پن کیا گیا ٹویٹ
Voice Of Youth
9.1K posts

Voice Of Youth
@napbot
An environmentalist fighting for our planet, #HumanRights, and justice in Pakistan. Passionate about biodiversity, accountability, and real change.
شامل ہوئے Mayıs 2017
3.5K فالونگ3.9K فالوورز

@pakistanwalli if they're looking to capture island and prepare it for a base, it will remain incomplete. It's too close to Iran and Iranian proxy militants.
English

⚠️ U.S. and Israel are bombing military positions on Iran's Kharg Island.
Remember what I said a few days back? If the U.S. really wants to take Kharg, they’ll first neutralize military positions on the island and launch a widespread bombing campaign across Iran, then the Marines will storm it.
I had noted that Trump bombing Iranian energy infrastructure and U.S. forces trying to occupy the island are connected.

English

@deejasays For farmers, the last eight crops were an absolute loss, and with the current spell of rains, it's already a ruin for them. More people's standard of living is going to decline.
English

Exactly what we feared has started happening, these nonstop rains are now causing serious damage. The wheat crops that were ready for harvest are being badly affected with pests starting to spread. A year of farmers hard work now being destroyed.
This country has no capacity to deal with heavy rains. May Allah have mercy on us all. Please remember them in your prayers specially.
English

@Alyhassan959 you guys are blessed to have this much time on hand.
English

@Umar_AliX دوسری لائین میں غلطی ہوگئی آپ سے ٹرمپ نے کہا تھا ہاں میٹھے بولو۔
اردو

عاصم: ہیلو مسٹر پریزیڈنٹ
ٹرمپ: ہاں پپی بولو۔
عاصم: سر ایک مشورہ دوں؟
ٹرمپ: دو مشورہ لیکن یاد رکھنا، میں نے آج ہی نزر چوہان کا وی لاگ دیکھا ہے۔ غلط مشورہ دیا تو” فر نا کہنا ٹرمپ گالاں کڈ دا”
عاصم: میں نے بھی پانی بند ہونے کے باوجود خودساختہ فتح کا اعلان کر دیا تھا۔ آبنائے ہرمز بند ہے تو کوئی نہیں، آپ بھی فتح کا اعلان کر دیں، اپنی جان چھڑائیں۔
ٹرمپ: تیل دیتا سائیکل دی چین نوں نکل او تیری بہن نوں۔ غیر انسانی دلے۔
عاصم: سر گالیاں نا دیں میں آپ کا فیورٹ فیلڈ مارشل ہوں۔
ٹرمپ: فون بند کر کنجرا ورنہ تیرا حال وی تیرے استاد ضیا الحق والا کراں گا۔

اردو

@KismatZimri @AUKhanOfficial1 یہ فوجی دماغ لے ڈوبیں گے رہے سہے پاکستان کو، چھوٹے یوٹیوبرز سے تو کچھ ملا نہ ملا ایک برابر، بڑے نکل جائیں گے باہر اور ڈالر بھی ادھر ہی منگوائیں گے۔ کیونکہ باہر ویوز کا ریٹ بھی پاکستان سے زیادہ اور منگوانے بھی آسان۔
اردو

جو ڈالر پاکستان لے کر آرہا ہو، اسے پلے سے ری بیٹ دینا چاہیئے۔۔اسے سراہنا چاہیئے کہ آپ ڈالر پاکستان لیکر آرہے ہیں مگر یہاں ایف بی آر نے یوٹیوب کری ایٹرز پر ویوز کی بنیاد پر 66 فیصدتک ٹیکس لگانے کا فارمولا پیش کیا ہے: اسداللہ خان @AUKhanOfficial1
اردو
Voice Of Youth ری ٹویٹ کیا

@QaziShahid786 بارہ پاس دماغ جس پر مزید زنگ چڑھا دیا جائے وہ بس یہاں تک ہی رہتا ہے،
اردو

Pakistan Army’s #TikTok account… and somehow every video revolves around girls, romance, or heartbreak.
Is this a military institution or a content studio stuck in love stories?
Why does everything here circle back to women and romance?
English

