🔴 بھارت کے ایک ٹی وی چینل پر جب امریکہ–ایران جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تو نیوز اینکر آپے سے باہر ہو گیا:
“پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو روک دیا۔ یہ دنیا کو ہلا دینے والا ایک بڑا قدم ہے۔”
ہم زندہ رہنے سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟
نئے کپڑے سلوائے ہیں تو اُنہیں پہننے کےلئے کسی خاص دن کا انتظار کریں گے
نئی گاڑی خریدی مگر اسکی سِیٹ پر چڑھے لفافے نہیں اتاریں گے۔
نیا ڈنر سیٹ خریدا ہے مگر کھانا پرانے میں ہی کھاتے ہیں۔
پانچ ہزار والا نوٹ جیب میں ہے تو اسے کُھلا کروانے سے کتراتے ہیں کہ پھر فوری خرچ ہوجائے گا۔
گھر میں ڈیڑھ لٹر والی خالی بوتلوں کے انبار لگتے جارہے ہیں لیکن پھینکنے کا حوصلہ نہیں پڑ رہا۔
شاپنگ بیگز اکٹھے کرکرکے ایک بڑے شاپنگ بیگ میں ڈال کر رکھ چھوڑتے ہیں۔
نئی بیڈ شیٹ کیوں سوٹ کیس میں پڑی پڑی پرانی ہوجاتی ہے؟
جہیز میں ملی نئی رضائیاں کیوں بیس سال سے استعمال میں نہیں آئیں؟
باہر سے آیا ہوا لوشن کیوں پڑا پڑا ایکسپائر ہوگیا ہے؟
باتھ رو م میں نئی شیمپو بوتل موجود ہے تو پانچ پرانی کا انبار کیوں لگا رکھا ہے؟
کسی کے گھر سے کیک آجائے تو خود کھانے کی بجائے سوچنے لگتے ہیں کہ آگے کہاں دیا جاسکتا ہے۔
ہر وہ کیک جس پر لگی ٹیپ تھوڑی سی اکھڑی ہوئی ہو‘اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل خانہ نے ڈبہ کھول کر چیک کیا ہے اور پھر اپنے تئیں کمال مہارت سے اسے دوبارہ پہلے والی حالت میں جوڑنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
اور تو اور ہم بچے سے جوان ھو گئے مگر اپنے ناپ کے کپڑے اور جوتے نصیب نہ ھوئے ، جوتا احتیاطاً ایک دو نمبر بڑا لیا جاتا، لاکھ پہن کر رو کر بھی دکھایا کہ دیکھو اماں میری ایڑھی تو اس جوتے کی کمر تک جا رھی ھے مگر ایک ہی جواب کہ پاؤں بڑھ رھا ھے اگلے سال پورا ھو جائے گا اور قسم سے اگلا سال آیا بھی نہ ھوتا اور جوتا لیرو لیر ھو جاتا ، کپڑے ہمیشہ ایک بالشت بڑے رکھوانے ہیں تا کہ اگلے سال چھوٹے بھائی کو بھی پورے ھو جائیں۔
۔پتانہیں کیوں ہم میں سے اکثر کو ایسا کیوں لگتاہے کہ اچھی چیز ہمارے لیے نہیں ہوسکتی۔
دل چاہیے۔۔۔! نئی چیز استعمال کرنے کے لیے پہاڑ جتنا دل چاہیے۔ جو لوگ اس جھنجٹ سے نکل جاتے ہیں ان کی زندگیوں میں عجیب طرح کی طمانیت آجاتی ہے۔ یہ شرٹ خریدیں تو اگلے دن پورے اہتمام سے پہن لیتے ہیں۔
یہ ہر اوریجنل چیز کو اُس کی اوریجنل شکل میں استعمال کرتے ہیں اور ہم جیسے دیکھنے والوں کو لگتاہے جیسے یہ بہت امیر ہیں حالانکہ یہ سب چیزیں ہمارے پاس بھی ہوتی ہیں لیکن ہماری ازلی بزدلی ہمیں ا ن کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتی۔
دن پہ دن گذرتے جاتے ہیں لیکن ہم نقل کی محبت میں اصل سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ہم ساری زندگی اچھے لباس کے میلا ہونے کے ڈر سے جیتے ہیں اور پھر ایک دن دودھ کی طرح اجلا لباس پہن کر مٹی میں اتر جاتے ہیں۔ اسلئےاپنی چیزوں کو وقت پر استعمال کریں کیونکہ سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں۔ کیا آپ بھی ایسا کرتے ہو؟
’’ ابھی تو تیل مہنگا ہوا یہ تمہارا خون بھی نچوڑ لیں گے اچھی طرح سن لو تمھارے دکھوں کا مداوا جمہوریت نہیں نظامِ خلافت ہے ‘‘
آج کے جمعة المبارک کا شعوری پیغام
پی ٹی آئی کو اور کیا چاہیے؟
سارے دوست ممالک اپنے پیسے واپس مانگ رہے ہیں.
ملک میں تاریخی مہنگائی کر دی گئی ہے.
