
حامد میر اور ایمان مزاری جیسے لوگوں کے مسنگ پرسنز کے نام پر بنائے گئے جھوٹے بیانیے کی حقیقت دیکھنی ہو تو بی ایل اے کی یہ حالیہ ٹریننگ ویڈیو دیکھ لیں۔بلوچستان کی تاریخ، غیرت اور عظیم ثقافت میں خواتین کا ایک مقدس مقام ہے، لیکن بیرونی فنڈڈ کیمپوں میں غیر محرم مردوں کے ساتھ اس طرح کی ٹریننگ اور پھر انہیں فوج کے جوانوں کے خلاف استعمال کرنا بلوچ روایات کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔ یہ کوئی نظریاتی تحریک نہیں بلکہ اخلاقیات سے عاری ایک منظم نیٹ ورک ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف بیرونی اشاروں پر پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے۔جدید امریکی ہتھیاروں کے ساتھ خواتین کو فرنٹ لائن پر لانا مرد جنگجوؤں کی کمی کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔ ہنی ٹریپ جیسے حربے اور غیر محرم کیمپوں کا کلچر نہ اسلام کا حصہ ہے اور نہ ہی بلوچ غیرت کا۔ ریاست کے پیسوں اور اسکالرشپس پر پڑھ کر، چند ڈالروں کی خاطر اپنی اقدار کا سودا کرنے والی یہ خواتین بلوچ عوام کی نمائندہ نہیں ہو سکتیں۔ یہ صرف ہندوستان اور اسرائیل کے ڈالروں کا اثر ہے، لیکن پاکستان کو توڑنے کا خواب دیکھنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
انشاءاللہ
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
War Noir@war_noir
#Pakistan 🇵🇰: Female commander and fighters of “Baloch Liberation Army” (#BLA) released a new video. Fighters are using DJI Drones, #USA-made 🇺🇸 Penn Arms P540-1 grenade launcher, M4A1 carbines, M16A4 rifles, FN M249 machine gun, AK-74 / AK-74M rifles etc...
اردو


