@RShahzaddk اس حرام زادہ کے ہوتے پاکستان کی عوام روز غریب سے غریب تر ہوتی جائے گی، آج شرط لگا لیں یہ اپنی رئیٹائرمنٹ کے اگلے دن پاکستان سے بھاگ جائے گا، اس کا پاکستان سے واسطہ صرف پیسے لوٹنے تک ہے۔ اس کا پورا خاندان اسی کام میں لگا ہوا ہے۔
اردو

@deejasays bet she's paying double the gobar tax. Her brain contains more gobar than a buffalo.
English

Bro first she threw her own father under the bus, putting all his offshore wealth in the spotlight, conveniently “highlighting” those unexplained money trails.
Now she’s exposing her dead mother & even her siblings too, a full family expose.
Alhamdulillah, God is Great😭☝🏻.
Bakhtawar B-Zardari@BakhtawarBZ
Directly contesting your intelligence. It states properties owned by my siblings that we inherited from my mother who lived in UAE from early 90s-2007. Not only is this public record but she did interviews in the very same properties & also declared in ECP by my siblings 🤡.
English

@enkidureborn انڈیا کی ڈبل تعداد ہے، اور وہ تو اعلی عہدوں پر بھی ہیں، محلوں کے معاملات اور خرچوں تک پر ان کے سائین ہوتے پھر رقم جاری ہوتی ہے، ان پر تو کوئی پریشر نہیں کیونکہ انڈیا نے اپنی حد سے بڑھ کر یا نیچھے بچھ کر کوئی وعدے نہیں کئے، بنگلہ دیش کے بھی اتنے ہی لوگ ہیں وہ بھی آسان حال ہیں۔
اردو

2/2
امارات میکہ ، امارات سسرال ، امارات بچپن ، امارات لے اوور ، امارات ڈیزرٹ سفاری ، امارات نوکری کی تلاش ، امارات ایک ایک کمرے میں سونے والے نو نو لوگ اور پھر انہی میں سے نکلنے والےکروڑ پتی ۔ امارات جی ٹی روڈ بیلٹ کا یورپ نہیں ہے۔ یہ کشمیریوں اور پوٹھوہاریوں کا انگلینڈ نہیں ہے۔ یہاں ہر کیٹگری اور ملک کے ہر کونے کے لوگ ہیں۔ ہمارے ملک کے پندرہ لاکھ لوگ امارات میں مقیم ہیں۔ سالانہ چھ سے سات ارب ڈالرز ترسیلات کی مد میں پاکستان آتی ہیں۔ پندرہ لاکھ خاندان براہ راست اور ایک کروڑ لوگ بلواسطہ امارات سے آنے والی آمدن سے جڑے ہوئے ہیں۔ شیوخ کا رویہ اب مدتوں سے پاکستان کی طرف آقاؤں والا ہے۔ لیکن کبھی یہ نوبت نہیں آئی کہ یہ پندرہ لاکھ لوگ اپنے مستقبل سے خوفزدہ ہوئے ہوں۔
اس خوف کی وجہ بہت سادہ سی ہے۔ ایک غاصب اور ایک قابض کو بس کسی بھی قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنا ہے۔ اس کے لیے حد سے گری ہوئی خوشامد اور حد سے بڑھے ہوئے جھوٹے وعدے ، ایک پینترا ادھر اور دوسرا ادھر ، صبح کچھ اور شام کچھ، دنیا میں معاملات ایسے نہیں چلتے۔ ڈنڈا پکڑ کر ایک مردہ معاشرہ میں ہنیر تو مچایا جاسکتا ہے پاکستان میں ضمیر فروشوں کی مدد سے جھوٹی کامیابیوں کے دعوے تو گھڑے جاسکتے ہیں دنیا کو قائل نہیں کیا جاسکتا۔ معلوم نہیں اس اوسط درجے کی سوچ نے کونسے وعدے کیے اب تقاضے کیا ہیں اور نوبت یہاں تک کیوں پہنچی لیکن اس شخص کے ہر پنگے کی طرح یہ بھی بالآخر پاکستان کے غریب عوام کو الٹا پڑنے والا ہے۔
یہاں کچھ لوگ اپنا نو چار کا منہ اٹھا کر آسکتے ہیں کہ جب ہم ترسیلات کی یہی مجبوریاں بتاتے ہیں تو تم کیوں نہیں مانتے۔ نہیں حضور ہمیں فلپائن اور بنگلہ دیش جیسی ترسیلات چاہییں اور ویسے ہی تعلقات۔ ہم نا پراکسی بنیں نا ہی بنائیں نا جھوٹے وعدے کریں نا ہی لمبے چوڑے لارے لگائیں ، نا جنگوں میں حصے دار بنیں نا ہی لڑائیوں میں۔ ہم اپنے کام سے کام اور مطلب سے مطلب رکھیں۔ ہمارے مفادات چوبیس کروڑ پاکستانیوں کے مفادات ہوں ایک گھس بیٹھیے آمر کے نہیں۔ ایسی ہی صورتحال سعودی عرب سے رہے اور ایسی ہی امریکہ سے۔ انڈیا اور افغانستان سے بھی انہی بنیادوں پر۔
میں لاکھوں کروڑوں لوگوں کو مزید خوفزدہ یا مایوس نہیں کرنا چاہتا۔ میں انہیں نہیں بتانا چاہتا کہ یہ شخص اس حد کو عبور بھی کرجائے تو اسی کوئی پرواہ نہیں۔ اگر آپ کی نوکریاں، آپ کے کاروبار ، آپ کے خواب ریزہ ریزہ ہوجائیں تو اسے کوئی فکر نہیں۔ اس سے پہلے یہ ایسی کتنی ہی کرچیوں کے پہاڑ پر کھڑا ہے۔ امید صرف اتنی ہے کہ ایک دن اسکی پھیلائی ہوئی بربادی پورے ملک کو روندتی ہوئی اس کے گریبان تک آپہنچے گی۔
اردو