پاکستانی قیادت ٹرمپ کے آگے لیٹی پڑی ہے.
چائنہ ان سے الگ ناراض ہے.
اگر ان حالات میں بھی پی ٹی آئی عوام کو موبلائز کرکے پریشر نہی بنا سکتی تو لعنت بھیج دیجئے ان پر.
اورعوام خود ایک لایحہ عمل کا اعلان کرے.
کیونکہ یہی وقت ہے
”میں اور میرا بھائی سیاسی لوگ نہیں ہیں، ہم کبھی بھی سامنے نہیں آنا چاہتے تھے لیکن میرے والد کی زندگی کا تقاضا ہے کہ ہم اب بولیں، انکی صحت بگڑ رہی ہے ایسے میں ہم دونوں بھائی خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتے“ @Kasim_Khan_1999#ImranKhanUnlawfullyDetained
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial#HumanRights#ImranKhanUnlawfullyDetained
ارشاد بھٹی جب پہاڑہ شروع کرتے ہیں
تو پہاڑ کی طرح کچل کر رکھ دیتے ہیں
لیکن حقیقت یہ ہے کہ
یہ محض بیعزتی نہیں بلکہ یہ ن اور ppp سے پہلے اور بعد کے پاکستان کا وہ موازنہ ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں
"میرے والد، عمران خان، تقریباً ایک ہزار دنوں سے قید میں ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کا بنیادی نشانہ ہیں جو اختلافِ رائے کو سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک سنگین جرم سمجھتا ہے جسے کچل دینا چاہیے۔
میں نے اپنے والد کو تین سال سے زیادہ عرصے سے نہیں دیکھا۔ انہیں تنہائی کی قید میں رکھا گیا ہے، ایک ایسی چکی میں جو سزائے موت کے قیدیوں کے لیے بنائی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ غیر انسانی حالات تشدد کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ یہ محض غفلت نہیں ہے، بلکہ ایک سوچا سمجھا ظلم ہے جس کا مقصد ایک انسان کی عزتِ نفس کو چھین لینا ہے۔“@Kasim_Khan_1999#ImranKhanUnlawfullyDetained
ہم پاکستان کی حاملہ خواتین کا پیٹ چاک کرکے بچوں کو قتل کردیں گے ۔ طالبان ڈپٹی گورنر قدرت اللہ امینی کی دھمکی
کابل کے ڈپٹی گورنر قدرت اللہ امینی نے بہت خطرناک بیان دیا ہے کہ اگر افغانستان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اجازت دیں، تو ہم پاکستان پر قبضہ کر لیں گے، تمام لوگوں کو قتل کر دیں گے اور حاملہ خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے رحم نکال دیں گے تاکہ نسل کشی کے ذریعے مستقبل کو روکا جا سکے۔
آج رمضان کی طاق رات ہے میں اس مبارک شب میں اللہ کو حاضر ناظر جان کے گواہی دیتا ہوں کہ یہ ایپ میں نے صرف اور صرف پاکستان میں جمہوریت عدلیہ کی آزادی اور حقیقی آزادی کیلئے بنائی ہے اس ایپ کا مقصد عوام کو ایجنسیوں سے محفوظ رہ کے رابطہ قائم کرنے کی سہولت دینا ہے تاکہ مزاحمت کی جسکے!
مطالبہ رکنا نہیں چاہئیے 🚨
ڈاکٹر عاصم کہہ رہا ہے کہ اگر عمران خان کی آنکھ کا سہی علاج نہ کیا گیا تو ان کی بینائی جا سکتی ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ریٹینا سپیشلسٹ عمران خان کا معائنہ کرے۔
سوشل میڈیا آج اس پر ضرور آواز اُٹھائیں
اس نوجوان کا نام مبشر نور ہے۔
مبشر لاہور کے نشتر کالونی کا رہائشی ہے۔
مبشر کی بہن نے رابطہ کرکے بتایا کہ: میرے بھائی کو سال دوہزار چوبیس میں رحیم یارخان کے ایک ایجنٹ نے برما میں کال سینٹر کی نوکری دلانے کا کہہ کر ویزہ لگواکر برما بھیجا۔
وہاں پہنچ کر مبشر نے تین ماہ کام کیا اور پیسے بھی گھر بھیجے۔
ایک دن مبشر نے گھر کال کرکے بتایا کہ ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے، جس جگہ ہمیں بھیجا گیا ہے ایک اسک٭یم سینٹر ہے۔ یہاں لوگوں کو کال کرکے فر*اڈ کیا جاتا ہے۔
یہ بارہ پاکستانی لڑکے تھے سب نے وہاں سے بھاگنے کا پلان بنایا۔
چھ لڑکے وہاں سے تھائی لینڈ میں داخل ہوئے اور چھ لڑکے رہ گئے۔
