
V 🇦🇷
6.9K posts

V 🇦🇷
@fierytermite
Founder at @vonelabs | @Packtpublishing Author - I draw a mighty pen ✍️ @BlueSpaceSec Organizer - Libertario = Block.












Iniciamos el Procedimiento de Publicación de documentos históricos correspondientes al período 1973-1983. En esta primera instancia, se publicará un conjunto de 26 documentos oficiales distribuidos en 492 páginas y la Guía sobre la Desclasificación de Documentos Históricos de la SIDE. La documentación será difundida a través de las redes sociales oficiales del organismo y estará disponible para su consulta pública en el sitio web oficial: argentina.gob.ar/inteligencia/a… La iniciativa se integra a una política orientada a fortalecer la institucionalidad del Sistema de Inteligencia Nacional y su vínculo responsable con la sociedad.




I get how the phone can target ads by hearing and seeing me, but how is it showing me ads based on my thoughts? I can't be the only one noticing this.








آنکھیں کھول دینے والی حقیقت — افریقی رہنماؤں کے لیے سبق ملائیشیا کے سابق وزیرِ اعظم Mahathir Mohamad کہتے ہیں: 2004 میں ملائیشیا نے امریکہ سے 8 F/A‑18 Hornet جنگی طیارے خریدے، جو اس وقت کے جدید ترین طیاروں میں شمار ہوتے تھے۔ اس معاہدے کی مالیت 640 ملین ڈالر سے زیادہ تھی۔ طیارے وصول کرنے کے بعد ملائیشیا نے ماہرین اور انجینئرز کی ایک ٹیم تشکیل دی تاکہ ان طیاروں کی خصوصیات اور جنگی صلاحیتوں کا تفصیلی مطالعہ کیا جا سکے۔ 👈 ملائیشین ماہرین نے دریافت کیا کہ طیارہ ہر پرواز کی معلومات ایک امریکی فوجی بیس کو بھیج رہا تھا، جیسے: پرواز کی بلندی رفتار مقام راستہ مشن کی تفصیلات اور پائلٹ کا زمینی کنٹرول روم سے رابطہ صرف یہی نہیں بلکہ طیارے کے آپریٹنگ سسٹم اور آٹو پائلٹ فیچر کو بھی امریکی بیس سے کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ یعنی اگر امریکی افسر زمین سے صرف ایک بٹن دبا دے تو طیارے کا راستہ بدلا جا سکتا ہے، اسے گرایا جا سکتا ہے، یا حتیٰ کہ اس کے حملے کا ہدف بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جب ملائیشیا نے ان طیاروں کے آپریٹنگ سسٹم کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تو امریکہ اور مینوفیکچرر McDonnell Douglas نے اس پر سخت اعتراض کیا۔ حتیٰ کہ طیاروں کے پرزے اور دیکھ بھال روکنے اور پابندیاں لگانے کی دھمکی بھی دی گئی۔ یہاں تک کہ جب ملائیشیا نے طیاروں کی کچھ صلاحیتوں کو فعال کرنے کے لیے مخصوص پرزوں کی درخواست کی تو کمپنی نے اسے بھی مسترد کر دیا۔ آخرکار ملائیشیا کو احساس ہوا کہ اس نے ایسے طیارے خریدے ہیں جو اصل جنگ میں اس وقت تک استعمال نہیں ہو سکتے جب تک امریکہ کی منظوری حاصل نہ ہو۔ یہ مسئلہ صرف ملائیشیا تک محدود نہیں بلکہ بہت سے عرب اور مسلم ممالک کو بھی اسی حقیقت کا سامنا ہے۔ سبق واضح ہے: جب تک کوئی قوم اپنی دفاعی ٹیکنالوجی خود تیار نہیں کرتی، وہ دوسروں پر انحصار کرتی رہے گی۔ #مسلمانوں_کی_حقیقت #عبرت_کا_سبق (Source: TV interview on Al Jazeera with Mahathir Mohamad) #The conditions of the Muslims of the world #A lesson from the reality for all Muslims Copied