امارات ، پاکستان اور فیلڈ مارشل
دوبئی مذکر تو بہت بعد میں ہوا پہلے پہل دوبئی مونث تھی۔ بلکہ دوبئی بھی کیا دیہات میں ڈبئی کہلاتی تھی۔ عام پاکستانیوں نے بے تحاشا خوشحالی پہلی دفعہ تب دیکھی جب دوبئی کھلی۔ یکایک تیل کی دولت آئی۔ مزدوروں کی ضرورت پڑی تو اوورسیز پاکستانیوں کی دوسری کھیپ تیار ہوئی۔ پہلی کھیپ منگلا ڈیم بننے کے بعد نکل چکی تھی لیکن ماڑے پہاڑیے مسیر ابھی یارک شائر و لنکا شائر کی فیکٹریوں میں پینیوں کے حساب سے گھنٹے پورے کرتے تھے ، ماٹھے حالات تھے ۔ دوبئی والے مزدور تو پہنچتے اور مہینہ پورا ہوتے ہی شریکے میں آگ لگا دیتے۔ امریکن کمپنیاں تھیں۔ ابھی شیوخ کو پتہ نہیں تھا کہ یہ لبرور اور مسکین ہیں لہذا تنخواہ امریکی اور یورپی پیمانوں پر ملتی تھی۔
غیر کاشتکار لوگ حالات کے ستائے تھے لیکن ہنر مند تھے ، موقع ملنے کی دیر تھی، سب سے پہلے یہ لوگ کاشتکار طبقات اور زمینداروں کے تسلط سے نکلے اور دوبئی پہنچتے ہی چھا گئے۔ سال دو سال بعد پہلی فلائٹیں واپس اتریں تو ست گھوڑے بوسکی ، روتھ مین کے سگریٹ ، گلے میں سونے کی چین اور انگلی میں چھاپ بائیں ہاتھ میں بڑا سا بکسہ تو دائیں ہاتھ میں نمبروں والا بریف کیس۔ اک شور تھا جو مچ گیا۔ دوڑ تھی جو شروع ہوگئی۔ میرا ایک نکھٹو سا سمجھا جانے والا تایا زاد اسی حلیے میں واپس پلٹا تو میں نے اسی رات اپنی بیلوں کی جوڑی بیچ دی اور ڈبئی کے ویزے کے پیسے ایک جاننے والے کو تھما دیے۔
اب یہ تو ہر کسی کی کہانیاں یکساں کہ جہاں یہ حیرت کدہ ہے بلکل اسی جگہ پر ہم نے ریت کے ٹیلوں پر راتیں گزاریں ، میرے سامنے فلپینی کتا اٹھا کر لے گیا ، میں نے بابرہ شریف کے شو میں اس پر درہموں کی بارش کی ، میرا کفیل مجھے اپنا بیٹا بنانا چاہتا تھا اور میں نے انکار کردیا، میں اگر چاہتا تو فلاں عمارت آج میری ہوتی لیکن میں ایماندار تھا اور وغیرہ وغیرہ لہذا میں آپ کو جو مرضی بتاتا جاؤں آپ نے کونسا مان لینا ہے۔ یہ ساری یاداشتیں پھر کبھی سہی۔