براستہ تھائی لینڈ میں گرفتار ہوکر یہ لڑکے پاکستان ڈی پورٹ ہوگئے۔
مبشر اکلوتا بھائی ہے سات بہنیں ہیں۔
دو سال سے مبشر کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔بہن کا کہنا ہے کہ ہم جائیں تو کہاں جائیں۔
بہنوں نے اپنے طور پر کوشش کی تو میانمار کے کسی سرکاری اہلکار نے تین لاکھ روپے لیکر دھوکا کیا۔
میانمار میں کوئی بھی صاحب ہماری پوسٹ پڑھے اور انکو مبشر کے متعلق معلوم ہو تو برائے مہربانی ہم سے رابطہ کریں۔
حکومت وقت سے اپیل ہے کہ مبشر کو بازیاب کرانے میں سفارتی سطح پر اقدام کیا جائے۔
لاہور کی سات بہنیں اپنے اکلوتے بھائی کے لئے دن رات رورہی ہیں۔خدارا انکی داد رسی کی جائے۔
برائے رابطہ نیچے نمبر درج ہے
+923162529829
#waliullahmaroof
آواز اٹھائیں 🚨
حیدر سعید، عمران خان کی ایک توانا آواز ہے اور کھل کر لیڈرشپ پر تنقید بھی کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر حیدر سعید کی رہائی کے لیے ضرور آواز اٹھائیں۔
بھولنا مت، کل یہ وقت آپ پر بھی آ سکتا ہے
ہم وہی ہیں جن کے موبائل فون کا وال پیپر عمران خان ہے۔ جنکے فون کے کور کے پیچھے تحریک انصاف کا جھنڈا ہے۔ بیڈروم کے دراز میں ایک پاکستان کےجھنڈے کا بیج رکھا ہوا ہے ایک تحریک انصاف کا۔ ہماری الماریوں میں عمران خان کی تصویر والی شرٹ لٹک رہی ہے۔ ہمارے سینوں میں عمران خان محبوب بن کر بیٹھا ہے۔
ہم وہی ہیں جو اسکے ہر جلسے اسکی ہر ریلی میں پہنچتے رہے۔ دور ہوتے تو اسکے جلسے والے دن سارا دن ٹی وی کے آگے بیٹھے رہتے۔ جیسے جیسے کراوڈ بڑھتا جاتا ہمارے اندر خون کی مقدار اور گردش دونوں بڑھتی جاتی۔ پھر جب وہ تقریر کرتے ہوئے ہاتھ اٹھاتا کیمرہ اسکی پشت پر ہوتا سامنے ہزاروں لاکھوں کا جگ مگ جگ مگ مجمع ویڈیو یا تصویر ٹھک ہماری ٹائم لائن پر ہوتی ہمارے سٹیٹس پر ہوتی ہماری سٹوری پر ہوتی۔
ہم وہی ہیں جو کبھی عمران خان کی گاڑی سے لپک لپک جاتے تھے۔ ہم وہی ہیں جو شیلنگ اور پولیس گردی کی دیوار کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے۔ ہم وہی ہیں جو اسکی ایک آواز ایک کال پر لبیک کہتے رہے۔ وہ ہم جیسے ہی تھے جو نو مئی کو شہید ہوئے، چھبیس نومبر کو شہید ہوئے ، پولیس گردی ، فوج گردی اور دہشتگردی کے پیچھے والی وردی کا نشانہ بنے۔
ہم ڈرا ضرور دیے گئے ہیں۔ ہمیں واقعی خوفزدہ کیا گیا ہے۔ ہمیں اپنی بوڑھی ماں کا خیال آجاتا ہے۔ ہمیں اپنے ضعیف والد کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ جوان بیٹی یا بہن کا خیال آتا ہے۔ ان کے نام پر ہمیں دھمکایا جاتا ہے۔ خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ چپ کروایا جاتا ہے۔ اسی لیے ہم زرا سہمے سہمے سے رہتے ہیں۔
لیکن ہم ہیں تو وہی۔ ملک کے طول و عرض میں اسکی آواز سننے کو پہنچنے والے ، اسکو دیکھنے جانے والے ، اسکے جلسوں میں تل دھرنے کی جگہ ختم کرنے والے ، اسکے پولنگ بکس پرچیوں سے بھرنے والے ، اسکے نام پر آلو بینگن گوبھی کو جتوانے والے۔ ہم اپنی جگہ پر جمے ہوئے ، ڈٹے ہوئے۔ اپنی تکلیفوں ، اپنی کمزوریوں اور فوج کی وحشتوں کو اندر ہی اندر گھولتے ہوئے۔
تم جس دن مکمل ناکام ہوجاؤ گے ، ہم موت کی طرح تمہارے سامنے آکھڑے ہوں گے۔ وہی ، عمران خان کی تصویر کے وال پیپر والے ، کور کے پیچھے جھنڈے والے ، دراز میں پڑے بیج والے ، الماری میں لٹکی شرٹ والے ، سینے میں دھڑکتے عمران والے ۔
یہ غزہ نہیں اسرائیل کے شہری ہے
یہ منظر دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئی تھی
آپکا ایک لائک اور ایک ری پوسٹ امریکہ و اسرائیل اور انکے حمایت یافتہ لوگوں کی چیخیں نکلتا ہیں
لہذا اس پوسٹ کو لائک اور ری پوسٹ کریں