Alee
1.5K posts

Alee
@AleeAxgar
| 𝙲𝙴𝙾 𝙱𝚒𝚣𝚃𝚎𝚌𝚑 𝙰𝚗𝚊𝚕𝚢𝚝𝚒𝚌𝚊 | | 𝙲𝚑𝚊𝚒𝚛𝚖𝚊𝚗 𝙱𝙾𝙳 𝚆𝙰𝚁𝙺𝙰𝙽 𝙿𝚟𝚝. 𝙻𝚝𝚍 |


Taliban Agriculture Minister on India: It feels as if I am among my own people. It feels like our own country. The people of India and Afghanistan have one DNA.














لعنت BLA & ایسے سب دہشت گردوں پر








27 جون پنجاب کے ہیرو اور عظیم مہاراجہ رنجیت سنگھ کا یوم وفات ہے! رنجیت سنگھ 13 نومبر 1780 کو پیدا ہوئے اور 27 جون 1839 کو وفات پائی۔بچپن میں سنگھ کو چھوٹے موٹے بخار (چھپا) ہوا جس کے باعث ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔ رنجیت سنگھ نے پنجاب کو درانی لٹیروں سے محفوظ کیا، انھوں نے پہلی بار محض 10 سال کی عمر میں لڑائی میں حصہ لیا، اور 17 سال کی عمر میں انہوں نے افغانستان کے بادشاہ زمان شاہ درانی کے ہندوستان کے حملے کو ناکام بنایا۔ زمان شاہ درانی کو رنجیت سنگھ نے دوبار شکست دی، امرتسر کی لڑائی (1797)، اسی سال گجرات کی لڑائی، اور اگلے سال امرتسر کی ایک اور لڑائی میں پھر درانتیوں کو شکست دی۔ رنجیت نے 1799 میں لاہور کو فتح کیا، جسے سکھ سلطنت کے لیے ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔وہ 1801 میں محض 20 سال کی عمر میں مہاراجہ مقرر ہوئے۔ تخت لاہور جو اب پنجاب کے نام سے جانی جاتی ہے، ایسی ریاست تھی جو ایک طرف شکارپور سے ملتان،لاہور سے سری نگر اور تبت یعنی چین اور دوسری طرف کابل افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ رنجیت سنگھ کی زندگی میں انگریزوں کو کبھی جرآت نہیں ہوئ کہ وہ لاہور یا پنجاب فتح کرنے کا خواب دیکھیں، پورا ہندوستان ہر تسلط کے بعد بھی پنجاب انگریزوں کے خلاف چٹان بن کر کھڑا رہا لیکن رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد ایک عشرے میں ہی انگریز لاہور پر قابض ہو گئے! رنجیت سنگھ کے دور میں سکھ سلطنت نسبتا سیکولر تھی، کیونکہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو سلطنت میں قائدانہ عہدوں پر فائز ہونے کی اجازت تھی۔ رنجیت سنگھ کی فوج میں کچھ یورپی خصوصاً فرانس کے جنرل بھی شامل تھے۔ تاہم، برطانوی انگریزوں کو شامل نہیں کیا جاتا تھا ۔ ان کی سلطنت میں مذہب کی بنا پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے غیر سکھوں پر سکھ مذہب نافذ نہیں کیا اور تمام مذاہب کا احترام کیا۔ گولڈن ٹیمپل کے سنہری حصے اور کچھ نفیس سنگِ مرمر کے کام مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سرپرستی میں کرائے گئے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کو کوہِ نور ہیرے کے مالک کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، یہ ہیرہ انہیں افغانستان کے شجاع شاہ درانی امان کے عوض دیا تھا۔ 2003 میں، سنگھ کی یاد میں بھارت کی پارلیمنٹ میں 22 فٹ بلند ایک کانسی کا مجسمہ نصب کیا گیا۔ نہ صرف بھارت میں بلکہ فرانس کے ایک قصبے سینٹ ٹروپیز میں بھی — جس کے پنجاب سے فوجی روابط تھے — 2016 میں رنجیت سنگھ کا کانسی کا بُسٹ نصب کیا گیا؛ لاہور پاکستان میں بھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کا کانسی کا مجسمہ نصب کیا گیا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دنیا بھر میں پنجابی احترام کرتے ہیں