شیوخ کرخت تب بھی تھے۔ قبائلی رنگ تھا لیکن ابھی نئی نئی امارت کے عادی نہیں ہوئے تھے۔ زندگی اب سے بہت زیادہ مشکل تھی لیکن آمدن آج سے کہیں زیادہ۔تیسی، کانڈی ، رندے ، ہتھوڑے اور گریس والے ہاتھ مہینوں اور سالوں میں بڑی بڑی گاڑیوں کے اسٹئرنگ ویلز پر تھے۔ سڑکوں ، بنیادوں اور دیواروں سے بات چھتوں تک پہنچی تو ڈیمانڈ بھی مستریوں اور مزدوروں سے آگے بڑھی۔ ڈھابوں اور حجام کی دوکانوں سے لیکر بڑی بڑی مارکیٹوں تک۔ سامراجی پہیہ تھوڑا مزید گھوما تو بنک ، انشورنس کمپنیز اور پڑھے لکھے بابو بھی پہنچنا شروع ہوئے۔ پھر اگلے دروازے اس ملک کے لٹیروں کے لیے کھلے۔ ہر طرح کی لوٹ مار بڑی بڑی عمارتوں میں کھپائی جانے لگی۔
ستر کی دہائی سے شروع ہونے والی دوڑ اب چھٹی دہائی میں داخل ہوچکی۔ میرے گاؤں کے وہ بوڑھے جو مبالغہ آرائی کرتے کرتے شیخ راشد سے ایک عدد مصافحے کو ذاتی دوستی بتاتے تھے انکی اکثریت قبروں سے اور چند ایک چارپائیوں سے لگی بیٹھی ہے۔ آج میرے گاؤں کے ایک سابقہ بیوروکریٹ کا البراری میں محل بھی ہے ، میرے کچھ جاننے والے اچھی خاصی کارپوریٹ جابز بھی کرتے ہیں اور آٹھ سو ہزار درہم ماہانہ پر کئی خوبصورت نوجوان آج بھی وہاں امید اور خواب کھرچنے جاتے ہیں۔
1/2
اردو

@MAsethi @Rana_Atif101 Band damag, PTI was only Govt in 77 years who retained $20+ billion in treasury. Pesa tikne lag gea tha Pakistan m, with GDP growth and reserves in hand. Giving subsudy to citizen isn't wrong. But sab kuch apni jaib m dalne k lia jeene walo ko iski smjh nahi aye gi. choopo
English

@Rana_Atif101 PTI government populist decision to retain fuel price at PKR 150 in spite of international crude oil rates increased resulted in a negative impact on the economy. Such as below.
Massive Fiscal Deficit: The subsidy cost the national treasury an estimated Rs 250 billion, placing a
English

@pakistanwalli Iran should only play one card now: tell the world that they intentionally allowed the rescue. They can frame it with some humanitarian angle. The world will believe them because low-altitude flights like this are easy targets, and yet they allowed it to happen.
English











