaad میرے خیال میں بدتمیز لوگوں کو اگنور کرنا ہی بہتر ہے۔
اردو
0
0
0
107
Ch Sajaad Husein
Ch Sajaad Husein@ch_sajaad·
ایران حکومت نے بہن کا رشتہ اسرائیل کو دیا ہوا تھا تبھی تمہارے بابے کو ان کے ساتھ ملکر مروایا یدی دہو اپنی منجی تھلے ڈانگ کیوں نئیں پھیر دے انے تے نئیں او؟
Hussain@sharizvi99

@ch_sajaad جن کو لگتا ہے کہ ایران (شیعہ) کافر ملک ہے تو وہ اپنی بہن کا رشتہ اسرائیل کو دے دیں کیونکہ وہ پکا سنی دیوبندی اہل سنت والجماعت ہے پین یکے 🖐🏻

اردو
23
46
275
6.5K
Punhal
Punhal@yarpunhal·
شالا کوئی مسافر نہ تھیوے ککھ جنہاں تھیں بھارے ہُو
Mohammad Taqi@mazdaki

@mumti بیٹھ جاتے ہیں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

اردو
0
1
3
175
Punhal retweetledi
A Hameed
A Hameed@Ahameed2001·
@yarpunhal @nationalist109 خدا کو کام تو سونپے ہیں میں نے سب لیکن رہے ہے خوف مجھے واں کی بے نیازی کا میر
اردو
0
2
4
166
Punhal
Punhal@yarpunhal·
ہوسکتا ہے وہاں کوئی متقی بندہ چھپ کر چوروں کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ممکن ہے جنگل میں کیمرے لگے ہوں۔ یا پھر ان میں کسی چور نے مرنے سے پہلے کوئی تحریر چھوڑ دی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ گدھا بات کرسکتا ہو۔ یا پھر ہوسکتا ہے مولوی صاحب بھی چوروں کے گروہ میں شامل ہوں اور اپنا ذکر گول کر گئے ہوں۔ بہرحال توحید کا اس سارے معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں۔
iram shahzadi(ارم رائے)@irumrae

انجینئرنگ۔۔۔ جمعے والے دن کی بات ہے مولوی صاحب نے ممبر پر قصہ سنانا شروع کیا۔ کہنے لگے پرانے زمانے میں ایک پہنچے ہوئے دیندار بابے کے گھر تین چور داخل ہوئے۔ گھر میں گدھا باندھا ہوا تھا، چوروں کو جو کچھ بھی ہاتھ لگا، سب اس پہنچے ہوئے بابے کے گدھے پر لاد دیا اور چل پڑے۔ راستے میں دو چوروں نے منصوبہ بنایا کہ تیسرے کو قتل کر دیتے ہیں تاکہ ہمارا حصہ زیادہ ہو جائے۔ چنانچہ انہوں نے تیسرے کو مار ڈالا۔ کھانا کھانے کے بعد جب باقی دونوں سو گئے تو ان میں سے ایک اٹھا اور دوسرے کو نیزہ مار کر قتل کردیا۔ لیکن اس دوسرے مرے ہوئے چور نے پہلے ہی کھانے میں زہر ملا دیا تھا، چنانچہ وہ تیسرا بھی صحرا میں مر گیا۔ تینوں چوروں کے مرنیکے بعد وہ گدھا، جس پر سارا سامان لدا ہوا تھا، خود ہی واپس اس پہنچے ہوئے بابے کے گھر پہنچ گیا۔ لوگ واہ واہ سبحان اللہ کرتے رہے لیکن میں پہلے تو سنتا رہا پھر مجھ میں توحید کا کیڑا جاگ اٹھا اور مزید برداشت نہ کر سکا۔۔ اور مولوی صاب سے کہا: مولی صاحب وہ تینوں تو مرگئے، پھر آپ کو یہ کہانی لفظ بہ لفظ "گدھے" نے سنائی یا کسی فرشتے نے؟ یہ سن کر مولی صاحب جلال میں آگئے اور اسے اپنی گستاخی سمجھتے ہوۓ کہنے لگے: ابے نکل یہاں سے اے ناہنجار مرتد انسان آئندہ اس مسجد میں نظر نہیں آنا. اب آپ ہی بتائیں میں نے کونسا غلط سوال کیا؟😎😁 منقول

اردو
1
0
1
244